چل بُلھیا/ناصر خان ناصر

خانہ کعبہ کی سنگی چار دیواریوں سے پرے اونچے میناروں کے سائے تلے چمکتے پھسلتے  سنگِ مرمر پر گدڑی بچھائے وہ سر جھکائے بیٹھا تھا۔

لمبی داڑھی، مہندی سے رنگی گھنگریالی دراز زلفیں، آنکھوں میں سرمے کے لمبے دنبالے، ہاتھوں میں پھیکی پڑتی چاندی کے ایسے کڑے جن کی چمک دل کو مانجھ کر رکھ دے، انگلیوں میں موٹے نگ والی فیروزے اور عقیق سلیمانی کی انگوٹھیاں۔۔ عقیق جو سرد مزاج ہے، نعوذبااللہ آفت پڑنے پر خود میں دراڑ ڈال کر پھٹ جاتا ہے مگر پہننے والے کو بچا لیتا ہے کہ یہی خوش عقیدہ لوگوں کا گیان  اور گمان ہے۔
دھلے ہوئے ستھرے مگر پرانے سے کپڑے۔۔ یہ شخص اپنے حلیے سے بالکل ایسا دکھائی  نہیں دیتا تھا جس پر نظر ٹک جائے تو ہٹنے کا نام نہ لے۔ بالک ہٹ، تریا ہٹ اور ناری ہٹ کی مانند ہٹائی  نہ جا سکے۔
اندر باہر لوگوں کا اژدھام وقت کے سمندر کی طرح موجزن تھا۔
کندھے سے کندھا ٹکراتے ہجوم میں تھالی پھینکو تو سر سے سر تک سرکتی ہی چلی جائے۔
اس نے اپنی جھکی نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا۔
انوار و تجلیات کا ایک دروازہ تھا جس پر میری اکھیوں نے چپکے سے دستک دی تھی۔
بند دروازے کے کواڑ وا ہوئے تو گویا پُراسرار سی پُرنور روشنیوں کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ ایک کہکشاں کے جاودانی ستاروں کی چمک یوں جھلملا اٹھی جیسے گہرے سمندر اپنے من میں چھپائے اپنے ہی بھید بھاؤ کہنے پر اترتے ہوں تو جوار بھاٹے کے تلاطم سے ساحل پر بچھی سپید ریت سے تلازمے کرنے لگیں۔
کسی بڑے گھونگھے یا سیپی کے خول کو بند کمرے میں بھی اپنے کان سے لگاؤ تو سمندر کی لہریں سنائی  دیتی ہیں۔
کائنات کے سارے راز خود بخود آشکار کرتی ان بے چین آنکھوں میں کیا تھا؟
کشف کی لہریں امڈ امڈ کر بیکراں ساحل کو سیراب کرنے کی ناکام کاوشوں پر اپنا سر پٹخیں لگیں تو سرسراتی ہواؤں نے اپنے پچھم کے پرچم کھول دیے۔
ان اکھیوں میں کیا پیام لکھا ہوا تھا؟
کون سے اسرار بھرے تھے؟
یہ عجب سے احساسات، پراسرار سی کیفیت، بے نام سی کسک، خاموش سی بے چینی، چپ چاپ سی الجھن!
ایک زمانے کے چھپائے بھید بھاؤ، تنترک منتر، نظر بندی کے کمالات، جادو یا کوئی  اور کمال؟

یہ تو طے ہے کہ ان آنکھوں میں کوئی  کوٹے ہوئے باریک مہین سچے موتی ضرور بھرے ہوئے تھے جو اپنی ٹھنڈک بھری پرسرار سی جگمگاہٹ سے من میں عجب طمانیت بھرتے تھے۔
وہ بوڑھا شخص کون تھا؟
اس نے کیوں مجھے اپنی اتنی گہری نظروں سے یوں آنکھ بھر کر دیکھا تھا؟
ہماری نظریں ملیں تو پھر اس سحرکاری میں کھو گئیں۔ اس کی آنکھوں کی بڑی بڑی پتلیاں مزید پھیل گئیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ فلمسٹار مینا کماری پلک متنی تھیں۔ انھیں اپنے جذبات پر بے حد کنٹرول تھا۔ وہ خود خاموش رہ کر اپنی بولتی آنکھوں سے ہی سب کچھ کہہ سن لینے پر قادر تھیں۔ پٹر پٹر رونے دھونے کے تمام سین وہ بنا گلیسرین استعمال کیے اس چابکدستی سے فلم بند کروا دیتی تھیں کہ دیکھنے والے دم بخود رہ جاتے تھے۔

مجھے بھی آنسو بہانے کے لیے کوئی  دقت کبھی نہیں ہوئی۔ اپنے یا پرائے دکھ کی ایک چنگاری بھی میرے بے کل من کو سلگانے اور میری آنکھوں کو چھلکا دینے پر قادر ہے۔ ہر بے کھوٹ انسان کی آنکھوں کی طرح اس شخص کی آنکھیں ایک ساکت جھیل کی طرح یوں گہری اور شفاف تھیں کہ پانی کی گہری تہہ تلے دبے کنکر، سپییاں اور موتی بھی کھنکھول لو۔

اس شخص کی آنکھوں میں ایک پیغام تھا جو میری پُر تجسّس آنکھیں پڑھتی اور یوں بے قرار ہوتی تھیں جیسے کسی  بھٹکتے کو راستہ نہ ملے، کچھ دکھائی  نہ دے تو وہ جلتے بجھتے جگنو کو ہی جوالہ سمجھ کر اپنی مٹھی میں بند کر لینے کو بے تاب ہو جاتا ہے۔

میں ہجوم کی دھکم پیل میں آگے بڑھتا چلا جا رہا تھا جب یکایک مجھے وہ شخص نظر آیا تھا جس کی آنکھوں نے میری آنکھوں، میرے من اور میرے قدموں کو یوں جکڑ لیا تھا جیسے کسی عالم نے اپنے منتر جنتر سے نظر بندی کا کمال کیا ہو۔

سب سے بڑی حیرت زدہ کر دینے والی عجیب بات یہ ہے کہ عرصہ دراز قبل حج کرتے ہوئے یہی شخص بالکل اسی طرح عین مین اسی جگہ پر مجھے نظر آیا تھا۔ تب بھی اس کی نظروں نے مجھے مکمل منجمد کر کے رکھ دیا تھا اور میری روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس سے بھی زیادہ عجیب اور خوفزدہ کر دینے والی پراسرار بات یہ ہے کہ ہجوم میں چلتے دھکے کھاتے ہوئے اس جگہ سے کافی آگے نکل آنے کے بعد پھر فرش پر وہیں  کا وہیں  مجھے دوبارہ بیٹھا ہوا دکھائی  دیا۔ اس بار اس کی نظریں میری نظروں سے ملیں اور وہ مسکرایا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

خوف اور تعجب کی ایک لہر میرے رگ و پے میں دوڑ گئی  اور دہشت سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں چکرا کر لڑکھڑانے کو تھا۔
میرا دل ٹوٹ کر اس ا نجانے شخص کی طرف کھنچنے لگا تھا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے نظریں پھیر لیں۔
پھر میں اپنے من من کے بھاری قدم بدقت اٹھاتا ہوا سر جھکائے ہجوم کے سنگ آگے بڑھ گیا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply