کامریڈ حیدر بخش جتوئی اور ہاری تحریک

کامریڈ حیدر بخش جتوئی اور ہاری تحریک
مشتاق علی شان
کچھ شخصیات اور تحریکیں یوں لازم وملزوم بن جاتی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے الگ کردینا ممکن ہی نہیں رہتا ۔ ایسی ہی ایک انقلابی شخصیت بابائے سندھ کہلانے والے کامریڈحیدر بخش جتوئی اور ’’سندھ ہاری کمیٹی ‘‘کی وہ تحریک ہے جو سندھ کے کچلے ہوئے ہاریوں کے طبقاتی مبارزے کی طاقتور آواز بن کر ابھری ۔7اکتوبر1901کو ضلع لاڑکانہ کے گوٹھ بکو دیرو میں پیدا ہونے والے کامریڈحیدر بخش جتوئی نے لاڑکانہ،کراچی اور بمبئی میں تعلیم حاصل کی ۔روینیو کے امتحان میں سندھ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے مختار کار اور پھر ڈپٹی کلکٹر بننے والے کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے 1945میں اس وقت اپنے عہدے سے مستعفی ہو کر ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ میں شمولیت اختیار کی جب ان کے ذاتی کیرئیر کا سورج نصف النہار پر تھا ۔ تھیلے میں دو جوڑے کپڑوں اور چند کتابوں کے ساتھ انھوں نے سندھ کے گاؤں گاؤں جاکر ہاریوں کو جاگیرداروں کے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے منظم کیا ۔
’’ سندھ ہاری کمیٹی ‘‘ کی جدوجہد اورحاصلات کی ایک طویل تاریخ ہے ۔اس کی بنیاد 1930میں میر پور خاص میں رکھی گئی تھی اور اس کے بانی اراکین میں جمشید نسروان جی مہتہ ،جیٹھ مل پرسرام ، جی ایم سید ، ایم گوکلے اور دیگر شامل تھے ۔ ’’ سندھ ہاری کمیٹی ‘‘میں کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی شمولیت اور1948میں اس کا صدر منتخب ہونے سے ہاری کمیٹی کو ایک نئی توانائی حاصل ہوئی۔ انھوں نے ساری زندگی سندھ کے ہاریوں کی جدوجہد میں گزاری ۔اس جدوجہد کی پاداش میں زندگی کے آٹھ سال کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ،سکھر ، مچ ،شاہی قلعہ لاہوراور اٹک کی جیلوں میں گزارے ۔سندھ ہاری کمیٹی ہرچند کہ کمیونسٹ پارٹی کا فرنٹ نہیں تھا لیکن اس کے ہمیشہ کمیونسٹ پارٹی اور بائیں بازو کی تنظیموں سے پرجوش تعلقات رہے ۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی سمیت اس کے متعدد رہنما کمیونسٹ فکر سے ہی وابستہ تھے ۔سندھ ہاری کمیٹی ناصرف سندھ کے ہاریوں کی طبقاتی جدوجہد بلکہ یہ بجا طور پر سامراج مخالف اور سندھ کے قومی حقوق کے حصول کی بھی جدوجہد تھی جس نے سندھ کی ایکتا پرہونے والے حملوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا۔ کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی مشہور نظم ’’ جئے سندھ ، جئے سندھ ، جامِ محبت پیے سندھ‘‘ آج تک سندھ کے قومی حقوق کا ترانہ ہے ۔
سندھ ہاری کمیٹی نے سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک میں بھرپور حصہ لیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوئی ۔ ہاری کمیٹی ہندو مسلم اتحاد کے حوالے سے بھی کوشاں رہی ۔7اپریل 1941کو لاڑکانہ میں ہونے والی ’’ لاڑکانہ ہاری کانفرنس ‘‘ میں فرقہ واریت کے خلاف منظور کی جانے والی قرار دادوں میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ’’ یہ کانفرنس سندھ میں فرقہ پرستی اور مذہب کے نام پر عوام میں بے چینی اور فساد پیدا کرنے والے جملہ عناصر کو نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے ۔یہ صرف مٹھی بھر سرمایہ دار ہیں جو اپنے سیاسی اقتدار اور ذاتی اغراض کے حصول کے لیے مذہبی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں ۔یہ چاہتے ہیں کہ عام لوگ اور محنت کش ان کی عوام کش کارستانیوں سے بے خبر رہیں ۔‘‘قرار داد میں مزید کہا گیا کہ ’’یہ سندھ میں موجود عام جہالت ، افلاس ،سیاسی پستی اور بدبختی کا بھرپور نفع اپنے ذاتی اور طبقاتی مفادات کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔یہ فسادی عوامی حقوق کے دشمن ،انگریز شہنشاہیت کے ایجنٹ اور آزادی کے دشمن ہیں ۔‘‘
سندھ ہاری کمیٹی ایک وطن پرست ، سامراج مخالف اور جاگیرداری ،سرمایہ داری مخالف تنظیم تھی جس کے رہنماؤں اور کارکنوں نے انگریز قبضہ گیروں سے لے کرجاگیرداروں تک کے مظالم کا جرات وبہادری سے سامنا کیا۔ سندھ ہاری کمیٹی عمر کوٹ کی ایک بہادر کارکن مائی بختاور شہید جنھیں ’’ آدھی بٹائی ‘‘ تحریک کے دوران22جون1947کو ایک زمیندار چوہدری سعد اللہ نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا، سندھ کے ہاریوں کی طبقاتی جدوجہد کا استعارہ بنی ہوئی ہیں ۔ فصل کے آدھے حصے پر ہاری کے حق کے مطالبے پر مبنی یہ تحریک ضلع نواب شاہ سے شروع ہوکر سندھ بھر میں پھیل گئی بعد ازاں کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
برصغیر کی تقسیم کے بعد جب ملک کے دارالحکومت کے نام پر کراچی کو سندھ سے الگ کیا گیا تو اس کے خلاف جدوجہد اور احتجاجات میں بھی سندھ ہاری کمیٹی پیش پیش تھی۔ 30اور31مئی 1948 کو رتو ڈیرو میں ہونے والی ہاری کانفرنس میں اس کے خلاف قرار داد منظور کی گئی جس میں اسے غیر فطری قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ کراچی کو سیاسی اور انتظامی طور پر سندھ کا حصہ رہنے دیا جائے ۔اسی طرح 12اور13دسمبر 1953ء کو ٹنڈو جام میں منعقدہ ہاری کانفرنس میں قرار داد پاس کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’’ ہاری کمیٹی کی یہ کانفرنس اپنی پالیسی کو ایک بار پھر دہراتی ہے کہ کراچی تاریخی ،معاشی اور ثقافتی نقطہ نظر سے سندھ سے جدا نہیں رہ سکتا،کراچی کو صرف چند لوگوں کی خوشنودی کے لیے زبردستی سندھ سے جدا کیا گیا ہے ۔ اس لیے یہ کانفرنس کراچی کے عوام کی جدوجہد میں دونوں یعنی سندھی اور اردو بولنے والوں کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے اور دونوں سے اپیل کرتی ہے کہ سندھ کے اتحاد کے لیے متحد ہو جائے۔‘‘ اسی طرح ون یونٹ اور ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف بھی سندھ ہاری کمیٹی نے بھرپور کردار ادا کیا۔سندھ ہاری کمیٹی اپنے قیام سے ہی جاگیردارانہ نظام کے خاتمے اور سکھر بیراج کے قیام کے بعد لاکھوں ایکڑ زمین کے قابل کاشت ہونے کے بعد اس کی ہاریوں میں تقسیم کا مطالبہ اورجدوجہد کرتی رہی ۔ یہی مطالبہ اس نے بعد ازاں کوٹری اور گدو بیراج کے بننے سے کارآمد ہونے والی زمینوں کے سلسلے میں کیا ۔ تقسیم کے بعد اس نے ’’ الاٹی تحریک ‘‘ شروع کی جس کامقصد یہاں سے ہجرت کر جانے والے مہاجنوں اور جاگیرداروں کی زمینوں کی ہاریوں میں تقسیم کرنا تھا ۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں سندھ کے ہاریوں کو کسی حد تک زمینیں مل سکیں ۔ سندھ ہاری کمیٹی کی ایک اہم کامیابی سندھ اسمبلی سے ہاریوں کے لیے ’’ سندھ ٹیننسی ایکٹ ‘‘ کی شکل میں قانون سازی تھی ۔اس کے لیے کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی قیادت میں3اور4اپریل 1950کوکراچی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سندھ بھر سے ہزاروں ہاریوں نے جمع ہوکر اسمبلی کا گھیراؤ کیا جس میں فیکٹریوں ،کارخانوں کے مزدور اور طلبا بھی شریک ہوئے ۔یہ سندھ کی تاریخ میں ہاری اور مزدوروں کا سب سے بڑا اجتماع تھا ۔اس سے قبل ہاریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی قانون نہیں تھا۔اس ایکٹ کے ذریعے ہاریوں اور زمینداروں کے حقوق کا تعین ممکن ہو اتو دوسری جانب اسی کے ذریعے آدھی بٹائی کا حق تسلیم کیا گیا، بیگار سمیت ہاریوں سے کی جانے والی وصولیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا اورہاریوں کو زمین سے بیدخل کیے جانے سے قانونی تحفظ ملا ۔
سندھ ہاری کمیٹی نے کئی بار انتخابات میں بھی حصہ لیا ۔ ایک وقت میں اس کا شمار مسلم لیگ کے بعد سندھ میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر ہوتا تھا جاگیرداروں کی طاقت، ہاری کمیٹی کے پاس وسائل کی عدم دستیابی اور طبقاتی دشمنوں کے جبر ،تشدد ، گرفتاریوں سمیت متعدد حربوں نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا۔لیکن یہ سندھ ہاری کمیٹی ہی تھی جس کی وجہ سے سندھ میں پہلی بار جاگیرداروں اور وڈیروں کو اپنے محلوں اور کوٹھیوں سے نکل کر عوام کے پاس ووٹ لینے کے لیے جانا پڑا ۔
ان حاصلات کے ساتھ ساتھ ادبی محاذ پر بھی سندھ ہاری کمیٹی کے زیر اثر زبردست انقلابی اور مزاحمتی ادب تخلیق ہوا ۔کامریڈ حیدر بخش جتوئی شاعراور نثر نگار تھے ۔انھوں نے ’’ ہاری کہانیاں‘‘ ،’’ وڈیرا شاہی عرف کمدار کے کارنامے ‘‘ اور’’ہاری انقلاب ‘‘نامی کتابوں کے علاوہ سندھی اور انگریزی زبان میں ہاریوں کے مسائل پرکئی ایک پمفلٹ لکھے۔ 1947میں ان کے زیر ادارت ’’ ہاری حقدار‘‘ کے نام سے چھ صفحات پر مبنی ایک ہفتہ وار سندھی اخبار کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا ۔سندھ ہاری کمیٹی نے ’’ہاری دارالاشاعت‘‘ کے نام سے اپنا اشاعتی ادارہ اور پریس بھی قائم کیا ۔سندھ ہاری کمیٹی سے وابستہ قاضی فیض محمد،کامریڈ برکت علی آزاد ،عبدالکریم گدائی ، مولوی نذیر جتوئی،قادر بخش نظامانی جیسے بے شمار ادیبوں اور شاعروں نے اس زمانے میں عام فہم ادب تخلیق کرتے ہوئے ہاریوں کی بیداری میں نمایاں کردار ادا کیا ۔
کامریڈ حیدر بخش جتوئی نے ون یونٹ اور ایوب خان کی فوجی آمریت کے خلاف بھی شاندار جدوجہد کی اور اس سلسلے میں قید وبند کی صعوبتوں سے گزرے ۔انتھک جدوجہد اور قید وبند کے نتیجے میں ان کی صحت تباہ ہو گئی تھی لیکن انھوں نے بسترِ مرگ سے بھی ون یونٹ کے خلاف مہم جاری رکھی ۔اسی دوران 21مئی 1970کو وفات پائی ۔
آج کامریڈ حیدر بخش جتوئی کی وفات کے 47سال بعد جب ہم سندھ کے منظر نامے پر ہاریوں کی عظیم طبقاتی جدوجہد کے عکس تلاشتے ہیں تو گزشتہ تین ،چار دہائیوں کی پے در پے پسپائیوں کے بعد جدوجہد کی نئی اٹھان کے روشن امکانات بھی نظر آتے ہیں ۔سندھ ہاری کمیٹی کی جدوجہد کے نتیجے میں ہاریوں کے بہت سے حقوق تسلیم کیے گئے ،ٹیننسی ایکٹ بنا لیکن آج نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بات ٹیننی ایکٹ سے کہیں آگے جا چکی ہے ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد جب لیبر سے متعلق قانون سازی کے اختیارات مرکز سے صوبوں کو منتقل ہوئے تو سندھ حکومت کی منظوری کے بعد ’’انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2013‘‘ کے تحت زرعی محنت کش اور ماہی گیربھی لیبر قوانین کے دائرے میں آ گئے ۔ اب دیگر محنت کشوں کی طرح سندھ کے ہاری بھی قانونی وآئینی طور پر یونین سازی ، اجتماعی سوداکاری سے لے کر سوشل سیکورٹی کے اداروں سے رجسٹریشن،کام کی جگہ پر صحت وسلامتی کے موثر اقدامات ، کم از کم اجرت کے تعین ، گرانٹس ،رہائشی اسکیمیں،پنشن اور دیگر مراعات کے حقدار ہیں ۔بلاشبہ SIRA2013کے تحت ورکر کے طور پر شناخت سندھ کے ہاریوں کے لیے ایک بڑی پیشرفت اور ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ کی تاریخی جدوجہد کے ثمرات کا تسلسل ہے لیکن آج اس کے اطلاق کے چار سال بعد بھی یہ سوال اپنی تمام تر تلخیوں کے ساتھ موجود ہے کہ لیبر قوانین کی شقوں کا اطلاق کس طرح ہو گا ؟۔ SESSI، ورکرز ویلفیئر بورڈ اور EOBIسے رجسٹریشن تک ان کی رسائی اور قانون کی خوشمنا کتابوں میں ملفوف یونین سازی اور اجتماعی سود اکاری کے حق کو کیسے ممکن بنایا جائے گا ؟۔اس سلسلے میں اب تک حکومت اور لیبر سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور کردار کو بے حسی کی آخری انتہاکے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ۔
> سندھ ہاری کمیٹی جن مادی حالات کی پیداوار تھی سندھ کا ہاری آج ان سے بد تر مادی حالات میں زندگی کی گاڑی کھینچنے میں مصروف نظر آتا ہے ۔ جبری مشقت عام ہے اور اکثر ہاریوں کو قرض دیکر عملی طور پر غلام بنایا جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت بونڈیڈ لیبر کی تعداد دو ملین کے قریب ہیں جن میں اکثریت زرعی محنت کشوں کی ہے۔بے زمین کسانوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہ کھیت مزدوروں میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ہاریوں کی اجرتوں کا کوئی تعین اور طریقہ کار نہیں ہے۔ جبکہ جنس کی بنیاد پر بھی کم اجرتیں دی جاتی ہیں۔فصلوں اور اجناس کی قیمتوں کے تعین کا کوئی میکنزم موجود نہیں ہے۔ فصل تیار ہوتی ہے تو مارکیٹ مافیاقیمتیں گرا دیتی ہے جب کہ بوائی کے وقت بیچوں سے لیکر کھاد ، ادویات اور
اسپرے تک کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔سندھ میں پانی کی ویسے ہی کمی ہے لیکن جو تھوڑا بہت پانی ہے اس کی تقسیم بھی رشوت اور بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں کے
اثرورسوخ اور من مانی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ہاریوں کے کوئی اوقاتِ کار نہیں ہیں وہ چوبیس گھنٹے پابند رہتے ہیں۔ زمینوں سے لیکر جاگیرداروں اور زمینداروں کے ذاتی کام تک کرتے ہیں لیکن اوور ٹائم کا کوئی تصور نہیں ہے۔صحت وسلامتی کے کسی قسم کے انتظامات نہیں ہیں زہریلی ادویات اور اسپرے سے بچاؤ کے کوئی انتظامات ہیں نہ ہی بچاؤ کی کوئی تربیت دی جاتی ہے۔ان ہاریوں میں سب سے زیادہ تباہ حال وہ ہاری ہیں جو اقلیتی بھیل ،کولھی ، مینگھواڑ وغیرہ ہیں۔ ہاری عورتوں بالخصوص ہندو ہاری عورتوں پرجسمانی و جنسی تشدد کے واقعات عام ہیں ۔بچیوں کے اغوا ، زبردستی شادی اور مذہب کی تبدیلوں کے انسانیت سوز واقعات میں اضافہ ہے کہ ہوتا ہی جا رہا ہے ۔لیکن اس ساری صورتحال میں کوئی سیاسی ومذہبی جماعت ان کے لیے کوئی ٹھوس پروگرام نہیں رکھتی وہ انہی جاگیرداروں، سرمایہ داروں کے طبقاتی مفادات کی نگہبان ہیں ۔ایک وقت تھا جب سندھ کے شہروں میں بائیں بازو کی ترقی پسند قوتیں طاقتور تھیں اور وہ محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑی نظر آتی تھیں ۔اسی طرح سندھ کے دیہی علاقوں میں قومی وطبقاتی تحریکیں طاقتور تھیں اور ہاریوں کے شانہ بشانہ نظر آتی تھیں ۔لیکن آج سندھ کے سیاسی منظر نامے پر پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ( ن ) اور دیگر ، ایم کیو ایم ، جمعیت علمائے اسلام اور تحریک انصاف جیسی جماعتیں سیاسی متبادل کے طور پر نظر آتی ہیں ۔اس دگرگوں صورتحال میں خوش آئند بات یہ ہے کہ ان جماعتوں کے چلن سے محنت کار عوام متنفر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ اب تک محنت کشوں ، ہاریوں کی انقلابی تنظیم کی واضح شکل موجود نہیں ہے ۔ وڈیروں ، جاگیر داروں ،ان کے شامل باجوں کے خلاف اگر دیہی علاقوں کے لوگوں میں غصہ پایا جاتا ہے تو اسی طرح شہروں میں نسلی ،فسطائی اور مذہبی جنونی جماعتوں کے خلاف محنت کش عوام کے غصے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔اس صورتحال میں اگر کوئی انقلابی متبادل سامنے نہیں آتا تو محنت کار عوام کے اس غم وغصے کو کوئی بھی فسطائی قوت اپنے حق میں موڑ سکتی ہے ۔کیوں کہ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ایسے حالات میں یا تو انقلابی تحریکیں واضح شکل میں سامنے آتی ہیں یا پھر فاشسٹ قوتیں ابھرتی ہیں۔
اس ساری صورتحال میں سندھ کے ہاریوں کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنی معاشی جدوجہد کو طبقاتی جدوجہد سے جوڑتے ہوئے اور ملک کے محنت کشوں کے ہم آواز ہوتے ہوئے اپنے اس تاریخی ورثے سے آج کے معروض کے مطابق استفادہ حاصل کرے جو سرمایہ داری ،جاگیرداری اور مذہبی انتہا پسندی کوجڑوں سے اکھاڑ پھینکنے کی نوید ہے ۔ محنت کش ، مزدور ،ہاری کسان اور سماج کے دیگر مظلوم حصے ایک متبادل انقلابی سیاسی قوت میں ڈھل کر ہی نجات حاصل کر سکتے ہیں ۔یہی کامریڈ حیدر بخش جتوئی اور ’’ سندھ ہاری کمیٹی ‘‘ کی تاریخی جدوجہد کا درس ہے ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *