• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ۔شہید پاکستانیوں کا خون کس کے ہاتھ پر؟۔۔۔عنائیت اللہ کامران

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ۔شہید پاکستانیوں کا خون کس کے ہاتھ پر؟۔۔۔عنائیت اللہ کامران

سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں شہید پاکستانیوں کے قاتلوں کو بھارتی سپریم کورٹ نے رہا کردیا ۔18 فروری2007 ء کو سمجھوتہ ایکسپریس پر بھارتی جنونی ہندؤں نے حملہ کیاجس میں ایک رپورٹ کے مطابق 68 پاکستانی شہید ہوئے ۔ابتدا میں انڈیا نے پاکستان پر اس واقعہ کا الزام لگا کر عالمی سطح پر اسے بدنام کرنے کی بھونڈی کوشش کی تاہم بھارت کی انسداد دہشت گردی کی ایک قومی ایجنسی کی تحقیقات کے نتیجہ میں یہ بات سامنے آئی کہ انتہا پسند ہندو جماعت سے تعلق رکھنے والی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(RSS ) اس میں ملوث ہے بعد ازاں اسی ایجنسی کے سامنے اس بدنام زمانہ تنظیم کے ایک انتہاپسند لیڈر آسیم آنند نے اس بات کا اعتراف کرلیا کہ وہ سمجھوتہ ایکسپریس کو جلانے کے منصوبے کا باقاعدہ حصہ تھا ،اس طرح یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ کوئی اور نہیں بھارت کے اندر کے ہی متعصب اور انتہا پسند لوگ اس واقعہ میں ملوث ہیں ۔اس واقعہ کا مقدمہ ہریانہ پولیس نے درج کیا تھا اور بعد ازاں اس کی تحقیق ایک انڈین ایجنسی کو سونپی گئی ۔آسیم آنند نے اور بھی بے شمار انکشاف کئے جن میں کئی مقامات پر مسلمانوں کے مقدس مقامات پر  حملے،مسلمانوں کے قتل اور ان پر تشدد کے واقعات میں بھی اس تنظیم کے لوگ ملوث رہے ہیں ۔سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کا مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں چلتا رہا ہے ۔اس حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ مقدمہ کی کارروائی یکطرفہ طور پر چلائی گئی اور ہر اس شخص کو راستے سے ہٹا دیا گیا جو اس مقدمہ میں گواہی دے سکتا تھا تو بے جا نہیں ہوگا ۔اس واقعہ کے ایک تحقیق کار بھارتی خفیہ ایجنسی،ریاستی ایجنسی برائے انسداد دہشت گردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے بھی ان میں شامل ہیں جنہوں نے اس واقعہ میں ملوث بھارتی انتہا پسند تنظیم ابھی ناؤ اور بھارتی وشوا پریشد کے رہنماؤں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا جو سب ہندو انتہا پسند تھے اور اس واقعہ میں ملوث تھے ۔اس پر ہیمنت کرکرے کو انتہا پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے نہ صرف غدار قرار دے کر جان سے ماردینے کی دھمکیاں دی گئیں بلکہ 27 دسمبر2008 ء کو اسے ممبئی حملوں کے دوران بھون کر رکھ دیا گیا اس طرح راستے کی ایک بہت بڑی رکاٹ دور کردی گئی ۔

حقیقت یہ ہے بھارتی سپریم کورٹ میں جس طرح حقائق کو مسخ کرکے پیش کیا گیا اس کے بعد گرفتار ملزمان کو سزا ملنے کا کوئی امکان ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا ۔پیشتر انڈین ادارے پوری وفاداری اور جانفشانی کے ساتھ حقائق کو مٹانے اور مسخ کرنے میں پیش پیش رہے ۔بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہر لحاظ سے ایک شرمناک اور قابل مذمت فیصلہ ہے جس میں انصاف کا قتل کیا گیا ہے ،مظلوموں کو انصاف دینے کی بجائے ظالموں کی سرپرستی کی گئی ہے اور انہیں بھرپور تحفظ فراہم کرکے ایک لحاظ سے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ وہ ہندوستان میں موجود مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے خلاف جو مرضی آئے کرتے پھریں ریاستی ادارے انہیں پوچھیں گے بھی نہیں حتی کہ اعلیٰ ترین عدالتیں بھی ان کا تحفظ کریں گی ۔اس فیصلہ سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوگا جبکہ انتہا پسند متعصب عناصر کی مزید حوصلہ افزائی ہوگی ۔
ہندوستان میں مسلمانوں سمیت ہندو دلت ،عیسائیوں ،سکھوں اور دیگر چھوٹی اقوام کی حالت کوئی پہلے بھی تسلی بخش نہیں ہے ۔ان کی عبادت گاہوں پر حملے ،ان پر جان لیوا تشدد اور روزمرہ معمولات میں انتہا پسندوں کی مداخلت عام ہے ،کچھ روز پہلے کی بات ہے کہ ایک مسلمان خاندان پر درجنوں افراد نے اس لئے تشدد کیا کہ انہوں نے ایک اچھا مکان کیوں تعمیر کرلیا ہے؟انتہا پسندوں نے خاتون خانہ کو بھی نہیں بخشا اور اسے بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا ،ایسے وقت میں ہندوستانی پولیس سامنے نہیں آتی ،اور جب آتی بھی ہے تو اس کا نشانہ ظالم نہیں مظلوم بنتے ہیں اور ایسا ہی اس واقعہ میں بھی ہوا ہے ،مقامی پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرنے سے انکار کردیا ۔اب یہ خاندان انصاف کے لئے کہاں جائے گا؟بھارتی سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ آپ کے سامنے ہے ؟جب اعلیٰ عدالت کا یہ حال ہوتو ماتحت عدالتوں کا کیا حال ہوگا؟
بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے انصاف پر یقین رکھنے والوں کا یقین متزلزل کردیا ہے

سوال یہ ہے کہ ۔۔اب ان 68 شہید پاکستانیوں کے لواحقین کو انصاف کہاں سے ملے گا؟کون ان کی داد رسی کرے گا؟کیا حکومت پاکستان اس کیس کو عالمی عدالت میں لے کر جائے گی؟حالانکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے عالمی عدالت انصاف سے ضرور رجوع کرے اور بھارت کے عدم تشدد،جمہوریت پسندی اور امن و انصاف کا پول  دنیا کے سامنےکھول (Expose) کر رکھ دے۔

عنایت اللہ کامران
عنایت اللہ کامران
صحافی، کالم نگار، تجزیہ نگار، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سیاسی و سماجی کارکن. مختلف اخبارات میں لکھتے رہے ہیں. گذشتہ 28 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک، کئی تجزیے درست ثابت ہوچکے ہیں. حالات حاضرہ باالخصوص عالم اسلام ان کا خاص موضوع ہے. اس موضوع پر بہت کچھ لکھ چکے ہیں. طنزیہ و فکاہیہ انداز میں بھی لکھتے ہیں. انتہائی سادہ انداز میں ان کی لکھی گئی تحریر دل میں اترجاتی ہے.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ۔شہید پاکستانیوں کا خون کس کے ہاتھ پر؟۔۔۔عنائیت اللہ کامران

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *