• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • میں کھٹکتا ہوں ’دل شیطاں‘ میں کانٹے کی طرح ۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

میں کھٹکتا ہوں ’دل شیطاں‘ میں کانٹے کی طرح ۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جیسے خوبصورت سلوگن رکھنے والے الیکشن کمیشن آف پاکستان، فاحکم بین الناس باالحق جیسا قرآنی نعرہ پیشانی پر سجائے ہماری عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ،جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کے متمنی تو نہیں ہیں مگر امیدواروں کے چناؤ کے دنگل میں اکھاڑے سے باہر کھڑے ہو کر اپنی من پسند جماعتوں اور امیدواروں کو غیر قانونی و غیر اخلاقی حمایت ضرور مہیا کر رہے ہیں۔

گزشتہ ادوار میں سنتے، پرکھتے اور دیکھتے تھے کہ ہمارے ہاں حکومت بننے میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار بہت اہم ہے جواب ایک تلخ حقیقت کاروپ دھارچکا ہے۔یہ بڑی بد نصیبی کی بات ہے کہ ہم، ہمارے بزرگ اور نئی آنے والی نسلیں بھی یہی ڈرامہ دیکھ رہی ہیں کہ اب کون لاڈلا ہو گا جس کے لیے میڈیا، انتظامیہ اور دوسرے ادارے غیر اخلاقی سپورٹ مہیا کر کے بیلٹ باکس بھریں گے اور پھراس حکومت کی اندورنی وبیرونی پالیسیوں کی خود مختاری ضبط کر کے پیسوں کا انبار اپنے بینکوں میں ڈالیں گے اور جمہوری حکومت کا کٹھ پتلی تماشہ غلام عوام کے ذہن وقلوب میں زبردستی ٹھونسا جائے گا، اور آخر میں پانچ سال گزرجانے کے بعد عوام کے فکری چناؤ پر ایک بار پھر سے شب خون مارا جائے گا۔

پانامہ جو اصل مسئلہ تھا اس سے توجہ ہٹا کر اقامہ پر توجہ دلائی گی۔پھر جب دیکھا کہ اس وقت کی حکومت کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہو رہی ہے تو نیب پیشیوں، نااہلیوں اورگرفتاریوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ میاں نواز شریف(جو کہ بلاشبہ فوج ہی کی پیداوار ہیں) اپنے تینوں ادوار میں جمہوری عمل کے مقابلے میں اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کے ہمیشہ سے مخالف رہے اور جمہوری نظام کے تسلسل کی عملی تصویر نظر آئے۔اور ”میں کھٹکتا ہوں ”دل شیطاں“ میں کانٹے کی طرح“کی صدا بلند کرنے کی بدولت انہیں ہر بار عوام سے دور کرنے کی بے سود کوشش کی گئی اور جان بوجھ کر عمران خان کی ”گڈی“ چڑھائی گئی۔

چند دن پہلے تک کے پی میں کمزور پوزیشن رکھنے والی پی ٹی آئی اب حالیہ تین سرویز میں اچانک خیبر پختون خوا  میں ٹاپ اور پنجاب میں کانٹے دار مقابلے کی پوزیشن میں آگئی۔ حالانکہ پاکستان تحریک انصاف خود پریشان تھی کہ کے پی کا ووٹر اب ہمیں دوبار ہ منتخب نہیں کرے گا لیکن 2018 میں ایسا جال بچھایا گیا کہ 2013 کے بعد سے پی ٹی آئی کے منحرف ووٹر اب دوبارہ سے عمران کی سیاسی امامت کے حامی نظر آتے ہیں۔ آج سے ٹھیک 1 ماہ پہلے تک اگلی مخلوط حکومت ایم ایم اے کی مرضی سے بننے والی تھی مگراب ایم ایم اے کے پی میں تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔

چیف جسٹس کا راولپنڈی میں جاکر شیخ رشید کے حلقے میں الیکشن سے صرف چند دن پہلے ہسپتال کا فوری اجراء کرانے کے احکامات جاری کرنا اور شیخ رشید کی تعریف کرنا یقیناً  پنڈی کی سیاست میں گہرے اثرات مرتب کرے گا اور مسلم لیگ ن کی جیتی ہوئی تینوں سیٹوں کو شاید جیب کی سیٹ پر بیٹھنا پڑ  جائے۔

بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ شکاری نے شکار کرنے کے لیے نیب کو آگے لگایا اور پیچھے سے ڈوری ہلاتا رہا کہ جب تک سابقہ مقبول ترین جماعت کی کمر ٹوٹ نہیں جاتی تب تک پیشیوں اور نااہلیوں کا سلسلہ جاری رکھو اور وقت آنے پر رسمی اعلان کر کے انتخابات تک پکڑ دھکڑ رکوانے کا اعلان کرکے عوام کی حمایت حاصل کر لو۔ مہروں نے جو چالیں سینٹ کے انتخابات میں چلیں اس سے پوری قوم واقف ہے اوراب جو شطرنج کا گورکھ دھندا پنجاب کے الیکٹیبلز  اور کے پی میں پی ٹی آئی گراف کی ریکوری کی صور ت میں سامنے آیا ہے وہ جمہوری آمریت کی بدترین مثال ہے۔(دعا ہے خدا نہ کرے کہ نواز شریف کا خلائی مخلوق والا بیانیہ درست ثابت ہو)

حالیہ انتخابات میں مسلم لیگ ن،ق،زیڈ،ایف، پی ٹی آئی،پی پی پی،پی پی پی ورکزر، ایم کیوایم، ایم ایم اے، مسلم لیگ ق، اے این پی، عوامی مسلم لیگ، بلوچستا ن عوامی پارٹی، برابری پارٹی، تحریک لبیک پاکستان، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) و(س)، مرکز جمعیت اہل حدیث، مہاجر قومی موومنٹ پارٹی، پاک سرزمین پارٹی، پاکستان عوامی راج، پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک الائنس، سنی تحریک، پختون خوا  ملی عوامی پارٹی اور گریند ڈیموکریٹک الائنس سمیت کل 122 سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔

گھوڑے کی لگامیں مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی، پی پی پی،ایم کیو ایم، ایم ایم اے،پی ایس پی، اے این پی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور آزاد امیدواروں نے بڑی بے صبری سے تھام رکھی ہیں۔ ملک کے معروضی،مفروضی اور حقیقی حالات پر گہری نظررکھنے والے صاحبان عقل و دانش کا خیال ہے کہ پنجاب، کے پی اور کراچی کا خاموش ووٹر جو ابھی تک Undecided voter ہے وہ کسی بھی پارٹی کے حکومت بنانے اور حکومت سے آؤٹ ہونے کے لیے بہت اہم ہوگا۔

مسلم لیگ ن اور ایم کیوایم کیطر ف سے الیکشن کے بائیکاٹ کی باتیں اوراس حوالے سے جو Reservationsسامنے آرہی ہیں ان سے عوام ڈبل مائنڈڈ ہیں اور پریشانی کا شکار ہیں کہ ووٹ کس کو دیا جائے اور ایسے میں نااہلیوں اور پارٹی سے بے وفائیوں کی بدولت جو لوگ اب آزاد حیثیت میں آچکے ہیں، ان کے حلقوں کا ووٹر بھی پریشان کن کیفیت سے دوچار ہے۔اگر نواز شریف ایک ہفتے تک واپس نہ آسکے تو پھر مسلم لیگ ن کے ووٹ پر اچھا خاصا اثر پڑے گا،کیوں کہ جو Potentialنواز شریف میں ہے وہ کرزماشہباز شریف کے پاس نہیں ہے۔

محتاط رائے کے مطابق پنجاب کا تقریباََ 15فیصد ووٹر، کے پی کا 20فیصد ووٹر اور کراچی کا 30فیصد ووٹر گومگو کی کیفیت کا شکار ہے اور وہ آخری وقت میں اگلے تین ہفتوں کی عدالتی، نیب کاروائیوں، نوازشریف کی واپسی، یا آزاد گھوڑوں کی خفیہ چالیں دیکھ کر ہی رائے دہی کا فیصلہ کر پائے گا۔سیٹوں کے حوالے سے حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا کہ اسلام آباد کی تین میں سے دوسیٹیں کون جیتے گا؟ اور پنجاب میں زیادہ سیٹیں جیتنے کا ”ہما“کس کے سر بیٹھے   گا یا بیٹھنے کاکہا جائے گا۔

امید کرتے ہیں کہ عام انتخابات میں تمام ادارے بشمول عدلیہ، نیب، میڈیااور الیکشن کمیشن وغیرہ آزادانہ، منصافانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے عمل کو یقینی بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور کسی بھی قسم کے دباؤ، ڈبہ اٹھاؤ، ووٹر بکاؤ،پیسہ چلاؤ،بینک بیلنس بناؤ، لنک بڑھاؤ، مرضی چلاؤ،ووٹر کی تذلیل کراؤ جیسے  بیرونی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *