آئیڈیل ازم کی موت

آئیڈیل ازم کی موت
مجاہد حسین
آئیے مل کر ماتم کریں کہ پاکستان کا وہ طبقہ جو خود کو ترقی پسند قرار دیتا ہے، اس نے بھی بالآخر اپنی جائے پناہ سٹیٹس کو میں تلاش کر لی ہے۔ جس سوچ کا دعوی تھا کہ وہ رجعت پسندی کی کھائیوں میں بھٹکتی اس قوم کا ہاتھ تھام کر اسے جدیدیت کی خوبصورت شاہراہ کا مسافر بنانا چاہتی ہے اس نے اپنی تمام تر توانائیاں ایک کرپٹ حکمران کو بچانے پر مرکوز کر دی ہیں۔ وہ دانشور جو دن رات ہمیں آئیڈیل ازم کا سبق پڑھاتے رہتے تھے آج لفظوں کی تلواریں سونت کر موجودہ حکومت کا تحفظ کر رہے ہیں۔ کبھی اشاروں کنایوں میں تو کبھی کھل کر عدلیہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ یہ ادارہ بھی باقیوں کی طرح حکمرانوں کا ذاتی غلام بن جائے۔
ہر قوم کی زندگی میں بارہا ایسے مواقع آتے ہیں جب اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ ترقی کی روشنی سے ہم آغوش ہونا چاہتی ہے یا اپنے نصیبوں پر چھائی تاریکیوں میں گرفتار رہنا پسند کرتی ہے۔ ہماری تاریخ بھی ایسے مواقع سے بھری پڑی ہے اور بدقسمتی سے ہم نے اکثر روشنیوں سے آنکھیں چرا کر اپنے لئے تاریکیوں کا انتخاب کیا ہے۔ قدرت نے ایک بار پھر ہمیں ایک جگمگاتا ہوا لمحہ عطیہ کیا ہے جس کی بدولت اس قوم کی آنکھوں میں خوابوں کی ایک فصل اتر آئی ہے اور یہ ڈری سہمی دانش لفظوں کی بدنیت درانتیاں تھامے اس فصل کو اجاڑ دینے پر تلی ہوئی ہے۔

کیا آپ کو نظر نہیں آ رہا کہ پاکستان میں ایک طاقتور خاندان کا احتساب ہو رہا ہے جو اگر اپنے منطقی انجام کو پہنچا تو اس بدگمان اور مایوس قوم میں کسقدر اعتماد پیدا ہو گا۔ شخصیت پرستی کے آسیب سے نجات حاصل کر کے یہ سماج اداروں کا احترام شروع کر دے گا۔ یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے جس کی بدولت اشرافیہ کے دلوں میں قانون کا خوف پیدا ہو سکتا ہے۔ جگنو کی طرح تاریکی اور روشنی کے سگنل دیتے اس لمحے کو اگر ہم نے اپنی گرفت میں لے لیا تو مستقبل میں ٹیکس کا پیسہ جمہوریت کو یرغمال نہیں بنا سکے گا بلکہ ہر آنے والا حکمران اپنی کارکردگی کے ذریعے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کرے گا۔
کسقدرعبرت کا مقام ہے کہ جن لوگوں نے عوام کے دل میں امید کی شمع روشن کرنی ہے وہ انہیں مایوسیوں کے غاروں میں دھکیل رہے ہیں۔ اداروں کی بالادستی کی بجائے شخصیات کی اہمیت کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ ان کے تمام دلائل کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ جمہوریت کو چلنے دینا چاہئے، معاشرہ خودبخود بہتر ہوتا جائے گا۔ اگر ایسا ہی ہے تو مشال خان کے بہیمانہ قتل پر شور کیونکر ہوتا ہے۔ جمہوریت چلتی رہے گی تو بربریت کی یہ آندھیاں بھی کسی روز تھم جائیں گی۔ سندھ میں ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے کی دہائیاں بھی بند کر دینی چاہئیں کیونکہ جمہوریت کی بدولت جبر کا یہ کاروبار خودبخود رک جائے گا۔ پھر تو دم سادھ کر اس بابرکت ساعت کو تکتے رہنا چاہئے جب جمہوریت کی طاقتور خوشبو ہمارے معاشرے کے بدبودار پہلوؤں پر حاوی آ جائے گی۔
اس وقت میاں نواز شریف فرد جرم ہاتھ میں تھامے عدالت اور تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ یہ وہی نواز شریف ہے جس نے عدالت میں جا کر یوسف رضا گیلانی کو نااہل کرانے کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے جب گیلانی کو نااہل قرار دیا تھا تو کوئی قیامت نہیں ٹوٹی اور جمہوریت نے اپنے توانا بازوں سے پیپلز پارٹی کے دوسرے فرد کا ہاتھ تھاما اور اسے تخت نشیں کر دیا۔ آج اگر موجودہ حکمران نااہل قرار پاتے ہیں کیا یہی رسم دہرا کر جمہوریت کا تسلسل برقرار نہیں رکھا جا سکتا؟ شریف خاندان کو ایسے کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ ان کے بغیر جمہوریت ختم ہو جائے گی؟
ترقی پسند ہمیشہ باغی ہوتا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ سٹیٹس کو کی نمائندہ قوتوں سے گٹھ جوڑ کر لے۔ یہ ممکن نہیں کہ اس کے لب و لہجے میں مایوسیاں در آئیں اور وہ پوری قوم کو ناامیدی کے سبق دینا شروع کر دے۔ پاکستان میں موجود اس طبقے کو چند لمحوں کے لئے رک کر اپنا تنقیدی جائزہ لینا چاہئے۔ اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مورخ کا قلم بہت بے رحم ہوتا ہے کیونکہ جس وقت وہ لکھنا شروع کرے گا شریف خاندان اپنے تمام تر اثرورسوخ اور ترغیبات سمیت رخصت ہو چکا ہو گا۔ اس وقت تاریخ کے صفحات پر بکھری صرف وہ سچائیاں باقی رہ جائیں گی جن کا سامنا یہ طبقہ آج نہیں کرنا چاہتا۔

مجاہد حسین
مجاہد حسین
مجاہد حسین مکالمہ کے اولین ممبرز میں سے ہیں۔ آپ جذباتیت اور عصبیت سے پاک تجزیات کے ماہر ہیں اور اس معاشرے میں شعور کی شمع جلائے ہوے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *