کرپشن ثابت نہیں ہو سکی؟۔۔۔۔آصف محمود

ارشاد ہوا نواز شریف کو کرپشن پر سزا نہیں ملی۔ اس سے مجھے مرحوم ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی یاد آ گئے۔یہ پر ویز مشرف کے زمانے کی بات ہے۔ تحریک وکلاء اپنے جوبن پر تھی۔ علی احمد کرد اور ڈاکٹر شیر افگن نیازی میرے ٹاک شو میں مہمان تھے۔ علی احمد کرد نے کہا مشرف نے آئین توڑا ہے انہیں آئین شکنی کی سزا ملنی چاہیے۔ڈاکٹر شیر افگن مسکرائے اور کہا : میں شرط لگانے کو تیار ہوںاور ثابت کر کے دکھا سکتا ہوں کہ پرویز مشرف نے آئین نہیں توڑا۔میں شرط ہار گیا تو پرویز مشرف کا ساتھ چھوڑ کر میانوالی چلا جائوں گا اور اگر علی احمد کرد ہار جائے تو یہ اپنی تحریک چھوڑ کر واپس کوئٹہ چلے جائیں۔ علی احمد کرد نے جذبات سے بھرے لہجے میں کہا : آصف بھائی مجھے یہ شرط منظور ہے۔ڈاکٹر صاحب سے کہیں یہ ثابت کریں۔ ڈاکٹر شیر افگن نے پاس پڑا اپنا بیگ اٹھایا ، اس کی زپ کھولی ، اس میں سے آئین پاکستان کا ایک کتابی نسخہ نکالا، ہم دونوں کے سامنے لہرایا اور کہنے لگے : آپ اچھی طرح دیکھ لیں ، یہ آئین پاکستان ہے اور یہ بالکل سلامت ہے۔ کہیں سے ٹوٹا ہوا ہے تو بتا دیں۔علی احمد کرد کا غصہ عروج پر تھا ۔لیکن ڈاکٹر شیر افگن مزے میں تھے ۔ کہنے لگے : شرط تو میں جیت گیا ہوں۔کردسے پوچھ لو کوئٹہ کا ٹکٹ ہے یا میں لے کر دوں؟اتفاق سے کرد صاحب کے سامنے بھی آئین کی کتاب پڑی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے اٹھایا ، الٹ پلٹ کر دیکھا اور کہنے لگے: یہ لو بھائی ، کرد کے اپنے پاس جو آئین ہے وہ بھی سلامت ہے اسے بھی کسی نے نہیں توڑا۔میں نے کہا ڈاکٹر صاحب خدا کا خوف کریں کیا آئین ہتھوڑے سے ٹوٹتا ہے؟ کہنے لگے مجھے کیا پتا کیسے ٹوٹتا ہے۔ یہ تمہارے سامنے ایک نہیں دو آئین سلامت پڑے ہیں اور تم شور مچائے جا رہے ہو کہ آئین ٹوٹ گیا۔ جس طرح ڈاکٹر شیر افگن کا آئین نہیں ٹوٹا تھا اسی طرح نواز شریف کو بھی کرپشن پر سزا نہیں ہوئی۔اب احتساب عدالت کے فیصلے کے ایک پیراگراف کی غلط تشریح کرتے ہوئے شور مچا دیا گیا کہ لیجیے جناب عدالت نے خود کہہ دیا کہ نواز شریف پر کرپشن تو ثابت نہیں ہوئی۔احباب درست کہتے ہیں بیانیہ اس وقت واقعی صرف نواز شریف کے پاس ہے۔ڈاکٹر یونس بٹ اگر اب جھوٹ کی تین اقسام بیان کریں تو وہ یوں ہوں گی: جھوٹ ، سفید جھوٹ اور بیانیہ۔اس بیانیے نے عدالت کے فیصلے کی غلط تعبیر کا ڈھول اس دیدہ دلیری سے پیٹا کہ اچھے خاصے معقول لوگ یہ سوال پوچھتے پائے گئے کہ کیا واقعی عدالت نے یہ کہا ہے کہ نواز شریف پر کرپشن ثابت نہیں ہو سکی۔ اب حقیقت بالکل مختلف ہے۔حقیقت کیا ہے؟میں عرض کر دیتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ بات اچھی طرح جان لیجیے کہ کرپشن کیا ہے ۔اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ عدالت نے نواز شریف کے بارے میں کیا فیصلہ کیا۔ نیب آرڈی ننس کی دفعہ 9 کی ذیلی دفعہ A کی آگے مزید 12 ذیلی دفعات ہیں۔ہر ایک میں کرپشن کی تعریف کی گئی ہے ۔یوں گویا کرپشن کی 12 بڑی اقسام بیان کی گئی ہیں۔ان میں سے کرپشن کی دو اقسام اس مقدمے کے فیصلے میں زیر بحث آئیں۔پہلی قسم وہ تھی جو دفعہ 9(a) کی ذیلی دفعہ 4 میں بیان کی گئی اور دوسری وہ تھی جو اسی کی ذیلی دفعہ 5 میں بیان کی گئی۔ذیلی دفعہ 4 کا تعلق اس کرپشن سے ہے جو اناڑی یا قدرے کم درجے کے وارداتیے ڈالتے ہیں۔وہ بے ایمانی اور ناجائز طریقے سے کسی سے جائیداد یا رقم لیتے ہیں اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں۔اپنے اکائونٹ میں رقم منگوا بیٹھتے ہیں۔یا رقم ان کے دفتر کی دراز سے برآمد ہو جاتی ہے۔یا رشوت میں کچھ اور وصول فرماتے ہیں اور پکڑے جاتے ہیں۔عدالت نے نواز شریف کو اس دفعہ کے تحت لگائے الزام سے بری کر دیا۔ لیکن 9(a) کی ذیلی دفعہ 5 میں کرپشن کی ایک اور شکل بھی بیان کی گئی ہے۔اس دفعہ کا تعلق اس کرپشن سے ہے جو تجربہ کار اور گھاگ لوگ کرتے ہیں۔یہ رنگے ہاتھوں نہیں پکڑے جاتے۔یہ پوری ہوشیاری اور چالاکی سے واردات ڈالتے ہیں۔مال بنا لیتے ہیں مگر کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ البتہ ایک وقت آتا ہے جب ان کی یہ واردات سامنے آتی ہے اور آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ اس کے معلوم ذرائع آمدن تو ایسے نہ تھے پھر اس نے یا اس کے بچوں نے اتنی جائیداد کیسے بنا لی۔نیب آرڈی ننس کی دفعہ 5 کہتی ہے کہ اس صورت میں اس آدمی کو موقع دیا جائے گا کہ وہ عدالت کو بتائے اس نے یا اس کے زیر کفالت بچوں نے یہ جائیداد کیسے خریدی۔اگر بتا دے تو وہ بے گناہ ورنہ وہ کرپشن کا مجرم قرر پائے گا۔نواز شریف اگر ذیلی دفعہ 4 یعنی اناڑیوں والی کرپشن کے الزام سے بری ہو گئے لیکن وہ ذیلی دفعہ 5 یعنی تجربہ کاروں والی کرپشن میں دھر لیے گئے۔اور انہیں اسی ذیلی دفعہ 5 کے تحت سزا ہوئی۔ عدالت نے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا۔ واضح طور پر لکھ دیا کہ ایوان فیلڈز اپارٹمنٹ اس وقت خریدے گئے جب مریم نواز کی عمر 18 سال تھی اور ان کے بھائیوں کی عمریں 20 سال اور 17 سال تھیں۔ مریم نواز کہتی رہیں لندن تو کیا ان کی پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں لیکن عدالت نے یہ بھی لکھا کہ 2006 سے پہلے مریم نواز ان اپارٹمنٹ کی بینیفیشل اونر تھیں۔عدالتی فیصلے میں لکھا ہے کہ حسن نواز اور حسین نواز نے ان اپارٹمنٹ کی ملکیت کا اعتراف کیا ہے۔ عدالت پوچھتی رہی اس عمر کے بچوں کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی؟ان کا ذریعہ آمدن کیا تھا؟جواب میں ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرایا گیا جو جعلی نکلا۔بیٹوں پر بات آئی تو جواب دینے کی بجائے کہا گیا وہ پاکستان کے شہری ہی نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیر ، افسر یا وزیر اعظم لوٹ مار کر کے جائیداد اپنی نو عمر اولاد کے نام سے خرید لے اور پھر اولاد کو کسی اور ملک کی شہریت دلوا دے تو کیاکرپشن جائز ہو جائے گی کیونکہ یہ پوری تجربہ کاری سے کی گئی تھی؟کیا اس واردات کو کرپشن نہیں کہا جائے گا؟نو عمر بچے اگر جائیداد کے مالک بنتے ہیں تو باپ سے سوال کیوں نہ ہو؟ یا تو بچے ذریعہ آمدن بتا دیں یا پھر یہی سمجھا جائے گا کہ وہ جس باپ کے زیر کفالت ہیں یہ اسی باپ کے پیسوں سے بنائی گئی جائیداد ہے۔اس میں ظلم اور نا انصافی کہاں سے آ گئی؟

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *