بچپن اور سہراب کی سائیکل

بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک اور یاد سہراب(sohrab) کی سائیکل بھی ہے،اس میں دوسائز ہوا کرتے تھے،بائیس انچ کے فریم والی بائی دی(22) اور چوبیس انچ فریم والی کو چَوی دی(24) کہا جاتا تھا،زیادہ تر لوگ “بائی دی”کی خریدا کرتے تھے جبکہ لمبے قد والے”چَوی دی” کو ترجیح دیتے تھے،مجھے یاد ہے کہ بچپن میں اگر ہم کبھی چوبیس انچ والی سائیکل چلانے کی کوشش کرتے تو سائیکل کا مالک وارننگ دینا نہ بھولتا”ایہہ چوی دی اے،تیرےتو سنبھالی نئیں جانی”۔اس دور میں سائیکل چلانی سیکھنا بھی اچھا خاصا مشکل کام تھا،آپ کی آسانی کے لئے اسکو تین مراحل میں تقسیم کیےدیتا ہوں۔

پہلے تو گھر کے بڑے ایک خاص عمر تک جوکہ عموماً نو دس سال ہوتی سائیکل کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتے تھے،لیکن اجازت ملنے کے بعد سائیکل سیکھنے کا پہلا مرحلہ شروع ہوجاتا،جس میں کوئی ڈیڑھ دو مہینے تک سائیکل”ریڑھنے” کی پریکٹس کی جاتی،اس میں ٹرینی سب سے پہلے تو سائیکل کو سٹینڈ سے اتارتا اس کے بعد تھوڑا سا دھکیل کر ایک پاؤں کو بائیں پیڈل پر رکھ کر اور دوسرا پاؤں ہوا میں لٹکا کر سائیکل کو چلاتا،یہ پریکٹس زیادہ تر ایک ماہ کی جاتی جس کے بعد سیکھنے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوجاتا جس کو”قینچی” چلانا کہا جاتا،اس میں ٹرینی اپنا بایاں پاؤں پیڈل پر رکھ کر سائیکل کو تھوڑے فاصلےتک دھکیلتا اور اس کے بعد بڑی مہارت کے ساتھ دائیں ٹانگ کو فریم کے اندر سے گزار کر دایاں پاؤں دائیں پیڈل پر رکھ کر دونوں پیڈل مارنا شروع ہوجاتا،جس دن کوئی قینچی سائیکل چلانا سیکھ جاتا اس دن سے وہ بندہ باضابطہ طور پر گھر کاذمہ دار فرد سمجھا جاتا اور سبزی،گھی،دالیں،ٹال سے بکریوں کے لئے “پَٹھے” اور برف(ان دنوں میں خال خال گھروں میں ہی فریج ہوا کرتی تھی) لانے کی ذمےداری نئے ڈرائیور کو سونپ دی جاتی تھی،یہ جو ہمارے چھوٹے چھوٹےبھائی،بھتیجے،بھانجے ہمیں “پھوکی پھوکی” جگتیں مارتے ہیں ا ن کو شاید پتا نہیں کہ ہم نے اپنے بچپن میں قینچی سائیکل چلائی ہوئی ہے اور ہم اگر اپنی آئی پر آگئے تو دن میں تارے دکھا دیں گے۔

ایک ڈیرھ ماہ قینچی چلانے کے بعد فل ڈرائیور بننے کا مرحلہ آجاتا ،جس میں ٹرینی سائیکل کی کاٹھی پر یوں بیٹھتا کہ پیچھے سے سائیکل کو بڑےبھائی،دوست یا محلے دار نے پکڑا ہوتا،جونہی ٹرینی سیٹ پر بیٹھتا پیچھے کھڑا بندہ اِک دو تِن کہ کر سائیکل کو زور کا دھکا دے کر چھوڑ دیتا ،شروع شروع میں تو ڈرائیور بیچارہ زمین پر گرکے،سامنے کی کسی دیوار میں یا پھر کھوتا ریڑی میں لگ کر گوڈے گٹے چھلوا لیتا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہارت حاصل ہو ہی جاتی اور آپ trusted driver کی کیٹگری میں ترقی پا جاتے،کئی دفعہ جب کوئی سائیکل پکڑ کرپیچھے دھکادینے والا نہ ملتا تو ٹرینی سب سےپہلے تو محلے کا سب سے اونچا تھڑا ڈھونڈتااس کے بعد سائیکل تھڑے کے ساتھ کھڑی کرکے خود تھڑے پرچڑھ کر سائیکل پر سوار ہوتا اور اس کے بعد زور سے سائیکل آگے کو ریڑھتےاور یوں سائیکل چلناشروع ہو جاتی۔

یوں تو یہ سائیکل بڑے مضبوط ہوتے تھے مگر پھر بھی کبھی کبھار”کتے فیل”ٹائر پنکچر یا پھر چین پھنسنے کی بیماری لاحق ہونے کی صورت میں اس کو مکینک کے پاس لیجانا پڑجاتا۔ایک بات جو مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی وہ یہ کہ سائیکل ہر بار دھوتی والے بابوں میں کیوں جا کر لگتی تھی،آپ بڑے مزے سے سائیکل چلاتے جارہے ہیں کہ آگےسے اچانک کوئی دھوتی والا بابا آگیا اور ساتھ ہی یہ سوچ کر آپ کے ہاتھوں پیروں پر لرزہ طاری ہوجاتا کہ”لگاں جے بابے چے وَجن”۔ آپ لاکھ سائیکل کو سیدھا رکھنے کی کوشش کرتے لاکھ بریکیں لگاتے مگر پتا تب لگتا جب بابا زمین پر ،سائیکل بابے پر اور آپ سائیکل پر ہوتے۔۔۔
جاتے جاتے آپ کو بتاتا چلوں کہ مشہور مؤرخ مارک ٹوئن بی ایک جگہ لکھتا ہے کہ”پاکستان میں جابجا سینئر صحافی،تجزیہ کار،دانشور اور نقاد پائے جانے کا سہرہ بھی دراصل سہراب والوں کے سر جاتا ہے ، کیونکہ ان میں سے اکثریت نے پرائمری ،مڈل اور میٹرک کے امتحانات پاس ہی صرف سہراب سائیکل ملنے کے وعدے پر کئے تھے۔

Avatar
میاں حامد
حال مقیم پر دیس میں،دل سے مگر دیس میں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بچپن اور سہراب کی سائیکل

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *