قوم کے محسن اور احسان فراموش قوم

پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے۔پاکستان ایک ناقابل تسخیر ریاست ہے۔پاکستان ایک لوہے کا چنا ہے تمام عالم کفر خاص کر بھارت اسرائیل اور امریکہ کی تکون کے لیئے۔
پاکستان وہ جوہری طاقت ہے جو سالانہ 100+ جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کا حامل ہے۔پاکستان دنیا کی وہ واحد جوہری طاقت ہے جو کریٹکل لمٹ سے نیچے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی پیدوار میں خود کفیل ہے۔دنیا کی سب سے محفوظ ترین جوہری تنصیبات اور نظام کا حامل ملک پاکستان ہے۔
پاکستان کی جوہری طاقت کے حوالے سے جب جب دنیا تشویش دکھاتی ہے اور جواب میں ایسے جملے جب سننے پڑھنے اور دیکھنے کو ملتے ہیں تب سینہ ایک دم چوڑا ہوجاتا ہے اور فرط جذبات سے آنکھیں نمکین پانی سے بھر جاتی ہیں۔جب جب کوئی دشمن ملک جنگ اور سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دیتا ہے تو بجائے یہ قوم کسی ڈر یا خوف میں مبتلا ہونے یا انکے آگے گڑ گڑانے کے یہ قوم فوراََ ٹاکیاں لیکر اپنے ایٹمی میزائیلوں پر پھیرنا شروع کردیتی ہے۔اور پورے جوش اور جذبے سے ہر فرد کی زبان پر یہ جملہ ہی ہوتا ہے کہ .آؤ نا دشمنوں ہم تو کب سے تیار بیٹھے ہیں۔
ساری تمہید سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ ہم اگر جوہری طاقت کے حامل نہ ہوتے تو امریکہ بھارت اور اسرائیل کے رحم و کرم پر ہوتے یا نیست و نابود ہو جاتے۔لیکن چونکہ یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیئے بنا ہے توا ﷲ نے اس ملک اور قوم کو نا قابل تسخیر بنانے کے لیئے چند افراد کو چنا اور ان سے یہ کام لے لیا۔پاکستان کا جوہری طاقت ہونا ہی اسکے قیام کا مقصد سمجھانے کو کافی ہے اور اسکی سالمیت کی کنجی بھی یہی وہ جوہری طاقت ہے جس نے دشمنوں کو انکے مذموم عزائم کی تکمیل سے روکا ہوا ہے۔لیکن یہ بات ساتھ ہی ہم فراموش کرچکے ہیں من حیث القوم کہ ان افراد کے ہمیشہ احسان مند ہیں جنکی محنت اور مشقت کی بدولت آج ہم آزاد فضاؤ میں جیتے ہیں۔
تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے بعد استحکام پاکستان کے روشن اور نامور رہنماؤں اور محنت کشوں کے حصے میں بھی اس قوم کی ملی جلی نفرت اور محبت ہی بچی۔ان پر الزامات لگائے گئے اور بے رخیاں دکھا کر گمنامی اور بدنامی کے داغ انکے دامنوں پر لگا کر اس بے رحم اور ظالم دنیا میں اکیلا چھوڑ دیا کہ جنھوں نے اس ملک کو نا قابل تسخیر اور مستحکم بنانے کی خاطر اپنی جوانیاں اپنے اہل وعیال اور اپنے دوست تک تیاگ دیئے تھے۔
آج ہم ہر سال صرف 28 مئی اور چاغی کو یاد کرکے ٹی وی ٹاک شوز کو رنگین کرتے ہیں۔یا پھر سیاسی شعبدہ باز اس کارنامے کا کریڈٹ سمیٹ کر اپنا سیاسی چورن بیچتے ہیں۔ڈاکٹر عبدلقدیر خان اور ڈاکٹر ثمر مند مبارک کے علاوہ یہ قوم کسی دوسرے سائنسدان سے واقف نہیں۔اور جن دو لوگوں سے واقف ہے انکی بھی اس قوم نے کچھ خاص عزت نہیں کی کہ جس کے وہ حقدار تھے اور جو انکے شایان شان تھی۔باقی جو انکی ٹیم کے ممبر تھے جیسے ڈاکٹر فاروق, بریگیڈیئر تاجور, بریگیڈیئر سجاول, میجر اسلام الحق, ڈاکٹر نذیر اور دیگر سب سے یہ قوم ناواقف ہی نہیں بلکہ متجسس بھی نہیں ان کے بارے میں جاننے کو۔
اسی طرح صدر ضیاء اور ذولفقار علی بھٹو سے دو دھڑے بناکر انکی ذاتی رنجشوں اور غلطیوں کو موضوع بحث بنا کر ان پر باجماعت نفرین بھیجتے ہیں۔مگر کوئی بھی بڑے دل کا مظاہرہ نہیں کرتا کہ ان سبھی مندرجہ بالا محسنوں کی سال میں فقط ایک دن ہی تعظیم کرلیں اور اس دن کی مناسبت سے اپنی ذاتی نفرتوں کو ایک طرف رکھ کر ان کا نام ہی پیار سے لے لیں۔
کیا کوئی شک کوئی کمی رہ جاتی ہے آج کے طاقتور اور ناقابل تسخیر پاکستان کو دیکھ کر ان محسنوں کے جذبے, محنت, حب الوطنی, خلوص اور نیت پر۔

کیا ہم 28 مئی 1998ء کو ایک ناقابل تسخیر اور طاقتور اسلامی ملک بنتے ہی ایک احسان فراموش قوم بھی بن گئے تھے کہ آج ہمارا دل باقی قومی ہیروز کی طرح ان زندہ وجاوید محسنوں کے لیئے بھی تنگ اور بخیل ہو گیا ہے۔اس قوم کو زوال ان شاءﷲ نہیں آئے گا مگر اس قوم کی غیرت و حمیت اور اخلاص و ممنونیت کو جو زوال آرہا ہے اور جس انداز میں یہ قوم شبانہ و روز سیاست اور جمہوریت کی بھینٹ چڑھ کر قومی و مذہبی اقدار سے روگردانی کرنے میں جتی ہوئی ہے وہ اس قوم کو ایسے دن ہر دن دکھائے گی جیسا ان کو اسلامک سمٹ میں پاکستان کی کمزور نمائندگی اور اسکی بے عزتی کی صورت دیکھنا پڑا۔
بہرحال 28 مئی کا دن صرف اس کارنامے کی یاد نہیں جس نے اس ملک کو ناقابل تسخیر کیا بلکہ ان محسنوں کے احسان کو یاد کرنے اور خراج تحسین پیش کرنے کا بھی دن ہے جنھوں نے اپنا سب کچھ حتی کہ اپنی شناخت اور شہرت کو بھی تیاگ دیا۔بیشک اﷲ جن سے چاہے اپنے دین اور اسکے ماننے والوں کے حق میں سخت سے سخت کام بھی لے سکتا ہے۔میں سبھی محسنین اور محب وطن پاکستانیوں کو آج کے دن کی مناسبت سے سلیوٹ اور بے تحاشہ پیار کے جذبات کا نذرانہ پیش کرتا ہوں۔
اﷲ اس ملک کو قائم رکھے ہزاروں سال اور ہر سال کئی سال کا مجموعہ ہو۔آمین

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *