دین عمل۔ عائشہ  یاسین

 

زندگی کے ہنگاموں میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کتنا وقت گزر چکا ہے ۔سال دنوں اور گھنٹوں کے حساب سے  گزر رہے ہیں ۔کب بچپن گزرا کب جوانی آئ اور کب جوانی کے ترو تازہ دن بڑھاپے کی رہ گزر پہ چل پڑے ۔اور بنا کسی خبر کے  ہم کو لحد میں اتار دیا جائے گا۔پھر جو خواب کی دنیا ہوا کرتی تھی وہ اصل دنیا بن جائے گی اور مادی دنیا خواب سی معلوم ہوگی اور ایسا محسوس ہوگا کہ ہم خواب سے جاگے ہیں اور دنیاوی زندگی ہم  چند لمحے ہی جی پائے ہیں ۔

ساٹھ ستر سال کی زندگی لمحوں سی لگے گی اور لاکھ کو شش کے  باوجود دوسرا موقع  نہیں  ملے گا۔تب مکافات  عمل کیا ہوتا ہے  ،  اس کا ادراک ہوگا۔عمل کے سارے دروازے بند کردیے جائیں گے ۔اب عمل کا حساب اور تخمینہ لگایا جائے گا۔مزے کی بات یہ کہ اوپر کا حساب کتاب اور نیچے دنیا کے حساب کتاب کا طریقہ یکسر مختلف ہوگا ۔وہاں اعمال کا شمار گن کے نہیں بلکہ تول کے کیا جائے گا۔جس عمل کو صاف نیت اور پاکیزگی سے سر انجام دیا جائے گا اور اللہ کے بنائے اصول و ضوابط کے مطابق ہوگااس کا وزن زیادہ ہوگا۔ وہی ہماری بخشش کا وسیلہ بنے گا مگر جو عمل محض دکھاوے اور ریاکاری کے واسطے  کیا جائے گا وہ وزن میں ہلکا اور ناکارہ ہوگا۔
اب عمل جو بھی ہو چاہے حقوق اللہ یا حقوق العباد ۔اس کے خالص ہونے کا فیصلہ اس کے ناپ تول یعنی وزن کے مطابق کیا جائے گا۔
یہ دنیا عمل کی کھیتی ہے۔کہتے ہیں کہ ہم جیسا بوتے ہیں ویسا ہی فصل کاٹنا پڑتا ہے ۔سیب کا درخت لگاتے ہیں تو سیب کا پھل ملتا ہے ۔کیا کبھی کسی نے دیکھا کہ آم کے درخت پر انار  کا پھل آیا ہو یا ببول پر گلاب  کھلے ہوں؟

اسی طرح  عمل کا تعلق اس سے ہے ہم جو اس دنیا میں بوئیں گے ہمیں آخرت میں وہی اجرت کے طور پر ملے گا۔کیکر کا پودا لگا کے یہ سوچنا کہ اس پر رسیلے آم  لگیں گے  تو یہ سراسر بیوقوفی ہے۔اس لئے عمل کا صالح ہونا مقدم ہے۔
دین اسلام میں عمل کو دو طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
1۔حقوق اللہ
2۔حقوق العباد
عمل کی تقسیم ہمیں آسانی فراہم کرتی ہے۔
حقوق اللہ یعنی اللہ اور بندے کا حق جس میں ہمارے سارے ارکان شامل ہیں ۔ایمان۔ نماز ۔روزہ۔حج اور زکوہ ۔اللہ  کے نزدیک عبادات کا خالص ہونا لازم ہے۔بدنی فرائض سے لیکر شرعی احکامات کو بجا لانا لازم ہیں۔اس میں پاکی و ناپاکی سے لیکر سجود و سلام اور  درست سمت اور تعداد میں ادائیگی  لازم ہے۔جسمانی و ذہنی پاکیزگی کا ہونا بھی  بہت اہم ہے ۔ اللہ کی وحدانیت اور صمدیت کو ماننا بنیادی شق ہے ، اس کے تمام انبیاء اکرام اور آخر زمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر کامل یقین کرنا لازمی جز ہے ۔یہ اللہ کاحق ہے کہ ہم اس کی عبادت کریں۔اس کی ثنا کریں اس کا شکر بجا لائیں ۔اپنے مالک کی حمد و ثناء کریں جس نے ہمیں پیدا کیا اور بیش بہا نعمتوں سے نوازا۔یہاں رب کی ربوبیت پر ایمان اور اس کو لا شریک ماننا اور اس کا کوئ ہمسر نہیں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔نماز کے ہر رکوع میں بار بار اللہ سے صراط مستقیم پر چلنے کی تکرار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زندگی کے شب و روز اس کی رضا اور احکامات میں گزارنے کی کوشش کرنی ہے جس کے صلے میں ہم کو انعام و اکرام سے نوازا جا ئے گا ۔
اسی طرح فرائض ارکان روزہ کے ادب و آداب ہیں۔روزہ ہم کو تقوی سکھاتا ہے کہ کیسے نفسانی خواہشوں کو معدوم رکھا جائے اور اللہ کے احکام بجا لایا جائے ۔اللہ کی  خوش نودی کے لئے جبرن کھانا پینا چھوڑ دیا جائے اور ایک آواز پر اللہ  کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھانا پینا شروع کر دیا جائے یعنی اللہ کے حکم پہ اپنے اوپر حلال کو حرام قرار دیا جائے اور اسی رب العزت کے حکم پر دوبارہ اللہ کے  دیے ہوے رزق کو حلال کرلیا جائے ۔اطاعت کی یہ کیا خوب  تکنیک  ہے اور خوبصورتی بھی کہ بندہ مستقل اس بات سے باخبر رہے کہ چاہے دنیا  کا کوئی  بھی سرا ہو کوئی  بھی کونا ہو اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور یہی شعور انسان کو روزہ میں خیانت کرنے نہیں دیتا یعنی تمام مہینے کے لئے مسلمانوں میں پروگرامنگ سیٹ کردی گئی کہ بندے تو اپنے رب سے چھپ کر کسی کام کو انجام نہیں دے سکتا چاہے تو آسمان پر چلے جا ئے یا سمندروں کی گہرائیوں میں چھپ جائے۔مجھ سے اوجھل ہونا تیرے اختیار میں نہیں اور یہ ایمان صالح کہ میرا رب سب دیکھ رہا ہے تقوی کی بنیاد ہے ۔
اس کے بعد زکوہ آتی  ہے ۔اللہ تعالی نے جب جب صلوہ یعنی نماز کا ذکر کیا وہیں زکوہ ادا کرنے کئ تلقین کی ۔دونوں ارکان مساوی قرار دئے۔دوسرے اور آسان لفظوں میں لازم و ملزوم ٹھہرے ۔ہم پر جس طرح نماز فرض کی گئ روزہ کا رکھنا اہم ٹھہرا اس ہی طرح زکوہ ادا کرنا انتہائی ضروری ہے۔جس طرح نماز کے بغیر روزہ محض ایک فاقہ ہے اسی طرح نماز روزہ حج زکوہ کے بغیر نامکمل ہیں ۔اللہ تعالی نے جو ارکان مقرر کئے ان میں ردوبدل ممکن نہیں ۔سارے ارکان جب یکجا ہوتے ہیں تو شریعت مکمل ہوتی ہے اور یہ شریعت کئ اداءیگی حقوق اللہ کہلاتی ہے ۔
دوسری جانب حقوق العباد آتا ہے۔جہاں بندے کا بندے کے حقوق کا تقاضہ ہے ۔اس کے شرائط و ضوابط حقوق اللہ جیسے نہیں لیکن اس کے خالص ہونے کی شرط وہی ہے ۔جن کا ادا ہونا اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے کہ جتنا حقوق اللہ ہے۔سہل زبان یا ریاضی کی زبان میں ہم ان کو   وائس ورسا کہیں گے۔لازم و ملزوم ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں ۔اگر ہم اس کو فارمولے کی مدد سے سمجھنا چاہیے تو یہ کچھ یوں ہو گا :

حقوق اللہ +حقوق العباد =عبادت/عمل کامل/دین اسلام
۔
حقوق العباد کا تعلق بندوں کے ساتھ  روابط کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ایک طرف ہر نماز کی پابندی لاگو کی گئی تو دوسری طرف اخلاق کو سنوار نے کا حکم دیا۔اسی طرح روزے کی حالت میں خود پر قابو پائے رکھنا اور زبان اور ہاتھ کو لگام ڈالے رکھنے کا پابند کیا ۔حج کی ادائگی میں بھی احتیاط اور صبر قائم رکھنے کو مشروط رکھا۔زکوہ وہ رکن ہے جس کا براہ راست حقوق انسانی سے تعلق ہے ۔دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور رشتوں کا تقدس کو قائم رکھ کر اپنے مال میں سے مستحقین کا حق ادا کرنا اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا حقوق العباد کے زمرے میں آتا ہے یعنی حقوق اللہ کو مقبول کروانے کے لیے حقوق انسانی کو مقدم کہنا ہوگا اور اسی طرح حقوق اللہ کی تکمیل حقوق العباد پر منحصر ہے ۔یہ دونوں عمل ترازو کے دو پلڑے ہیں اور ان دونوں کا توازن برقرار رکھنا لازم ہے ۔کسی کو  ضرر پہنچاکے یا کسی کی حق تلفی کرکے ہماری عبادات خالص نہیں رہ سکتی۔اس کو اس طرح سمجھئے کہ اپنی ظاہری و باطنی عبادات کو قبول کر وانے کے لیے ان تمام اصول و ضوابط جو رب تعالی نے مقرر کئے ہیں ان بنیادی اصولوں  پر چل کر ہم عابد بن سکتے ہیں ۔

نماز روزہ حج زکوہ اور ایمان صالح کے ساتھ ساتھ اعلی اخلاقیات اور اچھے سلوک کے امتزاج سے ہم متقی کی شق پہ پورا اتریں گے شاید اسی کو اللہ سے ڈرتے رہنا کہتے ہیں۔جب بندہ ہر وہ کام تر ک کرے جس سے اس کا رب راضی نہیں ہوگا یا جس سے اس نے منع فرمایا ہے اور ہر اس کام میں پہل کرے جس سے اس کی رضا حاصل ہو یہی عمل ، عمل صالح ہے۔جب بندے کے ذہن میں یہ بات چسپاں ہوجائے کہ اگر میں نہیں بھی دیکھ رہا پر میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھی عمل خسارے والا نہیں کرپائے گا۔اس کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا ہوگا کہ اس کے ہر نقل و حرکت کو دیکھا اور جانچا  جارہا ہے اور اسے لکھا بھی جا رہا ہے  تو وہ چاہ کر بھی گناہ کو سرانجام نہیں دے پائے گا۔یہ شعور کہ میں کسی طور خود کو اللہ سے چھپا نہیں سکتا عمل صالح کا باعث بنے گا اور ہمارا رب اپنے بندے سے نیک اعمال اور خلوص نیت چاہتاہے ۔اسی لیے دین اسلام دین عمل ہے اور عمل مشقت سے حاصل ہوتی ہے۔کثرت کا نام عمل ہے۔سب کا حساب کتاب یکساں ہوگا سب کے اعمال کو تولا جائے گا۔وہاں کسی کو بھی فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔وہاں  کسی حیلہ جوئی کی گنجائش نہیں ہوگی۔وہاں  نہ تقریریں کام آئیں گی نہ وعظ ۔سب کو عدل کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہوگا۔ عمل کے اعتبار سے درجہ بندی ہوگی۔فقط  زبانی کلامی نیکی کا کوئی  وجود نہ ہوگا صرف ان نیکیوں کا شمار ہوگا جن پر عمل ہوا ہوگا باقی سب ہوا میں تحلیل ہوجائیں گی ۔
اسی لئےاسلام کو دین عمل کہنا درست ہے کیوں کہ جو جو اللہ تعالی نے قرآن میں حکم فرمایا ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر کرکے بتایا۔اللہ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں ذندگی بسر کریں اور ہمارا شمار صالحین  میں ہو۔آمین یا رب اللعالمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *