• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • محترمہ رمشاء تبسم کی تحریر پر ایک ردِ عمل۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

محترمہ رمشاء تبسم کی تحریر پر ایک ردِ عمل۔۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج صبح صبح جب آنکھ کھلی تو مکالمہ کا ایک چکر لگا لیا جو کہ معمول بن چکا ہے اور کیا ہی خوب معمول ہے کہ بندہ وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو اُسے کہیں اور ملنے سے رہا۔ سائٹ پر قابلِ قدر لکھاریوں کی تحاریر دیکھتے دیکھتے ہماری نظر محترمہ رمشاء تبسم بہن کی ایک تحریر پر پڑی۔

بوم بوم گالی: گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں پی۔ٹی۔آئی والے پہلے نمبر پر۔۔۔۔۔رمشا تبسم

ہم نے تحریر پر کلک کیا  اور ایک آنکھ بند اور دوسری کھلی بہ سبب نیند کے خمار کے پڑھتے گئے اور پڑھتے پڑھتے ہم نے خود کو نہایت ہی اذیت میں مبتلا پایا۔ بوجہ اِس کے کہ  ہماری قابلِ احترام بہن نے سب سے پہلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں پیش آئے کچھ واقعات بیان کئے تھے۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کی ناقابلِ تردید حُسن اخلاق کا نمونہ پیش کیا گیا تھا۔ ہم نے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود سلام پڑھی اور آگے کی تحریر پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔

موجودہ وزیراعظم جس نے ملک و قوم کے ہر خاص و عام کے لئے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ وہ مُملکتِ خداداد کو ایک فلاحی ریاست بنانے کی سر توڑ کوشش کریں گے جِس کو ریاستِ مدینہ الثانی کے نام سے منسوب سمجھا جائے گا۔ محترمہ کے خیال میں یہ نعرہ ایک ڈھونگ کے علاوہ کچھ نہیں۔ بلکہ اِس نعرے کے برعکس وہ قوم کے نوجوان قوت کو جنہیں محترمہ ایک ” الگ نام ” سے پکارتی ہیں وہ بنا دیا ہے۔ جن میں نہ تو مہذب لہجے میں بات کرنے کی سکت ہے نہ ہی مُدلل گفتگو میں شامل ہونے کی اہلیت۔

محترمہ کی معلومات میں اضافے کے لئے عرض ہے کہ، جِس طرح ایک پردہ دار مشرقی خاتون پر کوئی بھی  شخص  اُس کی شخصیت کے متعلق رائے قائم نہیں کرسکتا بالکل اُسی طرح کسی بھی شخص کے بارے میں غلط گمان قائم کرنا نا  صرف زیادتی ہے بلکہ ایک عظیم گناہ ہے۔ محترمہ نے کچھ مخصوص لوگوں کو اپنا ہدف نہیں بنایا بلکہ اُن تمام پر جھاڑو پھیر دی ہے جو تحریک انصاف کے حامیوں میں سے ہیں۔

میرا ایک سوال ہے کہ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ کسی نے ایک خاص مقصد کے لئے وہ تصاویر انٹرنیٹ پر شئیر کر دی  ہوں جِن کو دیکھ کر ہر بیٹی کے باپ کو اپنا سر شرم سے جھکانا پڑے؟

اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو اِس بات کی کیا دلیل ہے کہ جس جس نے بھی کل ایسا گھٹیا مواد دوسروں کی نگاہوں کے سامنے لایا ہے وہ ضرور انصافی ہی ہیں ؟ اور اگر آپ کا جواب مثبت ہے تو پھر آپ کی تنقید کو ہم کس نظر سے دیکھیں؟

محترمہ پھر لکھتی ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔۔۔(جبکہ بہن کو کچھ لوگ لکھنا چاہیے تھا)

کہ بات بات پر ماں بہن کی گالیاں نکالتے ہیں اور ایسے لوگ کلمہ گو بھی ہیں اور وہ بھی کسی بیٹی کے باپ ، کسی بہن کے بھائی ، کسی بیوی کے شوہر اور کسی ماں کے بیٹے ہوں گے۔

رہی بات اِس کی کہ بہ زبان محترمہ ایسے لوگ جو کسی کی ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی پر ایسے نازیبا الفاظ لکھتے ہیں ہم ایسے لوگوں کی شدید ترین مخالفت کرتے ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افسوس اِس مقام پر ہے کہ ایسے لوگوں نے کچھ نہ کچھ تعلیم تو ضرور حاصل کی ہوگئی۔ بجائے اِس کے کہ اُس علم سے کوئی نیک کام لیتے وہ لوگوں کی عزت اچھالتے ہیں؟ اور ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ایسے لوگ انسان کے نام پر ایک داغ ہیں اور دھبہ ہیں۔ میں اُس انسان کو انسان سمجھنے کے قابل بھی نہیں سمجھتا جو کسی کی ماں بہن اور بیٹی کی عزت کے ساتھ کھیلے یا اُس کی عزت تار تار کرنے کے درپے ہو خواہ ذرائع کچھ بھی ہوں۔ مگر ایسے مخصوص نامعلوم لوگوں کی وجہ سے میں سب لوگوں پر ایسا بہتان لگانا بعید از قیاس سمجھنے پر مجبور ہوں۔

آگے کی تحریر میں صاحبہ کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان کا دعویٰ  کرنے والے اگر  ایسی  مخلوق کو تخلیق کرنے کے ذمہ دار ہیں تو اِن کے لئے ایک الگ صوبہ بنانے کا بندوبست کیا جائے؟ محترمہ نے یہاں بھی سب انسانی ذات پر ضرب لگائی بجائے اِس کےکہ” کچھ” کا لفظ استعمال کرتیں ، اُس نے سب کو ہی ایک دیگ کے چاول سمجھ لیا ۔

یہ تو کسی کو معلوم نہیں کہ کون کس کا پیروکار ہے اور کون کس کو چاہتا ہے؟ بہن نے شاید کچھ جاہل اور اَن پڑھ لوگوں کو دیکھ کر سن کر اور سمجھ کر خود ہی یہ فیصلہ صادر فرما لیا کہ اب ہم اِن لوگوں کو اُن کے اپنے ہی ملک میں برداشت کرنے کے اہل نہیں۔ جبکہ اِس سے پہلے کیا کچھ ہوا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تنقید میں تو کچھ لوگ ہر حد پار کر گئے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

آگے محترمہ لکھتی ہیں کہ کل ہماری  قومی شان کے علمبردار شاہد خان آفریدی کی ایک کتاب کی اشاعت ہوئی اور اُس میں شاہد خان آفریدی نے کچھ تنقید کی ہے موجودہ وزیر اعظم پر۔ اور وہ تنقید دیکھتے ہی مخصوص ٹولے نے ہمارے ستارے شاہد خان آفریدی کی بیٹیوں کے خلاف ایک محاذ کھولا ہے جس پر اُس کی بیٹیوں کی عزت کو اچھالا گیا اور ایسی ایسی واہیات باتیں تصاویر پر لکھی گئیں  جس کو بیان کرنے سے لکھنے والا خود کو قاصر سمجھتا ہے۔ بہن نے یہ الزام لگایا ہے کہ مخصوص جماعت کے چاہنے والوں نے نہ تو اُس قبیح حرکت کی کوئی مذمت کی اور نہ ہی اُس کے خلاف کچھ لکھا  کیونکہ اُن کی آنکھوں پر کسی کی بڑائی کی کالی پٹی بندھ  گئی ہے؟ جس کے جواب میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ۔۔۔

” اگر ایسی حرکت عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم نے اُسی کے کہنے پر کی ہے تو ہم اِس حرکت کو عمران خان سمیت تمام تحریک انصاف کے لئے ایک دُھت شرابی کی بیعزتی سے زیادہ سمجھتے ہیں۔ اور ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی قبیح حرکت کرنے والے پر اور کروانے والے پر۔ اور ہم ایسی حرکت کرنے والے کو اور کروانے والے کو نہ   تو انسان سمجھتے ہیں اور نہ ہی کوئی رہنماء یا قائد اور نہ ہی میں ایسے قائد کی پیروی قبول کرتا ہوں جو عورت کی عزت کو اچھالنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہو۔ میں اِس حرکت کی شدید مخالفت کرتا ہوں خواہ وہ کوئی بھی ہو میں اندھا مقعلد  نہیں بننا چاہتا اور نہ ہی ایسے کی تقلید کرسکتا ہوں۔”

اِس کے بعد بہن جی لکھتی ہیں کہ شاہد خان آفریدی نے عمران خان سے کچھ سولات پوچھے ہیں اپنی کتاب میں۔ جس میں اُس نے عمران خان کو شفافیت کا دعویدار مانتے ہوئے یہ سوال پوچھا ہے کہ کیا وہ خود شفاف ہیں؟ اُس کے کابینہ میں کام کرنے والے شفاف ہیں؟ اور کیا وہ بنی گالہ کے دھوبی گھاٹ سے دُھل کر صاف کروا لئے گئے؟

اِن سوالات کا میں احترام کرتا ہوں۔ یقیناً شاہد خان آفریدی نے ایسے سوالات بغیر کسی دلائل کے تو نہیں پوچھے ہوں گے؟ اور اگر اِن سوالات میں ایسا کچھ ہے جو جواب کے قابل ہے تو عمران خان کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے  سب سے پہلے، بجائے اِس کے کہ وہ قوم سے خطاب پر خطاب کرتا رہے۔

سب سے پہلے اگر میں جھوٹا ہوں گا تو میرے بچے یا میرے گھر میں مجھ سے چھوٹے میری نصیحت پر کیونکر عمل کریں گے؟ اِن سوالات کے جوابات دینے میں شاید عمران خان کو کوئی عار محسوس نہ ہوگا اور رہی بات اُن کے جوابات اُس کے چاہنے والوں سے تو ہم یہی کہیں گے کہ عدالت کا دروازہ ہر کسی کے لئے کھلا ہے۔ ہم نہ ایسے کسی چور کی پیروی کرنے بیٹھے ہیں جو خود شفاف نہ ہوں اور دوسروں کو تلقین کرتا پھیرتا ہوں ۔

بعد میں لکھا ہے کہ شاہد خان آفریدی نے یہ کہا ہے کہ ” نواز شریف ڈیلیور کرنا جانتا تھا” تو یہ بات تو ہر خاص و عام کو معلوم ہے آج۔ کہ جس دور اور جن حالات میں ملک کو چھوڑ کر نواز شریف چلے گئے تھے اُس میں ہر ادارے کی کیا حالت تھی؟ اگر محترمہ  کی  یہی دلیل ہے کہ بیرونی قرضوں سے ملک کی اکانومی تباہ کرکے ملک کے اندرونی کھنڈرات کو ٹھیکوں پر ٹھیکے دے کر ملک کو سدھار کی طرف لے جایا  گیا ہے تو یہ تو اُسی کی اپنی ذاتی رائے ہوگی ضروری نہیں کہ کسی کی تقلید کرنے والی کے الفاظ کسی دوسرے کو بھی اُس کے ساتھ متفق کرسکیں ۔

اور شاہد خان آفریدی نے اگر یہ بات کی ہے تو وہ اُس کی اپنی رائے ہے کسی کا متفق ہونا اُس سے یا نہ ہونا عین ممکن ہے۔ مگر اُس کی اس طرح کی رائے سے اُس کی ذات پر کیچڑ اُچھالنا شرمناک حد تک بے شرمی اور اندھی تقلید کا نتیجہ ہی ہوسکتا ہے۔

پھر بہن لکھتی ہیں کہ عمران خان جہاں بھی کسی غیر ملکی دورے پر گیا اُس نے اپنے ملک کو کرپٹ ترین قرار دیا۔ اگر آپ عمران خان کے ان الفاظ کی مذمت کرتی ہیں تو یہ آپ کا بنیادی حق ہے مگر ضروری نہیں کہ آپ کی مذمت کرنے سے سچ اور جھوٹ پر پردہ پڑ جائے۔ اگر ملک میں کرپشن نہیں ہوئی ہے تو عمران خان کی اِس بات کو بیرونی ملکوں میں بنیاد بنا کر ڈھنڈورا پیٹنا ملک کی عزت پر شدید ترین ضرب ہے اور اِس کا احتساب ہونا چاہیے۔

آگے لکھتی ہیں کہ ایک لیجنڈ ایک ہیرو کیا کوئی اپنی زندگی کی کہانی پر مشتمل کتاب نہیں لکھ سکتا؟

بالکل لکھ سکتا ہے اور اِس میں کسی کا اُس کے ساتھ اتفاق کرنا یا نہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ ہر کوئی اپنی زندگی کے تجربات کو قلم بند کرنے کا بنیادی حق رکھتا ہے اور یہ بھی اُس لکھنے والے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے اُس کو ثابت کرنے کے لئے اُس کے پاس دلائل کی کمی نہ ہو۔

آگے محترمہ لکھ رہی ہیں کہ آج شاہد خان آفریدی کو گالیاں نکالنے والے وہی لوگ ہیں جو راحیل شریف کے دور میں عمران کی دال گلتی نظر نہ آنے پر راحیل شریف کے خلاف ہو گئے تھے۔

محترمہ اگر کسی نے دہشت گردی کی مخالفت میں کچھ کہا ہے تو اُن میں عمران خان بھی شامل تھا جس نے نیٹو کی سپلائی روک دی تھی اِس وجہ سے کہ امریکی ڈرون حملوں میں عام پاکستانیوں کا خون بہتا ہے۔ اگر عمران خان شدت پسندی کے خاتمے کے حق میں نہ تھے تو وہ فوج کے مخالف ہوتے نہ کہ  حق میں۔ اب یہ بات نہ کہنا کہ کیونکہ فوج لیکر آئی ہے اِس لئے حق میں ہیں۔ جواب ہر کسی کو معلوم ہے کہ کون کس کے حق میں کیوں اور کب تھا؟

پھر آخر میں لکھتی ہیں کہ کسی بھی ہیرو کو زیرو بنانے میں عمران خان کے چاہنے والے بہت ماہر ہیں اور وہ اُن کا استقبال گالی گلوچ سے کرتے ہیں؟ مخالف کو گالیوں سے نوازتے ہیں اور اتحادی کو پھولوں کے ہار پہنائے جاتے ہیں خواہ اُن کا ماضی کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو؟

جواب عرض ہے کہ بہنا شاید آپ کا نظریاتی انصاف پسندوں سے کچھ خاص واسطہ نہیں پڑا یا اگر پڑا بھی تو نہایت ہی گِنے چنے لوگوں سے۔ ہم نہ تو اِس بات کے حق میں تھے کہ عمران خان جاکر ایم کیو ایم سے اتحاد کرکے حکومت بنائیں اور نہ ہی اِس حق میں کہ الیکٹیبلز کو لیکر عمران خان حکومت بنانے بیٹھ گئے؟ وجہ یہ ہے کہ وہی ایم کیو ایم ہے جو کراچی میں نہتے معصوم لوگوں کے خون اور بوری بند لاشوں میں ملوث ہیں۔ اور ہم تنقید کرتے ہیں کرتے رہیں گے۔
کہ اگر نظریہ آپ کا نیا پاکستان بنانے کا تھا تو پھر پرانے لوگ کیوں؟ ہم اختلاف بھی کریں گے اور مذمت بھی۔

ضروری نہیں کہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والا ہر ایک سیاستدان عمران خان کے چاہنے والوں کا بھی پسندیدہ ہو۔ لہذا اِس بات کی نفی سمجھی جائے کہ ہم اندھی تقلید کے پُجاری ہیں۔

پھر لکھتی ہیں کہ ” تحریک انصاف کی قیادت اپنے پیروکاروں سمیت گالیوں کی ورلڈ رینکنگ میں اول درجہ حاصل کرنے کی قابلیت اور صلاحیت رکھتی ہے”

اگر اِس بات کو ہم مان بھی لیں تو گزرے حکمرانوں کے پیادوں کے بارے میں کیا کہا جائے؟ جو سرعام میڈیا پر عورتوں کی تذلیل کرنے اور اُن کے لئے حد سے زیادہ گرے  ہوئے الفاظ استعمال کرنے کے مُرتکب ہو چکے ہیں؟ یا صرف یہ نشتر تحریک انصاف کے حصے میں ہی آئے ہیں؟

آخر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ خواہ کوئی بھی پاکستانی شہری کسی بھی جماعت سے اپنا تعلق گردانتا ہو اور وہ اُس جماعت کا نظریاتی ممبر ہو تو اُس کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے  کہ عورت ذات پر ذلالت بھرے تیر چلانا وہ بھی سیاسی مفادات کے لئے نہ تو ایک باشعور قوم کا شیوہ  ہے اور نہ ہی کسی عزت کا مقام ہے۔ تنقید آپ کا حق ہے ہر کسی کا ہے آپ تنقید کریں اور بھر پور کریں مگر اپنی اِس تنقید میں کسی کی عزت کو نہ اچھالیں۔

میں بھی عمران خان کا ایک چاہنے والا ہوں خواہ آپ مجھے کچھ بھی کہیں مگر میں اپنے لیڈر کی یہ بات قبول نہیں کرسکتا کہ اُس کے کہے ہوئے بد تہذیب لفظ کو تہذیب کا لباس فراہم کروں اور آنکھیں حقائق سے بند رکھوں۔

شاہد خان آفریدی کی بیٹیاں میری بہنیں ہیں اور میں کبھی اُس حد تک نہیں گر سکتا کہ اپنی بہنوں کو کسی تنقید کی آڑ میں عزت سے محروم کردوں۔ اللہ تعالی وہ دن مجھے نہ  دکھائے کہ میں کسی کی بیٹی اور بہن کی عزت پر وار کرتا پایا جاوں آمین۔

باقی تنقید ہر کسی کا حق ہےاگر میرا اس سائیٹ کے چیف ایڈیٹر انعام رانا بھائی سے  بھی کوئی اختلاف ہوجائے تو میں  ان پر بھی تنقید کرنے کا حق سمجھتا ہوں بشرطیکہ میرے پاس دلائل ہوں نہ کہ  لفظی گولہ باری اور ذاتیات پر خاص کر فیملی کے بارے میں برے الفاظ کا استعمال کرنا۔اُمید کرتا ہوں کہ میرے الفاظ آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کردیں کہ کسی کے چاہنے والے برابر نہیں ہوتے اور نہ ہی ہر کوئی گالی گلوچ کو اپنا معیار سمجھتا ہے۔

 

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
منتظر ہیں ہم صور کے، کہ جہاں کے پجاری عیاں ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *