• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نگر خاص جانا اور راکا پوشی کے جلوؤں سے لطف اندوزی۔۔۔سلمی اعوان

نگر خاص جانا اور راکا پوشی کے جلوؤں سے لطف اندوزی۔۔۔سلمی اعوان

یہ نکہت و نور میں ڈوبی ہوئی ایک دل آویز سحر تھی۔ صبح صادق کا اجالا ابھی پھیلا ہی تھا۔ جب میں چھت پر چڑھ گئی تھی اور اس وقت کائناتی حسن کے عشق میں پورم پور غرق تھی۔ ہمارے نصیب میں شیشے جیسی چمکتی ایسی صبحیں بھلا کہاں تھیں؟ ہواؤں میں پھلوں اور پھولوں کی رسیلی باس گھلی ہوئی تھی۔ درختوں کی ہریالی اور طراوٹ  دل کو سکون اور طمانیت بخشتی تھی۔ میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس ہریالی کو جذب کرنا چاہتی تھی کہ شاید آنکھوں کا گدلا پن دور ہو جائے۔ ناک اور منہ کھول کر ہواؤں کو اپنے اندر گھسیڑ رہی تھی کہ پھیپھڑوں میں جمی غلاظتیں خارج ہو جائیں۔

”انسان بھی کیسی کمینی شے ہے۔ ہر جگہ اور ہر حالات میں وہ صرف اپنی ذات اور مادی فوائد کی گھمن گھیریوں میں ہی الجھا رہتا ہے۔

قہوے کی مسحور کن خوشبو میرے نتھنوں میں گھسی۔۔۔۔
”اے کاش اس وقت مجھے چائے کا ایک کپ مل سکتا“۔ میں نے طلب کے ہاتھوں مغلوب ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔
غنچہ خانم شاید  چائے بنا رہی تھی۔ چائے کی اس ذلیل لت نے مجھے بہت ندیدہ بنا دیا ہے۔ میری آنکھیں بلا وجہ ہی پرائے گھروں کے چولہوں کی تاکا جھانکی میں خوار ہوتی رہتی ہیں کہ کب ان پر دیگچی چڑھے؟ کب قہوہ بنے؟ کب پیالہ میرے ہاتھ میں آئے؟
اکبرنے ناشتہ تیار ہونے اور جیپ آجانے کی اطاعات اکٹھی پہنچائیں۔
ناشتے سے فارغ ہوئے اور جیپ میں بیٹھے۔ خدا کا شکر تھا ، غنچہ خانم ہمارے ساتھ جانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

سونا لٹاتی کرنوں والی اس البیلی صبح کو ہم 25550 فٹ بلند راکا پوشی چوٹی کے دامن میں پھیلے علاقے جو دریا کے بائیں کنارے پر چھنس گہ سے ہسپر گلیشیر تک اور دریا کے دائیں کنارے گوج بالا سے خضر آباد تک ہیں کی سیاحت کے لئے نکلے تھے۔
”آیت الکرسی پڑھ کر پھونک لیں۔ خانم ہنسی تھی۔ بہت پر خطر راستے ہیں۔“
”ان کے لئے نئے نہیں“۔
اکبر نے یہ کہتے ہوئے شاہراہ قراقرام پر گاڑی چوتھے گئیر میں ڈال دی۔

دریا کے ایک طرف نلت کی وادی ہے پار چھلت کا گاؤں ہے۔ کبھی چھلت کی وادی ہنزہ اور گلگت کے درمیان سرحدی چوکی کا کام دیتی تھی۔ چھلت سے گلگت کا فاصلہ ۶۲‘ ۵۲ میل کا ہے۔ چھلت کے ساتھ چھپروٹ کا گاؤں ہے۔
اکبر کو یہاں کچھ کام تھا۔ یہ گاؤں پولو کے بہترین کھلاڑیوں کے لئے بہت شہرت رکھتا ہے۔ وزیر سرورخان’غلام عباس ’داؤد خاں اور درویش جیسے مایہ ناز کھلاڑی اسی گاؤں کے ہیں۔محکمہ زراعت کی کوششوں نے رہن سہن میں نمایاں تبدیلیاں پید اکی ہیں۔ شاہراہ قراقرم کے دائیں بائیں پھلوں کے باغات ہیں۔ مدرسے اور ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔
خضر آباد کی وادی حسن و رعنائی کے گہنوں سے لدی پھندی دامن دل کو بار بار کھینچتی تھی۔
شاہراہ قراقرم کے داہنے ہاتھ وہ معلق پل ہے جسے پار کرنے پر نگر خاص کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ گلگت سے ۵۷ میل کے فاصلے پر ہے۔

راکا پوشی کی برف پوش چوٹی پر دھوپ کی تپش دھوئیں کے بادل اُڑا رہی تھی۔ ان بادلوں کو دیکھتے دیکھتے میرے ذہن جانے کیوں بھٹکنے لگا تھا؟
جانے کتنے انقلاب اس راکا پوشی نے دیکھے ہوں گے؟ عروج و زوال کی کتنی داستانیں اس کے دامنوں میں محفوظ ہوں گی؟ جانے یہ کب سے یونہی کھڑی دنیا کو اپنے پیچھے پاگل کیے  ہوئے ہے؟ اور خود اس کا اپنا وجود بدلتے وقت کے ساتھ کتنا بدلا ہو گا؟

جیپ کی رفتار خاصی تیز تھی۔ چاروں طرف سربفلک پہاڑوں کا احاطہ تھا۔
”یہاں دھوپ کم نکلتی ہے۔ اکبر بتا رہا تھا۔ سورج کا رخ نہ ہونے کی وجہ سے سردی کی شدت زیادہ ہے۔ نگر 1400 مربع میل کے رقبے میں پھیلی ہوئی وادی ہے۔ جہاں لوگوں کی اکثریت شیعہ مسلک سے متعلق ہے۔ سیدھے سادھے مخلص اور مہمان نواز لوگ جو نہ شراب پیتے ہیں اور نہ کشید کرتے ہیں جو سادہ زندگی بسر کرتے ہیں مگر اپنے مذہبی تہوار محرم ’عیدین اور نو روز بڑی شان و شوکت اور دھوم دھام سے مناتے ہیں۔

محرم کی عزاداری کے لیے بلتستان سے ذاکرین اورعلماء آتے ہیں۔ امام بارگاہوں میں نوحہ خوانیاں ’سینہ کوبیاں اور زنجیر زنی بھی کی جاتی ہے۔ جلوس ’علم بڑی شان و شوکت سے نکالے جاتے ہیں۔ چہلم امام تک سوگ میں رہتے ہیں۔ نو روز کی عید بھی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جاتی ہیں۔ آفتاب اپنے بارہ برجوں سے گزر کر جس گھڑی پھر پہلے برج حمل میں داخل ہوتا ہے۔ اس وقت وظائف پڑھے اور تعویزات لکھے جاتے ہیں۔ مرغ ذبح کر کے مٹھائیاں اور پھل تقسیم ہوتے ہیں۔یہاں بہت پس ماندگی ہے نگر ہنزہ کی نسبت تعلیمی اور معاشی لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔ اکبر کسی قدر افسردگی سے بولا۔

وادی بڈہ لس میں اکبر ہمیں اس گرم چشمے پر لے گیا جس کی شہرت اندرون ملک کم اور بیرون ملک زیادہ ہے۔ جلدی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کے لئے یہ پانی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔ قدرت نے جانے کون سی معدنیات کا اس میں رچاؤ کر دیا ہے کہ زندگی سے مایوس لوگ یہاں آتے ہیں اور شفایاب ہو کر جاتے ہیں۔
اس گرم چشمے کی کراماتی کہانیوں میں سے جس کہانی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ اس انگریز کی تھی جو چھ فٹی قامت پر نوکیلے نقش و نگار کے ساتھ مشرقی کلچر سے خصوصی دلچسپی رکھتا تھا۔ کپتان تھا اور جالندھر چھاؤنی میں تعینات تھا۔ شادی کر کے نئی نویلی دلہن کو انگلینڈ سے لایا تھا۔ اس کے یہ دن مرادوں کے تھے جس کے ہر ہر لمحے پر اُسے جنت کا گمان ہوتا۔ یہ جنت جہنم میں بدل گئی۔ جس دن اس کے جسم پر پھنسیاں نمودار ہوئیں۔ خارش شروع ہوئی اور کھال اترنے لگی۔ وہ ڈاکٹروں کے پاس بھاگا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اس کی وہ جان جگر جو ساتھ جینے اور سات مرنے کی قسمیں کھاتی تھی۔ انگلینڈ بھاگ گئی اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ چھوت کی بیماری اسے نہ چمٹ جائے۔ اپنے کسی سجن بیلی سے اس نے تاسف بھرے لہجے میں کہا
”یار یہ یورپی عورت تو بڑی تھڑدلی ’بے مہر اور انسانیت سے عاری ہے۔ دیکھو تو کیسے چھوڑ گئی ہے مجھے؟“

وہ تھک گیا تھا۔ پھر کسی نے اسے بڈہ لس کا پتہ بتایا۔ وہ یہاں پہنچا۔ ہفتوں یہاں رہا۔ صحت یاب ہوا۔ اس کی سفارشات پر یہاں آنے والوں کے لئے ایک ریسٹ ہاؤس تعمیر ہوا۔
بعد ازاں اس انگریز نے گجرات کاٹھیاوار کی ایک گجراتی عورت سے شادی کی اور اسے لے کر انگلینڈ چلا گیا۔
چشمے کے قریب پتھروں پر بیٹھی بھاپ کے مرغولوں کو اوپر فضاؤں کی طرف پرواز کرتے ہوئے دیکھ کر میں نے بے اختیاراپنے آپ سے کہا تھا۔
”کسی کتاب ’کتابچے ’پی ٹی ڈی سی کے کسی پمفلٹ میں اس چشمے سے متعلق کوئی بات نہیں لکھی گئی۔ کاش اگر مجھے ذرا سا بھی علم ہو جاتا تو میں اپنی بیٹی کو ساتھ لے آتی۔ اس کے صحت افزا پانی میں اسے نہلاتی۔ اس کی خارش زدہ گردن جو آئے دن زخموں سے لہولہان رہتی ہے۔ شاید ٹھیک ہی ہو جاتی۔
میں نے پانی میں ہاتھ ڈالا۔ پر فوراً نکال لیا۔ پانی میری برداشت سے زیادہ گرم تھا۔

یہ وادی خالص آفتابی سلاجیت کے لئے بھی بہت مشہور ہے۔
ریسٹ ہاؤس سے ہم نے چائے بنوائی اور پی۔ اس خوبصورت ماحول میں چائے کے ایک کپ نے کیسا لطف دیا۔ یہ شاید الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
ولی آباد میرے لئے بہت بابرکت وادی ثابت ہوئی۔ مقامی کلچر کے جو مختلف رنگ دیکھنے کے لئے میں یہاں وہاں بھاگی پھرتی تھی۔ اس کی ایک جھلک یہاں دیکھنے کو ملی۔
وادی میں کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم آئی تھی۔ جاپان‘ اٹلی‘ سویڈن‘ یوگو سلاویہ‘ اسپین اور  امریکہ کے مہم جوؤں کا یہ ٹولہ دنیا کے ستائیسویں بڑے پہاڑ راکا پوشی کو سر کرنے کے لئے یہاں پہنچا ہوا تھا۔

”لیجئے آپ کے من کی مراد پوری ہو گئی ہے۔“
اکبر جو گاڑی روکے کسی مقامی مرد سے باتیں کر رہا تھا۔ ہنستے ہوئے میری طرف آیا۔
”ایک خوبصورت شو آپ کا منتظر ہے۔“
میرے اندر جیسے پھلجھڑیاں سی چھوٹنے لگیں۔
اکبر گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا پولو گراؤنڈ کے پاس کھلُی جگہ آگیا۔

گاؤں کے تمام لوگ وہاں جمع تھے۔ سامنے سٹیج بنی ہوئی تھی۔ مہمانوں کے لئے اگلی قطار میں کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ کچھ لوگ دریوں پر بیٹھے تھے اور اکثریت پتھریلی زمین پر پھسکڑا مارے بیٹھی تھی۔
اسسٹنٹ کمشنر جناب داؤد صاحب بھی دورے پر اس طرف آئے ہوئے تھے۔ داؤد صاحب سے میری اچھی علیک سلیک ہے۔ شگر میں میرا قیام ان کے پاس تھا۔
”تو آپ یہاں بھی پہنچ گئی ہیں“۔
”یہاں تو آنا چاہیے تھا۔ آپ کی جائے پیدائش ہے یہ“۔
داؤد صاحب خوشدلی سے ہنسے اور ہمیں اکبر کے ساتھ لے کر آگے بڑھے۔

دائیں ہاتھ سازندے اپنے اپنے  سازوں  کے ساتھ بیٹھے تھے۔ غنچہ جیپ میں تھی۔ میں اور شفقت اگلی سیٹوں پر بیٹھ گئیں۔یہ تقریب دانیال کے سلسلے میں تھی۔دانیال شمال علاقہ جات کا ایک ایسا کردار ہے۔ جو جب جنوں کے عالم میں ہو تو پریاں اور جن اس کے پاس آتے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں واقعات‘ پر اسرار کہانیاں اور مختلف النوع چیزوں کی نشان وہی کرتے ہیں۔
”اللہ انسان کس قدر سیماب فطرت ہے۔ اپنے کل کو جاننے کے لئے کیا کیا ڈھونگ رچاتا پھرتا ہے؟ دور افتادہ پہاڑوں میں رہتا ہو یا ماڈرن بستیوں کا مکین ہو۔ کل کے بارے میں جاننے کیلئے مرا جاتا ہے۔ کبھی رم کے ذریعے‘ کبھی جوتش‘ نجوم‘ علم ہندسہ‘ سرودھا (سروں کا علم جس سے قسمت کا حال معلوم کیا جاتا ہے) کے واسطے سے قسمت کا حال جاننا چاہتا ہے۔

ایک بار میں اپنی ایک دوست کے گھر گئی۔ سارے فیملی ممبر پورچ میں مٹی کے ڈھیر کے سامنے بیٹھے تھے۔ گندی مندی سی جینز اور ٹی شرٹ پہنے ایک ہیپی ٹائپ نوجوان عامل کا کردار ادا کر رہا تھا۔ میری دوست کی والدہ آنکھیں بند کیے  بیٹھی تھیں ،نواجوان مٹی کے ڈھیر پر انگلی سے لکیریں لگا رہا  تھا ۔ ان لکیروں سے وہ قسمت کا حال بتاتا  تھا ۔ سارے گھر والے دم سادھے بیٹھے تھے۔
نوجوان نے کچھ سال یونان میں گزارے تھے۔ جہاں اس نے جیو مینسی کا علم سیکھا تھا۔ اور اب اسی علم کو بروئے کار لا کر وہ لوگوں کو کل کے بارے میں بتاتا تھا۔پتہ نہیں یہ سچ تھا یا جھوٹ اور اب جب ہم ایک ایسا ہی تماشہ دیکھنے والے تھے میں نے اکبر سے پوچھا۔

کہیں یہ دانیال حضرت دانیال علیہ السلام بننے کی کوشش تو نہیں کرتے جنہیں علم رمل عطا ہوا تھا جو بہرحال ایک مسئلہ امر ہے۔
”اس کے بارے میں تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔“
سٹیج سے قدرے فاصلے پر پتھر کے چولہے پر ایک برتن میں چیلی کے پتے گھی میں تلے جا رہے تھے۔ ”زمانہ بدلتا جا رہا ہے۔ اب ان باتوں کی وہ اہمیت نہیں رہی جو کبھی تھی۔ ماضی میں حکمران اپنے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ دانیال اور سازندوں کو بلایا کرتے تھے“۔ داؤد صاحب بتا رہے تھے۔
چیلی کے تلے ہوئے پتوں پر انگارے ڈال دئیے گئے۔ فضا میں عجیب سی باس کا دھواں پھیل گیا۔
تبھی ایک سمت سے ایک لمبا اونچا کھلے ہاتھ پاؤں والا شخص جھومتا گاتا آیا۔ وہ جیسے مدہوش ساتھا۔ اسی مدہوشی میں وہ بازوؤں کو اُوپر نیچے جھولے جُھلاتا  دھوئیں کے غبار میں چلا گیا۔ کبھی کبھی وہ اپنے اردگرد لپٹی ہوئی چادر میں دھوئیں کو گھیر گھیر کر اپنے جسم میں داخل کرنے کی کوشش کرتا۔ سازندوں نے بڑی تیز دھن بجانی شروع کی۔ ساتھ ہی تماش بینوں نے سیٹیوں اور تالیوں سے فضا میں ہلچل مچا دی۔
پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ خوفناک اور ڈراؤنی سی۔ ہمارے وہم و گمان سے بھی بالا۔
دانیال تیزی سے چلتا ہوا ہماری طرف آیا۔ اس نے اپنا داہنا پاؤں زور سے زمین پر مارا۔ شفقت کے عین سامنے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جنگلی بھینسے کی طرح ڈکرایا۔
بوہ بوہ (جاؤ جاؤ) کہتے کہتے یوں دھاڑا کہ سارے مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ سازندوں کے ساز خاموش ہو گئے۔ مجمع میں کسی آواز کی بھنبھناہٹ تک نہ تھی۔ وہ انگشت شہادت سے شفقت کی طرف اشارے کر رہا تھا۔ ہمارے سانس سینے میں کہیں رک گئے تھے۔ چہروں کے رنگ فق اور سارا سر یر جیسے کانپتا تھا۔
”اوہو“۔۔۔۔۔۔۔
اس شو کے منتظمین میں سے دو تین بھاگتے ہوئے اکبر کے پاس آئے۔ شنا زبان میں اس سے چند باتیں کیں۔ اکبر ہنس پڑا۔شفقت کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور بولا۔

”گھبرائیے مت دراصل مجھے بھی خیال نہیں رہا۔ دانیال کی محفل میں کوئی فرد سرخ کپڑے نہیں پہن سکتا اور آپ سرخ جوڑا پہنے ہوئے ہیں“۔
وہ اُسے لے کر جیپ کی طرح چل پڑا۔ خدا کا شکر تھا۔ سازندوں کے ساز پھر شروع ہوئے۔ دانیال وجد میں تھا اور ڈانس کر رہا تھا۔ لوگوں کی تالیوں کا شور دھیرے دھیرے پھر بڑھنے لگا۔
دانیال نزدیکی پہاڑ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ خوبصورت درختوں اور پھولوں کی طرف اشارے کرنے لگا۔ سٹیج پر چکر لگاتے لگاتے بانسری بجانے والے کے پاس رک کر اسے ”اور تیز بجاؤ“ کا اشارہ دینے لگا۔ اس کے چہرے پر ہنسی تھی۔ وہ درختوں اور پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے بڑا بڑا رہا تھا۔
”اسے درختوں اور پہاڑوں پر پریاں اور جن نظر آرہے ہیں“۔
مجمع میں لوگوں نے اپنے متعلق باتیں پوچھنی شروع کر دیں۔ دانیال ہاتھ اور سر ہلا ہلا کر جواب دیتا رہا۔ کسی نے کوہ پیماؤں کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ راکا پوشی کو سر کرنے میں کامیاب رہیں گے یا ناکام۔
دانیال کا جواب نفی میں تھا۔
تقریباً ایک گھنٹہ یہ تماشا ہوتا رہا۔ پھر دو مضبوط نوجوان وہاں آئے۔ دانیال ان کے کندھے پر بیٹھا اور محفل سے چلا گیا۔

جیپ میں بیٹھ کر میں نے اکبر سے پوچھا۔
”ان پیشین گوئیوں میں کچھ سچائی بھی ہوتی ہے یا نری فراڈ باز ی ہے۔
اکبر نے گاڑی سٹارٹ کی۔

”میں ان توہمات پر یقین نہیں رکھتا۔ دل لگی اور دل بہلاوے کے لئے یہ کھیل تماشے ٹھیک ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں“۔
پسٰن اور مناپن کے خوبصورت میدانی گاؤں کی دلفریبی موہ لینے والی تھی۔ مناپن وہ وادی ہے جہاں سے مہم جو راکا پوشی کی چوٹی سر کرنے کے لئے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔
میری آنکھوں کے سامنے وہ سب چہرے آگئے تھے جنہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے میں اپنے پیچھے چھوڑ کر آئی تھی۔ نوجوان ’خوبصورت ’امنگوں اور ولولوں سے لدے پھندے وجود کچھ کر گزرنے کے خواہاں ’تاریخ میں اپنا نام محفوظ کرنے کے آرزو مند۔ ان سے رخصت ہوتے سمے میں نے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کی کامیابی کے لئے دعا مانگی تھی۔ یہ جرمن قراقرم کوہ پیماؤں کی ایک پارٹی تھی۔
مناپن کے پہاڑوں کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر میرے دل نے ان جیالوں کے لیے دعا مانگی۔
”خدایا ان کی یہ مہم سلامتی سے تکمیل کو پہنچے۔“

وادی مناپن کی زرخیزی دیکھ کر میں حیرت زدہ تھی۔ لوگ جفاکش اور محنتی نظر آتے تھے۔ پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر دریا کے کناروں تک کوئی جگہ ایسی نہ تھی جسے آباد نہ کیا ہو۔ ناشپاتی‘ خوبانی اور سیب کے درختوں کی بہتات تھی۔آزادی گلگت و بلتستان کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کے دست راست ’گشپور شہزادے بابر کا گاؤں ”توشوٹ“ ”گاڑی کیوں بھگائے  لئے جاتے ہو۔ رکونا یہاں۔ اس ہیرو کو خراج عقیدت دئیے بغیر ہی گزر جائیں گے“۔

توشوٹ سے آگے زیادہ اونچائی کا سفر تھا۔ جیپ کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی۔ بھوک زوروں پر تھی اور اکبر کہتا تھا کہ اسکر داس چل کر کھانا کھائیں گے۔ شفقت مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی تھی اور میں بھوک پیاس دونوں سے بے نیاز سیاحت کے مزے لوٹ رہی تھی۔
پھکر کے میدانی گاؤں کے بعد ہکوچر کا گرم پانی کا چشمہ دیکھا۔ یہ چشمہ انتہائی خوفناک جگہ پر واقع ہے۔ ہم اسکر داس کی خوبصورت وادی میں داخل ہو رہے تھے۔ گھڑیاں ساڑھے بارہ کا اعلان کر رہی تھیں اور وادی دن کے ڈھلنے کا۔ اسکر داس میں ٹکر پانی کے لئے جس گھر میں جا کر اترے۔ماشاء اللہ وہاں مہمانوں کا ایک جم غفیر پہلے ہی موجیں مار رہا تھا۔ برآمدے میں سرخ سبز چادروں والی عورتیں ہی عورتیں اور آنگن میں بچے ہی بچے۔ مہمانوں اور میزبانوں میں تمیز کرنا مشکل تھی۔ باورچی خانے سے مصالحوں اور گوشت کی خوشبوئیں پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھیں۔ شفقت سانس زور زور سے کھینچتے ہوئے کسی قدر مایوسی سے بولی۔

خوشبوئیں تو پاگل کیے  دے رہی ہیں۔ بوٹی کوئی نصیب ہوتی ہے یا نہیں۔ اللہ جانتا ہے۔
”شانتی رکھو۔ ایک بڑے عالم دین کے مہمان ہوئے ہیں۔ گھر والے خود بھوکے رہ لیں گے پر ہمیں بوٹیاں ضرور دیں گے۔
میں نے تسلی دی۔اسکرداس اور اس سے ملحقہ گاؤں سمائر عالم دین‘ مبلغین اور مشائخ پید اکرنے میں خصوصی شہرت کے حامل ہیں۔ انہوں نے اسلامی علوم کی مختلف اصناف میں تحقیقی کام سے بہت نام پید اکیا ہے۔
میزبانوں کی اب کچھ کچھ پہچان ہونے لگی تھی۔ دو نوجوان عورتیں جن کا زیادہ  وقت باورچی خانے میں گزر رہا تھا۔ توبہ شکن حسن کی مالک تھیں۔ سبز آنکھوں سے پھوٹتی روشنی براہ راست دل پر اثر کرتی تھی۔
ظہر کی نماز پڑھنے کا وقت ہو رہا تھا۔ ہمارے کہنے پر فوراً جائے نماز بچھا دئیے گئے۔ پانی ٹھنڈا اور میٹھا تھا۔ وضو کرنے کے ساتھ تھوڑا پیا بھی۔ حلق سے پیٹ تک ٹھنڈک کا خوشگوار احساس ملا۔

کسری فرض ادا کرنے کے بعد دعائیں مانگنے میں کچھ وقت لگا۔ جب فارغ ہوئے۔ کھانا چن دیا گیا تھا۔ گھر میں آنے والے مہمان دو قسم کے تھے، ایک نیچے کے، دوسرے اوپر کے۔ اوپر کے مہمان ہسپر گاؤں سے آئے تھے اور نیچے والے پنجاب سے۔ دونوں کو کھانا ان کے رواج کے مطابق دیا گیا۔
دو بڑی پراتوں کے گرد عورتیں اپنے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ روٹی کی بُرکیاں اور شوربہ پراتوں میں اور بوٹیاں ہاتھوں میں کھانے کے ساتھ ساتھ ”شنا“ میں باتوں کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری تھا۔
ہمارے لئے کھانا کمرے میں رکھا ہوا تھا۔ آلو گوشت کا شوربہ۔ بڑی بڑی تنوری روٹیاں۔ پیاز کھیرا اور ٹماٹر کٹے ہوئے۔

ہم تینوں نے گرسنہ انداز میں چیزوں کو دیکھا اور پل پڑے۔ بھوک کی شدت کا وہ عالم تھا کہ شفقت نے ڈونگے سے بوٹیاں نکالنے میں جب ذرا دیر کی۔ مجھ سے صبر نہیں ہو سکا بے اختیار بول پڑی۔
”کچھ باقیوں کا بھی خیال کرو۔ ساری اچھی بوٹیاں تمہیں چاہئیں ۔ ہاں ذرا جلدی کرو۔ کسی اور نے بھی سالن ڈالنا ہے“۔سیانے سچ کہتے ہیں۔ انسان کی پرکھ کے دو بڑے ذریعے سفر او رکھانے کا دسترخوان ہے۔ بندے کا اندر ننگا ہو کر سامنے آجاتا ہے۔سالن بہت لذیذ تھا۔ بھوک زوروں پر تھی۔ ڈٹ کر کھایا۔ سونے کے رنگ جیسے قہوے نے بہت لطف دیا۔

خوبصورت میزبان عورتیں ہمارے پاس بیٹھی ٹکر ٹکر ہمیں دیکھتی تھیں۔ ہم چاند جیسے انکے چہروں کو دیکھتے ہوئے پیدا کرنے والے کی صناعی کی داد دے رہے تھے اور سوچے جاتے تھے کہ آخر حسن جیسے انمول عطیات سے ہم کیوں محروم رہے۔ خانم مترجم کے فرائض سر انجام دے رہی تھی۔ کیونکہ ہسپر گاؤں سے مہمان اور اسکر داس کے میزبان دونوں اردو کا ایک لفظ بھی نہ بول سکتی تھیں اور نہ سمجھ۔
شفقت نے یونانی خدوخال والی فزا کی طرف دیکھتے ہوئے خانم سے کہا ذرا پوچھو تو میاں اسے دیکھنے کے لئے گھر کے کتنے چکر لگاتا ہے؟
”یا اللہ فزا! شرمائی اور لجائی۔ اس کے چہرے پر قوس و قزح کے دھنک رنگ بکھرے۔ سچی بات ہے کہ فزا اور بتول فاطمہ حسن و رعنائی کے وہ شاہکار تھے کہ جنہیں بندہ سامنے بٹھا کر دیکھتا رہے اور جی نہ بھرے۔
خانم نے بتایا کہ ہسپر گاؤں کی خواتین وہاں آنے کی دعوت دے رہی ہیں۔

”لو خود تو مہمان بنی بیٹھی ہیں“۔ میں ہنسی۔۔باہر سے بلاوا آگیا تھا۔ اس وقت جی چاہتا تھا کہ پھولوں والے نمدے پر دراز ہو جائیں۔ تکیہ سر کے نیچے رکھیں اور اس دنیا میں پہنچ جائیں۔ جسے خوابوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ کسی نئی جگہ کو دیکھنے کی تمنا نہیں تھی۔ تھکن اور نیند دونوں غالب تھیں۔
سب سے فرداً فرداً گلے ملے۔ ان کے رخساروں پر پیار کیا ور جواباً پیار لیا۔ جب گھر میں داخل ہوئے تھے تو کسی قدر بیگانگی اور اجنبیت نے خیر مقدم کیا تھا اور جب رخصت ہو رہے تھے‘ محبت اور خلوص کی چمک دامن گیر تھی۔

اسکر داس سے حیدر خان حیدر ہمارے ساتھ شامل ہوا۔ اکبر کا دوست اس کا ہم عمر‘ نوجوان اٹھائیس تیس کے سن میں۔ علاقے کے چپے چپے سے واقف۔جیپ میں بیٹھتے ہی بولا۔
”آپ کے لئے بہتر ہو گا کہ رات نگر خاص میں قیام کریں۔ صبح ہسپر وادی دیکھیں۔ ہسپر دیکھے بغیر نگر آنے کا فائدہ! یقین کیجئے میرے پاس الفاظ نہیں جو ہسپر کے حسن کو بیان کر سکیں“۔
میں نے شفقت کی طرف اور شفقت نے میری طرف دیکھا۔
میرا خیال تھا وہ کہے گی ”دفع کرو۔ ایسے ہی ننگے بچھے پہاڑ وہاں ہوں گے۔ بہتیرے دیکھ لئے ہیں۔“
پر میری حیرت کی انتہا تھی جب وہ بولی ”چلو دیکھ لیتے ہیں۔ اتنا پینڈا مارا ہے۔ حسرت تو نہ رہے گی کہ اتنے قریب پہنچ کر یونہی واپس لوٹ آئے“۔

ہم ایک خوبصورت جامع مسجد کے سامنے تھے۔ عالیشان مسجد پچی کاری و چوب کاری کے بہترین کام سے مزین و آنکھوں اور دل کو طمانیت بخشتی کچھ ایسا ہی حال امام باڑے کا تھا۔ گھنٹہ یہیں لگ گیا۔

اتنی شدید تھکن  تھی  کہ  نمدے  پر  بیٹھی تو پتہ ہی نہ چلا کہ کب نیم دراز ہوئی اور کب سو گئی؟ جب آنکھ کھلی کمرے میں لالٹین جلتی تھی اور دسترخوان بچھا ہوا تھا اور شفقت اشتیاق بھری نظروں سے کھانے کو دیکھتی تھیں۔
خاتون خانہ نوجوان تھی۔ چاربچوں کی ماں پر ایسے متناسب جسم کی  مالک تھی کہ ایک کی بھی ماں نہیں لگتی تھی۔

بڑا لذیذ پلاؤ تھا۔ کھا کر لطف آگیا۔میں تو چائے پیے  بغیر ہی دوبارہ لیٹ کر سو گئی۔ صبح  جلدی آنکھ کھل گئی۔ میں باہر جانا چاہتی تھی۔ مگر سب لوگ سو رہے تھے۔ بیرونی دروازے کا بھی نہیں پتہ تھا کہ کس طرف ہے؟ بہرحال چپکی لیٹی رہی۔ کمرہ اوسط درجے کی فیملی کا نمائندہ تھا۔
اس وقت بڑی دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب ناشتہ ہمارے سامنے لا کر رکھا گیا۔ چینی کی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں پگھلا ہوا گھی معلوم ہوتا تھا۔ پلیٹوں میں موٹی موٹی روٹیاں تھیں۔ نمکین چائے کے پیالے تھے۔
اکبر ہنسا اور بولا”خالص مقامی ناشتہ ہے یہ۔ کھائیے۔“
”اسے درم پھٹی کہتے ہیں۔“ حیدر خان نے وضاحت کی۔
گندم کو پانی میں بھگو کر دھوپ میں رکھنے سے کونپلیں  پھوٹ  پڑتی  ہیں۔ اسے سکھا کر آٹا بنایا جاتا ہے  اس آٹے میں بہت مٹھاس ہوتی ہے۔ ان پیالیوں میں گھی وی نہیں ہے۔ اخروٹ کا  تیل ہے۔ لقمے توڑئیے اس تیل میں ڈبوئیے اور کھائیے۔

پہل حیدر خان نے کی۔ ہم بھی پیچھے چلے۔ سچی بات ہے۔ بہت لطف آیا۔ چائے پی اور شاد ہوئے۔
نگر خاص سے ہی ہماری واپسی ہو گئی۔ صاحب خانہ بتا رہے تھے۔ راستہ بہت خراب ہے۔ وہ حصہ تو یوں بھی ان دنوں نگر سے کٹا ہوا ہے۔ کچی سڑک بہت تنگ اور جابجا ٹوٹی پھوٹی ہے۔ اکبر کو بہت  افسوس ہوا۔ وہ اپنے اخبار کے لئے کچھ فوٹو گرافی کرنا چاہتا تھا۔ پر سب سے زیادہ افسوس تو ہمیں ہو رہا تھا۔ حیدر خان نے ہسپر کے بارے میں جس انداز میں ہم سے باتیں کی تھیں۔ اس نے بہت مشتاق کر دیا تھااور اب کچھ یوں لگ رہا تھا جیسے پیاسے انسان کو شربت کا گلاس تھما کر اس سے گلاس چھین لیا جائے۔
واپسی کے سفر میں ہسپر ہی زیر بحث رہا۔

ایک انوکھی اور منفرد وادی برف کے پہاڑوں سے گھری ہوئی۔ دامن سے چوٹی تک برف ہی برف‘ نام کو کوئی درخت نہیں۔
حیدر کا کہنا تھا اگر ورڈز ورتھ کا کہیں ادھر سے گزر ہو جاتا تو وہ اس پر اتنا لکھتا کہ پوری دنیا میں ہسپر گونج جاتا۔ یہاں Mountain Golden کو دیکھنے کے لئے سیاح دور دور سے آتے ہیں۔ یہ پہاڑ چوٹی سے دامن تک سنہرا ہے۔دریائے نگر کا منبع بھی یہی گاؤں ہے اور بلتستان کی وادی شگر میں بھی اس کے برفانی پہاڑوں پر سے جایا جا سکتا ہے۔کاش میں ہسپر جا سکتی کاش میں گلیشیروں پر سے ہوتی ہوئی شگر پہنچ سکتی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *