• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • فروٹ مہنگائی کے خلاف عوامی مہم اور مستقبل کی امیدیں

فروٹ مہنگائی کے خلاف عوامی مہم اور مستقبل کی امیدیں

پھلوں کی مہنگائی کے بارے میں سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی مہم پر بحث اب پاکستان بھر میں پھیل چکی ہے۔ جمعہ ہفتہ اتوار کے تین دن پھلوں کی ’’مہنگائی‘‘ کے خلاف بائیکاٹ مہم جاری ہے۔ مین سٹریم ذرائع ابلاغ بھی اس ایشیو کو اٹھا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بعض متحرک صارفین ایک بائیکاٹ کے طور پر اس مہم کے حق میں اور بعض دوسرے اس کی مخالفت میں اپنے اپنے دلائل کے ساتھ میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ چونکہ مہنگائی ایک سماجی مسئلہ ہے جو ہر شہری سے جڑی ہوئی ہے، معاشرے کا ہر فرد اس سے متعلق ہے، اس لیے ہر ایک کو اس کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے دینے کا حق حاصل ہے۔ کم و بیش ہر رائے رکھنے والا اپنے تئیں ہمدردی سے مثبت ہی سوچ رہا ہوتا ہے مگر مختلف انداز میں، لہٰذا اگر کوئی شخص مختلف رائے رکھتا ہے تو ہمیں اسے کوئی ذاتیات کا معاملہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اختلاف کا حق اور موقع کسی سے نہیں چھیننا چاہیے۔ جتنے متحرک اذہان مل کر حل مختلف تناظر میں سوچنے اور مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے، مسئلہ کے مختلف تناظرات اتنے ہی واضح تر ہوں گے اور اتنے ہی اچھے نتائج بر آمد ہوں گے۔ سماجی مسائل پر ایسی بحث اس لحاظ سے بہت مفید اور مثبت ہے کہ ہم اپنے سنجیدہ مسائل کے اداراک اور اس کے حل پر مل جل کر باہمی غور و فکر کرنے کی طرف ایک قدم اور آگے بڑھا سکیں۔
فروٹ کی مہنگائی کے خلاف جاری بائیکاٹ مہم کے نتیجے میں ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے ریڑھی بان جو اس کاروبار میں سب سے کمزور طبقہ ہے، متاثر ہوں اور مصنوعی مہنگائی کرنے والے ناجائز منافع خوروں کو مہم سے کچھ خاص فرق نہ پڑے، اگر یہ خدشہ درست نکلا تو یہ مہم غریب طبقے کا استحصال ہی سمجھا جائے گا جس میں سب زیادہ متاثر وہ ہو رہا ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہے، جس کے فروٹ کے ضیاع اور اس کے ذریعہ معاش متاثر ہونے سے رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے میں اسے مزید فاقہ شکنی سے گزارنا پڑے۔ لیکن اگر اس بائیکاٹ مہم سے فروٹ مہنگائی کے سب سے بڑے ذمہ دار مافیا ’’منڈی اور اڑھتی والے‘‘ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ طلب میں اضافے کو دیکھ کر قیمتیں بڑھانے سے باز آجائیں اور مہم کے نتیجے میں پھلوں کی نرخیں معمول پر آجائیں تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ابھی تک سامنے آنے والی مارکیٹ خبروں کے مطابق یہ مہم قیمتوں کو معمول پر لانے میں کافی حد تک کاریگر ثابت ہو رہی ہے۔
فیکٹریوں میں تیار ہونے والی عام مصنوعات کے برعکس چونکہ پھل زرعی و موسمی پیداوار ہے، اس لیے اس کی تیاری قدرتی طور پر اس کے اپنے خاص موسم کے مطابق پکنے میں ہے۔ پھل کے پکنے کے بعد اسے باغات سے اٹھا کر مارکیٹ تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹیشن، اسے محفوظ اور تازہ رکھنے کے لیے سٹوریج نیز اس کو بیچنے کے لیے اسے کھول کر رکھنا، یہ سب ا س کے خراب ہونے کے امکان کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ اس لیے ایک محدود مدت تک ہی پھل قابل خرید و فروخت رہتا ہے، اس کے بعد یہ سڑ جاتا ہے اور ضائع ہو جاتا ہے۔
رمضان المبارک میں پھلوں کا استعمال اور طلب غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے مگر اس کی پیداوار اور رسد (سپلائی) دونوں میں کوئی اضافہ ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے رسد کی کمی اور طلب کے اضافے کے باعث موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز منافع خور طبقہ فوراً قیمتیں بڑھا دیتا ہے۔
پھلوں کے بارے میں کسی بھی مہم میں موسم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔تیار شدہ پھل، شدید گرمی کا موسم اور رمضان المبارک کا مہینہ، اوپر سے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ‘ پھلوں کی مہنگائی کے خلاف مہم کے لیے شاید اسے زیادہ کوئی اور موذوں ترین موثر ترین وقت اور موقع نہ ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ایک ہاٹ ایشیو بننا اور عام عوام کا ملک گیر رد عمل اور کسی سیاسی، لسانی اور مذہبی ایجنڈے و نعرے اور چھتری کے بغیر لوگوں کا اس مہم میں حصہ لینا اس سارے عمل کو مزد موثر بناتا ہے۔ یعنی پراڈکٹ، وقت، صارف، موسم یہ سب اس مہم کو تقویت دے رہے ہیں۔
ہر طرح کی مصنوعات کے خرید و فروخت کے لیے سب سے اہم بات صارفین کی دل چسپی یا ضرورت ہے۔ صارفین کی طرف سے مصنوعات میں عدم دلچسپی یا ان کی طرف سے مصنوعات کے خلاف کسی منظم رد عمل کا خوف مارکیٹ میں بہتری کا ایک موثر عنصر ہے۔ جو تاجر کی استحصالی سوچ کو روبہ عمل ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جس سے تاجران کو صارفین کی منظم اور شدید ردعمل کا ڈر لگا رہتا ہے اور مارکیٹ میں صنعت کاروں اور بیوپاروں کے درمیان صارفین کے لیے مناسب تر دام میں زیادہ معیاری مصنوعات اور سروسز پیش کرنے میں مقابلے کی فضا پروان چڑھتی ہے۔ لہٰذا یہ مہم پاکستان میں فروٹ سمیت دیگر مصنوعات کی کوالٹی کو بڑھانے اور قیمتوں کو معمول پر لانے میں بھی ایک بہتر قدم کا آغاز ہو سکتی ہے۔
کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے یا سماجی مسئلے یا نظام کے خلاف مزاحمت کے لیے قربانی کا مرحلہ سر کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اپنا وقت، توانائی اور وسائل کی قربانی دیتے ہیں تبھی ان کی تحریکیں موثر اور کامیاب ہوتی ہیں۔ . روزمرہ کے خریدو فروخت کے میدان میں چاہے یہ قربانی صارف دے، دیہاڑی دار دے، اڑھتی دے، بیوپار دے ، ریڑھی بان دے یا کسان یا کوئی اور قربانی تو دینی ہوگی۔ چونکہ تمام تر مہنگائی یا مصنوعات اور سروسز میں نقص اور خرابی کا خمیازہ صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے اس لیے عام طور پر ردعمل کا آغاز صارفین کی طرف سے ہوتا ہے۔ ملک میں صارفین کے حقوق کے بارے میں بیداری مہم کو وسیع تر کرنے کی ضرورت ہے جس سے حقوقِ صارفین سے متعلق قانون سازی اور اس کے نفاذ کا عمل مزید تیز، منظم ، موثر اور شفاف ہو، نیز ان حقوق سے متعلق عوامی آگہی مہم تیز تر کی جائے۔
پھلوں کی مہنگائی کا سب سے موثر اور مستقل حل وہ ہوگا جس میں کسان سے لے کر صارف تک ہر ایک طبقے کے لیے win-win کی کوئی صورت نکلے۔ یعنی ایسی صورت جس میں سب کی بھلائی اور فائدہ ہو اور کسی کا نقصان نہ ہو، ایک لائحہ عمل یہ ہو سکتا ہے کہ کسان اور صارف کے درمیان فاصلہ کم ہو اور درمیان کے منافع خور طبقات سے جان چھڑانے کے راستے تلاش کیے جائیں، ا س کے لیے مارکیٹ میں جدید کاروباری ٹیکنالوجی سے لیس فروٹ بزنس کے متبادل طریقے متعارف کیے جائیں، وقتی اور عارضی طور پر ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے لوگ فروٹ کم کھانے کی کوشش کریں تاکہ رسد کے مقابلے میں بڑھتے ہوئے طلب کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ جب طلب میں کمی آئے گی تو طلب اور رسد میں توازن اور مارکیٹ میں ٹھہراؤ آئے گا اور قیمت خود بخود گر جائے گی۔ تیسرا حل قیمتیں کنٹرول کرنے والی سرکاری کمیٹیوں پر دباؤ بڑھا کر قیمتیں معمول پر رکھنے کے لیے ان کو متحرک رکھا جائے۔
سماجی زندگی میں لین دین ایک ناگزیر عمل ہے۔ لین دین اور معاملات سے ہی مجموعی قومی شعور اور اخلاقی تربیت اور تہذیبی برتری کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ناجائز منافع خوری، مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، دھوکہ دہی سمیت دیگر کاروباری برائیاں قوموں کے لیے ایک آئینہ ہوتی ہیں، قوم کا مثبت یا منفی تاثر بنانے میں اس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ کاروباری برائیوں اور مسائل کا بنیادی اور مستقل حل اصولی طور پر تجارتی اخلاقیات کی تعلیم و فروغ اور مارکیٹ مافیا کے خلاف ملکی قوانین کے نفاذ اور قانون کی بالادستی میں مضمر ہے۔ اس کے ساختیاتی اور جڑوں میں پھیلے عوارض اور بیمار رویوں کے علاج کے لیے ہمیں ٹھوس اور وسیع بنیادوں پر سنجیدہ انداز میں منظم طریقے سے اقدامات کرنے کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کی سیاست ہو یا معیشت، سماج ہو یا نظام ہر ایک کا بنیادی تعلق عوام سے ہے۔ مہذب ممالک میں عوامی مہم اور رائے عامہ کو عدالتی فیصلوں سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے، لہٰذا سیاسی و کاروباری اور دیگر مقتدر طبقات کے احتساب کا عمل عام طور پر عدالتوں تک پہنچنے سے پہلے باشعور عوام اپنی رائے سے ہی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا اب رائے عامہ کو متاثر اور تبدیل کرنے نیز کسی ایک مہم پر یکسو کرنے میں بہت زیادہ موثر اور طاقتور بن کر ابھر رہا ہے جو کہ جہاں مین سٹریم میڈیا کا متبادل ہے وہاں وہ عوام کا حقیقی ترجمان بھی۔
ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اگلے مرحلے میں سوشل میڈیا کی اسی طاقت کے توسط سے غیر معیاری اور مضر صحت اشیا، منشیات اور دیگر مصنوعات کی مہنگی یا غیر قانونی خرید و فروخت کے خلاف بڑے مافیا اور صنعت کاروں، بڑے مگرمچھ طبقات اور مقتدر اشرافیہ کے خلاف بھی آواز اٹھانے کی ہمت کریں گے۔ اپنی منظم آواز کی طاقت کو ملک کی تعمیر و ترقی اور نظام میں بہتر اور موثر تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کے عزم کو زندہ رکھیں گے۔ وہ دن اب قریب نظر آ رہا ہے کہ پاکستانی قوم انتہاپسندی، بدعنوانی اور اداروں کی نااہلیوں کے خلاف عوامی احتساب کے عمل کو مزید وسعت، قوت، یکجہتی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھائے گی ۔

محمد حسین
محمد حسین
محمد حسین، مکالمہ پر یقین رکھ کر امن کی راہ ہموار کرنے میں کوشاں ایک نوجوان ہیں اور اب تک مختلف ممالک میں کئی ہزار مذہبی و سماجی قائدین، اساتذہ اور طلبہ کو امن، مکالمہ، ہم آہنگی اور تعلیم کے موضوعات پر ٹریننگ دے چکے ہیں۔ ایک درجن سے زائد نصابی و تربیتی اور تخلیقی کتابوں کی تحریر و تدوین پر کام کرنے کے علاوہ اندرون و بیرون پاکستان سینکڑوں تربیتی، تعلیمی اور تحقیقی اجلاسوں میں بطور سہولت کار یا مقالہ نگار شرکت کر چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *