تقویت …Reinforcement.. ایک جادو —-

دوستو اس موضوع کو ضرور پڑھیے کیونکہ تقویت کی اصطلاح آگے کئی مضامین میں استعمال ہوگی۔ اور بچوں کی نفسیات کے لیے اس تصور کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔

تقویت کا لفظ ہم روزانہ کی بنیاد پر استعمال نہیں کیا کرتے جب کہ انعام کا لفظ بھی تقویت کے مفہوم اور مصدق کو پوری طرح ادا نہیں کرتا حالانکہ یہ کسی حد تک قریب تر ہے۔ دیکھا جائے تو ہماری بیشتر زندگی اسی ایک لفظ کے گرد گھوم رہی ہے۔ اگر اس کو سادہ الفاظ میں سمجھاؤں تو “کوئی بھی ایسی چیز جو کسی کام کے ہونے کی شرح کو بڑھا دے، تقویت کہلاتی ہے۔” اس کی ایک مثال ہی کافی ہوگی کہ نبیہا ایک چار سال کی بچی ہے جو نہ تو سکول جانا چاہتی ہے اور نہ ہی خود اپنا منہ دھو پاتی ہے۔ ایک دن وہ اپنے منہ ہاتھ اپنی بہنوں کے ساتھ صبح اٹھ کر سکول جانے کے وقت خود دھو لیتی ہے اور اس کی والدہ یہ دیکھ کر اسے 1- اٹھاتی ہیں، 2- چومتی ہیں، 3- گلے سے لگاتی ہیں، 4- پیار کرتی ہیں، اور 5- تعریفی کلمات کہتی ہیں۔ نبیہا ان ساری باتوں سے بہت خوش ہوئی اور اب روزانہ سکول کے لیے بغیر روئے اٹھ بھی جاتی ہے اور خود ہاتھ منہ دھوک ر تیار بھی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے اس کو ماں کی مثبت توجہ ملی بلکہ تعریف اور پیار کے ساتھ لمس بھی ملا جو کہ ہر بچے کیا ہر انسان کو پسند ہوا کرتا ہے۔
نبیہا کی ماں کی اس ساری توجہ نے تقویت کا کام کیا جس سے نبیہا نے نہ صرف سکول بخوشی جانا شروع کر دیا بلکہ والدہ کا وقت بھی بچ گیا کیونکہ بچی نے خود سارے کام کرنا شروع کردیے۔

تقویت دو طرح کی ہوسکتی ہے۔
1- مثبت تقویت
2- منفی تقویت

مثبت تقویت مقناطیسی قوت رکھتی ہے۔ یہ ایسی قوت ہے جو براہِ راست یعنی بلاواسطہ طور پر مطلبوبہ اچھے کام کی شرح کو بڑھا دیتی ہے۔ مثلاً پڑھنے پر بچے کی خواہش کے مطابق چپس ملنا جس سے بچہ زیادہ پڑھتا ہے۔
منفی تقویت ایسی تقویت ہے جو ناپسندیدہ کام کو ختم کرکے بالواسطہ طور پر مطلوبہ اچھے کام کی شرح کو بڑھا دیتی ہے۔ مثلاً سبق یاد نہ کرنے پر ٹیچر کی طرف سے دی جانے والی سزا طالب علم کو اکساتی ہے کہ وہ سبق یاد کرے۔

مثبت تقویت مزید دو طرح کی ہوسکتی ہے:
1- انعام کی فراہمی (مادی چیز، سہولت، تعریف، پیسوں کی فراہمی)
2- منفی تقویت کا خاتمہ
اگر بچہ بدتمیزی کر رہا ہے اور اس کو ٹی وی دیکھنے یا ٹیب پر گیم کھیلنے پر پابندی ہے تو سارا دن اچھی طرح پیش آنے پر ٹی وی اور ٹیب کی اجازت مثبت تقویت کے زمرے میں آتی ہے۔ اسی طرح ٹھیلے سے گھٹیا غیر معیاری چیز کھانے پر جیب خرچ بند کر دینا اور آئندہ نہ کرنے پر بحالی مثبت تقویت کے زمرے میں آتی ہے۔

منفی تقویت بھی دو طرح کی ہوسکتی ہے:
1- انعام سے محرومی یا مثبت تقویت سے محرومی۔
جیسے اسکول جانے پر جیب خرچ ملتا ہے جب کہ چھٹی کرنے پر جیب خرچ نہیں ملتا، اسی طرح ہوم ورک نہ کرنے پر کھیل اور ٹی وی ٹیب پر پابندی۔
2. سزا دینا۔ ڈانٹ ڈپٹ، گالیاں، طعن و تشنیع، مار پیٹ وغیرہ بھی منغی تقویت ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر اچھے کام کی شرح کو بڑھانا ہے یا کوئی کام سکھانا ہے تو مثبت تقویت کا استعمال بہترین ہے۔ اور اگر منفی تقویت استعمال کرنا ہی پڑے تو مثبت تقویت یا انعام سے محرومی بہترین طریقہ ہے۔تمام ماہرین سزا کے سخت خلاف ہیں، سوائے چند ایک صورتوں میں جب کہ فرد کی جان کو خطرہ ہو۔

جہاں تک تقویت کی اقسام کا تعلق ہے یہ تین طرح کی ہوسکتی ہیں۔

1- لفظی/ فعلی تقویت: یہ تقویت ہر وقت دستیاب ہوتی ہے اور اس میں مثلاً تعریف، شاباشی، چومنا، گلے لگانا، تھپکی دینا، آنکھ یا ابرو یا کوئی چہرے یا جسمانی انداز سے اشارہ، ہنسی، مسکراہٹ، ڈانٹ ڈپٹ جھڑکیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اس تقویت کا استعمال اگر موثر طریقے سے کیا جائے تو یہ سب سے طاقتور اور مطلوبہ کام کی شرح کو بڑھانے میں سب سے بڑھ کر مدد گار ہوا کرتی ہے۔ اس کا اگر بعض صورتوں میں اکیلا استعمال مفید نہ لگے اور مطلوبہ نتائج نہ دے رہا ہو تو پھر تقویت کی دوسری اقسام میں سے کسی ایک یا انتہائی صورتوں میں دونوں کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ لفظی تقویت مثبت اور منفی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے، اور مثبت لفظی تقویت ہی پسندیدہ ہے۔
۔
جاری ہے—

Avatar
*سعدیہ کامران
پیشہ مصوری -- تقابل ادیان میں پی ایچ ڈی کررہی ہوں۔ سیاحت زبان کلچر مذاہب عالم خصوصاً زرتشت اور یہودیت میں لگاؤ ہے--

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تقویت …Reinforcement.. ایک جادو —-

  1. بہت معلوماتی ہے
    ایسی تحریریں قابل داد بھی ہیں اور قابل تحسین بھی۔ اللہ کرے زور قلم اور

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *