کراچی کا حلقہ این اے 247۔۔۔ایس ایم عابدی

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 247 میں ایم ایم اے کے محمد حسین محنتی اور پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا جبکہ فاروق ستار بھی سرپرائز دے سکتے ہیں، این اے 247 میں کل آبادی 9 لاکھ 4 ہزار 551 ہے، حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 42 ہزار 9 سو 64 ہے، جن میں سے مرد ووٹرز 2 لاکھ 94 ہزار 7 سو 13 ہیں جبکہ خواتین ووٹرز 2 لاکھ 49 ہزار 2 سو 51 ہیں۔ اس حلقے میں کراچی کنٹونمنٹ، سلطان آباد، گارڈن، ہجرت کالونی، نیا حاجی کیمپ، سی ویو، صدر، دو تلوار، تین تلوار، کلفٹن کنٹونمنٹ، پنجاب کالونی، دہلی کالونی، ڈیفنس ہاﺅسنگ اٹھارٹی، (فیز I اور V-11 کے علاوہ) جبکہ وزیراعلیٰ ہاﺅس کے اطراف کا علاقہ، گونر ہاﺅس، سندھ اسمبلی، سندھ سیکٹریٹ، برنس روڈ کے علاقے شامل ہیں۔ اس حلقے کی آبادی ایلیٹ کلاس متوسط طبقے اور کچی آبادیوں کی غریب عوام پر مشتمل ہے، جن کے مسائل الگ الگ ہیں، کچھی آبادیوں میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، نکاسی آب کا ناقص نظام، لوڈشیڈنگ اور پانی کا نہ ہونا، عوام کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، جبکہ ایلیٹ طبقے میں ایسے مسائل نظر نہیں آتے، کسی حد تک پانی کا مسئلہ ڈیفنس سمیت پوش ایریاز میں موجود ہے۔ اس حلقے میں مختلف قومیتوں اور برادریوں کے لوگ آباد ہیں، جن میں میمن، گجراتی، اردو بولنے والے، سندھی، بلوچ، پٹھان، ہزارے وال اور بوہری برادری شامل ہیں، جبکہ کرسچین، پارسی، اور ہندو برادری بھی بڑی تعداد میں یہاں آباد ہے۔

اس حلقے میں شامل گارڈن سب ڈویژن کی آبادی 1 لاکھ 47 ہزار 4 سو 6 ہے، جبکہ کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ 2 لاکھ 99 ہزار 4 سو 71 نفوس پر مشتمل ہے، سب ڈویژن سول لائنز میں 2 لاکھ 24 ہزار 57 افراد رہائش پذیر ہیں، سب ڈویژن آرام باغ کی آبادی 1 لاکھ 28 ہزار 374 ہے، سب ڈویژن صدر کی آبادی 36 ہزار 366 اور کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کی آبادی 68 ہزار 877 ہے۔ یہ حلقہ پہلے موجودہ این اے 250 کے بیشتر علاقوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ تاہم نئی حلقہ بندیوں میں سابقہ این اے 249 کے کچھ علاقوں اور سابقہ این اے 250 کے اکثر علاقوں کو ملا کر یہ حلقہ این اے 247 تشکیل دیا گیا ہے۔ اس حلقے میں 249 کے کھارادر، اولڈ سٹی ایریاز اور گارڈن کے کچھ علاقے شامل کئے گئے ہیں، جبکہ 90 فیصد علاقے سابقہ این اے 250 کے ہی ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں این اے 250 سے پاکستان تحریک انصاف کے عارف علوی نے 76 ہزار 305 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ایم کیو ایم کی خوشبخت شجاعت 28 ہزار 374 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہیں، جماعت اسلامی کے امیدوار اور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان نے 11 ہزار 149 ووٹ لیکر تیسری پوزیشن حاصل کی جبکہ جماعت اسلامی نے دن ایک بچے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ 2008ء کے الیکشن میں ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت نے 52 ہزار 45 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ 44 ہزار 412 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف نے اس الیکشن کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے سابق سٹی ناظم اور جماعت اسلامی کے امیدوار عبدالستار افغافی نے 21 ہزار 462 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ایم کیو ایم کی امیدوار نسرین جلیل نے 19 ہزار 414 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ موجودہ الیکشن میں ایم کیو ایم کے سابق کنونیئر ڈاکٹر فاروق ستار، پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی، متحدہ مجلس عمل کے محمد حسین محنتی، پیپلز پارٹی کے عبدالعزیز میمن، پاک سرزمین پارٹی کی فوزیہ قصوری، مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سماجی کارکن جبران ناصر سمیت 41 امیدوار میدان میں ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان اس حلقے کی مضبوط سیاسی جماعت رہی ہے، تاہم اسے 2002ء اور 2013ء میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 2008ء میں قریبی مارجن سے کامیاب ہوئی، ایم کیو ایم کو صدر، پنجاب کالونی، دہلی کالونی، اولڈ سٹی ایریاز کے علاقوں میں عوام کی حمایت حاصل رہی ہے اور ان علاقوں سے ایم کیو ایم ماضی میں اچھے خاصے ووٹ لے چکی ہے، تاہم اس بار ایم کیو ایم بانی ایم کیو ایم کے بغیر الیکشن لڑ رہی ہے اور متحدہ کو پارٹی کے اندرونی اختلافات کا بھی سامنا ہے، جس کے باعث ڈاکٹر فاروق ستار اس سیٹ پر جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

بلدیاتی الیکشن میں کامیابی کے بعد ایم کیو ایم کی کراچی میں کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور وہ عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ میئر کراچی اختیارات نہ ہونے کا کہتے رہے ہیں، جس کے باعث عوام ان سے مطمین نہیں اور اسی حلقے میں میمن مسجد کے باہر فاروق ستار کے خلاف احتجاج بھی ہوچکا ہے، جس کے باعث فاروق ستار کی کامیابی کے امکانات کافی کم ہیں۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق ایم این اے ڈاکٹر عارف علوی کو بھی حلقے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ الیکشن کمپین کے دوران عوام کی جانب سے ان کے خلاف ناصرف احتجاج کیا گیا ہے بلکہ ان کے بینرز بھی پھاڑے گئے ہیں اور عارف علوی نامنظور کی چاکنگ بھی کی گئی ہے، پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو بھی عارف علوی کو ٹکٹ دیئے جانے پر اعتراضات ہیں جبکہ عوام بھی عارف علوی سے ناخوش ہے۔ مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ عارف علوی نے گذشتہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد حلقے میں آنا گوارا نہیں کیا اور وہ زیادہ تر اسلام آباد میں رہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *