مودی سرکارکے تین سال اور مسلمان(ڈاکٹر عابد الرحمٰن)

مودی راج کو تین سال مکمل ہو گئے ۔ کہا گیا تھا کہ یہ راج بدعنوانی اور بلیک منی کے خلاف ترقی ،گڈ گورننس کے ساتھ ساتھ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کاراج ہوگا ۔ پچھلے تین سالوں میں بھی یہ بات مختلف حوالوں سے بار ہا دہرائی گئی اور اس کے لئے جو کام کئے گئے ان کا خوب شور کیا گیا یہاں تک کہ ان پر تعمیری تنقید کر نے والی آوازوں کوگالی گلوچ سے نوازنے کے بعد بے دریغ ملک مخالف (اینٹی نیشنل ) قرار دے کر دبانے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن اب دھیرے دھیرے خود ہی آشکار ہوجائے گا کہ یہ کتنے صحیح اور کتنے غلط تھے اور ان کا نتیجہ کیا ہوا ؟۔ آیا یہ سود مند رہے ،نقصان دہ رہے ،یا محض شور شرابہ ۔اگر حکومت کے’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ نعرے کا جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہے کہ یہ نعرہ ملک کی دیگر آبادی میں مسلمانوں کے ساتھ اور وکاس کے لئے ہی دیا گیا تھا ،کیونکہ ملک خاص طور سے بی جے پی اور اس کی تنظیم مادر اور عام طور سے پورا ملک یہاں بسنے والی تمام مختلف النوع اقوام اور قبائل کو مین اسٹریم سمجھتا ہے سوائے مسلمانوں کے!

مسلمانوں کو نہ صرف اس مین اسٹریم سے علیٰحدہ سمجھا جاتا ہے، بلکہ مختلف حوالوں عناوین اور بہانوں سے انہیں اس قومی دھارے میں شامل ہونے کا مشورہ بھی دے کر ملک میں بسنے والی ان تمام مختلف اقوام کو بار بار یہ سمجھا یا بھی جاتا ہے کہ یہ سب اپنے اختلافات کے ساتھ ایک ہیں اور صرف مسلمان ہی ان سے جدا ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک میں بسنے والی تمام غیر مسلم آبادی کا ہر گروہ اور ہر قوم مسلمانوں کے خلاف ہو گئی ہے ،نہ صرف خلاف بلکہ دشمن ہو گئی ہے ۔یہاں تک کہ مسلمانوں کو لا قانونیت اور تشدد کے ذریعہ ہلاک کردینا بھی جائز سمجھا جا رہا ہے ،یہی نہیں قانون کے رکھوالے بھی تقریباً پوری طرح اسی رنگ میں رنگ گئے ہیں ۔

جھار کھنڈ میں سات لوگوں کو بچہ چوری کی افواہ کی بنیاد پر قبائلی لوگوں نے مار پیٹ کر ہلاک کر دیا اور یہ سب پولس کے سامنے ہوا،لیکن ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ان مہلوکین میں چار مسلم جبکہ تین غیر مسلم ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ تینوں غیر مسلم ،مسلمان ہونے کے شک میں مارے گئے کیونکہ ان میں زندہ بچ جانے والے ایک شخص اتم ورما (Uttam Verma ) نے انڈین ایکسپریس کو بتا یاکہ ان لوگوں نے پہلے ان سے شناختی کارڈ دکھانے کو کہا ،اتم نے آدھار کارڈ دکھایا تو اسے چھوڑ دیا گیا جبکہ اس کے تین ساتھیوں کے پاس شناختی کارڈنہیں تھے جس کی وجہ سے لوگوں نے ان پر بچہ چوری ہونے کا الزام لگایا اور انہیں مار مار کرہلاک کر دیا (انڈین ایکسپریس آن لائن 20 مئی 2017 ) ۔

مودی سرکار آنے کے بعد ہی سے جہاد، گھر واپسی ،فیملی پلاننگ ،پاکستان ،رام مندر اورمسلمانوں کے ڈر سے ہندوؤں کی نقل مکانی وغیرہ کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کا ماحول گرم ہونا شروع ہو گیا تھا اور ایسا کر نے والوں میں مودی جی کی پارٹی بی جے پی کے اراکین اور ممبران پارلیمنٹ بھی شامل رہے ، سرکاری سطح پر ایسا تو کچھ ہوا نہیں لیکن ان کو روکنے کی بھی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی ،اول تو سرکار اس سب پر خا موش رہی اور اگر کچھ کیا بھی تو وہ زبانی جمع خرچ سے آ گے نہیں بڑھ پایا ، ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی منشاء کے مطابق ہی ہوتا رہا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *