اپّا رجنی کی زندگی سے منسوب معلومات ۔۔۔ معاذبن محمود

تعارف اور ابتدائی زندگی

رجنی، “ٹارزن اور منکو کے کارنامے” کا باقاعدہ قاری تھا۔ منکو بندر کا کردار رجنی کو خوب پسند تھا۔ بڑا ہوکر منکو بننا اس کی ٹو ڈو لسٹ میں سے ایک تھا۔ گھر کے اندر سیاہ چشمے پہننا اور چیزیں پٹخنا بھی اس کی ٹو ڈو لسٹ کا حصہ تھے۔ رجنی کا خواب تھا کہ ٹارزن کے کندھے پہ پیر رکھ کر جنگل کا بادشاہ بنے۔ بچپن سے فارغ اوقات میں ایک سے دوسرے درخت چھلانگ مارنا اسی سلسلے کی پریکٹس تھی۔ رجنی اتفاقیہ طور پہ جنگل کا بادشاہ بن جانے والے لنگور ہونے کا خواب پورا کرنے کو مرا جاتا تھا۔ اوپر والے کو مگر کچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت رجنی سے بنانا ریپبلک کا چیف جنگل جسٹس ہونے کی ذمہ داری لینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔ 

ایک رات دھوتی میں ملبوس ایک بزرگ رجنی کے خواب میں آئے۔ بزرگ کے ایک ہاتھ میں چرس کی بیڑی اور دوسرے ہاتھ میں جوتے صاف کرنے والا برش تھا۔ وہ رجنی کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگے اے رجنی میں تجھ میں اپنا اوتار دیکھتا ہوں۔ رجنی نے پوچھا “چاچے تو کون؟ اور یہ تو مجھے نظر کیوں نہیں آرہا؟” بزرگ نے مایوسی سے سر ہلایا، بیڑی میں بھری چرس کا گہرا کش لگایا اور بولے، “پوت، میں بابا رحمتاں، یہ سیاہ چشمہ اتارے گا تو نظر بھی آجاؤں”۔ رجنی نے گھپ اندھیرے میں سٹائل کے ساتھ سیاہ چشمہ اتارا، منکو کی طرح لپک کر بابے رحمتے کے پیر چھوئے۔ بابے رحمتے نے رجنی کو نوید سنائی کہ وہ بڑا ہوکر بہت بڑا مرد مجاہد بنے گا، جنگل سے پانچ ہیرے جمع کرے گا، شیر کا شکار کرے گا اور ایک اسلامی جمہوریہ میں جنگل کا قانون نافذ کرے گا۔ یہ واقعہ رجنی کے ذہن میں بیٹھ گیا اور یوں ایک دن اسے جنگل کے مسند اعلی پہ بیٹھنے کا باعث بنا۔ 

رجنی اور شیر کا شکار

شیر ایک درندہ صفت اور اپنے دشمنوں کو پھاڑ کھانے والا جانور تھا۔ رجنی ویسے تو خود کو سورما کہتا پھرتا تاہم ریاست میں تمام مخالفین پہ دھاک بٹھانے والے شیر سے کھلی ٹکر لینا رجنی کی بہادری سے باہر کی بات تھی۔ رجنی کا دماغی درجہ بھی اتنے اعلی پائے کا نہ تھا کہ کوئی چال چل کے شیر کو چلتا کرتا۔ وہ جانتا تھا کہ شیر کا شکار صرف وردی میں ملبوس بندوق بردار شکاری کر سکتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ شکاری زیادہ دیر تک جنگل میں کوئی بھی شیر برداشت نہیں کر سکتا۔ ایسے میں رجنی نے شیر سے دوستی گانٹھ کے اسے باور کرایا کہ وہ شیر کا دوست ہے۔ دوسری جانب شکاری ہمیشہ سے منکو کی طرح رجنی کو یہاں سے وہاں چھلانگیں مارتا دیکھتا اور محظوظ ہوتا۔ رجنی سمجھتا شکاری اس کی بہادری سے متاثر ہے۔ جس دن شکاری کا ارادہ شیر کے حتمی شکار کا ہوا، اس نے رجنی سے معاہدہ کیا کہ رجنی شیر کو دھوکے سے جال میں پھانسنے میں مدد دے گا جس کے بدلے شکاری اسے شیر کا قاتل مشہور کر دے گا۔ رجنی نے ایسا ہی کیا۔ شیر رجنی کے جھانسے میں آیا جس کا فائدہ اٹھا کر شکاری نے اسے دھر ڈالا۔ ریاستی جنگل کے باشندے آج جانتے ہیں کہ شیر کا اصل شکار کس نے کیا تاہم ہر سال باقاعدگی سے رجنی ڈے مناتے ہیں تاکہ اصل شکاری خوش رہے۔ 

رجنی بحیثیت چیف جنگل جسٹس

رجنی نے چیف جنگل جسٹس کی حیثیت سے اپنی تمام ماتحت کچہریوں کے ساتھ بہترین (غلاموں جیسا پڑھیے)سلوک روا رکھا۔ رجنی کی کچہری میں تمام افراد پہ موبائل اور کیمرے پہ پابندی ہوتی تاہم تعزیرات رجنی دفعہ میری عدالت میری مرضی کے تحت صرف رجنی کو موبائل کی اجازت رہتی۔ رجنی دور کے فیصلے “واٹس ایپ فیصلوں” کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں رجنی کے دور میں تمام چینلز کے لیے یہ لازم ہوتا کہ صرف رجنی اپرووڈ کانٹینٹ دکھائیں۔  اس حکم پہ عمل نہ کرنے والوں کو سزائے “بول” دے دی جاتی۔ رجنی دو درجن میڈیا چینلز کے ہمراہ اکثر کہیں نہ کہیں چھاپہ مارتا رہتا۔ رجنی کی طاقت اور انصاف کی خبریں دور دور تک پھیلی رہتیں۔ رجنی اکثر شیر کی کچھار کے دورے پہ رہتا۔ وہ کبھی شیر کے بنائے ہسپتالوں میں کودتا پھرتا تو کبھی شیر کے رفقاء کو بلا کر ان کے ساتھ تھیٹر لگاتا۔ جلال کی حالت میں رجنی اپنوں کو بھی نہ چھوڑتا۔ رجنی کے جلال کا عالم یہ تھا کہ میڈیا کے کیمروں موجودگی میں ایک چلتے مقدمے میں جا گھسا اور منصف سے استفسار کیا کہ منصف جو کر رہا ہے وہ آخر کیوں کر رہا ہے اور جو نہیں کر رہا اس کی وجہ کیا ہے۔ جواب نہ ملنے پہ رجنی میڈیا کے سامنے اپنے جلال کا اظہار کیا کرتا۔ ایک واقعے کے مطابق رجنی نے ایک ماتحت کو خود سے بہتر کپڑے پہننے پہ پہلے ڈانٹا، پھر ہراس کیا، پھر ڈولے دکھاتے ہوئے ماتحت کا موبائل میز پر دے مارا۔ عینی شاہدین کے مطابق ماتحت “امی کو بتاؤں گا” کہہ کر روتا ہوا گھر چلا گیا۔ 

رجنی اور ہیرے

کوئی خاص حکایت نہیں، بس رجنی نے کوئلے کی دلالی کرنے والے پانچ سیاہ اعمال کے حامل افراد ہیرا کہہ کر جنگل کے باشندوں کو بیچ ڈالے۔ شیر کو جال میں پھانسنے کے لیے شیر کو بھی یہی ہیرے دکھائے گئے۔ شیر ان ہیروں کی لالچ میں جے آئی ٹی نامی ایک پائپ میں گھس بیٹھا۔ آگے جو ہوا وہ تاریخ بنی۔ اس حکایت پہ بعد ازاں “مجھے کیوں نکالا” نامی شہرہ آفاق فلم بھی بنی۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *