متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس

برصغیر کی مذہبی تاریخ ان سطور کا موضوع نہیں تاہم پس منظر سے واقفیت کے لیے معمولی سا حوالہ پیش کرتے ہوئے عرض کہ ہے برصغیر کی مٹی میں یہ خصوصیت رہی ہے کہ اس نے متعدد مذاہب اور اور ثقافتوں کو اپنے اندر ایسا جذب کیا کہ ان کا الگ وجود ہی مٹ گیا۔ یہاں تک کہ اسلام جیسے "سخت اور کٹر" مذہب پر بھی متعدد اثرات مرتب کیے لیکن بہرحال اسلام اپنی سخت جانی کی وجہ سے بچ گیا۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ صدیوں تک ایک ہی زمین پر رہنے کے باوجود اسلام اور ہندو مت دو انتہائی مختلف مذاہب ہی رہے۔ 1857 میں جب انگریزوں نے پورے برصغیر پر سرکاری طور پر قبضہ کیا تو چشم فلک نے پہلی بار متحدہ ہندوستان کو ایک ملک کے طور پر دیکھا۔ اس سے قبل اس نام کا کوئی ملک روئے ارض پر موجود نہ تھا۔ بقول محبی عثمان سہیل متحدہ ہندوستان سامراج کی واحدیادگار ہے جسے سوشلسٹ بھی دل و جان سے قبول کرتےتھے۔ انگریزوں نے ملک پر حکمرانی کا باقاعدہ آغاز کیا تو اپنی مدد کے لیے انڈین نیشنل کانگریس قائم کرائی۔ انہی خطوط پر بعد ازاں آل انڈیا مسلم لیگ وجود میں آئی۔

چند ماہ قبل انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان جو ہمیشہ سے دو اکائیوں کے طور پر موجود چلے آرہے تھے، ان کی جداگانہ حیثیت کومیثاق لکھنئو میں کانگریس کی اعلیٰ قیادت نےباقاعدہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب جنوبی افریقہ سے گاندھی جی کو ہندوستان پدھارے صرف ایک برس ہی ہوا تھا اور سیاست میں ابھی ان کی حیثیت کا تعین ہونا باقی تھا۔گزشتہ تیس اکتیس برس کے دوران کانگریس نے خود کو سرمایہ دار ہندوؤں کی جماعت کے طور پر ایسٹیبلش کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی اور سانحہ جلیانوالہ باغ اور خلافت تحریک کے دوران گاندھی نے کانگریس کی قدامت پرست قیادت کو پس منظر میں دھکیلتے ہوئےصف اول میں اپنی جگہ بنائی۔اسی دوران ہندوستان میں سوشلسٹوں نے بھی اپنی سرگرمیوں کے باعث عوام کے توجہ حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔ ان سوشلسٹوں کو ہندوستان بھرمیں سیاسی طور پر سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کانگریس کی جانب ہی سے تھاجو واضح طور پر سرمایہ داری کی نمائندہ اور سامراج کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھے ہوئے تھی۔ سوشلزم کی مخالفت انگریزوں کی جانب سے تو سمجھ آتی ہے لیکن کانگریس میں سوشلزم کی مخالفت سوائے ہندو سرمایہ داروں کے تحفظ کے علاوہ اور کسی باعث ہونا ممکن نہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر گاندھی جی نے اپنی سیاست میں ہندو دھرم کی اصطلاحات کا واضح استعمال بھی کیا۔ بھگت سنگھ شہید کے معاملے میں بھی گاندھی کا بے رخی پر مبنی رویہ اس حقیقت کا شاہد ہے کہ کانگریس انگریز آقاؤں کی مرضی سے کلمہ حق کہنے کا فریضہ انجام دے رہی تھی۔

یہ پس منظر بیان کرنے کا واحد مقصد قارئین کوصرف ان حالات سے آگاہ کرنا ہے جن میں کانگریس کی اندرونی سیاست میں سبھاش چندر بوس نے قدم رکھا۔ کٹک (اڑیسہ) میں پیدا ہونے والے سبھاش چندر بوس نے کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور اپنے والد کی خواہش پر انڈین سول سروس کا امتحان دیا اور اس میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تاہم وہ انگریزوں کی غلامی کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس لیے انہوں نے سول سروس سے استعفیٰ دیا اور 1921 میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ابتداً وہ گاندھی جی کے نظریات سے متاثر تھے اور ان کی قیادت میں ہندوستان کی آزادی کے لیے بے چین۔ سی آر داس کی رہنمائی میں سیاست کے داؤ پیچ سیکھتے ہوئے اگلے چند برس کے دوران وہ کانگریس کے اعلیٰ حلقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے اور جلد ہی کانگریس یوتھ کے صدر منتخب ہوگئے۔ ان کی انقلابی سرگرمیوں کے باعث انگریز سرکار ان سے خائف تھی، اس لیے انہیں گرفتار کیا گیا، جیل میں ڈالا گیا، پھررہائی ملی جو اس دور کی سیاست کا عام چلن تھا۔ 1927 میں بوس کانگریس کے جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے، اس وقت ان کی عمر محض 30 برس تھی۔ اسی دور میں ان کے جواہر لال نہرو کے ساتھ دوستانہ تعلقات مستحکم ہوئے۔

مہاتما گاندھی اور سبھاش چندر بوس کے درمیان پہلی دراڑ 1927 میں آئی جب تمام کانگریس سائمن کمیشن کے ساتھ ڈومینین سٹیٹس کے لیے مذاکرات کر رہی تھی اور بوس نے "ہندوستان آزاد ہوگا ۔۔۔ صرف وقت کا تعین باقی ہے" کا نعرہ لگادیا۔ بوس کے نعرے نے کانگریس کو دو دھڑوں میں منقسم کر دیا۔ ایک جانب گاندھی کے حامی تھے جو انگریزوں کے ساتھ کام جاری رکھنے کے خواہش مند تھے تو دوسری جانب بوس کے حامی جو مکمل آزادی چاہتے تھے۔ گزشتہ بارہ برس میں یہ پہلا موقع تھا جب گاندھی جی کو کانگریس کے اندر سے مخالفانہ آواز کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے علانیہ طور پر بوس کے خلاف ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب کانگریس کی سیاست میں دو واضح دھڑے بن چکے تھے۔ نہرو اور بوس سوشلزم کے حامی تھے جبکہ راجندر پرشاد اور سردار پٹیل کی سیاست دائیں بازو کے گرد گھومتی تھی۔ دائیں بازو کو گاندھی جی حمایت بھی حاصل تھی تاہم نہرو اور بوس کا دھڑا دن بدن مضبوط ہو رہا تھا۔ گاندھی جی نے اس زور کو توڑنے کے لیے بوس کی تجویز "پورن سوراج" کی بھرپور مخالفت کی اور کانگریس سے اسے مسترد کرایا۔

سبھاش چندر بوس گاندھی جی کے ڈھلمل نظریات اور اہنسا کے ناٹک سے متاثر نہ ہوئے تو گاندھی نے جواہر لال نہرو کو کانگریس کا صدر بنوا کر یہ جوڑی توڑ ڈالی۔ تاہم 1930 میں گاندھی نے نمک کی ستیہ گرہ شروع کی تو بوس نے اسے انگریزوں کے خلاف گاندھی کا پہلا عملی اقدام سمجھ کر اس کی حمایت کی۔1931 میں کانگریس کے سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی میں بوس اور نہرو نے "گاندھی- ارون پیکٹ" کی منظوری کے ساتھ بنیادی حقوق کی فراہمی، قومی معاشی پروگرام کی تشکیل، معاشی منصوبہ بندی ، اصلاحات اراضی، تعلیم، شہری حقوق کے تحفظ جیسے مطالبات کو کانگریس کے پروگرام کا حصہ بنانے کی قرارداد منظور کرائی جس کے بعض اہم حصے سرمایہ دار ہندوؤں کو سخت ناگوار گزرے۔

1931 کی پہلی گول میز کانفرنس میں کانگریس کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ 1932 کی دوسری کانفرنس میں کانگریس کی نمائندگی گاندھی جی نے کی تاہم انہوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کی بجائے اسے ڈاکٹر امبیڈکر کے ساتھ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ بنا کروقت گزار دیا۔ اس پر بوس کو نہایت افسوس ہوا اور انہیں اندازہ ہو گیا کہ گاندھی جی انگریزوں کے ساتھ تعلقات کو ایک خاص حد سے زیادہ کشیدہ کرنے کے حق میں نہیں۔
(جاری ہے)

ژاں سارتر
ژاں سارتر
کسی بھی شخص کے کہے یا لکھے گئے الفاظ ہی اس کا اصل تعارف ہوتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”متحدہ ہندوستان کی آخری امید ۔۔۔ بوس

  1. آخر ہم اسے پڑھنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔
    سارتر صاحب نے ہمیشہ کی طرح نہے تلے الفاظ میں اپنا مدعابیان کیا اور تاریخ کے پہلو سامنے رکھے ہیں
    اب دوسری قسط کی طرف سفر ہے
    ذبردست

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *