غبارے ۔۔۔ ابن حیدر

“غبارے لے لو، پھول لے لو، شاپنگ بیگز لے لو”

بوڑھے نے صدا لگائی۔

نحیف بدن جس میں ان گنت جھریاں پڑ چکی تھیں، جھکی ھوئی کمر اور گہری تیز مایوس آنکھوں والے بوڑھے کی آواز میں ایک عجیب سی کڑک تھی جو بے بسی اور امید میں گندھے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھی۔ سڑک کے اطراف چلتی ھوئی عوام میں سے جب کسی نے اس کے “ھوکے” پر توجہ نہ دی تو اس کی آواز مزید تیز ھوتی گئی۔

“شاید کوئی سن لے۔ شاید کسی کو اپنے بچوں کے لئے غباروں کی ضرورت ھو، شاید کسی نے اپنی بیوی یا محبوبہ کے لئے پھول خریدنے ھوں اور وہ میری جانب متوجہ ھو جائے یا شاید کسی کو خریداری کے لئے بڑے شاپر کی ضرورت ھو”۔

مگر کوئی بھی نہ تھا جو بوڑھے سے کچھ بھی خریدتا۔

بازار خریداروں سے بھرا پڑا تھا اور دکانوں میں تاجر دنیا و مافیہا سے بے خبر اشیاء کے نرخوں پر گاہکوں سے لے دے کر رھے تھے۔ ہر دکان دار خریدنے والوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش میں تھا کہ اس کا مال بڑھیا ھے۔ ان گنت رنگ کے کپڑے، خوشبوئیں، گھریلو تزئین و آرائش کے لوازمات، جوتے، خوردونوش غرضیکہ ہر طرح کی اشیاء بازار میں موجود تھیں۔ عوام کا ایک سمندر بازار میں جیسے امڈ آیا تھا، مگر ان میں ایسا کوئی نہ تھا جو اس بوڑھے سے غبارے، پھول یا شاپر خریدتا۔

“ایک سو پندرہ” بوڑھے نے اپنی تمام جیبیں ٹٹولنے کے بعد برآمد ھونے والی نقدی اپنے کپکپاتے، پیرانہ سالی کے باعث جھلستے ھوئے ہاتھوں میں رکھ کر گنی۔

“ایک سو پندرہ۔۔ ہمم” بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا، آنکھوں میں امید کی جگہ نفرت اور بے بسی نے انگڑائ لی، چہرے کے تاثرات میں تغیر رونما ھوا اور بوڑھے کے جسم میں ایک جھرجھری سی دوڑ گئی۔

“ھونھ”۔ سر جھٹک کر بوڑھے نے دوبارہ آواز لگائی۔ “غبارے لے لو، پھول لے لو، شاپنگ بیگز لے لو”۔

اب آواز بدل چکی تھی، وہ راہ چلتے ہر آدمی کی طرف دیکھتا اور اسے لگتا کہ شرقاََ غرباََ چلتے تمام لوگ گویا اسی سے کچھ خریدنے آ رہے ہیں۔ ضرور کسی کو اپنی محبوبہ کے لئے پھول چاہئے ھوں گے۔ ضرور۔ بوڑھا سوچتا۔ مگر ہر چلنے والا یوں بے اعتناعی سے گزر جاتا گویا کسی نے اسے دیکھا ہی نہ ھو۔ وہ مسلسل صدا لگاتا ھوا، آسمان کی طرف دیکھتا ھوا بڑھتا گیا۔

ہجوم سے نکل کر وہ ایک ایسی گلی میں داخل ھوا جس میں اکا دکا لوگ اپنے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل رھے تھے۔ شاید سردی کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہاتھ لپیٹ رکھے تھے۔ اچانک ایک شور سا بلند ھوا اور وہی چند نہتے لوگ اس بوڑھے کی جانب بڑھنا شروع ھو گئے۔ تمام لوگ شاپر اور پھولوں کا تقاضا کرنے لگے۔ گلی کی نکڑ سے مڑ کر دوسری جانب قبرستان تھا جہاں اہلِ محلہ کے عزیز و اقارب کی قبریں تھیں۔ بوڑھے کے ہاتھ میں شاپر دیکھ کر دفعتاََ سب کو خیال آیا کہ کیوں نا اپنے رفتگان کی قبروں پہ پھول نچھاور کئیے جائیں۔ آن ہی آن میں تمام پھول اور شاپر بک گئے۔

“چار سو اکیاون”۔

زبردست!

بوڑھے نے فاتحانہ انداز میں کمر کو سیدھا کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے اس نے اخراجات کا حساب لگایا تھا۔ اسے دوائی، راشن اور کمرے کی لپائی کے لئے درکار سیمنٹ خریدنے کے لئے چار سو روپے کی ضرورت تھی۔ مگر واہ، آج تو اکیاون روپے کی بچت ھو گئی۔ بوڑھے نے ٹھیلے کا رخ موڑا اور فوراََ کریانے کی دوکان کی جانب بڑھ گیا۔ آدھا گھنٹہ لائن میں لگنے کے بعد راشن خریدنے کے لئے وہ کاونٹر پر پہنچا اور سامان کی فہرست دکان دار کو بمع پیسوں کے پکڑائی۔ کچھ دیر میں دکان دار نے شاپر میں ایک کلو پیاز اور چند دانے آلو کے ڈال کر بوڑھے کے ہاتھ میں تھما دئے۔

“ارے باقی سامان کدھر ھے؟ اور بقایا پیسے؟”

بوڑھے نے غصیلی جھنجھلاہٹ کے ساتھ مطالبہ کیا۔

“بابا چیزوں کے نرخ بڑھ گئے ہیں”۔ دوکاندار نے بے توجہی سے جواب دیا۔

پھولوں اور شاپر کے عوض چند عدد پیاز اور آلو خرید کر بوڑھا دوکان کے تھڑے سے اترا اور دوبارہ آواز لگانا شروع کر دی۔

“غبارے لے لو، غبارے۔۔۔۔۔”

دوائی اور ٹپٹپاتی ھوئی چھت کے تصور میں ڈوبی آواز بلند ھوئی۔

“غبارے لے لو!”

“غبارے!”

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *