دانشور کی درخواست ملازمت۔۔۔۔۔۔۔ژاں سارتر

بخدمت جناب چیف ایگزیکٹیو آفیسر

پاکستان پیپلز پارٹی پرائیویٹ لمیٹیڈ

عنوان: درخواست برائے اسامی “دانشور”

پیارے جناب

مجھے قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آپ کے موقر ادارے میں، آپ ہی کے زیر سایہ “دانشوروں” کی چند اسامیاں خالی ہیں، میں انہی میں سے ایک کے حصول کے لیے اپنی خدمات پیش کرتا ہوں۔

میرا مختصر تعارف یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں سے میدان دانشوری میں میرے نام کا ڈنکا بجتا ہے (اگرچہ میرے اہل خانہ اس سے قطعی بے خبر ہیں ۔۔۔ آپ نے چراغ تلے اندھیرا والی مثل تو سن رکھی ہو گی۔ خیر آمدم بر سر مطلب) عرض ہے کہ فدوی “روم میں وہی کچھ کرتا ہے جو رومی کرتے ہیں” کے مصداق نپولین بوناپارت کے اس مشکوک قول کا صدق دل سے قائل ہے کہ بندے کو اٹلی میں کیتھولک اور مصر میں مسلمان ہونا چاہیے۔

جب ہمارے وطن عزیز پر مشرفی آمریت کی سیاہ رات سایہ فگن تھی تو فدوی اس ظلمت کو ضیاء ثابت کرنے کے کارخیر کی انجام دہی میں مصروف تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ہر سیاہ بادل کے سرے پر ایک نقرئی لکیر ضرور ہوتی ہے۔ سو اسی نقرئی لکیر کو کھینچ کر بادلوں کے درمیان لانے پر فدوی کو طلائی سکوں سے نوازا جاتا رہا ہے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مشرف حکومت کو بنیاد پرستوں کے خلاف فوجی آپریشن پر قائل کرنے میں میری ان تحاریر کا اہم ترین کردار ہے جو کبھی کبھار دوسرے اور تیسرے درجے کے موقر اخبارات مواد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے شائع کیا کرتے تھے۔

چرخ کہن کی گردش سے جب امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ نے یہ طے کیا کہ اب پاکستان میں جمہوریت لائی جائے گی اور خطہ پوٹھوہار کے ایک لائق فرزند نے مشرف کی کھال دھوپ میں سوکھنے کے لیے لٹکائی تاکہ ڈرائی کلین کر کے خود پہن سکے تو عدلیہ کی سربلندی کا خیال شدت سے میرے ذہن میں جاگزیں ہو گیا۔ اگرچہ اس شدت کی وجہ اسلام آباد کے ایک نئے سیکٹر میں کارنر پلاٹ کی کشش بھی تھی تاہم میں چرچل کے نقش پا پر چلتے ہوئے ملک میں انصاف کی فراہمی کے لیے سینہ سپر ہو گیا (یہاں عدالتوں میں انصاف کا جنگ سے تعلق ثابت کرنے کے لیے چرچل کا قول دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں)۔ عدل، انصاف اور جمہوریت کی اس چو مُکھی لڑائی میں فدوی نے قوم کو این آر او کے فیوض و برکات سے آگاہ کرنے کے لیے دن رات اس قدر قلم چلایا کہ اٹھارہ قلم میرے ہاتھ میں ٹوٹے۔

اسی دوران ملک میں نئے انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا جانکاہ حادثہ پیش آگیا۔ (آپ کی توجہ چاہوں گا) اس سانحے نے میرے دل پر ایسی رقت طاری کی کہ پورے سات دن وہسکی کو ہاتھ نہ لگایا۔ بسبب رقت کی زیادتی کے ڈرائی جن کو ٹانک ملائے بغیر پیتا رہا۔ بہرطور میں نے محترمہ کی شہادت کی ذمہ داری مشرف پر عاید کرنے کے لیے زمین و آسمان کی طنابیں کھینچ ڈالیں کیونکہ بے خوفی ہی میری ٹوپی میں ایک اور پر ہے۔ ویسے بھی کھال اترے جرنیل سے کیا ڈرنا؟ انتخابات کے بعد آپ کا موقر ادارہ حکومت میں آیا تو فدوی کو قوی امید تھی کہ رزق میں کشادگی آئے گی لیکن بوجوہ (وجہ بیان کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں ۔۔۔۔ فرحت اللہ بابر اور شیری رحمٰن کی خست) معاوضے کی ادائیگی پر معاملات طے نہ ہو سکے اور فدوی کو ایک اور ادارے پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

یہاں آپ کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہوں گا کہ اگرچہ اس دور میں فدوی کی دلی ہمدردیاں آپ کے ساتھ تھیں لیکن پاپی پیٹ کی خاطر قلم ایک طالع آزما قاضی، میڈیا چینلز کے ایک گروپ اور اپنے ادارے کے ساتھ تھا۔ میں فخر کے ساتھ آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اچھے حالات میں کبھی اپنے دوستوں کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ اصول زریں میں نے ان این جی اوز سے سیکھا ہے جو ہر دور میں ان اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہیں جو انہیں ڈالرز یا پاؤنڈز میں امداد فراہم کرتے ہیں۔ یہاں یہ ذکر بھی بے محل نہ ہو گا کہ مسلم لیگ ن کے میڈیا سیل کے علاوہ فدوی متعدد این جی اوز کے لیے بھی کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ عالی جناب یقیناً بیک وقت ایک زاید ملازمتوں کے فوائد سے آگاہ ہوں گے، خصوصاً جبکہ ان اداروں کے مفادات اور مقاصد میں یکسانیت پائی جاتی ہو کیونکہ یہ خوبی سرمایہ دارانہ جمہوریت کے اوصاف میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

ا ب میں آپ کی خدمت میں اپنے اوصاف جمیلہ کی ایک مختصر فہرست پیش کرنا چاہوں گا تاکہ آپ یہ جان سکیں کہ میں آپ کے ادارے کے لیے ایک اثاثہ ثابت ہو سکتا ہوں۔

1۔ میں کرپشن کو برائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے حکمرانوں کا حق تسلیم کرتا ہوں۔ اگر حاکم کرپشن نہیں کریں گے تو ہمیں آزوقہ حیات کیسے میسر آئے گا؟

2۔ مجھے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے میں خصوصی مہارت حاصل ہے جیسا کہ افتخار چودھری اور موجودہ عدلیہ کے دور میں آپ دیکھ چکے ہیں۔

3۔ مجھے قوم پرستی اور لسانیت کو ہوا دینے کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ ہر وہ تحریک یا گروہ جسے سرحد پار عناصر کی مدد و تعاون حاصل ہو، اسے عوام کی آواز قرار دینا میرے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

4۔ ملک میں پائی جانے والی ہر خامی کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑنے کا فن تو میں نے اوائل دانشوری ہی میں سیکھ لیا تھا۔ نیز اس سلسلے میں خواہ کیسے اور کتنے ہی ثبوت میرے سامنے آجائیں، میری ڈھٹائی میں ذرہ بھر کمی نہیں آتی۔

5۔ اپنے ادارے کا دفاع کرنے میں میری مہارت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس مقصد کے لیے جھوٹی خبریں گھڑنے، بے بنیاد تجزیے کرنے اور غیر حقیقی عوامی سروے تیار کرنے کا کام بخوبی انجام دیتا ہوں۔

6۔ مذہب اور پاکستان سے مجھے خدا واسطے کا بیر ہے۔ قائد اعظم کے افکار کو غلط ثابت کرنا اور ان کے مسترد شدہ مخالفین کو عظیم رہنما قرار دینا میرا محبوب مشغلہ ہے۔

7۔ این جی اوز کو اپنے ادارے کے حق میں متحرک کرنے، موم بتیاں اٹھا کر مظاہرے کرنے اور مضحکہ خیز موضوعات پر اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز نعرے تخلیق کرنے میں میرا کوئی ثانی نہیں۔

(ممکن ہے کہ میرے بعض اوصاف آپ کے لیے غیر ضروری ہوں لیکن میں نے اپنی مہارت اور تجربے کے ضمن میں ان کا تذکرہ کیا ہے)

جناب میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر مجھے خدمت کا موقع دیا گیا تو میں کوئی بھی پتھر الٹا کیے بغیر نہیں چھوڑوں گا اور اس وقت تک آپ کا ساتھ دوں گا جب تک آپ پس دیوار زنداں نہیں چلے جاتے۔

امید بھرے انتظار کے ساتھ

آپ کا مخلص دانشور!

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *