طب نبوی

SHOPPING

گوشت کی مختلف اقسام ہیں جو اپنے اصول اور طبعیت کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ ان کی منفعت و مضرت کو یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔

بھیڑ:
بھیڑ کا گوشت دوسرے درجے میں گرم اور پہلے درجے میں تر ہوتا ہے۔ ایک سال کی بھیڑ کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے، زود ہضم ہوتا ہے اور صالح خون پیدا کرتا اور قوت بخشتا ہے۔ سرد اور معتدل مزاج والوں کے لیے عمدہ غذا ہے۔ اسی طرح جو لوگ ٹھنڈے مقامات پر رہتے ہیں، سرد موسم میں ریاضت اور محنت کرتے ہیں ان کے لیے نافع ہے۔ ذہن اور حافظہ کو قوی کرتا ہے۔ سب سے عمدہ گوشت کالی بھیڑ کا ہوتا ہے اور بہترین گوشت وہ ہے جو ہڈی سے چپکا ہوا ہوتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پشت کا گوشت مرغوب تھا۔ اس میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے اور صالح خون پیدا کرتا ہے۔ (بخاری و مسلم) سب سے لذیذ اور عمدہ گوشت پشت کا ہوتا ہے۔ (سنن ابنِ ماجہ) گردن کا گوشت عمدہ اور لذیذ ہوتا ہے۔ زود ہضم اور ہلکا ہوتا ہے اور دست کا گوشت سب سے ہلکا اور لذیذ ہوتا ہے اور بیماری سے خالی ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اور شکم کے گوشت کو خریدنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ اس میں بیماریاں ہوتی ہیں۔

بکری:
بکری کے گوشت میں معمولی حرارت ہوتی ہے۔ یہ خشک ہوتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی خلط نہ عمدہ ہوتی ہے نہ عمدہ ہضم ہوتی ہے۔ غذائیت بہتر ہوتی ہے۔ بکرے کا گوشت تو عام طور پر خراب ہوتا ہے۔ بے حد دیر ہضم ہوتا ہے اور خلط سوداوی پیدا کرتا ہے۔ حکیم جالینوس نے ایک سالہ بکری کو معتدل غذاؤں میں شمار کیا ہے۔ مادہ بچہ نر سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ امام نسائی نے اپنی سنن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: بکرے کی نگہداشت اچھی طرح کرو اور اس سے تکلیف دور کرتے رہو اس لیے کہ یہ جنت کے چوپایوں میں سے ہے۔

گائے:
گائے کا گوشت سرد خشک اور دیر ہضم ہوتا ہے، سوداوی خون پیدا کرتا ہے اور اس سے برص، خارش، داد، کینسر، وسواس، اور ورم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سب بیماریاں اس کے لیے ہیں جو اس کا عادی نہ ہو۔ اس کی مضرت کو کالی مرچ، لہسن اور دار چینی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ بچھڑے کا گوشت نہایت معتدل لذیذ اور گرم تر ہوتا ہے اور جب اچھے انداز میں ہضم ہو جائے تو بہت طاقتور غذا تصور کی جاتی ہے۔

اونٹ:
اونٹ کے بچہ کا گوشت تمام گوشتوں میں لذیذ ترین پاکیزہ تر اور مقوی ہوتا ہے۔ بھیڑ کے گوشت کی طرح جو اس کا عادی ہو اس کے لیے انتہائی شاندار اور مقوی غذا ہے۔

SHOPPING

خرگوش:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے ایک خرگوش کو بھڑکا کر باہر نکالا۔ لوگوں نے اس کا پیچھا کیا اور اس کو پکڑ کر لائے تو طلحہ نے اس کی سرین کا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ نے اسے قبول فرما لیا۔ خرگوش کا گوشت معتدل ہوتا ہے۔ اس کے سرین کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے اس کو بھون کر کھانا مناسب ہوتا ہے۔ پیشاب آور ہے۔ پتھری کو توڑ کر خارج کرتا ہے۔ اس کے سر کو کھانا رعشہ کے لیے مفید ہے۔

SHOPPING

Avatar
حکیم عمر عطاری
فارغ التحصیل حمایت اسلام طبیہ کالج لاہور

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *