گوونچو صائبا۔۔۔۔شکور پٹھان

اوہ! واقعی؟
ہاں یار، بالکل سچ!!
ہم دونوں نے اپنے اپنے کپ میز پر رکھے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ ہم یوں لپٹ گئے جیسے دو بچھڑے بھائی برسوں کے بعد ملے ہوں۔

یہ ‘ برونو” تھا۔ برونو مائیکل۔

ہم دونوں بحرین ہلٹن میں ملازم تھے۔ ایک دن اسٹاف کینٹین میں آمنے سامنے بیٹھے چائے پیتے ہوئے برونو نے انکشاف کیا کہ وہ بھی کراچی سے تعلق رکھتا ہے۔ ہلٹن میں یوروپئینز۔ امریکن، عرب اور گورے تو کام کرتے ہی تھے لیکن اکثریت ہندوستانیوں کی تھی۔ ہم پاکستانی بھی تھے لیکن ہندوستانیوں کے مقابلے میں بہت کم۔

کراچی کی بات نکلی تو نجانے کیسے بات سولجربازار بازار کے ناصرہ اسکول کی نکل آئی جس کے سامنے میرے ابا کا دفتر تھا۔ برونو نے بتایا کہ اس کا باپ بھی وہیں کام کرتا تھا۔
” اوہ تم راجا چاچا کے بیٹے ہو؟؟ ”
” اور تم مائیکل انکل کے۔۔۔!!”
ہم دونوں کی آوازیں خوشی سے کانپ رہی تھیں۔ مائیکل انکل اور میرے ابا برسوں سے ساتھ کام کرتے آئے تھے۔ مائیکل انکل بہت پہلے ایک بار ہمارے گھر آئے تھے، ابا ، مائیکل انکل کے ہاں کئی بار جا چکے تھے کہ ان کا گھر شہر ہی میں تھا۔ ایک دو بار میں ابا کے دفتر گیا تو مائیکل انکل سے ملاقات ہوئی۔
برونو رومن کیتھولک اور گو انیز تھا۔ لیکن گو انیز سے یہ میرا پہلا تعلق نہیں تھا۔

برسوں پہلے جب ہم بہار کالونی میں رہتے تھے، جہاں میں نے ہوش سنبھالا تھا۔ ہمارے گھر سے متصل ‘ وکٹر’ کا گھر تھا۔ جہاں سے ایسٹر، کرسمس کے دنوں میں یا کبھی کبھار دوسرے دنوں میں کنواری مریم اور یسوع مسیح کی مناجات گانے کی آوازیں آتی تھیں۔
میرے چھوٹے چچا کسٹمز میں کام کرتے تھے، وکٹر بھی ان کے ساتھ کام کرتا تھا اور آتے جاتے سلام دعا ہوتی تھی۔
اور اسی محلے میں ‘ نکی’ کو ڈی’ اور گاما بھی رہتے تھے۔ نکی اور کوڈی میرے ہم عمر تھے اور ہم گلیوں میں ساتھ کھیلتے پھرتے تھے۔ عید کے دن جب مجھے چچا نے عیدی میں چونی دی اور جس سے میں سارا دن کچھ نہ کچھ خرید کر کھاتا رہا اس میں نکی اور کوڈی بھی شامل تھے۔ اور ان کے ‘ بڑے دن ‘ پر میں ان کے ساتھ کھاتا پھر رہا تھا۔ ایک دن وہ مجھے جامع مسجد کے پیچھے بنے چھوٹے سے چرچ میں بھی لے گیے تھے ۔ پسماندہ اور غلیظ بہار کالونی میں اس چھوٹی سی عمارت میں پھولوں کے گلدستے ایک عجیب اور خوشگوار اثر ڈالتے تھے۔

اور ایک اتوار جب میں کے جی اے گراؤنڈ ( کراچی گوونز ایسوسیشن ) میں انجمن اسلام بمبئی کے سابق طلبہ کی تنظیم کے سالانہ کرکٹ میچ کے لئے گیا ہوا تھا اور جہاں مجھے حنیف محمد اور مشتاق محمد کے کوچ ‘ ماسٹرعزیز’ ملے تھے۔ لنچ کے وقت جب ہم پویلئین واپس آئے تو ماسٹر کے ساتھ سانولے رنگ کا ایک نوجوان بیٹھا ہوا جس کی شکل کچھ مانوس سی لگی۔
یہ ‘ بین’ تھا، شاید بین جانسن۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا آفیشل اسکورر۔

اور ایک دن پی ای سی ایچ ایس میں اپنی کزن کے کلاس فیلو ” کینیتھ’ کے گھر گیا تو پہلی بار کسی مسیحی کا گھر اندر سے دیکھا۔ صاف ستھرا اور سلیقے سے آراستہ۔
لیکن یہ سب بہت پہلے کی اور اکا دکا یادیں تھیں۔ صدر میں کورنگی کی بسیں جہاں کھڑی ہوتی تھیں یعنی لکی اسٹار سے ایمپریس مارکیٹ اور پریڈی اسٹریٹ اور مینسفیلڈ اسٹریٹ میں بنے پتھروں سے بنے قدیم فلیٹوں کے داخلی دروازوں پر شام کے وقت بیٹھے ہوئے صاف ستھرے اور بنے سنورے گوانی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بڑے اچھے لگتے، یا پھر ایمپریس مارکیٹ اور سولجربازار بازار میں فراکوں، میکسی یا اسکرٹ میں ملبوس بوڑھی اور ادھیڑ عمر عورتیں زیادہ تر مچھلی فروشوں سے لین دین کرتی نظر آتیں۔ یا پھر کبھی شام کے وقت فریر گارڈن اور پیلس ہوٹل کے آس پاس بوڑھے گو انیز اور پارسی جوڑے ، وکٹوریہ گاڑیوں میں ہوا خوری کرتے نظر آتے۔

یہ سب کراچی کے لینڈ اسکیپ کا حصہ نظر آتے اور کبھی کوئی اجنبیت محسوس نہ ہوتی۔ اور نہ کبھی ان گوا نیز اور پارسیوں کو کوئی الگ قوم جانا۔ کراچی میں جہاں ایمپریس مارکیٹ میں میمن ، گجراتی، بوہری، بلوچ، پٹھان اور پنجابی دکاندار ساتھ ساتھ نظر آتے وہیں ہولی فیملی ، انکلسریا، سیونتھ ڈے ہسپتال میں مسلم غیر مسلم کا علاج یکساں توجہ سے ہوتا۔ کے جی گراؤنڈ کے علاوہ بوہری جیمخانہ، آغا خان جیمخانہ، کے پی آئی یعنی کراچی پارسی انسٹیٹیوٹ گراؤنڈ ، ہندو جیمخانہ ، میں نہ صرف عیسائی، پارسی، ہندو بلکہ زیادہ تر مسلمان پی کھیلتے دکھائی دیتے۔
سینٹ پیٹرک اور سینٹ جوزف اور سینٹ پال اسکولوں کے دروازے مسلم غیر مسلم سب پر کھلے ہوتے اور آج بھی کھلے ہوئے ہیں۔
اندرون شہر میں بکھرے سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل، ہولی ٹرینٹی، سینٹ انتھونی، سینٹ لارنس، سنٹ اینڈریوز ، سینٹ پال، سالویشن آرمی اور نجانے کتنی مسیحی عبادتگاہیں نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہیں بلکہ شہر کے ان دنوں کی یاد گار ہیں جب فرقہ واریت اور تعصب کے سانپوں نے اپنے پھن نہیں پھیلائے تھے۔
اور کراچی کے بڑے بڑے ہوٹلوں اور نائٹ کلبوں کا تو تصور بھی ہمارے ان گو انیز بھائیوں کے بغیر نامکمل ہے جہاں خوش باش، خوش مزاج اور خوش پوشاک گوانی مختلف خدمات انجام دیتے نظر آتے، ہوٹلوں کے مینیجرز، استقبالیہ کلرک، ویٹر وغیرہ تو گوانی ہوتے لیکن سب سے نمایاں ڈانسنگ ہال میں ، Modes, Bugs, Francisco, Cossacks, Drifters, , Panthers, اور نجانے کتنے میوزک بینڈ تھے اور جن میں اکثریت ہمارے گوانی نوجوانوں کی تھی۔
مجھے بہت بچپن کی کچھ بیکریاں یاد ہیں جہاں یہ گو انیز نظر آتے جن میں شاید ایک پریرا بیکری تھی، ایمپریس بیکری جس کے ساتھ ایمپریس بار اور بلیئرڈ کلب بھی تھے، شاید انہی گوانیوں کی ملکیت تھی۔
اور بیکری پر یاد آیا کہ کرسمس پر وکٹر کے ہاں سے ہمارے ہاں کیک آتا جسے ہمارے گھر والے خوشدلی سے وصول کرتے۔ کیک والی پلیٹ یا ٹرے رکھ لی جاتی اور بعد میں کوئی میٹھی چیز بنا کر اس پلیٹ میں بھیجی جاتی۔ ہمیں سختی سے کیک نہ کھانے کی ہدایت تھی کہ ہمارے گھر والوں کا خیال تھا کہ اس کیک میں شراب ملی ہوتی ہے۔ ایک آدھ دن بعد یہ کیک خاموشی سے کسی مہتر یا مہترانی کو دے دیا جاتا۔
ہم انٹاؤ ڈی سوزا، والس میتھائس کو کرکٹ کھیلتے دیکھتے، ایس بی جان کو ” تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے” گاتے ہوئے سنتے اور سر دھنتے۔ روزینہ کو فلموں میں اور سنبل کو ٹی وی پر دیکھتے، اور ریڈیو پر ایڈ ورڈ کیرپئیڈ کو خبریں پڑھتے اور سہ پہر کو انگریزی گانوں کا پروگرام پیش کرتے سنتے۔ اور میرے ہم عمر دوستوں کے کانوں میں Let Habib Bank, Serve You Better
آج بھی گونجتا ہوگا جو ایڈ ورڈ کیرپئیڈ کی آواز میں تھا۔
ہمیں یہ سب بالکل اجنبی نہیں لگتا۔ یہ سب کراچی کی زندگی اور روز وشب کا حصہ تھے۔ پھر میں بحرین آگیا۔
چند ماہ یو بی ایل میں کام کرنے کے بعد میں نے ہلٹن ہوٹل میں ملازمت کرلی اور یہاں پہلی بار غیر پاکستانیوں اور غیر مسلموں کے ساتھ دن رات کا تعلق ہوا جو آج تک قائم ہے۔ میرا تعلق آڈٹ کے شعبے سے تھا۔ اپنے کام کی ابتدائی تربیت کے لئے مجھے ہوٹل کے مختلف Outlets میں جانا پڑتا تھا جہاں پہلے ہی دن میرا استاد ” ویوین ” تھا۔ یہ گوانی تھا اور مجھے پہلی بار ملازمت کے دوران مکمل انگریزی بولنی تھی۔ یو بی ایل میں تو اردو اور پنجابی میں کام چل جاتا تھا۔ ویوین سے میں نے اپنی انگریزی کی ناکافی استعداد کا ذکر کیا۔
It doesn’t matter. You will learn. Better you learn all the bad words first.
میرے گوانی ساتھیوں کی گفتگو میں ہر دوسرے جملے میں کوئی نہ کوئی چہار حرفی لفظ ضرور ہوتا۔ ویوین کے مشورے پر میں نے جی جان سے عمل کیا، جب اس کے بتائے ہوئے ایک bad word کو استعمال کرتا تو جواب میں چار bad word سننے ملتے اس طرح میرا انگریزی کا ذخیرہ الفاظ بڑھتا رہا۔
یہیں پر راشد جان بھی تھا جو دراصل رچرڈ جان تھا۔ رچرڈ پاکستانی اور خصوصا پشتو فلموں کا دلدادہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ پشتو فلموں کی فوٹوگرافی بے مثال ہوتی ہے اور وہ قابل توجہ حصوں پر کیمرہ کو فوکس کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
رچرڈ ہمیشہ کہتا کہ راج کپور کی ” میرا نام جوکر” اداکار کمال کی فلم ‘ جوکر ” کا چربہ ہے اور راج کپور نے کمال سے اپنی مشابہت کا فائدہ اٹھایا ہے، یہ سب سن کر مجھے بہت اچھا لگتا کیونکہ پاکستان میں کمال اور راج کپور کے بارے میں لوگ بالکل مخالف رائے رکھتے تھے۔

بحرین میں ان گوا نیز دوستوں کے ساتھ بہت دلچسپ شب وروز گذرتے۔ اکثر کسی نہ کسی کے گھر پارٹی ہوتی جہاں رقص وسرود اور جام و مے میں مگن یہ گوانی دوست سرمست اور سر خوش نظر آتے۔ جہاں ہماری توجہ کھانے پینے پر ہوتی وہاں ہمارے یہ گو انیز دوست ساری توجہ پینے پلانے اور رقص پر مرکوز رکھتے۔ ساری ساری رات رقص میں مصروف رہنے کے باوجود نہ تو ان میں تھکن کے آثار نظر آتے نہ مدہوش ہوتے۔
لیکن یہ گو انیز صرف پینے پلانے، ناچنے جھومنے میں ہی یکتا نہیں۔ یہ خوش باش اور خوش مزاج لوگ جس شعبے میں بھی ہوتے ہیں اپنے کام میں ماہر اور چابکدست نظر آئیں گے۔
کراچی میں نہ صرف قیام پاکستان سے ایک سال قبل کے مئیر Manuel Misquita کا تعلق گو انیز برادری سے تھا بلکہ برصغیر کا پہلا کارڈینئیل بھی کراچی کے سینٹ پیٹرک چرچ نے دیا تھا۔ یہیں سے بہت سے بشپ اور آرچ بشپ بھی مشہور ہوئے۔ جسٹس لوبو سندھ ہائیکورٹ کے معزز اور نیک نام جج رہے۔ اور یہ ڈی سوزا، نو رونا، ساویو، ڈی کروز، پریرا، لارنس، روزی، ریٹا اور مارگریٹ بہت سے حکومتی اداروں یعنی، کسٹمز، پولیس، ریلوے، فوج اور پرائیوٹ کمپنیوں میں نام کماتے رہے۔ کراچی پولیس کے ایک فرض شناس افسر ” المیڈا” کے نام کی ” المیڈا پولیس چوکی شاید آج بھی موجود ہے۔ انہی گو انیز کی قائم کردہ ” آئیڈیل لائف انشورنس” کراچی کی ابتدائی انشورنس کمپنیوں میں سے ایک ہے۔
میرے شہر کے یہ قدیم باسی پاکستان بننے سے بہت پہلے بلکہ انگریز راج سے بھی بہت پہلے سے یہاں آباد ہیں۔ ہندوستان کے ایک خوبصورت ترین ساحلی علاقے گوا کے یہ باسی جن کے رہن سہن پر پرتگالیوں کی گہری چھاپ ہے، روش مستقبل اور بہتر زندگی کے لئے پہلے بمبئی اور پھر کراچی آئے۔ُگوا جہاں پرتگالی طرز تعمیر والے مکانوں کے بدولت یہ شہر ایک عجیب سی خوبصورتی لئے ہوئے لیکن یہاں سیاحت کے علاوہ کاروبار اور روزگار کے بہت زیادہ مواقع میسر نہیں تھے۔
کراچی کو ان گوانیوں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے نوازا۔ قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم نے فرینک ڈی سوزا کو ریلوے کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کا ٹاسک دیا جسے انہوں نے بخوبی انجام دیا۔ اسی طرح چارلس لوبو نے چیئرمین پبلک سروس کمیشن کی حیثیت سے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔
یہ محنتی، وفادار، ایماندار، خوش مزاج اور شائستہ گو انیز کبھی کراچی کی شہری زندگی کی جان تھے۔ کراچی گوون ایسوسیشن ، گوون کلب، اور وائی ایم سی اے میں منعقد میلے، نمائشیں، کھیلوں کے مقابلے، اور ثقافتی تقریبات کراچی کے دنوں اور راتوں کو یاد گار بناتے تھے۔

میرے ملک سے اور شہر سے محبت کرنے والے، اس شہر کو اپنے خون پسینے سے سینچنے والے یہ پرجوش، شائستہ اور محنتی گوانی اب آہستہ آہستہ کم ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ان کی خوب سے خوب تر کی تلاش اور جستجو کی وجہ سے ہے یا ہمارے دن بدن بڑھتے ہوئے متعصبانہ رویوں اور تنگ نظری کی وجہ سے ہم ان پیارے لوگوں کو کھوتے جارہے ہیں۔

اس سوال کا جواب ضروری ہے ورنہ ایک وقت وہ آئے گا کہ اس شہر اور ملک میں صرف ہم ہی ہم ہونگے اور ایک دوسرے سے بیزار ہونگے کہ ہمارے ہاں آج کل صرف اور صرف نفرت کا سودا خوب بک رہا ہے۔ کہیں سے بھی پیار ، محبت کی اور ایک دوسرے کو گلے لگانے کی آواز نہیں آتی۔

میرے گوونچو صائبہ ، پیارے گوانی دوستو، جنہوں نے میرے شہر کو خوشیاں بخشیں، آپ جہاں رہیں خوش رہیں۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *