ریاست کیا ہے؟۔۔۔۔۔نجم ولی خان

جب سے سیاست اور صحافت جیسے علوم میں عطائیت کو رواج ملا ہے تب سے ریاست کے لفظ کا استعمال اس طرح کیا جاتا ہے جیسے عطائی سٹیرائیڈز کا کرتے ہیں۔ کرنٹ افئیرز کے پروگراموں میں بغیر کسی جھجک اور ہچکچاہٹ کے سرکاری اداروں کو ریاست قرار دیا جاتا ہے اور وہاں بیٹھے ہوئے عوام کی ٹیکسوں سے تنخواہیں لینے والوں کی سوچ، فکر اور حکمت عملی سے اختلاف کو ریاست سے بغاوت کہہ دیا جاتا ہے۔ ایک خاتون اینکر نے ایک پروگرام میں قرار دیا کہ ریاست نے فورتھ شیڈول میں شامل عناصر کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب حسن عسکری رضوی کے ذریعے کلئیر کروا لیا ہے تو مجھے حیرت ہوئی کہ ریاست اپنی مرضی اور منشاء کااظہارجائزیت پر مبنی قانون سازی کے ذریعے کرتی ہے جبکہ نگران وزیراعلیٰ کے پاس قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں لہذا اگر انہوں نے کوئی آئین اور قانون سے ماورا فیصلہ کیا ہے تو یقینی طور پر وہ ریاست کا مظہر نہیں۔کیا یہ امر دلچسپ نہیں ہے کہ مہذب معاشروں میں تمام تر احترام کے باوجود عدلیہ کو بھی اس کی اپنی حیثیت میں ریاست قرار نہیں دیا جاتا۔عدلیہ اور فوج جیسے ادارے ریاست کی دانش اور قوت کے مظہر تو ہو سکتے ہیں مگر بذات خود ریاست نہیں ہو سکتے۔ جب ہم ریاست کی اصل تعریف کی طرف جائیں گے تو ہمیں علم ہو گا کہ یہ فرق اتنا معمولی نہیں ہے۔

سیاسیات کے علم اور اصطلاحات کی وضاحت کرتی ہوئی مختلف ڈکشنریاں اٹھا لی جائیں توان میں لفظ ریاست کی مختلف تعریفیں ملتی ہیں مگر ان تعریفوں میں تین عناصر مشترک ہیں۔ پہلا عنصرلوگ یا عوام ہیں یعنی کوئی بھی ریاست لوگوں کے بغیر تشکیل نہیں پا سکتی یعنی اگر کسی جگہ انسان ہی موجود نہیں تو وہاں ریاست کی موجودگی اور عدم موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا عنصر یا شرط حکومت یا سیاسی تنظیم ہے یعنی جو لوگ موجود ہوں ان میں حقوق و فرائض کی ادائیگی کے ایک طریقہ کار پر اتفاق ہو جو تمام ریاستوں میں آئین فراہم کرتا ہے چاہے وہ تحریری ہو یا غیر تحریری۔ جب ہم آئین کے تقدس کی بات کرتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ اگر آئین سبوتاژ ہو گا تو ریاست اپنا وجود کھو بیٹھے گی۔ تیسرا عنصر علاقہ ہے جسے موجودہ ریاستی نظام میں بہت زیادہ اہمیت حاسل ہے کیونکہ ہرریاست کی ایک سرحد ہے اوراس کے بعد ہی دوسری ریاست کا علاقہ شروع ہو سکتا ہے لیکن اگر کسی ریاست کے پاس علاقہ ہی نہ ہو تو اسے ریاست کا درجہ نہیں مل سکتا۔ ہم اپنے خطے میں دیکھیں تو سکھوں کی علیحدہ وطن خالصتان کے لئے تحریک کے دوران ایک ان کی حامی آبادی بھی نظر آتی ہے اور ان کی ایک جلاوطن حکومت بھی ملتی ہے لیکن چونکہ اس آبادی اور حکومت کے پاس کوئی ایسا علاقہ نظر نہیں آتا جہاں کی ان کے نظرئیے اور قانون کی عملداری ہو توخالصتان کو بطور ریاست تسلیم نہیں کیا جا تا رہا۔ اگر ہم مزید آگے بڑھیں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ کسی بھی ریاست دوسری ریاستوں کی طرف سے تسلیم کیاجانا بھی ضروری ہے اور اس کے بعد ہی کوئی ریاست اپنا کاروبار عالمی برادری میں چلا سکتی ہے۔ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا مگرعربوں سمیت باقی دنیا اسے تسلیم کرتی ہے لہذا اسرائیل بطور ریاست موجود ہے چاہے ہم اس کے قیام کو جتنا بھی غیر قانونی اور غیر اخلاقی سمجھتے رہیں۔

ریاست سے آگے بڑھتے ہوئے جب ہم ایک مثالی ریاست کی بات کرتے ہیں تو وہاں دوسرا عنصر یعنی وہاں بسنے والے لوگوں کی سیاسی تنظیم یا حکومت کی حالت اہم ہوجاتی ہے۔ جس بھی معاشرے میں لوگ اپنی رضا اور منشا سے حکومت تشکیل دینے اوراس کے بعد مساوات کے اصول کو سامنے رکھتے ہوئے قانون کی بالادستی اور زیادہ سے زیادہ آسائشوں کے حصول میں کامیاب ہوتے ہیں وہ ریاست مثالی بن جاتی ہے۔ دنیا بھر میں مثالی ریاستوں کے قیام کے لئے اب جی ڈی پی یعنی معاشی ترقی سے بھی آگے اطمینان کی شرح کوپیمانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک وقت تھا( اور اب بھی بڑی تعداد میں لوگ ایسا سمجھتے ہیں ) کہ روپے پیسے کی فراوانی ہی کامیابی ہے مگر اب بہت سارے مقامات پر ایسا نہیں رہا ، روپے پیسے کی فراوانی محض معاشی ترقی جانچنے کا پیمانہ رہ گئی ہے وہاں اب خوشی اور اطمینان کو جانچا جاتا ہے اور اگر کسی ریاست میں خوشی، اطمینان اور اعتماد موجود نہیں ہے تو اسے کامیاب نہیں سمجھا جا سکتا تاہم ابھی تک یہ تھیوری سوشیالوجی میں تو چل رہی ہے اسے پولیٹیکل سائنس کا مکمل حصہ بننے میں وقت لگے گا۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل سیون ریاست کی جوتعریف کرتا ہے وہ عطائی دانشوروں اور جعلی ماہرین سیاست کی تشریحات کی نفی ہونے کے باوجود ناقص اور ناموزوں ہے۔ ہمارے ریاست بارے تصورات ہمیشہ گنجل اور گڈمڈ رہے اور ضرورت تھی کہ نئے دور کے تقاضوں ( یا خطرات) کے مطابق اس تعریف کو زیادہ واضح کیا جاتا اور پھر اسے مڈل اور ہائی سکول کی سطح پر نصاب کا حصہ بھی بنایا جاتا مگر ایسا کبھی کچھ نہیں ہوا۔ آئین کا آرٹیکل سیون کہتا ہے کہ ریاست کا مطلب ہے وفاقی حکومت، مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ ( کیونکہ پارلیمنٹ ہی عوام کی رائے ، منشا اور امیدوں کی حقیقی مظہر ہوتی ہے، پارلیمنٹ ہی قانون سازی کا حق رکھتی ہے جو ریاستی زندگی کو منضبط کرتی ہے) اور یہ کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی، اورمزید مقامی سطح پر کوئی اتھارٹی جوکوئی ٹیکس یا سیس نافذ کرنے کا اختیار رکھتی ہو۔ اس کا ابتدائیہ درست مگر اختتامیہ اپنی وضاحت میں قابل اعتراض ہے کہ اگرچہ ٹیکس نافذ کرنے کے اختیار کا ذکرحکومتی تصوراور اختیار کو واضح کرتا ہے مگر یہ ہمیں کسی حد تک نوآبادیاتی دور میں واپس لے جاتا ہے جب انگریزوں نے پوری کی پوری بیوروکریسی ہی مال جمع کرنے اوراپنی دہشت قائم رکھنے کے لئے قائم کی تھی۔ ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار رکھنے والوں کو ریاست قرار دینا جدید سیاسیات کے اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہے کہ ہمیں اپنے تصورات کوعوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ جوڑنا چاہئیے ، ہمیں یہاں ٹیکس نافذ کرنے کی بجائے قانون سازی کے اختیار کی بات کرنی چاہئے تھی جو مہذب اور قابل قبول ہوتی لیکن اگر ہم اس تعریف کے ساتھ بھی چلے جائیں تو ہمیں وہ ادارے ریاست کے طور پر نہیں ملتے جن کاذکر ٹی وی چینلوں کے نام نہاد دانشور کرتے ہیں کہ ان اداروں کے پاس ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار نہیں ہے، کسی بھی ٹیکس کے لئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے ۔ پارلیمنٹ واحد ادارہ ہے جسے عوام خود براہ راست جنم دیتے ہیں اوراسے ہی براہ راست عوامی احتساب کا ڈر ہے یعنی اگر ایک پارلیمنٹ ظلم اور زیادتی والی قانون سازی کرے گی تو وہ پانچ برس کے بعد نہیں رہے گی،فنا کر دینے کے اختیار سے بڑا کون سا اختیار ہو سکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہم دوبارہ ماہرین سیاسیاست کی دی ہوئی تعریف اور عناصر کی طرف جاتے ہیں توہمارے سامنے لوگوں کے علاوہ علاقہ اور سیاسی تنظیم سامنے آتی ہے۔ علاقہ ایک بے جان شے ہے جو اپنے وجود کا احساس نہیں دلا سکتااور حکومت بھی اپنے وجود کے لئے لوگوں کی سوچ اور مساعی کی محتاج ہے ایسے میں بنیادی طور پر ریاست اس مخصوص علاقے میں ر ہنے والے عوام ہی قرار پاتے ہیں۔ میری نظر میں بھی ریاست صرف اور صرف عوام ہیں اور ان سے بغاوت ہی ریاست سے بغاوت قرار پا سکتی ہے باقی رہ گئے ہمارے دانشوروں کی طرف سے بیان کئے گئے عدلیہ اور فوج جیسے ادارے تو وہ ریاست یعنی عوام کی مخصوص ضروریات کی تکمیل کے لئے ہیں یعنی اگر اس مخصوص علاقے سے باہر کوئی الگ سیاسی تنظیم رکھنے والے ریاست کے طور پر منظم لوگ اگر ان پر حملہ آور ہوں تو ان کا دفاع کیا جائے، ان کی جانیں اور مال حملہ آوروں سے بچائے جائیں اور اگر لوگوں میں کوئی تنازعہ ہوجائے تو اسے لوگوں کے ( یعنی پارلیمنٹ کے) بنائے ہوئے قانون کے مطابق حل کیا جائے۔ ان اداروں کو بذات خود ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا جو پاکستان کے آئین کے مطابق ٹیکس نافذ نہیں کرتے بلکہ ریاست یعنی عوام کے ٹیکسوں سے معاوضہ لے کر اپنی مخصوص خدمات ریاست کو فراہم کرتے ہیں، ریاست جوبائیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے۔

Facebook Comments

نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply