خدیجہ کیس؛ مکمل فیصلہ اور مختصر تبصرہ۔۔۔ انعام رانا

“خدیجہ کیس” کا مکمل فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ نے “خدیجہ کیس کا مکمل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ سردار احمد نعیم کے دستخط سے جاری شدہ بارہ صفحات کے فیصلے میں ملزم شاہ حسین کو بری کرنے کی تفصیلی وجوہات دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ملزم کو ٹرائل کورٹ اور پھر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے مجرم مان کر سزا دی گئی تھی جسکے خلاف مجرم نے اپیل کی تھی۔ دوسری جانب خدیجہ صدیقی نے ملزم کی سزا میں اضافے کیلئیے ریویژن پٹیٹس دائر کی تھی۔

جسٹس سردار احمد نعیم نے پیرا ایک سے پیرا چودہ تک کیس کے حالات اور وکلا کے مختصر دلائل کا ذکر کیا ہے۔ روداد کے مطابق “مورخہ تین مئی دو ہزار سولہ کو جب خدیجہ اپنی بہن صوفیہ کو لینے کیلئیے ڈرائیور ریاض کے ساتھ ایمبیسڈر ہوٹل کے سامنے کھڑی تھی، دن دو بجے ایک شخص نے اس پر چھریوں سے حملہ کیا اور خدیجہ اور صوفیہ کو زخمی کر دیا۔ ابتدائی پولیس کمپلینٹ ریاض نے کرائی اور مجسٹریٹ کے حکم پر خدیجہ کا معائنہ کیا گیا۔ بعد ازاں آٹھ تاریخ کو خدیجہ نے ملزم کو نامزد کیا۔ پانچ ماہ بعد ملزم نے ایک پبلک پارک سے چھری برآمد کرائی۔ حملے کے دن تگ و دو کے درمیان ملزم کا ہیلمٹ  خدیجہ  کی گاڑی میں گر گیا تھا۔

پیرا چودہ سے آگے جج نے اپنے فیصلے کی وجوہات بیان کی ہین۔ فیصلہ کی بنیاد مندرجہ ذیل نکات ہیں؛

۱- خدیجہ  نے تین سے آٹھ مئی کے دوران مجرم کو نامزد نہیں کیا

۲- ابتدائی رپورٹ میں میڈیکو لیگل افسر نے فقط گیارہ زخم لکھے تھے۔ بعد ازاں بارہ مزید ڈالے گئے۔

۳- میڈیکو لیگل افسر کا بیان تسلیم نہیں کیا گیا کہ خدیجہ کی اس وقت حالت کی وجہ سے اسکو فوری سرجن کو ریگر کر دیا گیا تھا اور اس وجہ سے مکمل معائنہ نہیں ہو سکا۔ مگر آپریشن کے بعد باقی انجریز بھی معائنہ ہو کر شامل کی گئیں۔

4- عدالت یہ نہیں مانتی کہ پانچ دن تک خدیجہ ہوش میں نہیں تھی کہ فورا ملزم کا نام نا بتا سکتی۔ وہ زخمی حالت میں سوالوں کے جواب دے رہی تھی اور ڈاکٹر کو بتایا کہ اس پہ اک لڑکے نے ھملہ کیا تھا۔

5- خدیجہ اور اسکی بہن کا خون بہا مگر عدالت میں انکے خون آلود کپڑے یا گاڑی میں خون کے ثبوت نہیں دئیے گئے۔

6- ملزم کا حملہ کرنے کا مقصد موجود نہیں۔ کیونکہ خدیجہ نے مانا کہ اس کے بہت سے دوست ہیں ملزم سمیت جنکے ساتھ اسکی تصاویر موجود ہیں۔ سو یہ الزام غلط ہو جاتا ہے کہ ملزم خدیجہ کو ہراساں کرتا تھا اور انکار پہ حملہ کیا۔

7- ملزم نے جو چھری برآمد کرائی وہ خون آلود نہیں تھی اور پانچ ماہ بعد ایک پارک سے برآمد ہوئی جو کہ ملزم کا ذاتی علاقہ نہیں تھا۔

8- گاڑی سے ملزم کا ملنے والا ہیلمٹ سرخ ہے جبکہ پولیس کانسٹیبل نے کہا کہ کالا تھا۔

۹- ایک بھرے پرے علاقے میں دن دیہاڑے حملہ ہوا مگر سوائے ریاض، خدیجہ اور اسکی بہن کے کوئی گواہ نہیں پیش کیا گیا۔

۱0- ہو سکتا ہے کہ واقعہ ہوا ہو مگر ایسے نہیں ہوا جیسے خدیجہ بتاتی ہے۔

۱۱- گو خدیجہ مضروب ہوئی مگر یہ کافی نہیں ہے۔ واقعاتی شہادتوں کا بھی ملزم کو مجرم ثابت کرنا ضروری ہے۔ عدالت خدیجہ کی گواہی کو سچ نہیں مانتی

۱۲- پراسیکیوشن اپنا کیس شک سے بالاتر پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر عدالت ملزم شاہ حسین کو بے گناہ مان کر رہا کرتی ہے۔

مختصر تبصرہ:

اس معاملہ پر اب سپریم کورٹ نوٹس لے چکی ہے اور شاید بہت زیادہ بات کرنا مناسب نا ہو۔ لیکن حیرت انگیز طور پہ نظر آتا ہے کہ عدالت بہت کمزور نکات پہ اپنے فیصلے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ عدالت کے فیصلے سے تاثر ابھرتا ہے جیسے خدیجہ “جس کے بہت سے دوست” تھے، اس نے خود ہی خود کو چھریاں مار لیں یا کوئی اور مار گیا اور الزام نا جانے کیوں معصوم شاہ حسین پہ لگ گیا۔ خدیجہ تین سے آٹھ مئی تک جان بچانے کے خوف میں تھی، اسکی سرجری ہوئی، ایسے میں یہ معمولی نکتہ ہے کہ ملزم کو نامزد کیوں نا کر سکی۔ اس نے فقط ایک ملزم نامزد کیا اور وہ شاہ حسین تھا۔ ہمارے پاس مکمل معلومات نہیں کہ اس دوران کیا اس سے دوبارہ بیان لینے کی کوشش بھی ہوئی یا نہیں؟ عدالت یہ نکتہ بیان کر کے بھی نظر انداز کر گئی کہ شکایت ڈرائیور نے اپنے طور پر فوری درج کرائی، ورنہ شاید شکایت پانچ دن بعد درج ہونا بھی ایک وجہ بنتا موجودہ منصفانہ فیصلے کا۔

مزید ازاں، عدالت یہ نظر انداز کر رہی ہے کہ معائنہ کرنے والی لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ زخموں کی وجہ سے خدیجہ کو فوری سرجن کو ریفر کیا گیا اور اس وجہ سے مکمل معائنہ نا ہو سکا۔ اگر پہلے معائنہ میں زخم عدالت کی پسندیدہ تعداد میں نا گنے جا سکے تو یہ ڈاکٹر کا قصور تو ہو سکتا ہے، مدعیہ مضروبہ کا نہیں۔

چھری مجرم نے برآمد کرائی، پانچ ماہ بعد کیوں کرائی؟ یہ پولیس تفتیش کی کمزوری ہے۔ ہیلمٹ کالا تھا یا لال، اس سے زیادہ اہم تھا کہ ہیلمٹ شاہ حسین کا تھا یا نہیں؟ مگر عدالت اس نکتے پہ خاموش ہے۔ خدیجہ کے ایک سے زیادہ دوست ہونے سے عدالت کیا ثابت کرنا چاہتی ہے؟ میری سمجھ سے باہر ہے۔ شاید عدالت کا خیال ہو کہ جس لڑکی کے ایک سے زائد دوست ہوں، اسکو چھری لگ جانا متوقع ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں عدالتوں کی خواری سے بچنے کیلئیے کوئی بھی آسانی سے گواہ نئیں بنتا۔ ایسے میں انجان لوگ گواہ کہاں سے لائے جاتے؟ کیا زخمی خدیجہ یا اسکی بہن کی واقعہ کے بارے میں گواہی میں کوئی جھول تھا؟ اگر خون آلود کپڑے نہیں پیش ہوے تو یہ بھی تفتیش کا قصور ہے۔

عدالت اک اہم نکتہ نظر انداز کر گئی کہ ملزم کا والد ایک سینیئر وکیل ہے جو اس سسٹم کے لوپ ہولز سے بھی واقف ہے اور با اثر بھی۔ ایسے میں یہ معمولی سقم یا کمزور تفتیش کچھ اتنی غیر متوقع بھی نا تھی۔ دو معزز عدالتیں ان ہی ثبوتوں کے ساتھ ملزم کو مجرم مان کر سزا دے چکی تھیں، جبکہ اک با اثر وکیل کا پریشر ماتحت عدلیہ پہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر عدالت کو لگا کہ تفتیش میں کچھ نقص ہے تو ری ٹرائل کیوں آڈر نہیں کر دیا۔ کیونکہ اگر پراسیکیوشن ملزم کے خلاف شبہ سے بالاتر مقدمہ پیش نہیں کر سکی تو عدالت بھی ملزم کے حق میں یا اپنے فیصلے کے حق میں بہت ٹھوس دلائل پیش کرنے میں ناکام رہی۔

خدیجہ صدیقی نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں صاف کہا کہ گورنر پنجاب اور جج نے اس پہ صلح کیلئیے دباو ڈالا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کل آڈر جاری کیا ہے کہ ٹی وی چینلز اور اخبار معافی مانگیں ورنہ کاروائی کا سامنا کریں۔ ابھی کچھ دیر قبل خدیجہ نے اپنے ٹوئٹر پہ کہا کہ وہ تو ایڈیشنل سیشن جج کی بات کر رہی تھی اور وہ عدلیہ کا احترام کرتی ہے۔ عرض ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نے تو ملزم کو سزا کی توثیق کی، وہ پریشر کیوں ڈال رہا تھا؟ البتہ جس نے مجرم کو رہا کیا اور جس کے بارے میں بات کرنے کی وجہ سے فورا حکم زباں بندی اور معافی جاری ہو گیا؛ اسکے بارے میں شکوک پختہ ہوتے ہیں۔

معاشرے عدل پہ قائم رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اک حدیث کا مفہوم ہے کہ سابقہ لوگ برباد ہو گئے کیونکہ وہ کمزوروں کو انصاف دلانے میں ناکام رہے۔ ہمارا نظام عدل گل سڑ چکا ہے اور اس قدر بدبودار ہو چکا ہے کہ اب میڈیا کے زریعے اس پہ چھڑکا گیا پرفیوم بھی بدبو میں فقط اضافہ ہی کرتا ہے۔ ڈرنا چاہیے ہر منصف کو اس وقت سے جب مظلوموں کی آہیں اور دندناتے مجرم خود انکو ہی نقصان دے دیں گے۔

نوٹ: یہ مضمون کالم نگار کے ذاتی خیالات ہیں اور

مکالمہ کا بطور ادارہ ان سے اتفاق ضروری نہیں۔

اگر شاہ حسین، انکے وکیل یا لاہور ہائیکورٹ اپنا

موقف دینا چاہیں تو مکالمہ کا پلیٹ فارم حاضر ہے۔ ادارہ

انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خدیجہ کیس؛ مکمل فیصلہ اور مختصر تبصرہ۔۔۔ انعام رانا

  1. محترم انعام رانا کے تجزیہ سے مکمل اتفاق ہے. معلوم ہوتا ہے کہ یہ جج سفارشی ہیں اور عدل و انصاف کے تقاضوں سے بے خبر. نیز ریمارکس جج کے نہیں، ملزم کے وکیل کے لکھے ہوئے لگتے ہیں. اگر اس جج کی کھوپڑی میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہے تو اسے میڈیا اور اخبارات کو دھمکیاں دینے کی بجائے ججی کے منصب سے استعفی دے کر مجرم کی وکالت شروع کر دینی چاہئیے. اگر کوئی جج ایسا فیصلہ امریکہ میں کرتا تو عوام اور میڈیا کا سونامی اس کی عزت، شہرت، اور منصب کو بہا لے جاتا.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *