راجہ تیرا شکریہ۔۔۔سلیم فاروقی

 کل کی بات ہے ہمارا موڈ ہوا کہ کچھ لکھا جائے، کافی عرصہ ہوگیا کچھ لکھے ہوئے۔ ابھی خیالات کو  مجتمع کرکے موضوع کا انتخاب کیا  اور کمپیوٹر کھولا ہی تھا کہ ہماری صد لفظی کہانیوں کے معروف کردار “راجہ” منہ بسورتے اور بڑبڑاتے ہوئے آن پہنچے اور آتے ہی گلہ کرنے لگے کہ صرف لفظوں اور جملوں سے ہی کھیلتے رہو گے یا کبھی کوئی اچھا مشورہ بھی دوگے؟ ہم نے کہا ہم  کہاں اور مشورہ کہاں؟ یہ تو بڑے لوگوں کے کام ہیں، پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کے کام۔۔ کہنے لگے زیادہ باتیں نہ بناؤ، میں بہت سنجیدگی سے ایک مشورہ کرنے آیا ہوں۔

ہم نے کوئی راہ فرار نہ پاتے ہوئے کمپیوٹر کو بند کیا اور راجہ کی جانب متوجہ ہو گئے۔ ہاں اب بولو کیا مسئلہ ہے؟ کہنے لگے میرا مسئلہ بھی وہی ہے جس سے آج پوری قوم یا تو دوچار ہے یا برسرِپیکار ہے۔ ہم نے کہا سیدھی طرح بتاؤ مسئلہ کیا ہے؟ بولے بھائی مسئلہ یہ ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے۔ لوگوں نے ہر سطح پر مہم شروع کر رکھی ہے۔ کوئی ایک جماعت کا امیدوار ہے تو کوئی دوسری جماعت کا۔ کوئی ذاتی حیثیت میں آزاد امیدوار بن کر کھڑا ہے اور کوئی اپنی جماعت سے ناراض ہوکر آزاد حیثیت میں کھڑا ہے۔ ان سب کا سابقہ ریکارڈ دیکھا جائے تو سب کا نہ سہی اکثریت کا ریکارڈ ایک جیسا ہی ہے، خواہ آزاد امیدوار ہو یا کسی جماعت کا نمائندہ۔

یہ لوگ انتخابات کے زمانے میں تو بڑی خوش اخلاق صورتیں بنا کر گھر گھر دستک دینا شروع کردیتے ہیں۔ کوئی اپنا ذاتی پروگرام بتا رہا ہوتا ہے اور کوئی اپنے ذاتی کردار کے ساتھ اپنی جماعت کا پروگرام لیے کھڑا ہوتا ہے  اور کچھ کا مطالبہ تو یہ ہوتا ہے کہ چونکہ مجھے فلاں بڑے لیڈر نے بذاتِ خود ٹکٹ سے نوازا ہے اس لیے اگر آپ اُس لیڈر کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں تو مجھے  ووٹ دیجیے۔ کوئی آسمان سے تارے توڑ کر لانے کی باتیں کرتا ہے تو کوئی الہ دین کے چراغ کی مدد سے منتخب ہوتے ہی ایک ہی “رگڑے” میں سب کچھ بدل دینے کا دعویدار ہوتا ہے۔

حالانکہ ان سب کا حال یہ ہے کہ منتخب ہونے کے بعد اپنے حلقے میں منہ بھی نہیں دکھاتے ہیں۔ کچھ امیر علاقوں میں جابستے ہیں اور شہر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ نہ تو علاقے  کی خبر لیتے ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی لیتے ہیں۔ خدا جانے ان کے ترقیاتی فنڈ کہاں جاتے ہیں سڑک ٹوٹی ہے تو برسوں ٹوٹی رہے گی، گٹر بہہ رہا ہے تو مہینوں بہتا رہے گا، کچرے کا ڈھیر پہاڑ کی صورت اختیار کرتا جاتا ہے لیکن ان کے  کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ اگر کسی کو ان کی مدد کی ضرورت کسی تھانے یا شفاخانے میں پڑجائے یا اور کچھ نہیں شناختی کارڈ کا فارم ہی دستخط کروانا ہو  تو ڈھونڈا کیجیے انہیں چراغ رخ زیبا لے کر۔

اس لیے بھائی میں نے تو سوچا ہے کہ اس دفعہ انتخابات والے دن بچوں کو لے کر پکنک منانے نکل جاؤں، کچھ تو فائدہ ملے اس ایک دن کی چھٹی کا۔ ہم نے کہا کہ تمہاری تمام باتوں سے اتفاق ہے، لیکن تمہارے پکنک منانے والے فیصلے سے سخت اختلاف ہے۔ ہاں تم اور تمہارے گھر والے اس دن ووٹ ڈالنے کے بعد جہاں مرضی پکنک منانے جائیں کوئی اعتراض نہیں۔ یاد رکھو ووٹ ڈالنا تمہار حق ہی نہیں فرض بھی ہے۔ یہ فرض ادا کیے بنا تم ریاست سے کوئی حق مانگنے کے حق دار بھی رہتے ہو۔

بولے یہی تو مخمصہ ہے سمجھ ہی نہیں آرہا ہے کس کو اور کیوں ووٹ دوں؟ اب یہی دیکھ لو میرے حلقے سے پندرہ امیدوار کھڑے ہیں میں نے ان میں سے تین یا چار کا نام پہلے سے سن رکھا ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میں ان کے سمیت باقی گیارہ بارہ افراد کو سرے سے جانتا ہی نہیں ہوں تو ان میں سے بہتر فرد کا انتخاب کیسے کروں؟ ہم نے کہا تم بالکل صحیح کہہ رہے ہو اور یہ تمہارا ہی نہیں پاکستان کے ووٹروں کی اکثریت کا مسئلہ ہے۔ لیکن اگر ذرا سا سوچ سمجھ کے  فیصلہ کیا جائے تو یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ   بھی نہیں۔ اصل میں یہ سارا گنجلک ہمارے نظام انتخابات کا اپنا ہے۔ اگر تم چند بنیادی چیزیں ذہن میں رکھو فیصلہ کرنے میں سہولت رہے گی۔

ہمارے نظام انتخاب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کو جماعتی نظام اور انفرادی نظام کا ملغوبہ بنا دیا گیا ہے۔ کسی جماعت کو ووٹ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کسی ایک فرد کو ووٹ دیا جائے چاہے وہ فرد کتنا ہی بدنام کیوں نہ ہو  اور کسی فرد کو ووٹ دینے کا مطلب کسی ایک جماعت کو ووٹ دینا ہے خواہ اس جماعت کو  آپ کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرتے ہوں۔ اوپر سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین کو جو ترقیاتی فنڈ اور انتظامیہ میں حصہ دیا جاتا ہے یہ دراصل کرپشن کے قانونی راستے ہیں۔ ان کو تو پہلی فرصت میں بند ہوجانا چاہیے۔ کہنے لگے لو اگر ان کو یہ حق نہ ملے تو پھر ان کو ووٹ ہی کیوں دیا جائے؟ پھر تو سارا انتخابی عمل ہی لاحاصل رہے گا۔ ہم نے کہا نہیں بالکل نہیں! بلکہ تب ہی اس نظام کے اصل فوائد حاصل ہونا شروع ہوں گے۔

اب ذرا تسلی سے سنو! قومی اسمبلی اور سینیٹ کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ملک و قوم کی بہتری کے لیے پالیسیاں ترتیب دے، ان پالیسیوں پر عملدرآمد  کی خاطر ضرور قانون سازی کرے  اور پھر اس بات کا جائزہ لیتی رہے کہ ان پالیسیوں پر پوری طرح عملدرآمد  بھی ہو۔ راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو ہٹانے کا آئینی انتظام کرے۔ سڑکیں بنانا، گٹر صاف کروانا، شناختی کارڈ کے فارم کی تصدیق کرنا تو سرے سے اس کا کام ہی نہیں ہے۔ اس سے اگر مطلوبہ نتائج لینے ہیں تو اس کی پوری توجہ صرف اور صرف آئینی اور قانونی معاملات تک رہنے دیے جائیں ، باقی تمام فضول ذمہ داریاں، رعایتیں یا نام نہاد حقوق ختم ہوجانے چاہئیں۔

اسی طرح صوبائی اسمبلیوں کا کام اپنے صوبے کے لیے پالیسیاں ترتیب دینا   اور ان پر عملدرآمد  ممکن بنانا ہے اور مختلف آئینی ترامیم کے بعد صوبوں کو  جتنی آزادی اور خود مختاری  ملی اس کے بعد تو درحقیقت صوبائی اسمبلیوں کی یہ ذمہ داری کئی گنا بڑھ چکی ہے کہ وہ اپنے صوبے میں ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کی پالیسیاں نہ صرف  ترتیب دیں بلکہ ان پر عملدرآمد  کے لیے ضروری قانون سازی بھی کریں۔

لیکن یہاں وہی ترقیاتی فنڈز، وہی گلیاں محلے، وہی تھانہ پولیس اور وہی سفارشیں ہی اراکین صوبائی اسمبلی کا بنیادی کام بن کر رہ گئی ہیں۔ اور پھر جب نمبر آتا ہے بلدیاتی انتخابات کا تو ہم ووٹ اس جماعت کو ڈالتے ہیں جو ہمیں  یہ سہانا خواب دکھاتی ہے کہ ہم کامیاب ہوکر تمہارے لیے الگ صوبہ بنوائیں گے، یا تعلیم و ملازمت میں کوٹہ سسٹم ختم کروائیں گے، یا تعلیم و صحت کے نظام میں ایسی انقلابی تبدیلیاں لائیں گے کہ دیگر علاقوں  والے رشک کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ وہ کبھی اپنے اصل کام کے سلسلے میں کوئی وعدہ نہیں کرتے   کہ ہم اپنے شہر کی سڑکوں کو کس طرح بہتر بنائیں گے، گٹر سسٹم سمیت دیگر صفائی و ستھرائی اور صحت کے بنیادی معاملات کو کس حد تک اور کس طرح بہتر بنائیں گے۔

تم خود ہی سوچو ،جب ہم توپ سے چڑیا مارنے کی باتیں کریں یا پستول سے جہاز گرانے کی باتیں کریں گے تو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ نہ تو چڑیا کا شکار ہی ہوگا اور نہ ہی جہاز گرایا جاسکے گا۔ کہنے لگے ایک طرف تم خود اس نظام کی اتنی خامیاں گنوا رہے ہو ،دوسری طرف تم یہ بھی زور دے رہے ہو کہ ہم ووٹ ضرور دیں، تو ایک مشہور مکالمہ کے مطابق “کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟” ہم نے کہا بظاہر تو ایسا ہی لگتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ اس کا کوئی حل بھی نہیں ہے۔ اگر ہم ہر انتخاب میں اس کے میرٹ اور ضرورت کے مطابق ووٹ دینا سیکھ لیں تو یقین کرو یہ مسائل خودبخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ بس کرنا اتنا ہوگا کہ خوش کن انتخابی نعروں اور دعوؤں سے بچ کر اپنی عقل و فہم کے مطابق ووٹ ڈالیں۔ کہنے لگے لیکن یہ میرٹ کا فیصلہ کیسے ہوگا؟ ہر امیدوار اور ہر جماعت تقریباً یکساں ہی وعدے اور منشور لے کر آتی ہے، ایک عام پاکستانی تو پھر خوش کن نعروں اور انتخابی گہما گہمی سے لازمی متاثر ہوگا اور اسی بنیاد پر ووٹ ڈالے گا۔

ہم نے کہا میرٹ طے کرنے کا پیمانہ بہت آسان اور سیدھا سادہ ہے۔ قومی اسمبلی میں ووٹ ڈالتے وقت کبھی کسی امیدوار کی شخصیت پر نہ جاؤ بلکہ صرف اور صرف اس جماعت کو ووٹ دو جو قومی سطح کی ہو۔ کسی علاقائی، صوبائی، گروہی جماعت یا آزاد امیدوار کو ووٹ ہرگز نہ دو۔ قومی اسمبلی کا کام قومی معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے اگر صوبائی یا علاقائی سوچ والے کو ووٹ دو گے تو قومی اسمبلی میں اس کی حیثیت ایک اقلیتی گروپ کی سی ہوگی۔ اور آزاد امیدوار وہاں بالکل کچھ بھی نہیں کرپائے گا۔ وہ جو کہتے ہیں اکیلا چنا کیا بھاڑ بھونے گا تو وہی صورت حال ہوگی۔

اسی طرح صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں اگر کوئی ایسی جماعت موجود ہے جو قومی سطح کی ہے تو پہلی ترجیح اسی کو دینی چاہیے کیونکہ وہ صوبہ کو ملک و قوم کے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔ دوسری ترجیح اس جماعت کو دو جو کم از کم پورے صوبے کے اندر اپنا اثر و نفوذ رکھتی ہو۔ صوبے کے کسی ایک مخصوص علاقے یا گروہ  کی نمائندہ   جماعت کو ووٹ دینا دراصل ووٹ ضائع کرنے والی بات ہوگی کیونکہ وہ جماعت یا گروہ  خواہ  اپنے علاقے سے سو فیصد ووٹ اور سو فیصد سیٹیں ہی کیوں نہ جیت لیں لیکن صوبائی اسمبلی میں وہ بہرحال ایک اقلیتی گروپ ہی ہوگا  اور وہاں ان کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اقلیتی گروپوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔

اس کی واضح مثال سندھ کی سابقہ اسمبلیاں اور موجودہ صورتحال ہے۔ جب بلدیاتی انتخاب  ہونے  لگیں تو سیاسی جماعتوں یا پریشر گروپوں کی طرف بالکل توجہ نہ دو بلکہ یہاں اسمبلیوں کے برعکس شخصیات کو دیکھو، ان کی صلاحیتوں کو دیکھو، ان کی مجموعی شہرت دیکھو کہ وہ امانتدار اور باصلاحیت بھی ہیں یا نہیں۔ خواہ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہوں یا کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے نامزد کیے گئے ہوں۔ کیونکہ ان کا کام پالیسی سازی سے زیادہ عملی خدمت ہوتا ہے اور ان کو تمہارے روزمرہ کے مسائل حل کرنے ہوتے ہیں۔ صفائی ستھرائی، تعمیرات و ترقیات دراصل ان ہی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ اور وہاں ان کی ذاتی صلاحیت اور امانت و دیانت کام آئے گی۔ ان سے ہمارا اور تمہارا روز کا واسطہ پڑتا ہے۔ اگر کسی جماعت یا گروہ کے امیدوار کو ووٹ دو گے تو وہ اپنی جماعت کی قومی اور صوبائی پالیسیوں اتنا پھنس کر رہ جائے گا کہ بلدیاتی کاموں پر توجہ دینے کے لیے وقت ہی نہ بچے گا۔

کہنے لگے لیکن ہمارا ماضی کا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ جماعتی اور گروہی امیدواروں نے بھی جیتنے کے بعد اعلیٰ اور مثالی کارکردگی دکھائی ہے۔ ہم نے کہا ہاں اگر پورے ملک میں دوچار شہروں میں ایسا ہوا بھی ہے تو اس کو استثنیات میں ہی رکھنا چاہیے ، باقی پورے ملک کو دیکھو کہیں اتنی کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ اصول استثنیات کی بنیاد پر نہیں بلکہ اکثریتی حقائق کی بنیاد پر ترتیب دیے  جاتے ہیں۔ ابھی ہماری گفتگو یہیں تک پہنچی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی، باہر نکل کر دیکھا تو ایک انتخابی امیدوار اپنے حواریوں کے ساتھ ہم سے ووٹ مانگنے آ پہنچے تھے۔ ان کو دیکھ کر راجہ تو یہ کہہ کر نکل لیے کہ مجھے ایک ضروری کام یاد آگیا ہے، تم ان سے اکیلے ہی نمٹو۔

ہم نے بھی ان  سے اس طرح نمٹا کہ ان کی باتیں غور سے سنیں، منشور کی کاپی لی اور ان کی گزارشات پر غور کرنے کا وعدہ کرکے ان کو چلتا کیا اور راجہ کی روانگی کا شکر بھی ادا کرنا شروع کردیا کہ اب سکون سے کچھ لکھ سکیں گے۔ راجہ جاتے جاتے لکھنے کو کافی مواد بھی دے گیا اس لیے زبان سے بے ساختہ نکلا “راجہ تیرا شکریہ”۔

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *