فیملی پلاننگ ، ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے ۔۔۔سلیم جاوید/قسط2

فیملی پلاننگ ، ممنوع نہیں بلکہ مطلوب ہے ۔۔۔سلیم جاوید/قسط1

دعوائے مضمون یہ ہے کہ اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے جس نے فیملی پلاننگ کا ” کانسپٹ ” دیا ہے اور اسکی ترغیب بھی دی ہے ،اس مضمون کی کُل  3 اقساط ہیں ۔

یاددہانی کیلئے عرض ہے کہ فی الحال یہ بحث نہیں چل رہی کہ ” فیملی پلاننگ جائز ہے یا ناجائز ہے ؟ ” بلکہ یہ بات چل رہی ہے کہ قرآن کی جس آیت کو فیملی پلاننگ کے موضوع سے منسلک کیا جاتا ہے ، یہ ارتباط قانوناًغلط ہے –

اپنی بات کی مزید وضاحت کیلئے ، ایک اور آئینی شق کی مثال لے لیتے ہیں – مثلاً ایک قانونی آرڈر کو ایک جملہ کی صورت ڈرافٹ کیا گیا ہے کہ ” کسی مسلمان کو ایک مشرک عورت سے شادی کرنا منع ہے “- ( فاعل : مسلمان مرد – فعل : شادی کرنا – سبجیکٹ : مشرک عورت ) –

اس آرٹیکل میں دو بنیادی ٹرمزہیں ” مشرک عورت ” اور” شادی کا فعل ” – ان دو ٹرمز میں سے ایک بھی غائب ہوگئی تو وقوعہ ( یا جرم ) مذکورہ آرٹیکل کے سکوپ سے باہر ہوجائے گا –

ایک مسلمان نے ” مشرک عورت ” سے جنسی تعلق بنا لیا مگر ” شادی کئے بغیر” – تویہاں ، آرٹیکل کی پہلی شق لاگو ہوئی مگر دوسری نہیں ہوئی – (یعنی مشرک عورت تو موجود ہے مگر شادی ہی ثابت نہیں ہوئی )-

ایک مسلمان نے ایسی عورت سے شادی کی جو نہ مسلمان ہے نہ مشرک بلکہ جدید معنوں میں ملحد عورت ہے – تو یہاں ، آرٹیکل کی دوسری شق لاگو ہوئی مگر پہلی نہیں ہوئی ( کہ شادی تو ہوگئی مگر عورت مشرک نہیں بلکہ کچھ اور ہے )-

دونوں صورتوں میں اب آپ یا تو نئی قانون سازی کریں گے یا پھر آئین کے کسی اور آرٹیکل کا حوالہ دیں گے تو مقدمہ کی دفع لگے گی ورنہ مگر مذکورہ آرٹیکل میں بیان کی گئی اگر ایک بنیادی ٹرم بھی موجود نہیں تو اس شق کے مطابق کیس درج نہیں ہو سکتا –

بعینہ اسی طرح ، فیملی پلاننگ کے فعل میں ” تقتلو ” اور ” اولادکم ” والی ٹرمز اگر انوالو نہیں تو مذکورہ آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا –

ستم ظریفی کی حد دیکھیے کہ اتنی آسان وضاحت کے بعد بھی فرمانے لگے ” آپ نے اپنا کیس ثابت کرنے کیلئے آیت کی تاویل کی ہے”-

عرض کیا ” چلیئے یونہی سہی – مگر سورہ حجرات کی آیت لاترفعو اصواتکم ، کیا زیربحث آیت سے زیادہ واضح اورصاف نہیں ہے؟ اور اس کی تاویل کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے؟ “-

بہرحال ، اب تک کی بحث کا خلاصہ تین باتیں ہیں :

1- کسی بچے کے مادررحم سے باہر آنے سے پہلے پہلے اسکو روکنے کی جو ترکیب کی جائے ( چاہے کوئی وجہ بھی ہو) اسی کو فیملی پلاننگ کہا جاتا ہے – مگر بچہ جب تک باہر نہ آجائے ، اسکو اولاد نہیں کہا جاسکتا –

2 – قرآن کی مذکورہ آیات چونکہ اولاد کے قتل سے تعلق رکھتی ہیں تو فیملی پلاننگ پروگرام سے اسکا کوئی  تعلق نہیں –

3- اپنی اولاد کو کسی بھی وجہ سے مارنا غلط ہے – یہ ایک الگ جرم ہے- اسکی ایک الگ ہسٹری بھی ہے – آج بھی کسی نہ کسی صورت یہ جرم ہو رہا ہے – ہمارا موضوع اس وقت دوسرا ہے ورنہ اس بارے تفصیل عرض کرتا- قرآن کی مذکورہ آیات ، اسی بھیانک جرم بارے ہیں –

چنانچہ ، فیملی پلاننگ بارے کوئی  شرعی قانون سازی کرنا ہو تو قرآن کی بجائے کوئی  دوسرا ریفرنس ڈھونڈنا پڑے گا کیونکہ قرآن میں اس موضوع بارے کوئی نص صریح موجود نہیں ہے-

شریعت کا دوسرا ماخذ ، حدیث رسول ہے مگر ظاہرہے کہ اس بنا پرکی گئی قانون سازی ، شرعاً اساسی نہیں بلکہ ثانوی حیثیت رکھتی ہے-

اپچ مگر یہ آن پڑی ہے کہ اس ثانوی قانون سازی بارے بھی عالم اسلام میں بنیادی فکری اختلاف موجود ہے – حدیث کی بنا پر شرعی نظام ترتیب دینے بارے مسلمانوں کے تین طبقات میں گہرا اختلاف ہے – یعنی اہل سنت – اہل تشیع – اوراہل قرآن کا احادیث بارے یکساں موقف نہیں ہے-

آگے بڑھنے سے قبل ، باردگریہ وضاحت کی جاتی ہے کہ مسلم سیکولرز، صرف ان دینی مسائل کو اہمیت دیتے ہیں جو سوسائٹی پہ اثرانداز ہوتے ہوں – ہمارے خیال میں ایک فلاحی ریاست کا صرف دونکاتی ایجنڈا ہونا چاہیئے – امن اورمعیشت کی فراہمی – (اور دونوں کی اساس ” انصاف ” ہے ) –

بے ہنگم اور بے تحاشہ آبادی ، امن اور معیشت کو بری طرح متاثر کرتی ہے پس ایک اسلامی ریاست کو اس بارے سوچ وبچار کرنا ضروری ہے- ( یہاں ریاست کے ساتھ لفظ ” اسلامی ” عجیب لگتا ہے مگر عمومی تفہیم کیلئے استعمال کرلیتے ہیں ) – یہ بھی مدنظر رہے کہ ہم ” اسلامی ریاست ” اور ” مسلمان ریاست ” میں فرق کرتے ہیں – ( پس ہمارےنزدیک خلیجی ممالک ” مسلمان ریاستیں ” ہیں جبکہ سکنڈے نیوین ممالک ” اسلامی ریاستیں ” ہیں ) – فیملی پلاننگ کا ایشو، مسلم سیکولرز کیلئے ایک اہم ایشو ہے-

ہم اپنا مقدمہ اسی حدیث شریف پر قائم کریں گے جس پر فیملی پلاننگ کے مخالف مولوی صاحبان نے اپنامقدمہ بنا رکھا ہے – یہ حدیث ” ابوداؤد ” اور” نسائی ” میں موجود ہے جسکا اردو ترجمہ کچھ یوں کیاجاتا ہے : ” رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ایسی عورت سے نکاح کرو جو اپنے خاوند سے محبت کرنیوالی ہو اور زیادہ بچے جننے والی ہو کیونکہ دوسری امتوں کے مقابلہ میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ” – (حیرت کہ بات یہ کہ خود نبی کریم نے اپنے سارے نکاح ان عورتوں سے کییے جو بچہ جننے سے تقریبا” فارغ ہوچکی تھیں-ایک حضرت عائشہ کنواری تھیں تو انکی والدہ کی کل تین اولاد تھیں یعنی ماں کی طرف سے بھی “الولود” والی بات نہیں لی جاسکتی)-

قارئین کرام !

اس وقت عالم اسلام کی غالب سنی اکثریت کے نزدیک حدیث رسول کی چھ کتب کو مستند ترین ریفرنس تسلیم کیا گیا ہے اوران میں سے بھی امام بخاری کی لکھی ہوئ کتاب کو قرآن شریف کے بعد سب سے زیادہ صحیح کتاب مانا گیا ہے –

اسکی وجہ کیا ہے؟ –

وجہ یہ ہے کہ امام بخاری صاحب نے تین براعظموں پہ پھیلی حکومت اسلامیہ کے طول وعرض میں سفر کیا ، سینکڑوں لوگوں سے ملے ، جن سے لاکھوں احادیث جمع کیں ، پھران لوگوں کی سچائی پرکھنے کیلئے ایک کڑامعیار وضع کیا اور بالاخربرس ہا برس کی محنت شاقہ کے بعد ، تقریبا” 4 لاکھ احادیث میں سے صرف 4 ہزار کے لگ بھگ احادیث کو درست ترین قرار دیکرکتاب تالیف کی –

مگر عالم اسلام میں موجود تقریبا” 20 کروڑ اہل تشیع حضرات ، بخاری سمیت ان چھ کتب احادیث کو سند تسلیم نہیں کرتے – انکے ہاں ، الگ سے چار کتب حدیث ہیں (جن کو شرعی قوانین کا دوسرا ماخذ سمجھتے ہیں)-

اہل تشیع کے پاس الگ کتب حدیث کیوں ہیں؟-

اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ صرف اہل بیت سے روایت کردہ حدیث شریف کوہی درست ترین قرار دیتے ہیں کہ جب رسول خدا کے گھر کے ہی دیانتدار لوگ ایک بات بیان کررہے رہوں تو کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟-

عالم اسلام میں ایک قلیل تعداد ایسے لوگوں کی بھی رہی ہے جو سرے سے حدیث کوماخذ شریعت ماننے سے ہی انکاری رہے – انکے مطابق ، جب قرون اولی میں ہی لاکھوں جھوٹی احادیث وضع کردی گئیں تواب اسکا کیا اعتبار رہا ؟ – عموما” یہ لوگ خود کواہل قرآن کہتے ہیں جبکہ مولوی صاحبان انکو ” منکرین حدیث ” کا نام دیتے ہیں – ( جسکا جواب وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر 4 لاکھ احادیث کو ریجیکٹ کرنے والا امام بخاری صاحب ” منکر حدیث ” نہیں ہے تو انکی جمع کردہ 4 ہزاراحادیث کو ریجیکٹ کرنے پر بھی کوئی  منکر حدیث نہیں بن جاتا) –

قارئین کرام !

بخاری شریف کا بتکرار تذکرہ کرنے کی ایک وجہ ہے- تحریک انصاف کا نعرہ ہے کہ وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں گے- جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کانظام نافذ کریں گے- اگرچہ دونوں دعوے ، سیاسی ہیں مگر ان کا سارا فکری سٹرکچر، بخاری شریف پرمنحصر ہے – اگراس کتاب پہ انگلی اٹھے گی تو ” شرعی نظام ” کا سارا تصور ہی زمیں بوس ہوجائے گا –

چنانچہ، اس کتاب بارے غلو سے بچنے کیلئے معترضین کا موقف جاننا بھی ضروری ہے-

اہل تشیع کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ امام بخاری صاحب ، خراسان سے دمشق تک گھوم پھرکر روایات اکٹھی کرتے رہے مگر مدینہ میں بیٹھے ہوئے اہل بیت کے پاس جانے میں انکو کیا پرابلم تھا کہ اہل بیت سے مروی ایک حدیث بھی اپنی کتاب میں شامل نہیں کی ؟ – اسکے علاوہ ، اہل تشیع کا یہ دعوی ہے کہ انکی کتب احادیث ، بخاری شریف سے کہیں پہلے مرتب ہوچکی تھیں –

رہے ” منکرین حدیث ” یا ” اہل قرآن ” تو انکو ہراس حدیث پر اعتراض ہے جو منطق کی کسوٹی پر پورا نہ اترے – مثلاً مذکورہ بالا حدیث کو ہی لے لیں جو انکے خیال میں رسول جیسے بلیغ انسان کا کلام نہیں ہوسکتا بلکہ کسی مولوی نے اپنا سودا بیچنے کوبات بنائی ہوئی ہے – اس لئے کہ ہدف ” کثرتِ اولاد” ہو مگرمیاں بیوی میں سے مرد ، کمزور ہوتوپھرخالی عورت کیسے بچے بڑھائے گی؟- مرد بارے تو کوئی  ہدایت نہیں کی گئی توکیا اولاد جننا صرف عورت کے بس میں ہے ؟- دوسری بات یہ کہ زمانہ نبوت میں شادی سے قبل کون سا میڈیکل ٹسٹ یہ بتاتا تھا کہ فلاں لڑکی ، زیادہ بچے جنتی ہے لہذا اس سے شادی کرلو ( جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یہ خالص خداکا فیصلہ ہوتا ہے )- اس حدیث پرتیسرا سوال یہ کہ شادی سے پہلے بھلا کیسے مردکو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی ، اپنے شوہر سے محبت کرنے والی ہے ؟-

برسبیل تذکرہ ، اوپرجو حدیث بیان کی گئی ہے ، اس سے بھی زیادہ واضح حدیث ، ایک زیادہ معتبرکتاب یعنی صحیح مسلم شریف میں درج ہے مگراسکا ریفرنس نہیں دیاجاتا – وہ حدیث کچھ یوں ہے کہ صحابہ نے حضور نبی کریم سے عزل بارے دریافت کیا ( عزل کہتے ہیں عورت کے اندر کی بجائے باہر ڈسچارج ہونے کو)- تو نبی کریم نے جواباًفرمایا کہ یہ تو قتل خفی ہے ( یعنی خفیہ طور پرانسان کو قتل کرنا ہے )- اب مولوی صاحبان اس حدیث کوفیملی پلاننگ کے خلاف کیوں ریفرنس نہیں بناتے ؟ – اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس واضح ہدایت کے باوجود بھی صحابہ کرام ، عزل کیا کرتے تھے پس اب مولوی صاحبان اسکو حرام قرار نہیں دے سکتے- دوسری وجہ وہی منطقی اعتراض ہے کہ بھلا مادہ منویہ کو باہر ضائع کردینا ہی اگر قتلِ انسان شمار ہوتا ہے تو پھر دنیا کا شاید ہرمرد ہی قاتل ٹھہرے گا-

کہا جاسکتا ہے کہ ” امت مسلمہ ” میں سے صرف 10 فیصد اہل تشیع اور کسی شمار میں نہ آنے والے منکرین حدیث کی وجہ سے بخاری کو کیوں مشتبہ قرار دیا جائے ؟ – مگراہل علم جانتے ہیں کہ قانون سازی میں کثرت تعداد نہیں بلکہ قوت ِدلیل کو دیکھا جاتا ہے-

ہمارے پاس مذکورہ بالا اعتراضات کا جواب موجود ہے- ہم اگرچہ قرآن وحدیث کی تشریح اپنے سیکولر نکتہ نظر سے کیا کرتے ہیں مگر بخاری شریف کو شرعی سند مانتے ہیں – یہ ساری بحث صرف ان حضرات کیلئے کی گئی ہے جو دروازے کی جھری سے لگ کرمنظر دیکھتے ہیں – ان سےگذارش ہے کہ دروازہ کھول کر باہر جاکر مشاہدہ کیا کریں اور فقط اس پہ نہ رہیں کہ ” اکابر نے تو یوں فرمایا تھا “- یہ بات ذہن میں رکھیے کہ آج کی متمدن ریاست میں اگر آپ شریعت چاہتے ہیں( چاہے وہاں سارے مسلمان ہی بستے ہوں) تو صرف احادیث کے حوالے سے متفقہ قانون سازی ممکن نہیں ہے – لامحالہ ، آپکو منطق ودلیل کی بنیاد پر اپنا موقف منوانا پڑے گا (اور اسی کو سیکولرزم کہتے ہیں ) –

قارئین کرام !

فیملی پلانگ کے موضوع پر عالم اسلام میں اب تک چار قسم کے موقف موجود رہے ہیں-

1 – ایک طبقہ تو کٹھ ملاؤں کا ہے جو فیملی پلاننگ کرنے کو حرام اور کفر سمجھتا ہے-

2 – دوسرا طبقہ معتدل علماء کا ہے جواسکو حرام کی بجائےمکروہ قرار دیتا ہے-

3 – تیسرا طبقہ علمائے دیوبند میں سے وہ ہے جو چند شرائط کے ساتھ اسکے جواز کا قائل ہے-

4 – چوتھا طبقہ وہ ہے (شاید غامدی صاحب وغیرہ) جواس ایشو کوفقط ایک انتظامی ایشو سمجھتا ہے (یعنی اسکو مذہبی ایشو نہیں سمجھتا)-

ہماری گزارش یہ ہے “مسلم سیکولرز ” کوپانچواں طبقہ شمار کیا جائے – ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فیملی پلاننگ کرنا ، شریعت اسلام کی منشاء ہے اور یہ مطلوب ہے-

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *