کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر30

شوکت صدیقی اور میں!
پاکستان کے اہل قلم کے حوالے سے جس شخصیت کا ذکر میں اب تک نہیں کر سکا، لیکن اب کرنا چاہتا ہوں، وہ شوکت صدیقی تھے۔ میری ان سے غائبانہ دوستی تیس برسوں تک رہی۔میں انہیں پہلی بار آمنے سامنے کراچی کے  کلب میں  ملا، جب میں بھی اور وہ بھی،ہم دونوں بوڑھے ہو چکے تھے۔وہاں بھی اس لیے کہ جمیل الدین  عالی صاحب نے میری کراچی آمد کو یادگار بنانے کے لیے دو قدم اٹھائے تھے، پہلے تو انجمن ترقی اردو میں ایک ریسیپشن تھا، جس میں دیگر احباب کے علاوہ ادا ؔ جعفری بھی شامل تھیں اور دوسرا کلب میں ایک ڈنر تھا، جس میں سینیر قلم کار، بشمولیت حمایت علی شاعر، فہیم اعظمی، شوکت صدیقی موجود تھے۔ میں امریکا میں آباد ہو چکا تھا اورشوکت اپنا ادبی سفر پیچھے چھوڑ کر مطمئن ملاح کی طرح، کشتی میں چپوؤں کو ڈھیلا چھوڑ کر بیٹھ چکے تھے۔لیکن نہیں، یہ ضروری ہے کہ ہمارے تعلقات کی یہ داستان جہاں سے واقعتاً شروع ہوتی ہے، وہیں سے بیان  کی جائے۔

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر29

ہماری خط وکتاب 1954 کے لگ بھگ شروع ہو گئی تھی۔ میں خط لکھنے میں بہت فراخدل واقع ہوا تھا۔ یعنی اگر کسی دوست سے خط کا جواب نہ ملے تو دو تین ہفتوں کے بعد ایک تاکیدی خط لکھ دیا کرتا تھا۔ شوکت صاحب کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ انہوں نے بھی غربت میں وہ جوکھم اٹھائے تھے کہ اللہ پناہ!

راقم الحروف کو ایک خط (بتاریخ سات اکتوبر 1957ء)میں لکھتے ہیں۔ ”آپ کہتے ہیں کہ بیس برس کی عمر سے لے کر اب تک، یعنی ستائیس برس کی عمر تک آپ نے نان و نمک کے لیے نام بدل بدل کر بیس تیس جاسوسی ناول لکھے ہیں، ساٹھ سے اوپر افسانے لکھے ہیں اور دو نہایت سنجیدہ ناول لکھے ہیں اور یہ کہ آپ دس دس گھنٹے روز لکھتے ہیں…بھئی، آپ کو سلام! میں تو اتنا کام نہیں کر سکتا! درست ہے آپ کو اپنے علاوہ بیوہ ماں اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کا پیٹ بھی تو پالنا ہے!“

ہندوستان میں ہی تھے کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سا تھ شوکت کی بطور سکہ بند ممبر وابستگی آخر رنگ لائی۔ گرفتاریاں ہوئیں تو یہ بھی دھرلئے گئے۔ دو ماہ کی جیل ہوئی۔ مشروط رہائی ہوئی کہ اب وہ اس تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں رکھیں گے۔ خیال آیا، خیال کیا آیا، سرحد پار کے دوست بار بار پیغام بھیجتے تھے کہ کراچی اردو والوں کے لیے ایک جنّت نشان شہر ہے۔ ”آ جاؤ، یہاں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے، جس کے لیے تم مارے مارے پھر رہے ہو۔“ آخر پرمٹ کے ذریعے اپریل ۱۹۵۰ ء میں پاکستان کو روانگی ہوئی۔ پہلے لاہو ر پہنچے۔ کچھ ماہ یہاں قیام کیا۔ مدتّوں بعد ایک خط میں مجھے لکھا، ”لاہور میرے لیے بنا ہی نہیں تھا، نہ ہی میں لاہور کے لیے بنا تھا۔“ اور پھرسرگوشی کے سے لہجے میں ایک بریکٹ ڈال کر لکھتے ہیں۔ (قاسمی صاحب کے گھر پہنچنے پر ہاجرہ مسرور اور خدیجہ مستور نے بھی شاید یہی محسوس کیا ہو!) لاہور والے ”غیر لاہوریوں“ کو کب خاطر میں لاتے ہیں؟“

ایک بار میں نے شوکت کو کچھ اس قسم کا خط لکھا، ”آپ مجھ سے آٹھ برس بڑے ہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کو قدرت نے ہمیں جڑواں بھائی بنایا ہے۔ جن صبر آزما حالات سے آپ چھبیس برس کی عمر میں پاکستان جا کر نبرد آزما ہوئے، سترہ برس کی عمر میں پاکستان سے ہندوستان آ کر میں نے خود کو ایسے ہی حالات سے دو چار پایا۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرا بچپن ایک sheltered childhood تھا۔ گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، لیکن تقسیم وطن کے وقت جبری نقل مکانی، ہندوستان کو روانگی،ا ور راستے میں ٹرین پر بلوائیوں کے ہاتھوں اڑتالیس برس کی عمر میں باپ کا قتل اور بڑا بیٹا ہونے کے ناتے سے بیوہ ماں اور دو چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داری نے مجھے وقت سے پہلے ہی جوانی اور جوانی سے بھی آگے، ادھیڑ عمر کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔۔۔کیا آپ نہیں سمجھتے کہ آپ مجھ سے زیادہ خوش قسمت رہے ہیں؟“ جواب ایک مصرعے کی شکل میں تھا۔ ”دیتے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر!“۔۔۔۔

تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ادب اگر ایک شوقیہ مشغلہ ہو، تو یقینناً ادیب کے بھلے کی بات ہے، لیکن اگر آپ اس کو ذریعہ معاش بنا کر اس سے دال روٹی کا بندوبست کرنا چاہیں، تو بارہ بارہ گھنٹے روزانہ قلم گھسانے کے باوجود آپ چپڑی ہوئی روٹی نہیں کھا سکتے۔ شوکت یقیناً مجھ سے کم بد قسمت تھے، لیکن کراچی میں ان کے شروع کے برس بے حد تکلیف دہ تھے۔ رہنے کے لیے مکان نہیں تھا۔ کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا۔ اس پر طرّہ یہ کہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سرگرم کارکن کے طور پر حکومت وقت کی نظر میں کھٹکتے تھے۔ تب پچاس روپے تک ایک افسانے کا معاوضہ مل جاتا تھا، لیکن کچھ رسائل سے ہی، اور وہ بھی بار بار کے تقاضے کے بعد۔ اسی پر گذر اوقات تھی۔ 1952 ء میں ایک مجموعہ ”تیسرا آدمی“ چھپا۔ سر فہرست وہی کہانی تھی جو پہلے احمد راہیؔ کی ادارت میں چھپنے والے مجّلے ”سویرا“ میں شائع ہوئی تھی اور اہل نقد ہ نظر سے خراج تحسین حاصل کر چکی تھی۔

کچھ حالات نے کروٹ لی یا کیا ہوا کہ اگست 1952ء میں شادی کے بعد اپنے خسر ڈاکٹر سعید خان کی کمال مہربانی سے تین کمروں کا ایک مکان بطور ہدیہ مل گیا اور ایک غیر ملکی فرم میں ملازمت بھی۔ لیکن طبیعت کلرکی کی طرف مائل نہیں تھی۔ اس لیے ملازمت چھوڑ دی۔ اب یکے بعد دیگرے اردو اور انگریزی روزناموں اور ہفتہ وار رسالوں سے وابستگی، علیحدگی،اور دوبارہ وابستگی کا ایک طویل سلسلہ  چل نکلا۔ ایڈیٹر او ر نیوز ایڈیٹر کے طور پر ”پاکستان اسٹینڈرڈ“، ”ٹائمز آف کراچی“، ”مارننگ نیوز“، دوبارہ ٹائمز آف کراچی سے بطور قائم مقام ایڈیٹر انسلاک، پھر ”انجام“ کراچی کے میگزین ایڈیٹر،1969 ء میں ہفت روزہ ”الفتح“ کے نگران۔ 1972 میں روزانہ ”مساوات“ کے پہلے ایڈیٹر۔ ”مساوات“ پیپلز پارٹی کا اخبار تھا، لیکن شوکت صاحیب نے کالم نگاری تک ہی اپنی سرگرمیاں محدود رکھیں۔ 1984 ء کے لگ بھگ صحافت سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

جس شخص کے بارے میں ایک بار کسی نے کہا تھا کو وہ سوتے ہوئے بھی ایک قلم سرہانے، ایک قلم ٹیبل لیمپ کے ساتھ اور ایک کان میں اٹکا کر رکھتا ہے، اس کے لیے کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اپنے گونا گوں صحافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تخلیقی کام بھی جاری رکھتا؟
ناول ”خدا کی بستی“ 1958ء میں شائع ہوا۔۔۔اس کی بھی ایک داستان ہے، جو صرف میرے حوالے سے ہے۔ ان دنوں پاکستانی کتابوں کےpirated edition ہندوستان میں اور ہندوستانی اردو کتابوں کے پاکستان میں عموماً چھپتے رہتے تھے اور کوئی کسی کو رائلٹی تو کجاکتاب کی ایک جلدبھی نہیں بھیجتا تھا۔ میں ان دنوں تنگ دستی کی وجہ سے اردو افسانوں اورناولوں کے ہندی میں ترجمے کیا کرتا تھا، جو اشاعتی اداروں ”ساہیتہ سنگم“ اور ”ساہیتہ پرکاشن“ مالی واڑہ، نئی سڑک، دہلی سے چھپتے تھے۔ جب ”خدا کی بستی“ کاایک مسروقہ اردو ایڈیشن دہلی سے چھپا تو مجھے پنڈت یگیہ دت شرما، مالک ساہیتہ پرکاشن نے پیشکش کی کہ میں ایک ہزار روپے کے عوض اس کا ہندی میں ترجمہ کر دوں۔ میں نے دن رات محنت کر کے ایک ماہ میں کام مکمل کر دیا اور خدا کی بستی کا ہندی ایڈیشن اسی عنوان سے چھپ گیا۔ تب شوکت’ٹائمز آف کراچی‘ سے منسلک تھے میں نے بذریعہ خط انہیں وہا ں اطلاع د ی اور مطبوعہ کتاب کی ایک جلد بھی بھیج دی۔

ایک دن مجھے کراچی سے ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں ساہتیہ پرکاشن کی طرف سے شوکت صدیقی کے نام ایک ہزار روپے کا چیک تھا جو یگیہ دت شرما نے انہیں رائلٹی کے طور پر بھیجا تھا، ساتھ یہ شوکت صاحب کا مختصر رقعہ تھا کہ یہ چیک وہ وہاں کیش نہیں کروا سکتے اورمیں اس رقم کو پبلشر سے لے کر اپنے کام میں لاؤں۔ پنڈت جی سے بات کرنے کے بعد انہوں نے بمشکل تمام مجھے سات سو روپے دیے۔ میں یہ رقم شوکت صاحب کو نہ بھیج سکا اور بات وہیں ختم ہو گئی….یہ ایک دوسری کہانی ہے کہ 2000 ء میں جب میں کچھ دنوں کے لیے کراچی پہنچا توجمیل الدین عالی صاحب نے کلب میں میرے لیے ایک پارٹی دی۔ شوکت وہاں موجود تھے اور بیتابی سے میرے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔ (میں ڈاکٹر فہیم اعظمی،مدیر ”صریر“ کے ہاں ٹھہرا ہوا تھا اور وہی مجھے لے کر گئے تھے) ۔ باتوں باتوں میں میری ہندی میں لکھنے کی بات ہوئی اور میں نے شوکت صاحب کو یاد دلایا کہ میں ان کا سات سو روپوں کا مقروض ہوں۔ کیا میں یہاں آپ کو وہ روپے پیش کر دوں؟ ہم لوگ اس پر بہت ہنسے اور تب میں نے ساری کہانی دوستوں کو سنائی۔

”خدا کی بستی“ کے لا تعداد ایڈیشن چھپے۔ ”تیسرا آدمی“ کو اردو کی دس بہترین کہانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ”خدا کی بستی“ کو PTV نے دو بار فلمایا اور نشر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جس شام اس کی قسط ٹیلے کاسٹ کی جاتی تھی، لوگ گھروں میں ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھ جاتے تھے۔ مجھے تو علم نہیں کہ ”جانگلوس“ اور PTV کے مابین کیا جھگڑا ہوا لیکن اسے شروع کر کے چند اقساط کے بعد ہی بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ شاید کچھ لوگوں کے چہرے بے نقاب ہو جانے کا ڈر تھا! میں نے انہیں ایک خط میں لکھا بھی تھا….
”تمہارے فن کی سب سے بڑی خوبی اس کا سچ ہے۔ حقیقت نگاری ایک مہمل اصطلاح ہے کیونکہ پریم چند کے بعد ترقی پسندوں نے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ کیا ’سچ نگاری‘ ایک اصطلاح کے طور پر نہیں برتی جا سکتی؟ یعنی اگر ناسخؔ کی روح کو تکلیف نہ ہو، تو ایک ہندوستانی اور ایک فارسی لفظ کواکٹھا کر دیا جائے۔ ”سچ“ جمع ”نگاری“۔ وللہ!کیا خوبصورت اصطلاح ہے! اور ہم اس اصطلاح سے تمہارے فن کو اپنے مٹھی میں لے کر کہہ سکتے ہیں، کہ یہ ”سچ نگاری“ہے اور اس طرح ہم تمہیں بجائے حقیقت نگار کہنے کے ”سچ نگار“ کہہ سکتے ہیں!“

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر30

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *