انسانوں کی تعداد تمام جانداروں کا صرف دس فیصد

نیشنل اکیڈمی آف سائنسسز کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جتنے بھی جاندار ہیں انکے مقابلے میں انسانوں کی تعداد اور انکی کمیت  صرف 10فیصد ہے مگر تحقیقی کاموں سے پتہ چلتا ہے کہ  اتنی قلت میں ہونے کے باوجود انسان ہی ہے جس نے دنیا سے تقریباً 85فیصد ایسے جانوروں کے خاتمے کا سبب بنا ہے۔ جنہیں دودھ دینے والے جانور کہا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کرہ ارض پر جتنے درخت اور پودے لگے ہیں  ان میں بھی انسانوں کی وجہ سے زبردست کمی ہورہی ہے اور اب تک کرہ ارض سے 50فیصد درخت اور پودے انسان نے ہی ختم کئے ہیں۔ خواہ اسکا مقصد جنگلوں کو کاٹ کر بستیاں بسانا ہو یا کارخانے لگانا۔ نئی رپورٹ سے کرہ ارض پر  انسان اور دیگر جانداروں کی تعداد ، وزن اور وجود میں عدم توازن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر دنیا پر موجود تمام حیاتیات کو وزن کیا جائے  تو درختوں، پودوں، کیڑے مکوڑوں کے تناسب میں انسان کا کوئی خاص شمار نہیں ہوتا۔ مگر تباہی انسان ہی پھیلا رہا ہے۔ یہ تحقیق رپورٹ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے سیمینار میں پڑھی گئی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *