گر تو برا نا مانے ،اک بار مسکرا دو۔۔۔شکور پٹھان

مجھے آج تک اس کا نام نہیں معلوم۔ لیکن ہم کبھی اجنبی نہیں رہے۔

میں اسے سات آٹھ سال سے دیکھ رہا ہوں۔ وہ ہمارے ادارے کے کسی اور شعبے میں کام کرتا ہے۔ اس کا نام کیا ہے اور کیا کام کرتا ہے، نہ میں نے کبھی جاننے کی کوشش کی، نہ مجھے اس کی ضرورت تھی۔
لیکن جب بھی ہمارا آمناسامنا ہوتا ہے ہم بڑے خلوص سے ایک دوسرے کا حال دریافت کرتے ہیں۔
یہ ایک تیس بتیس سالہ مدَر اسی نوجوان ہے۔ لیکن کہیں سے مدَر اسی نہیں لگتا۔ اس کا رنگ بے حد گورا اور چہرے کے نقوش پنجابیوں یا شمالی ہند کے لوگوں جیسے ہیں۔ یہ بہت خوش شکل بھی ہے۔ مجھے خبر نہیں کہ اسے ہندوستانی بولنا آتی ہے یا نہیں۔ ہم ہمیشہ انگریزی میں بات کرتے ہیں جو عموماً ایک آدھ جملے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
یہ اس کی شکل وصورت ہرگز نہیں ہے جس کی وجہ سے میں اسے اپنے قریب محسوس کرتا ہوں۔
بات صرف اتنی ہے کہ یہ جب بھی کسی کو دیکھتا ہے اس کے چہرے پر ایک بڑی ہی دوستانہ اور دلفریب سی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ جب بھی اس سے سامنا ہو، یہ مسکراہٹ سے ہی آپ کا استقبال کرے گا۔
میں نے ایک آدھ بار کسی سے اس کے بارے میں پوچھا تو اسی مسکراہٹ کا حوالہ دیا اور دوسرے نے فورآ پہچان لیا کہ میں کس کی بات کررہاۂوں۔ اس کی یہ مسکراہٹ ہر کسی کے لئے ہوتی ہے۔

یہ میرے ایک بزرگ ہیں ۔ جب بھی ملتے ہیں مسکراہٹ سے استقبال کرتے ہیں۔
اور یہ میری نصف بہتر ہے، جو میرے دوستوں اور ان کی بیویوں کے سلام کے جواب میں پہلے تو ایک ایسی ہنسی ہنستی ہے جس میں ملاقات کی خوشی اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ میرے چند دوست اس بات کو خاص طور پر محسوس کرتے ہیں اور ہر کوئی ہمیں اپنے سے قریب محسوس کرتا ہے۔
اور میرے پیارے ابا، اللہ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، جب کسی سے بات کا آغاز کرتے تھے، ان کے لبوں پر ایک عاجزانہ سی مسکراہٹ پھیل جاتی تھی اور دھیمے، ٹھہرے ہوئے لہجے میں جب وہ بولتے تو ان کا لہجہ کبھی سخت نہ ہوتا۔
اور یہ ہمارے انگریزی کے استاد عبدالوحید قریشی ہیں جو سلام کا جواب ایسی دلنشین مسکراہٹ سے دیتے ہیں کہ لڑکوں نے ان کا نام ” ہنستا ہوا نورانی چہرہ” رکھا ہوا ہے۔
اسکول کے زمانے کے ہمارے ایک محترم استاد کسی سوال کے جواب میں کچھ یوں مسکراتے کہ جواب دینے والا مخمصے میں پڑجاتا ۔ جب تک وہ کچھ بولتے نہیں، سپریم کورٹ کے محفوظ کئے ہوئے فیصلے کی طرح دل میں طرح طرح کے وسوسے آتے۔

ہنسی، تبسم ، خوش رہنا، خوش اخلاقی سے پیش آنا ، یہ ایک ایسی خوبی ہے کہ آپ کو رب نے بلاتخصص ودیعت کی ہے ، لیکن بعضے ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ہنسنے بولنے سے خدا واسطے کا بیر ہے۔
میں اپنے دفتر میں میں داخل ہورہا ہوں۔ یہ سامنے جیکب بے بی کٹی بیٹھا ہوا ہے۔ میرے باآواز بلند “گڈ مارننگ” کے جواب میں یہ بت بنا بیٹھا ہے۔ یا پھر کبھی ہلکی سی آواز آتی ہے ” او نہہ” یعنی اس نے میرے گڈمارننگ کا جواب دے دیا ہے۔ جیکب جب بہت اچھے موڈ میں ہوتا ہے گڈ مارننگ کے جواب میں کہتا ہے ” ہوں”
جیکب کو کسی چیز کی کمی نہیں۔ اچھی ملازمت ، آرام دہ کار، خوبصورت بیوی بچے، بظاہر تو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی لیکن یہ ہمیشہ شہنشاہ غم بنا نظر آئے گا۔ کہ کسی نے اسے قسم دے رکھی ہے کہ خبردار جو ذرا بھی مسکرائے۔ کبھی دفتری میٹنگز میں یا دفتر ہی میں کسی بات پر زوردار قہقہہ ابھرتا ہے لیکن جیکب کا چہرہ یوں ہوتا ہے جیسے کوئی بہت ہی ناخوشگوار بات ہوئی ہو۔
اور یہ میرے شمالی ہند ( کیرالہ، مدراس وغیرہ) کے اکثر ساتھیوں کا حال ہے۔ یہ دفتر میں یوں داخل ہوتے ہیں گے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ کبھی کسی کے منہ سے سلام دعا کے الفاظ نہیں نکلتے۔
ایسے لوگ اپنی نحوست اپنے مقابل پر بھی طاری کردیتے ہیں اور دن کا آغاز ایک ناخوشگوار سے احساس کے ساتھ ہوتا ہے۔
لیکن ایسے بھی ہیں کہ وہ اپنی چہرے کی بشاشت سے آپ کے اندر ایک توانائی سی بھر دیتے ہیں۔ یہ ہنسنا ہنسانا ایک متعدی بیماری ہے جو دوسروں کو بھی لگ جاتے پی ہے۔
میں نے اس پولیس والے کا ذکر کئی بار کیا ہے جو دوبئی اور شارجہ کے درمیان سڑک کے اس مقام پر ہوتا تھا جہاں ٹریفک جام اپنی بدترین شکل میں ہوتا تھا۔ اس پر جولائی اگست کی گرمی جب درجہ حرارت پینتالیس اور پچاس کے درمیان رہتا ہے۔ لیکن یہ نوجوان سپاہی ایک مستقل مسکراہٹ کے ساتھ ٹریفک کو چلتے رہنے کی تلقین کرتا رہتا۔
صبح کے اس وقت جب کار سوار ایک ذہنی تناؤ اور کوفت آمیز کیفیت کا شکار ہوتے، اس نوجوان سپاہی کی مسکراہٹ گویا ایک ٹھنڈی سی پھوار اور باد صبا کے نرم جھونکے کی مانند ہوتی۔ ہر کوئی کوشش کرتا کہ اس کے قریب سے گذرے یا اسے ہاتھ کے اشارے سے سلام کرے۔ کئی لوگوں نے مقامی اخباروں میں اس کے بارے میں لکھا کہ
” His smile makes our day” .
میرا نہیں خیال کہ ہنسنا، خوش رہنا اور خوش اخلاقی سے پیش آنا کسی خاص قوم کی عادت ہوتی ہے۔ یہ شاید انفرادی خصوصیت ہوتی ہے۔ ایک ہی گھر میں دو بھائی مختلف طبیعتوں کے ہوسکتیے ہیں ، لیکن بعض اوقات کسی قوم کی اکثریت بھی اس کے مجموعی مزاج کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔
میرا مشاہدہ ہے، اور یہ میرا مشاہدہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے، کہ ہم پاکستانی، ہندوستانی یا یوں کہئیے کہ برصغیر کے لوگ خوش رہنے کے معاملے میں بے حد کنجوس ہیں۔ یہی حال میں نے فرانسیسی ، روسی اور ایرانیوں کا دیکھا۔
عرب عموماً مسکراتے نہیں ہیں لیکن وہ ہمیشہ سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں اور اس میں آشنا یا اجنبی ، امیر غریب یا چھوٹے بڑے کا فرق روا نہیں رکھتے۔ اس کے مقابلے میں ہم پاکستانی اجنبیوں کو سلام کرنا گناہ کبیرہ جانتے ہیں۔
مجھے یاد ہے جب میں نیا نیا سعودی عرب آیا تو یہاں عادت سی ےپڑگئی کہ دکانداروں اور ٹیکسی ڈرائیوروں سے بات کا آغاز سلام سے کرتا۔ جب کبھی چھٹی پر گھر آتا اور کسی رکشہ ٹیکسی والے کو روک کر اسے سلام کرتا تو وہ جواب کے بجائے میری شکل دیکھتا۔ اب یہ رویہ کچھ کچھ تبدیل ہورہا ہے اور چونکہ اکثر رکشہ ڈرائیور باریش ہوتے ہیں تو کم ازکم سلام کا جواب دے ہی دیتے ہیں۔
میں نے جرمنوں کو عموماً خوش اخلاق پایا، اسی طرح فلپائنی ہیں۔ لیکن فلپائنی عورتیں جس قدر خوش مزاج ہیں، ان کے مرد اتنے ہی سڑیل اور آدم بیزار ہوتے ہیں۔ یہاں آپ کسی پٹرول پمپ سے متصل اسٹور یا کسی دکان میں داخل ہوں ، فلپائنی لڑکیاں، ہیلو، گڈ مارننگ سر ، پاؤ آر یو” جیسے جملوں سے آپ کا استقبال کریں گی۔
آج سے بیس پچیس سال قبل یہاں کیرالہ کی نوجوان خواتین کی اکثریت استقبالیہ کاؤنٹر اور ہسپتالوں وغیرہ میں نظر آتی تھیں، نہ صرف ان کا انداز گفتگو لٹھ مار ہوتا تھا لیکن شکل پر بھی ایک غصیلی کیفیت ہوتی تھی۔ یہ فلپائنی لڑکیاں اس کے بالکل برعکس ہوتی ہیں، یہ بے باکانہ انداز میں لیکن ہنستے مسکراتے اجنبیوں سے مخاطب ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج دوبئی کی Hospitality Industry میں ان کے سوا کوئی اور نظر نہیں آتا۔
چینیوں اور جاپانیوں کے چہرے ایک حسرت ویاس کی صورت نظر آتے ہیں لیکن یہ بھی آپ سے مسکرا کر اور اپنے مخصوص انداز میں جھک کر ملتے ہیں۔
لیکن ایک قوم ایسی ہے جس کا کوئی ہم پلہ نہیں وہ ہیں افریقی۔
میرے ساتھ سینیگال، گنی بساؤ، کیمرون اور کینیا کے مرد اور عورتیں بھی کام کرتے ہیں جن کی سیاہ رنگت، چھو ٹےبسے سخت گھنگریالے بال ، پھولی ہوئی ناک، موٹے موٹے ہونٹ سب کچھ ان کے چمکدار دانتوں اور پھیلی ہوئی بانچھوں کے پیچھے چھپ جاتے ہیں اور یقین کیجئے یہ سب سے خوبصورت اور خوش خصال نظر آتے ہیں۔
میری بیٹی شادی کے بعد سوئٹزرلینڈ چلی گئی تھی جہاں اس کا شوہر ملازم تھا۔ وہ بتاتی تھی کہ آپ بازار میں، سڑک پر، دکان میں کہیں بھی ہوں، ہر اجنبی آپ کو دیکھ کر مسکرائے گا۔
پھر وہ انگلینڈ آگئی اور دو ایک بار میں بھی اس سے ملنے وہاں گیا۔
انگریز کے بارے میں سنا تھا کہ جب تک جان پر نہ بن جائے وہ کسی اجنبی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے اور ان کا tight upper lip ان کے مزاج کا قومی نشان ہے۔ میرا مشاہدہ لیکن اس کے برعکس ہے۔
میری عادت ہے کہ جب کبھی کسی نئے شہر میں جاتا ہوں تو صبح سویرے وہاں کی گلیوں میں نکل جاتا ہو ں اور اس شہر کوجاگتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ انگلستان میں میرا قیام لنڈن، مانچسٹر اور برمنگھم جیسے شہروں میں کبھی نہیں رہا بلکہ ہمیشہ کنٹری سائیڈ میں رہا۔ میں جب بھی صبح سیر کے لئے باہر نکلتا، ہر اجنبی مرد، عورت، بوڑھا ،جوان سلام کرنے میں پہل کرتا۔
اور ذرا یہ کل ہی یہاں شارجہ کا قصہ سنئیے۔ُ

میں اپنے اپارٹمنٹ کی لفٹ میں داخل ہورہا تھا کہ ایک پاکستانی مولانا، جو شاید کسی بچے کو یہاں پڑھانے آتے ہیں، میں نے انہیں سلام کیا۔ مولانا نے میرا چہرہ دیکھا اور خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ سلام کیا کہ شائد انہوں نے نہ سنا ہو۔ مولانا نے ایک خشمگیں سی نگاہ مجھ پر ڈالی لیکن سلام کا جواب پھر بھی نہیں دیا۔ وہ شاید اندازہ لگا رہے تھے کہ میں ان کے مسلک کا ہی ہوں، یا کافر ہوں۔
میں نے تو احادیث مبارکہ سنی ہیں کہ مسلمان بھائی کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے اور میاں بیوی کا ایک دوسرے کو مسکرا کر دیکھنا بھی صدقہ ہے۔ لیکن ہم تو دوا میں ڈالنے جتنا مسکرانے سے بھی گھبراتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ شاید مسکرانے سے سامنے والا مجھے کمتر یا ضرورتمندوں سمجھے گا۔ اور کچھ مانگ نہ بیٹھے۔

ہم ہنستے ہیں تو صرف دوسروں پر۔ ہم مذاق کرنا نہیں صرف مذاق اڑانا جانتے ہیں، ۔ میری بات کا یقین نہ ہو تو تقریباً ہر شام مختلف ٹی وی چینلز پر ہونے والے مزاحیہ پروگرام دیکھ لیں جہاں بہت سارے مسخرے جمع ہوکر جگت بازی کررہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو ‘ اوئے پٹرول دی نالی ورگی ناک والے’ اوئے ہدوانے جیسے سر والے ، کہہ کر مخاطب کرتے ہیں یا پھر ” کامران اکمل دے دنداں، پیپسی دی بوتل کھولن دے کام آسکدے ہیں ‘ قسم کے جملے اچھالتے ہیں جس پر زوردار قہقہے ابھرتے ہیں جس میں پروگرام کے میزبان جو زیادہ تر خود بھی صحافی، شاعر یا کسی شاعر کی اولاد ہوتے ہیں ، ان کا قہقہہ سب سے بلند ہوتا ہے کہ اسکرپٹ انہی کا لکھا ہوتا ہے،

اور یہ ٹیلیویژن والے بھی خوب ہیں۔ ایک یہ پی ٹی وی والے ہیں جو ہنسنے کی بات پر دانت بھینچے نظر آئیں گے گویا کسی نے کنپٹی پر پستول رکھی ہے کہ خبردار جو ذرا بھی دانت چیرے۔ دوسری طرف یہ پرائیوٹ چینل والے ہیں جو بڑے ہنستے مسکراتے اور لہلہاتے ہوئے خبر دیتے ہیں کہ۔ آج فلاں خود کش دھماکے میں بیس افراد ہلاک ہوگئے۔

اور پھر ہم نے چند قوموں اور ذاتوں کو نشانے پر رکھا ہوتا ہے اور ہمارے سارے لطیفے، سکھوں، پٹھانوں اور میمنوں کے بارے میں ہوتے ہیں۔ اس طرح انہیں بے وقوف اور کم عقل ظاہر کرکے شائد اپنی نسلی برتری ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انہی سکھوں کے ایک جرنیل کے قدموں میں ہمارے “ٹائیگر نیازی” نے اپنی کمر سے پیٹی اور پستول نکال کر ڈھیر کئے تھے۔
بہادر، جفا کش اور وفا شعار پٹھانوں کا ، جن میں سے کئی “خانوں ” نے دنیا میں نام پیدا کیا،ان کا مضحکہ اڑانے میں وہ قومیں آگے آگے ہوتی ہیں جو اپنے آپ کو اودھ کی تہذیب کی آئینہ دار بتاتی ہیں جن کی پہچان، نوابین، شاعر اور طوائفیں ہیں ، اور جو سو طرح کے پان لگانے، مشاعروں میں واہ واہ کرنے، اور اجی حضت آپ کے سر اقدس کی قسم ، کرنے کے علاوہ دنیا میں کہیں نظر نہیں آتے۔
اور وہ میمن برادری جو میرے شہر اور ملک کی معاشی ترقی میں سب سے آگے ہےاور جن کے کئی فلاحی ادارے میرے شہر میں قدم قدم پر غریبوں کے درد کا درماں بنے ہوئے ہیں ، انہیں وہ بھی اپنے لطیفوں میں کنجوس ظاہر کرتے ہیں جن کی جیب سے کسی ضرورتمند کے لئے پھوٹی کوڑی بھی نہیں نکلتی۔
ہم دراصل ان باتوں پر ہنستے ہیں جن پر رونا چاہئیے۔ ہم خوش تبھی ہوتے ہیں جب دوسرے کو ناخوش کرسکیں۔ آپ ذرا فیس بک اور دیگر سماجی زرائع ابلاغ پر نظر ڈال کر دیکھیں ۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی مخالف سیاسی جماعت، اپنے مخالف مسلک اور مخالف نظرئیے کا تمسخر اڑائے اور ان باتوں سے انہیں بے پایاں خوشی ملتی ہے۔
بات ہنسنے مسکرانے کی ہورہی تھی اور میں کڑوی کسیلی باتیں لے بیٹھا۔ شاید یہ ہمارا قومی مزاج ہی بن گیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر خوشی کے موقع پر ہم کسی کو یاد کرکے رونا شروع کردیتے ہیں۔

خوشی تلاش کرنے کے لئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں، اس کے لئے اک ذرا سی گردن جھکانے کی بھی ضرورت نہیں ۔ یہ آپ کی ناک کے عین نیچے ہے۔ جی ہاں مسکرانے کے لئے کوئی ہل اور بیل نہیں جوتنے پڑتے۔ یہ مسکراہٹ زندگی آسان بناتی ہے اور نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی بھی۔
میری مسکراہٹ میرا جی خوش کرتی ہے، لیکن دوسرے کی مسکراہٹ مجھے اور زیادہ خوش کرتی ہے۔
یہ مسکراہٹ دل کی بیماریاں دور کرتی ہے ، وہ یوں کہ نہ صرف آپ کا فشار خون ( بلڈ پریشر) متوازن رہتا ہے بلکہ دلوں سے تکدر اور بدگمانیاں ختم ہوتی ہیں۔ یہ مسکراہٹ دنیا بدل سکتی ہے، شاید ساری دنیا نہیں لیکن، کسی ایک کی ضرور بدل سکتی ہے، بے شک اس جینے میں سو دکھ ہیں، لیکن لاکھوں کروڑوں سکھ جو مالک نے ہمیں دیے ہیں اور بے حساب دئے ہیں ان پر خوش ہوکر ہم کتنی بار مالک و خالق کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہونٹوں کی یہ خفیف سی جنبش، یہ مسکان، دلوں کو بدل دیتی ہے، رشتے مظبوط کرتی ہے، دشمنی ختم کرتی ہے ، جھگڑے ہنسی خوشی نمٹا دیتی ہے، ہاں یہ ہے کہ یہ مسکراہٹ اور ہنسی طنزیہ یا استہزائیہ نہ ہو۔ کسی کی بے بسی اور ذلت کا باعث نہ ہو۔
ہنستے مسکراتے لوگوں کے بارے میں اچھی رائے رکھی جاتی ہے ۔ یہ نہ ہوتا تو مجھے اپنے اس ساتھی کا خیال نہیں آتا جس کا میں نے ابتدا میں ذکر کیا، یا اس پولیس کی سپاہی کی بات نہ کرتا۔ یہ مسکراہٹ قدرت کا ایک تحفہ ہے اور جو اس کی قدر کرتا ہے اور اس کا درست استعمال کرتا ہے اس کی زندگی میں خوشیاں بھر جاتی ہیں ۔ لیکن یہ تب دگنی چوگنی ہوجاتی ہیں جب یہ کسی دوسرے کو دی جائیں۔ یقین کیجئیے مسکراہٹ، خوشیاں اور آسانیاں جتنا بانییں گے یہ اتنی ہی بڑھتی جاتی ہیں۔ مالک نے جو چند قیمتی ترین اور حسین ترین چیزیں ہمیں دی ہیں ، مسکراہٹ ان میں ایک نمایاں ترین دولت ہے۔
آپ اپنے چہرے کو بہتر بنانے کے لئے لاکھ بناؤ سنگھار کریں لیکن چہرے کو جو خوبصورتی ایک مسکراہٹ دے سکتی ہے ، سولہ سنگھار اس کا پاسنگ بھی نہیں۔ اپنی شکل صورت پر سرخی، پاؤڈر، کاجل، مِسّی سے بہتر ہے مسکراہٹ سجائیں۔ کم خرچ بالا نشین۔
یہ زندگی مختصر ہے ، جسم بھی اپنی آب و تاب کھودیں گے، چہرے کی کھال لٹک جائے گی اور دانت جھڑ جائیں گے۔ ان دانتوں کے جھڑنے سے پہلے مسکرانا سیکھ لیں کہ پھر صرف ایک یہی خوبی ہے جو چہرے کو روشنی دے گی۔ چہرے کی ساری جھریاں ایک مسکراہٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔
وہ جو نہیں مسکراتے، شاید اپنے آپ کو سخت ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ غیر دوستانہ اور غیر صلح جو ہوتے ہیں۔ دنیا میں خرابی زیادہ تر انہی کی لائی ہوتی ہے۔
زندگی کو حسین وہ بناتے ہیں جو خوش رہتے ہیں ، ہنستے ہنساتے ہیں، محبت کرتے ہیں کہ یہ محبت ہی فاتح عالم ہے نہ کہ وہ جن سے ہاتھ جوڑ کر کہنا پڑتا ہے
“smile Please!!!”

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *