فاروق بندیال؛ تصویر کا دوسرا رخ۔۔ راؤ وقاص ایڈوکیٹ

دو چار دن پہلے مشہور ٹرانسپورٹر فاروق بندیال نے تحریک انصاف جوائن کی تو شہربھر سے مبارکباد دینے والوں کا رش لگ گیا۔  فاروق بندیال کی سیاست میں کسی ملکی لیڈرکے ساتھ ملاقات اور کسی جماعت کی باقائدہ جوائننگ کو اگر فاروق بندیال کی پہلی سیاسی سرگرمی کہاجاے تو بے جا نا ھوگا   کہ اس سے پہلے انکا سیاست میں اتناسا تعلق تھا جتنا کسی بھی علاقے میں کسی اثرورسوخ رکھنے والے نیک نام فرد کا ھوتا ھے۔ گو کہ بندیال فیملی علاقائی سیاست میں اپنا  جدا گانہ تشخص اور مقام رکھتی ھے بلکہ اس حلقے کے موجودہ ممبرصوبائ اسمبلی کرم الہی بندیال کا تعلق اسی فیملی سے ھے جو رشتے میں فاروق بندیال کے کزن ھیں ۔

مقامی سیاست میں بندیال فیملی دو دھڑوں میں تقسیم ھے ایک دھڑے کی قیادت موجودہ ایم پی اے کرم الہی بندیال کرتے ھیں جب کے دوسرے دھڑے کی قیادت فتح خالق بندیال کرتے ھیں۔ دونوں دھڑوں میں قریبی رشتے داری ھونے کے باوجود آپس میں شدید مخالفت پائی جاتی ھے  اور فاروق بندیال کا تعلق دوسرے دھڑے یعنی فتح خالق بندیال گروپ سے ھے۔
اس حلقے کی سابقہ ایم این اے سمیرا ملک کی نا اھلی کی وجہ سے انکا بیٹا عزیرخان مسلم لیگ نون کے ایم این اے ھے۔  انکی آپنی ھی جماعت کے ایم پی اے کرم الہی بندیال کے ساتھ شدید سیاسی رنجش ھے جبکہ فتح خالق بندیال گروپ اپنی سیاسی مخالفت کی وجہ سے سمیرا ملک گروپ کے ساتھ تھا لیکن ایک مقامی جلسے میں محترمہ کی بندیال فیملی پر کڑی تنقید نے انکی اور فتح خالق گروپ کی نا صرف سیاسی راھیں جدا کر دیں بلکے فتح خالق گروپ نے ایم پی اے کی سیٹ پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ۔ اسی سلسلے میں انہوں نے عمران خان سے ملاقات کرکے نا صرف تحریک انصاف میں باقائدہ شمولیت اختیار  کی بلکہ ٹکٹ کے لیے درخواست بھی دے دی ۔ چونکہ اج کل تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی مانگ  زیادہ ھونے کی وجہ سے ھر امیدوار کو خود کو بھاری ثابت کرنے کے مقامی طور پر آپنا بھار تول شو کرنا پڑتا ھے ، اسی وجہ سے فتح خالق گروپ نے فاروق کی بندیال کی ناصرف عمران سے ملاقات کروائی بلکہ  فاروق بندیال نے باقائدہ پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کیا ۔

ھمارے علاقوں میں نظریاتی سیاست کی بجاے مقامی دھڑے باذی کا ذیادہ عمل دخل ھوتا ھے اس سے پہلے فاروق بندیال علاقے کی حد تک جزوی طور پہ سیاست میں حصہ لیتے تھے۔  ان کے پاس کسی پارٹی کا کوئی عہدہ یا ممبرشپ نہیں تھی ۔ اتنا کہا جاسکتا ھے کہ وہ جن امیدوان کو سپورٹ کرتے تھے انکا تعلق مسلم لیگ نون کے ساتھ تھا۔

اب کہانی کے دوسرے حصے کی طرف آتے ھیں۔ فاروق بندیال کا تعلق ایک ذمیندار گھرانے سے ھے ۔ آج سے تیس سال پہلے دور طالبعلمی میں ان پہ فلمسٹار شبنم کے گھر ڈکیتی کا کیس بنا تھا، ریپ والی بات میں کوئ صداقت نہیں، بلکہ ڈکیتی والی بات کی صداقت کو بھی بہت سے لوگ جھٹلاتے ھیں۔ شبنم کے شوھر روبن گھوش کو اپنے  گھرجوا کروانے کی عادت تھی،  فاروق بندیال اپنے دوستوں کے ساتھ صرف ساتھ گئے اور  ان کے دوستوں کا دوران گیم کسی بات پر جھگڑا بن گیا جسے بعد میں ڈکیتی کا رنگ دے کے کیس بنا لیا گیا۔  لیکن اس بات میں کتنی صداقت ھےجتنے منہ اتنی باتیں ۔ اسوقت فاروق بندیال کی عمر بمشکل بیس پچیس سال ھوگی ، بھر ضلع کی سب سے بڑی ذمیندار گھرانے کا بچہ جس کے پاس دولت کی کوئ کمی نا ھو پیسوں کےحصول کے لیے ڈکیتی والی بات بے وذن معلوم ھوتی ھے۔ خیر  بعد میں کیس سے بری بھی ھوگئے تھے اور شبنم نے معاف بھی کر دیا تھا۔

اگر فاروق بندیال کے موجودہ کردار کا جائزہ لیا جاے تو شاید لڑکپن کی وہ پہلی اور آخری غلطی تھی یا اتفاقی حادثہ ۔ بحثیت انسان  اپنے  علاقے میں انکی شہرت انتہائی ملنسار خداترس اور غریب پرور انسان کی ھے ، نا جانے کتنے لوگوں کا چولہا ان کی مدد سے چلتا  ہے، بے سہارا بچیوں کوجہیز،  غریب اور نادار بچوں کے تعلیمی اخراجات سمیت بہت سے عوامی فلاح کے منصوبے انکی ذیرسرپرستی چلتے ھیں۔ عوام کی بے لوث خدمت کی وجہ سے انہیں ضلع بھر میں ایک ممتاذز مقام حاصل ھے۔  بیس سال کی عمر والے اس حادثے کو اگر انکی غلطی کی بھی ڈکلئیر کر دیا جاے تو اس کے بعد کا کردار اتنا سنہری ھے کہ ایسی دس غلطیوں کے کفارہ کے لیے کافی ھے۔

ھم پاکستایوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے بھاگنے کی پرانی عادت ھے ۔کسی نے بیس سال پرانی غلطی کی پوسٹ بنا کہ سوشل میڈیا پہ شئیرکی ، بس ھمیں اک ایشو مل گیا ، جس میں سب نے بنا تصدیق کیے  اپنا حصہ ڈال دیا۔  دوسرا تحریک انصاف کی قیادت یہ دباو برداشت نا کرسکی اور فاروق بندیال کو پارٹی سے نکالنے کااعلان کر دیا حالانکہ فاروق بندیال نا ٹگٹ نا عہدے کسی بھی چیز کے پارٹی سے خواھشمند نہیں تھے۔ آئندہ الیکشن میں تحریک انصاف کے اس جذباتی پن اور “سوشل میڈیائی فیصلے” کا انکو اس حلقے کی سیاست میں شدید نقصان ہو گا۔

نوٹ: مصنف سیاسی طور پر بندیال گروپ کا مخالف ہے مگر انکے ذاتی کردار کا گواہ ہے سو یہ اپنا دینی اور اخلاقی فرض سمجھتا ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھائے۔

راو وقاص ایڈووکیٹ۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *