• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شمشیر فارس۔ نادر شاہ افشار: چرواہے سے شہنشاہِ تک۔۔۔۔رشید یوسفزئی

شمشیر فارس۔ نادر شاہ افشار: چرواہے سے شہنشاہِ تک۔۔۔۔رشید یوسفزئی

انگریزی علمی، ادبی اور تحقیقی تاریخ میں وکٹورین دور دماغی توانائی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ثروت مند عہد ہے. جتنی ملکہ وکٹوریہ کی سلطنت وسیع تھی اتنی اس زمانے میں انگریزوں کے تحقیقی و علمی اقتدار وسیع و ہمہ جہت تھی. دور جدید کے محققین میں اکثریت کی رائے ہے کہ علم و ادب اور تاریخ میں جس شخصیت یا موضوع کو وکٹورین محققین نے نظر انداز کیا وہ مابعد کے ادوار میں بھی کوئی خاص اہمیت نہ پاسکی. تاہم وکٹورین دور کی انگریزوں کا  حساس اور حقارت آمیز رویہ بہت اہم تاریخی اور تحقیق  طلب موضوعات پر ریسرچ کی  راہ میں حائل رہا . (مجھے انگریزی لفظ Snobbery کا   اردو ترجمہ نہیں آتا . تاہم Victorian Snobbery شاید درست اصطلاحی ترکیب ہوگی) وکٹورین تحقیق ذوق نے مشرق کی  کئی شخصیات کو زیر تحقیق لاکر مزید زندگی عطا کی. تاھم کچھ قابل تحقیق و تحسین شخصیات سے مجرمانہ تغافل کی اور یہ تغافل ارادی تھا . ان تاریخ ساز اشخاص میں ایک نادر شاہ افشار تھا. کچھ ناقدین تاریخ کے مطابق نادرشاہ افشار کو وکٹورین محققین نے اس لئے ارادی طور پر نظر انداز کیا کہ اس  کے  کارناموں اور سوانحی مماثلت biographical similarity مگر تاریخی پیشرفتگی لارڈ کلائیو کی چمک دمک ماند پڑ جائیگی. وکٹورین ذوق یورپی ذوق بن گئی اور یورپ نے بحیثیت مجموعی نادرشاہ افشار کو اعتنا نہ کایا .

تحقیق بھی پروپیگنڈہ  کی ایک قسم ہے اور پروپیگنڈے کے دوسرے وسائل کی طرح یہ وسائل بھی اکثریت کی حد یورپ کے  قبضہ میں ہیں. جو موقع نادرشاہ افشار کی زندگی نے وکٹورین دور میں ضائع کیا و مابعد کے عہد میں مزید ضائع ہوتا  رہا . یورپی پروپیگنڈہ یا تحقیق یورپی اشخاص تک محدود ہی رہ گئی. ایک مورخ نے لکھا ھے کہ
Since Stalin and Hitler, Europeans have no longer looked at what used to called the Great Men of History.
(سٹالین نے نادر شاہ کے بارے میں تمام قابل رسائی لٹریچر مطالعہ کیا تھا اور نادرشاہ افشار کا عاشق تھا. ائیوان خوفناک Ivan the Terrible کیساتھ سٹالین نادرشاہ افشار کو “استاد” کہتا تھا. رابرٹ سروس Robert Service نے لکھا ھے کہ تاریخ کے تمام آمر ایک ناخوشگوار باہمی توصیفی زنجیر unpleasant chain of admiration میں جکڑے ہوتے ہیں. صدام حسین کی ذاتی لائبریری سٹالین پر کتابوں سے بھری تھی. جن میں تمام کتابوں میں مختلف حالات میں سٹالین کے ردعمل اور اقدامات کو صدام نے انڈر لائن کیا تھا)
برطانیہ کے وزرات خارجہ کے سفارت کار اور سابق لیکچرار مائیکل ایگزوردی Michael Axworthy نے نادرشاہ افشار کی سوانح حیات The Sword of Persia لکھ کر اپنے متقدمین ہم وطنوں کا کفارہ ادا کیا. کتابی مبصر و مصنف سائمن سیبیگ نے اسے سال دوہزار چھ کی بہترین بائیوگرافی قرار دیا ہے.

اسلامی تاریخ میں بطور فوجی کمانڈر اور جرنیل کچھ شخصیات نابغے تھے اور بلاشبہ دنیا کے بہترین Military and Administrative Geniuses کہلانے کے مستحق ہیں. خالد بن ولید، سعد بن ابی وقاص، مغیرہ بن شعبہ، عمرو بن عاص، حجاج بن یوسف الثقفی، عبدالرحمن الغافقی، طارق بن زیاد، موسی بن نصیر، مہلب بن ابی صفرہ،ابو مسلم خراسانی، جوھر (ثقلبی ثم فاطمی) ، طاھر، ابو عبداللہ شیعی، نصر بن یسار، یزید بن مزیاد، بساسیری، الپ ارسلان، صلاح الدین یوسف بن ایوب،( اور سب سے بڑھ کر) فاتح عین الجالوت سلطان رکن الدین بیبرس، تیمور لنگ، بابر، شیرشاہ سوری، نادرشاہ افشار، مصطفی کمال پاشا دنیا کی جنگی تاریخ میں بہادری، جرات، حوصلے اور جنگی مہارت (اور انسانی جذبات میں بھی) میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے والے ہم پیشہ شخصیات سے بڑھ کر تھے. (البتہ 2006 میں انٹرنیشنل سیکورٹی اسسٹنس فورس افغانستان کے سربراہ برطانوی جرنیل سر ڈیوڈ رچرڈز نے واپس اسلام آباد کے راستے سے جاتے ہوئے پاک فوج کے بارے میں حیرانگی سے پوچھا کہ پتہ نہیں پاکستانی جرنیل کس کھاتے میں جرنیل بن جاتے ہیں. کہتے ہیں کسی زندہ دل نے جواب دیا: پاکستانی قوم فتح کرنے کے کھاتے میں) ظلم، بربریت اور خونریزی ہر جگہ ہوتی ہے. کتاب زیر بحث کے مصنف نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ھے کہ
The propensity to cruelty is, more or less universal.
مگر مشرقی خونریزی اور بربریت مغربی درندگی سے موازنے میں کم  ضرور ہیں.
بقول مصنف ایشیا کے اس سب سے عظیم جرنیل کی پیدائش مطمئن طور پر معلوم نہیں تاھم قوی ترین رائے یہ ہے کہ بھیڑ بکریاں چرانے والے ترکی افشاری قبیلے کے ایک انتہائی نادار اور اجرت پر بھیڑ بکریاں چرانے اور چمڑے کے کوٹ بنانے والے امام قلی کے گھر نادرشاہ 6 اگست 1698 کو خراسان کے اللہ اکبر پہاڑی سلسلے میں دست گرد کے مقام پر پیدا ہوا. نام نادر قلی رکھا گیا. کچھ عرصہ بعد دوسرا بھائی  ابراہیم قلی پیدا ہوا اور پھر والد فوت ہوا. دس سال کی عمر میں والد فوت ہوا. سنگلاخ پہاڑو اور بے رحم دنیا میں پرورش ماں کے  ذمے ہوئی. گھر میں ایک گدھا تھا. ماں کے سامنے دو راستے تھے: جسم فروشی کرے یا محنت مزدوری. نادرشاہ کی ماں نے آخری راستہ اختیار کیا، پہاڑوں پر جاکر لکڑیاں جمع کرکے بازار لاتی اور فروخت کرتی. یہی گھر پالنے کا ذریعہ تھا. پھر نادر شاہ بھی اجرت پر چرواہا بن گیا. دس سال کی عمر میں نادرشاہ نے گھوڑسورای کی استعداد حاصل کی. ابیورد کے مقامی سردار علی بیگ کے ہاں پندرہ سال کی عمر بطور بندوق بردار سپاہی بن گیا. استعداد اور محنت سے متاثر ہوکر سردار علی بیگ نے اپنا داماد بنایا اور اس کی  وفات پر سردار بن گیا. نادر شاہ نے ایک رات خواب دیکھا  کہ پانی میں چار پرندے شکار کئے ہیں. صبح کو لوگوں نے تعبیر نکالی کہ وہ ترکی، ایران، افغانستان اور ہندوستان   چار  ممالک فتح کرے گا. اصفہان میں مقیم صفوی ایرانی حکومت کی حالت ابتر تھی. شاہ طہماسپ صفوی کو شراب اور خوبصورت لڑکوں سے فراغت نہ تھی. رستم التواريخ کے مصنف نے لکھا ہے کہ شاہ طہماسپ تیرہ، چودہ سالہ خوبصورت لڑکے ننگے کرکے ان کو چار زانوں چلنے کا  حکم دیتا. ایک نوکر پیچھے سے ایک تالی سے ان پر معطر تیل چھڑکتا……. نادرشاہ علاقائی حصار توڑ کر قومی مرتبہ حاصل کر رہا تھا. اسی طہماسپ اور اسکے باپ دونوں کو پشتون قبیلے غلزئی  کے سردار میرویس خان کے بیٹے محمود خان غلزئی نے بھگا کر ایرانی حکومت حاصل کی تھی.

محمود خان دماغی اور جسمانی مریض ہوا.اقتدا اسکے چچا اشرف خان غلزئی کو مل گیا   جس میں اپنے پیشرو بھائی، بھتیجے کی صلاحیت نہ تھی. ظلم و تشدد کی انتہا پر اتر ایا. (تمام پشتون بادشاہوں کا یہ مسئلہ ہے کہ ابتدا میں ولی حکمران ہوتے ہیں رفتہ رفتہ خونخوار درندے بن جاتے ہیں اور سب کچھ سے  ہاتھ  دھو بیٹھتے ہیں. طاقت پرستی کے مذہب کے پیغمبر جرمن فلسفی نطشے نے ایک جگہ لکھا ہے
He who fights with monsters should to it that he doesn’t become a monster.
تاھم پشتون بادشاہوں کے پاس مجذوب فرنگی جیسا ناصح کب تھا). دربدر پھرتے سلطان طہماسپ کو واپس اپنی اقتدار ملنے کا موقع نظر آیا اور نادرشاہ کو پشتونوں سے اپنا  تاج واپس حاصل دلوانے کی استدعا کی. نادرشا نے اشرف غلزئی کو شکت دی. طہماسپ کو سلطان بنایا جو جلد ہی اوپر ذکر شدہ شراب و ہم جنس پرستی کے مرضوں کا شکا ہوا. نادرشاہ نے طہماسپ کو معزول کرکے اس کے چہار مہینے کا بچہ شاہ عباس سوم تخت پر بٹھایا اور خود اختیار ہاتھ میں لیا  اور مناسب موقع آنے پر تمام صفوی خاندان راستے سے ہٹا کر شہنشاہ نادرشاہ در دوران بن گیا. آذربائیجان، آرمینیا، افغانستان فتح کرنے کے بعد سلطنت ہند  پر چڑھ دوڑا. کرنال کی لڑائی میں محمد شاہ رنگیلے کو شکست دے کر 1739 کو شاہجہان اباد(دہلی) فتح کیا. اس کی سادہ، غیر متمدن اطوار پر پنجاب و دہلی کے باسی طنز کرتے. نادرشاہ افشار پر پنجاب کے کسی زندہ دل شاعر نے طنز میں ایک شعر کہا تھا جو اب ضرب المثل بن گیا ھے

آدمیان گم شدند ملک خدا خر گرفت شامت اعمال ما صورت نادر گرفت۔۔انسان گم ہوئے اور خد کی زمین گدھے نی لی. ھہارے شرمناک اعمال نے نادرشاہ افشار کی شکل اختیار کی.
تاھم وہ دارالخلافہ دہلی کے شائستہ و مہذب لوگوں پر خندہ زن تھا. جب محمد شاہ نے تاج و تخت نادرشاہ کی حوالہ کی تو سر دربار تعارف میں نادرشاہ افشار نے مغل وزیر اعظم سے دریافت کیا کہ آپ کے حرم میں کتنے عورتیں ہیں؟ وزیر اعظم نے جواب دیا:850 لڑکیاں ہیں. نادرشاہ نے اپنے لشکر سے 150 لونڈیاں لانے کا حکم دیا اور وزیر اعظم کو حوالہ کرکے بتایا یہ بھی لو کہ “منی باشی” بن جاؤگے……ایک ھزار سپاہیوں کے منصب کو ترکی میں منی باشی کہا جاتا ھے. پنجاب میں لوگ اس کی   فوج کی سادگی پر ہنستے اور انہیں طنز و استہزاء کا نشانہ بناتے. حکم دیا جو انڈین اس کی  فوج پر ہنسے اس کے  ناک اور کان کاٹے جائے. طنز و استہزاء تعریف و تحسین میں بدل گئی اور نیا    انڈین سکہ اس کے نام  سے بنایا گیا  جس کے لئے سیالکوٹ کے ایک شاعر نے یہ شعر تخلیق کیا
ہست سلطان بر سلاطین جہاں شاہ شاہاں نادر صاحبقران

دہلی میں محمد شاہ کی بیٹی کی  اپنے بیٹے رضا قلی سے شادی کی. مقامی روایات کے مطابق نکاح کے وقت سات پشتوں تک دولہا کے  شجرہ نسب ذکر کرتے تھے. نادرشاہ سے شجر نسب پوچھا گیا تو اس نے فوراً  کہا، “نادرشاہ ابن شمشیرابن شمشیر ابن شمشیر………. تخت طاؤس، دریائے نور ھیرہ، ھزاروں لڑکیاں اور ستر کروڑ روپیہ لیکر نادرشاہ افشار برصغیر سے واپس ھوا. واپسی پر محمد شاہ رنگیلے کو تخت دہلی پر واپس بٹھایا اور کہاں کسی نے اس کے غیر موجودگی میں اس کے احکامات سے سر مو تجاوز کیا  تو چھ مہینے کے اندر اند وہ واپس ادھر ھوگا پھر دنیا حشر دیکھے گی.
گدھے پر لکڑیاں لانے والی عورت کا بیٹا نادر قلی(غالباً  ترکی زبان میں قلی غلام کو کہاجاتا ھے) سلطان بر سلاطین اور چہار سلطنتوں کا بیک وقت بادشاہ بن گیا. زندگی، وقت اور دنیا ھرکسی کو موقع اور چانس دیتے ہیں. جو لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہوتے ہیں وقت اپنے فیاضانہ مرور کیساتھ ان کو بھی محروم نہیں کرتا. شرط یہ ہے کہ زندگی جب چانس اور وقت  اور جب اپنے تحفے کیساتھ آپ کے پاس آئیں تو آپ سوئے نہ ھوں . بلکہ الرٹ، مستعد اور بیدار ھو!

رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی
رشید یوسفزئی ایک ایسا طالب علم ہے جس کی پیاس مزید بڑھتی جاتی ہے۔ چھ زبانوں کے ماہر رشید وقت سے بہت آگے سوچتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *