ازدواجی زندگی طاقت نہیں سکون مانگتی ہے۔۔۔۔سجاد حیدر

سفر تھا لاہور سے مظفر آباد اور ہمسفر تھے لاہور کے چھٹے ہوئے جگت باز۔ کون سا موضوع تھا جو زیر بحث نہیں آیا لیکن بات کہیں سے بھی شروع ہوتی میاں صاحب کا انقلابی بیانیہ یا قسطوں پر اشیاء کے لین دین کی شرعی حیثیت، خادم رضوی کا دھرنا بمعہ پین دی سری یا وطن عزیز میں تعلیم کی زبوں حالی اختتام بہرحال جگت بازی پر ہوتا۔
ایسے میں ایک موضوع ایسا بھی زیر بحث آیا کہ جس کا ذکر کرتے ہوئے بڑے بڑوں کے پر جلتے ہیں۔ اس بحث کے دوران کچھ دوستوں کے ایسے خود ساختہ تصورات سے آگاہی ہوئی جن کے مطابق ان کی مردانگی اپ ٹو دی مارک نہیں ہے۔ یعنی وظیفہ زوجیت کی ادائیگی میں ان کا نقطہ عروج بہت جلد وقوع پذیر ہو جاتا ہے۔ جب تفصیلات کو کریدا گیاتو سارا کیا دھرا چند دوسرے ساتھیوں کا اپنی مردانگی کے اظہار کا مبالغہ آمیز بیانیہ نکلا۔ یہ مسئلہ چند افراد تک محدود نہیں بلکہ نئے شادی شدہ نوجوانوں کی اکثریت اسی خام خیالی کا شکار ہے۔
عورت اور مرد کا ازل سے ساتھ ہے۔ دونوں کو اکٹھے پیدا کیا گیا یا حوا آدم کی پسلی سے پیدا ہوئی لیکن دونوں کے درمیان ایک مخاصمت بھی شروع سے چلی آ رہی ہے، مرد ہر حال میں برتر رہنا چاہتا ہے ۔ دونوں انواع میں ایک دوسرے کے لیے  جہاں بے تحاشا کشش کا وجود ہے وہیں مرد کے اندر عورت کو زیر کرنے کا جذبہ بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے  کہ تنہائی کے لمحات میں ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کاخیال رکھا جائے لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ مرد اپنی مردانگی کے اظہار میں بعض اوقات کچھ ایساخاص کرنا چاہتا ہے کہ عورت اس کی بندہ بے دام بن جائے۔ کیونکہ یہ تصور عام ہے   کہ عورت اور مرد کے تعلقات میں فیصلہ کن کردار مرد کا بے پناہ مردانگی کااظہار ہے اور اس جنگ میں جو جیتا وہی سکندر بلکہ ہرکولیس۔
مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا یعنی ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی اور ایک دوسرے کی تزئین وآرائش میں ممد و معاون بننا۔ لمحات مخصوصہ میں مرد ہر حال میں برتر اور غالب رہنا چاہتا ہے۔ اگر اسے ذرا بھی احساس ہو کہ وہ فریق مخالف سے زیر ہو گیا تو سمجھو آدھی مردانگی وہیں دم توڑ گئی۔ ایسے میں ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے دوستوں کی کہانیاں سن کر اپنی کم مائیگی کا احساس فزوں تر ہو جاتا ہے۔ یہ دوست بھی کچھ کم نہیں ہوتے۔ اپنی مردانگی کی ایسی تصویر کشی کریں گے کہ سامنے والا اپنے آپ کو زنخا سمجھنے لگ جاتا ہے۔
ایک صاحب کے بقول وہ پورا ایک گھنٹہ تک اپنے ذوق مردانگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور اسکے بعد بھی بغیر سیراب کیے  لوٹ جاتے ہیں۔ ایک دوسرے صاحب کے بقول 30 منٹ تووہ منہ میں الائچی چباتے گزار دیتے ہیں۔ یہ ساری مبالغہ آمیز کہانیاں سن کر کچھ نئے شادی شدہ حضرات ایسی احساس کمتری کاشکار ہوتے ہیں کہ کبھی موصلی سفید ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں تو کبھی دہی میں شہد ملا کر عمران خان کے ہمسر بننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیے آپ کا جسم ایک مشین ہے جس کی ایک فریکوئنسی اور ایک سسٹم ہے ۔
یہی حالت فریق مخالف کی ہے جس کے بارے غالب امکان یہ ہوتا ہے   کہ اس نے کسی دوسرے مرد کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی۔ ابتدائی دنوں میں ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھنے پرکھنے میں کچھ غلطی کا امکان ہو لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے نظام ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ مخصوص لمحات کا دورانیہ کم و بیش ہو سکتا ہے لیکن اس مسئلے کو وقت خود بخود حل کر دیتا ہے۔ آپ کا کام اپنے ساتھی کے جذبات کا خیال رکھنا ہے۔ پرسکون ماحول متوازن غذا روزانہ کی بنیاد پر جسمانی ورزش یہ تین عوامل ہی سب سے بڑا نسخہ خاص ہیں۔عطائیوں کے ہتھے چڑھ کر اپنا پیسہ وقت اورصحت برباد مت کریں۔
بس آپ کی کوشش یہی ہونی چاہیے  کہ اپنے اطمینان اور آسودگی کے ساتھ ساتھ آپ اپنے فریق کو بھی مطمئن کرسکیں اور اسے بھی آسودہ کریں۔ باقی 60 منٹ آور 45 منٹ کا دعوی صرف آپ کو مرعوب کرنے کی ایک بھونڈی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔
اس ضمن میں نوجوانوں کو ڈی مورالائیز کرنے کا کام پہلے گاؤں یا دیہات کے وہ فحش بابے بھی خوب انجام دیتے تھے، جن کو اپنی فتوحات کے مبالغہ آمیز قصے سنانے کا ہوکا ہوتا تھا۔ ان بابوں کا اصل مسئلہ سامعین کی توجہ حاصل کرنا ہوتا تھا اور غیر شادی شدہ نوجوانوں کو متوجہ کرنے کا بہترین طریقہ اپنے ادھڑے اور ناقابل ذکر ماضی کے ان قصوں کا بیان ہوتا تھا جو ان بزرگان کے خوابوں میں وقوع پذیر ہوئے ہوتے تھے۔ اپنی خودساختہ مردانگی کے ایسے ایسے فیلر چھوڑتے کہ زبان و بیان کی چیخیں نکل جاتیں۔ تازہ جوان ہوئے لونڈوں کے لیے  ان قصوں میں تلذذ کے سارے لوازمات اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ موجود ہوتے ۔ آج کے نوجوانوں کو یہ محفلیں تو میسر نہیں لیکن یہ کمی انٹر نیٹ کے باآسانی حصول نے پوری کر دی۔
لیکن یاد رکھیے  کہ نیلی پیلی فلموں میں جو عمل گھنٹوں پر محیط نظر آتا ہے اس کو کئی قسطوں میں فلم بند کیا جاتا ہے۔ گندگی کے یہ بدبودار ڈھیر صرف آپ کو راہ راست سے ہٹانے کے شیطانی حربے ہیں۔ ان کو مدنظر رکھ کر ہرکولیس بننے کی کوشش میں آپ جو الٹے سیدھے عطائی نسخے استعمال کرتے ہیں وہ ایک طرف  آپکی صحت برباد کر کے رکھ دیتے ہیں اور دوسری طرف آپکے ساتھی کو ایسی تکلیف اور اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ اس کے لیے  اس عمل کا تصور بھی باعث آزار ہوتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے کہ بچیاں جب جسمانی تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہی ہوتی ہیں تو ماں، بڑی بہن یا گھر کی کوئی اور بزرگ خاتون لمحہ بہ لمحہ اسکی راہنمائی کرتی رہتی ہیں لیکن لڑکوں کے معاملے میں اس قسم کی کسی بھی تربیت کااہتمام نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتاہے  کہ لڑکا جو بھی سیکھتا ہے اپنے سے بڑی عمر کے ساتھیوں سے سیکھتا ہے یہ ساتھی اور کچھ سکھائیں نہ سیکھائیں خود لذتی سے ضرور آشنا کر دیتے ہیں۔اوپر سے ہر جگہ بکھرے پوشیدہ بیماریوں کے دواخانے اور ان کی اشتہار بازی ایسا منظر تخلیق کرتی ہے کہ لگتا ہے سارے  ملک کو بس ایک ہی بیماری لاحق ہے۔ جس کا علاج صرف اور صرف بوہڑ کے دودھ کی گولیوں اور جنگلی بیری پر لگے چھوٹی مکھی کے شہد کے سوا کچھ نہیں اور یہ دونوں چیزیں ان دواخانوں کی فیکٹریوں میں ہمہ وقت تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔
یاد رکھیے  اس خاص عمل کی کنجی آپکے دماغی سکون میں پوشیدہ ہے۔ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے ایک سرے پر آپ کاحرام مغزاور دوسرے سرے پر آپ کے اعضا مخصوصہ واقع ہیں۔ جتنا آپ اپنے دماغ کو پرسکون رکھیں گے اپنے خیالات کو پاکیزہ رکھیں گے اپنی توجہ اپنے شرعی اور قانونی رفیق کے ساتھ وابستہ رکھیں گے اتنا ہی آپ لمحات خاص سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہوں گے۔

سجاد حیدر
سجاد حیدر
شعبہ تعلیم، یقین کامل کہ میرے لوگوں کے دکھوں کا مداوا صرف تعلیم اور تربیت سے ممکن ہے۔ استحصال سے بچنا ہے تو علم کواپنا ہتھیار بناٗو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *