ایک ماں کا انتقام اور قانون کی حالت زار۔۔شجاعت بشیر عباسی

وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن دنیا کا کوئی بھی قانون کسی انسان کے قتل کی اجازت نہیں دیتا اور اسکے لیے تمام اقوام ِ عالم میں سخت قوانین متعین ہیں لیکن اس کے باوجود آئے دن قتل کے کئی واقعات منظرِ  عام پر آتے رہتے ہیں۔
قتل کے ان واقعات پر ہماری عدالتوں میں کتنے مظلولوں کو انصاف ملتا ہے اس پر بات کرنے سے پہلے قتل کے دو وقعات اور ان کے محرکات پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اپنے قانون اور انصاف کی حالت زار کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔

سن 2012 میں سیالکوٹ کے ایک نواحی علاقے بٹر کے رہائشی 22 سالہ نوجوان تسلیم کودن دیہاڑے سرعام قتل کر دیا گیا۔مقتول تسلیم اپنی بیوہ ماں کا سہارا تھا، مظلوم کی ماں نے   انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا سیشن کورٹ میں مقدمے کا آغاز ہوا ہر پیشی پر پروین بی بی ننگے پاؤں انصاف کے سامنے جھولی پھیلائے عدالت حاضر ہوتی رہی اپنے محدود وسائل کے باوجود انصاف کی اس جنگ میں پروین بی بی نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا اور قسم کھائی کہ  جب تک اسے انصاف نہیں ملتا تب تک ننگے پاؤں رہے گی۔
کئی پیشیاں بھگتنے کے بعد بالآخر سیشن کورٹ نے ملزم نعمان کو قتل کا مجرم مانتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

مجرم نعمان ایک بااثر مالدار اور چالاک شخص تھا اس نے لاہور ہائیکورٹ میں اپنی  سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی،کیس سیالکوٹ سے لاہور ٹرانسفر ہو گیا بیوہ پروین بی بی نے پھر بھی حوصلہ نہیں ہارا اور لاہور ہائیکورٹ میں کیس لڑتی رہی۔قانون سات سال تک ایک بیوہ اور بےآسرا پروین بی بی کو اپنی  راہداریوں میں خوب ذلیل کرتا رہا۔

بالآخر سات سال بعد 2019 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج صاحب نے نعمان کو بے قصور مانتے ہوئے رہا کر دیا اور اپنے فیصلے میں انہی ثبوتوں کو ناکافی قرار دیا جن ثبوتوں پر سیشن کورٹ نے مجرم کو سزائے موت سنائی تھی۔

رہائی ملتے ہی بااثر نعمان بیرون ملک چلا گیا اور لاچار پروین بی بی سیالکوٹ کی گلیوں کی خاک چھانتی رہ گئی۔
کچھ عرصہ بیرون ملک رہنے کے بعد قسمت نعمان کو جلد ہی دوبارہ سیالکوٹ کھینچ لائی، پروین بی بی ایک طویل عرصہ قانون کی چکر بازیوں سے شاید تنگ آ چکی تھی لیکن انتقام کی آگ ابھی تک اس کے سینے میں جل رہی تھی۔
30 نومبر کو یہی انتقام اسے نعمان کے در پے لے آیا پروین بی بی نے اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مل کر نعمان کو اس کے گھر کے باہر ہی قتل کر دیا۔قتل کے فوراً بعد اس نے اپنے چھوٹے بیٹے کو فرار کروایا اور خود گھر جا کر جوتے پہننے کے بعد تھانے جا کر اپنی گرفتاری دے دی۔

قانون تو اسے سات سال بعد بھی انصاف نہ دے سکا لیکن پروین بی بی نے اپنا انتقام خود قانون  کو ہاتھ میں لے کر لے لیا۔۔آج انہی  عدالتوں میں پروین بی بی مظلوم کے بجائے مجرم بن کر کھڑی ہے اسے مجرم  بننے پر کس نے  مجبور کیا؟۔۔
کیا آج 72 سال بعد بھی ہماری عدالتیں انصاف دینے کے قابل نہیں ہو سکیں؟
کیا یہی نظام انصاف آگے بھی چلتا رہے گا؟

اس کیس کے علاوہ اور بھی بے شمار ایسے کیسز ہیں جن میں عدلیہ کی مکمل بے ایمانی اور نااہلی کھل کر سامنے آتی رہی لیکن اس نظام میں بہتری نہیں آ سکی اور بے شمار مظلومین آج بھی عدالتوں میں خوار ہوتے   نظر آتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل بھی عدلیہ نے ایک ایسے شخص کو 19 سال بعد بے قصور مانتے بَری کرنے کا فیصلہ سنایا جسے فوت ہوئے دو سال ہو چکے تھے۔
اب حکومت وقت جس کا نعرہ ہی عوام کو انصاف دینے کا تھا کو چاہیے کہ  عدالتی نظام میں شفافیت اور  بروقت انصاف کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے تا کہ  معاشرے میں انصاف کا حصول عام شخص کے لیے بھی ممکن ہو سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *