منظور پشتین کے نام کُھلا خط۔۔۔عارف خٹک

آپ جتنے سادہ مزاج اور مُخلص بندے ہیں۔ اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ میں نقیب اللہ محسود شہید کی پہلی صبح سے آپ کو جانتا ہوں کہ یہ بندہ کتنا مُخلص اور کھرا انسان ہے۔ محسود تحفظ موومنٹ سے پشتون تحفظ موومنٹ کا سفر فقط دنوں کا رہا ہے۔ ایک ایسی تحریک جس کو اگر پشتون کی آخری امید کہا جائے،تو غلط نہیں ہوگا۔ پختون تحفظ موومنٹ ان بے زبان پشتونوں کا پلیٹ فارم ہے۔جو سالوں سے اپنے لاپتہ اور مقتول افراد کی تصویریں دیکھ کر صرف آنسو بہا رہے تھے۔اور اس تحریک کے آنے کے بعد ہم سب بیٹھ کر آنسو بہا رہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار پشتون کے آنسوؤں کو زبان ملی ہے۔لہٰذا اس تحریک کو منظور کی تحریک کہنا غلط ہوگا۔کیونکہ یہ تحریک پشتونوں کا اثاثہ ہے۔

میں نے جب نقیب اللہ محسود کیلئے آواز اُٹھائی۔تو اس وقت میں نے یہ نہیں سوچا تھا۔کہ اس آواز کی مُجھے کیا اور کتنی قیمت چُکانی کرنی پڑے گی۔ میں بے بسی کی آخری حدوں کو چُھو رہا تھا۔ میری آواز کے ساتھ پاکستان کی دوسروں قوموں کی آواز بھی مل گئی۔اور ہم سب کی آواز اتنی توانا بن گئی  کہ ایوانوں میں گونجنی لگی۔ کیا یہ اکیلے میرے لئے ممکن تھا؟ یقیناً  ہر گز نہیں۔ میں پل پل آپ کے  ساتھ رابطے میں رہتا تھا  کہ اب ہم یوں کررہے ہیں،آپ یوں کر لیجئے۔ تبھی ہم کامیاب ہوگئے۔ فرنود عالم جیسا بندہ جس کے ساتھ میرے نظریاتی اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ ہماری عام زندگی میں ایک دوسرے کی ذاتی مخاصمت تک پہنچ جاتے ہیں۔اُس کو میں نےخود پیغام بھیجا کہ نقیب محسود کیس میں آپ کی مدد درکار ہے۔ اور اس دن سے لےکر آج تک اس نے جتنے بھی الفاظ لکھے۔اُس میں وہ یہی مقدمہ لڑتا ہوا آرہا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس وقت کوئی ہاشم خان تھا،نہ وائس آف امریکہ ۔ نہ  مشعال کاکڑ تھا،نہ کوئی علی وزیر تھا،اور نہ ہی محسن داوڑ جیسا دانشور تھا۔ میں تھا،آپ تھے، فرنود عالم اور پاکستان کے پنجابی، مہاجر، سندھی اور بلوچ دانشور تھے۔جنھوں نے ہماری آواز کے ساتھ آواز ملا کر راؤ انوار جیسے درندے کو چُھپنے پر مجبور کرڈالا۔ اُس وقت ہم مظلوم کےلئے اُٹھے تھے۔اور یہ سب درد بھرے قلم سے لکھے الفاظ سے مُمکن ہوا۔

پہلے دن سے ہی میں بار بار کہے جا رہا تھا۔کہ اس تحریک کو ہمیں قوم پرستوں سے بچانا ہوگا  بلکہ آپ جب کراچی کیلئے روانہ ہوئے،تو ہم دونوں اس بات پر متفق تھے کہ جذبات سے زیادہ ہمیں اپنے مقاصد پر فوکس کرنا ہوگا۔اسی دوران مُجھے ہلکا سا شائبہ ہوا کہ ہماری ایک مذہبی جماعت کا  لیڈر  اس تصفیے میں کوئی منفی کردار ادا کرسکتا یا کررہا ہے۔ تو اس جماعت کے کارکنان نے ببانگ دہل اپنے جذبات اپنے اس رہنماء تک پہنچا دیے کہ اگر ایسا ہوا تو ہم بغاوت کرلیں گے۔اور مجھے تسلی دی گئی،کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا۔ اور واقعی ایسا کچھ نہیں ہوا۔

اسلام آباد دھرنے میں جب گریٹر پشتونستان کے کارکنان نے ہمدردی کی آڑ میں اس تحریک کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی تو سب سے پہلے میں نے آواز اٹھائی کہ منظور پشتین کو خبردار رہنا ہوگا  مگر کافی واقعات نے مجھے ذاتی طور پر یہ ماننے پر مجبور کرڈالا کہ حسب توقع وہ منظور پشتین کا کاندھا ضرور استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے جب اس تحریک میں ایک مخصوص لسانی جماعت کی بُو محسوس کی، تو وہ اس تحریک سے کنی کترا گئے۔ حتی کہ عوامی نیشنل پارٹی جیسی جماعت بھی اس تحریک سے دُور ہوتی چلی گئی۔ مگر اے این پی کے وہ رہنماء جو کسی زمانے میں گریٹر پشتونستان کاز کےساتھ سرگرم عمل رہے۔وہ اس تحریک کےساتھ جُڑے لوگوں کی وجہ سے مزید قریب ہوگئے۔

ان حالات پر میری  گہری نظر رہی۔ بالآخر جنگ اخبار کے اورنگزیب محسود کے ساتھ مل کر ہم نے ایک منصوبہ بنایا۔کہ ہم ایک انٹرویو میں آپ سے کچھ سوالات پوچھیں گے کہ پاکستانی عوام کو معلوم ہو کہ منظور ایک سچا اور مُحب وطن پشتون رہنماء ہے۔ تاکہ پاکستان کا وہ دانشور طبقہ جو ابھی تذبذب کا شکار ہے  وہ طبقہ بھی کلیئر ہوجائے۔ مگر کافی کوششوں کے باوجود آپ سے میرا رابطہ نہیں ہوسکا۔ وہ سترہ سوالات یہ ہیں۔

1۔آپ سائنس گریجویٹ ہیں، پھر سوشل اور سیاسی ایکٹوزم کی جانب رجحان کیسے پیدا ہوا ؟

2۔ کیا اس کے لیے باقاعدہ کوئی تربیت حاصل کی ؟ اگر ہاں،تو رول ماڈل کون تھا ؟

3۔ آپ نے پہلے تحفظ محسود تحریک کا آغاز کیا  ۔۔۔ اس کا پس منظر کیا تھا۔

4۔ اسے تحفظ پشتون موومنٹ بنانے کا خیال کیسے آیا  ؟

5۔ ساتھیوں کا انتخاب کیسے عمل میں آیا؟اور حکمت عملی کن بنیادوں پر ترتیب دی  ؟

6۔ تحفظ محسود سے تحفظ پشتون ۔۔۔۔ کیا ہم اس کے بعد کسی تحفظ پاکستان موومنٹ کی بھی توقع رکھیں  ؟

7۔  آپ نے اپنے مطالبات کے لیے کوئی کم سے کم ، یا قابل قبول کی ترتیب بنائی ہے۔تاکہ حکومت کی جانب سے کسی بھی پیش رفت کو شفاف طریقہ سے مانیٹر کیا جا سکے ؟

8۔ ان سب کے لیے کسی مدت کار کا تعین بھی کیا ۔۔۔ کہ 1 ماہ بعد کتنا اور پھر 3 اور 6 ماہ بعد کیا اور کتنا ؟

9۔ کیا آپ کی کچھ اور ڈیمانڈز بھی ہیں؟جو کسی خاص وقت کے لیے آپ نے اٹھا رکھی ہیں ؟

10۔ آپ اس کے متعلق کیا کہیں گے۔کہ آپ کو دانستہ یا نادانستہ طور کچھ ایسے حلقوں کی حمایت حاصل ہے۔جو پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت یا عزم رکھتے ہوں  ؟ کیا پاکستان کا مفاد آپ کی ترجیح ہے ؟

11۔ اگر آپ کے مطالبات آپ کی خواہش کے مطابق پورے نہیں ہوتے  تو پھر آپ کا آگے کا لائحہ عمل کیا ہو گا ؟

12۔ آپریشنز میں تو پاکستانی فوج نے ایک یونٹ کے طور پر حصہ لیا  ۔۔۔۔ اور اس میں سب صوبوں کے لوگ شامل تھے۔ سو اس میں شامل پختونوں کو آپ کس پلڑے میں رکھیں گے ؟

13۔  نقیب اللہ محسود مرحوم کے کیس میں جان پڑنے اور راؤ انوار کی گرفتاری ممکن میں ہونے میں ایک فیکٹر یہ بھی تھا۔کہ سپریم کورٹ کی دسترس اس علاقہ تک تھی،جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس حساب سے آپ کے مطالبات کو ایک بڑی سپورٹ مل سکتی ہے۔اگر فاٹا کا انضمام فوری طور پر کے پی کے کے ساتھ ہو جائے۔ تو آپ کا اس کے متعلق کیا خیال ہے ؟
اس کے علاوہ کیا نقیب کیس کی پیش رفت سے مطمئن ہیں آپ  ؟

14 ۔ اور بالعموم فاٹا اصلاحات کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے  ؟

15۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جو صاحبان قلم و دانش آج کل آپ کے آگے پیچھے ہیں یہ وہی لوگ ہیں،جنہوں نے طوفان اُٹھا رکھا تھا کہ فوج کو فاٹا میں آپریشنز کرنا چاہیئں ۔ سوات سے لے کر شمالی وزیرستان تک انہوں نے کیا کچھ نہیں کہا اس حوالہ سے۔ کبھی ان سے پوچھا کہ وہ کیوں اس قدر بے چین تھے ؟ انہیں معلوم نہیں تھا کہ فوجی آپریشن کیا ہوتے ہیں ؟

16۔  اب آپ کو سامنے آنے کا موقع ملا ہے ۔۔۔ آپ نوجوان ہیں ، لیڈر ہیں۔ آپ اپنا مقام قومیت پرستی کی سیاست میں دیکھتے ہیں ، صوبائی میں یا قومی  میں ؟

17۔ موجودہ لیڈر شپ سے آپ کی کیا اُمیدیں یا شکایتیں ہیں ۔۔۔ خاص طور پر اے این پی اور پی کے میپ سے  ؟

آج مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے شاید آپ کو معلوم نہ ہو۔
منظور صاب میں نے جس گھر میں آنکھ کھولی۔اس گھرانے کے خوشحال کاکاجی کمیونزم کے بانی ولادمیر لینن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ میرے حجرے میں سبھاش چندر بوس نے راتیں گزاری ہیں۔ اور انگریز سرکار سے چھپاکر کاکاجی نے انھیں کابل پہنچایا تھا۔ جب قوم پرستوں کے اجداد نے ابھی پاؤں پاؤں چلنا بھی نہیں سیکھا تھا۔ اندرا گاندھی سولہ سال کی عمر میں اپنے باپ کے ساتھ میرے گھر آئی ہے۔گریٹر پشتونستان کا نظریہ میرے گھر سے اُٹھا ہے۔ اور 1950 میں دفن بھی ہوگیا۔
جب بھٹو وزیرخارجہ تھے تو کریملن میں برزنیف نے اس سے کاکاجی کے متعلق پوچھا تو اس نے پہچانے سے معذرت کرلی تو برزنیف نے اس سے پوچھا کہ پھر آپ ماسکو کرنے کیا آئے ہو۔

اس نظریے کیلئے میرے خاندان نے جلاوطنی بھی کاٹی ہے۔ میرے دو چچا کابل میں پلے بڑھے ہیں۔ نجیب کےساتھ ایک نشست پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ آج بھی کراچی شاہ فیصل کالونی میں کسی بزرگ سے پوچھ لیجیئے۔کہ گل جنان خٹک کے گھر پر جو آپریشن ہوا تھا۔ اس میں آرمی ایویشن کے کتنے ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا تھا۔ یہ سب اسی نظریہ کی کارستانی تھی۔ آج یہ نظریہ کاروبار بن چکا ہے۔

افراسیاب، اسفندیار کو یاد ہوگا۔ میں اس انسان کا خون ہوں  جس کے پیر الطاف حسین لانڈھی جیل میں  دباتا تھا،یہ کہہ کر کہ آپ میرے باپ جیسے ہو۔ میں نے پاکستانی ہونے کی کیا قیمت ادا کی ہے،یہ میں جانتا ہوں۔ مگر تکلیف پہنچتی ہے،جب میرے ہی لوگوں نے مجھ پر الزامات لگائے۔ یہ شکر ہے کہ ریاست کا دامن میں ابھی بھی تھام کر کھڑا ہوں۔ میں آج تک کسی کو گالی نہیں دی۔ کسی سے نفرت نہیں کی۔

میں ریاست پاکستان کا وفادار ہوں۔مگر جہاں ظلم دیکھتا ہوں،وہاں ڈٹ کر کھڑا بھی ہو جاتا ہوں۔ خواہ حالیہ پاکستان افغان سرحدی راہداریوں کی بندش کی بات ہو۔ یا وزیرستان کے ایک معصوم بچے کی لاہور کے تھانے سے بازیابی ہو۔ یا پھر آپ کے ساتھ کھڑے ہوکر نقیب اللہ محسود شہید کیلئے انصاف مانگنا ہو،میں ہر جگہ ہوتا ہوں۔ مگر میرے ساتھ پنجابی بھی ہوتا ہے،پشتون بھی ہوتا ہے،بلوچ بھی ہوتا ہے،اور سندھی بھی ہوتا ہے۔

میں ان کا مخالف ہوں، جو میرے وطن اور قوم کے دُشمن ہیں۔ میں مشرف جیسوں کا مخالف ہوں۔ اور اس سے زیادہ ان لوگوں کا مخالف ہوں،جو مشرف کی گود میں بیٹھ کر وزیرستان میں فوجی آپریشن کےامریکی موقف کی تائید کرتے تھے۔ اور جب آپ کو بے گھر کیا گیا،تو آج آپ کےآنسو پونچھ رہے ہیں۔ میں صرف اُن لوگوں کا مخالف ہوں۔
آج اگر طالبان میرے دشمن ہیں۔ تو یہ بھی اپنے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر میں ڈائیلاگ کرسکتا ہوں۔ یہ اگر ناراض ہیں تو ان کی سُنی جاسکتی ہے۔ آج امریکہ بھی تو کابل میں یہی کررہا ہے۔ مگر میں مخالف ہوں،ان لوگوں کا جو عصمت اللہ معاویہ جیسے بچے کو پھر سے مجبور کررہے ہیں۔کہ اس کا پہاڑوں سے واپسی کا راستہ غلط تھا۔ آج عصمت اللہ معاویہ جیسے بچے جو ردعمل میں مشرف کے ساتھ جنگ آزما تھے۔ اگر وہ پھر ریاست کے چھتری تلے زندگی گزار رہا ہے۔تو اپنے خودساختہ منصف مزاجی سے انھیں دوبارہ دشمن بنانے کی میں تو ضرور بالضرور مخالفت کروں گا۔

میں اس پالیسی کا مخالف ہوں،جس میں فوج، اور ردعمل میں عوام ایک دوسرے کےساتھ نبرد آزما ہیں۔
پچھلے دنوں جب آپ کراچی آئے،تو میں نے بہتیرا کوشش کی،کہ میں آپ سے ملاقات کرسکوں۔مگر محسن داوڑ کو  متعدد بار پیغامات دینے کے بعد بھی کوئی رسپانس نہ ملا۔نا ہی آپ نے کوئی جواب دیا۔ شام کو ہم دونوں کے قریبی دوست نے مجھے بتایا۔کہ منظور پشتین کو آپ کے بارے میں بتایا گیا ہے،کہ آپ اداروں کے بندے ہو اور وہ آپ سے فاصلہ رکھنے پر مجبور ہے۔
میں قہقہہ لگانے کے سوا اور کر بھی کیا کرسکتا تھا کہ اب آپ کو کیا بتاؤں کہ گھنی لمبی مونچھیں رکھنے،یا پھر میرے حُلیے سے اگر مجھے کوئی افسانوی کردار بنانے پر تُلا ہوا ہے۔ تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ یا سابقہ دوست کے فقط “طنزومزاح” میں ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے بعد میں ہنس کر آگے بڑھ سکتا ہوں۔ تو آپ کی اس غلط فہمی پر بھی میں فقط ہنس ہی سکتا ہوں۔ مگرمیری تعریف کرنے کا حق تو بنتا ہے۔کہ نقیب اللہ محسود کیس میں اداروں کو دفاعی پوزیشن پر لیکر جانیوالے اس مشکوک بندے کی کم از کم اس بات کو تو مانیں گے  کہ عارف خٹک نے  پشتونوں سمیت پاکستان کے ہر شہری کو یہ سبق ضرور سکھایا ہے کہ حقوق کیلئے اپنی کمزور آواز اُٹھایئے۔اور مسلسل اُٹھایئے۔کیونکہ ایک نہ ایک دن نہ  سننے والا بھی آپ کی آواز سننے پر مجبور ہوجائے گا۔ ڈریئے گا مت کیونکہ ہر ڈر کے پیچھے جیت ہوتی ہے۔
والسلام

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”منظور پشتین کے نام کُھلا خط۔۔۔عارف خٹک

  1. جناب عارف خٹک کا مکا لمہ نظرسے گزرا.اچھا لکھا ہے.
    پاکستانی فلم انڈسٹری کا المیہ رہا ہے.کہ فلم کی کہانی کی شروعات اچھےطریقے سے ہوتے ہیں.لیکن اخر میں وہ کنفیوزڈ ہو جاتا ہےکہ ختم کیسے کیا جاے.ہیرو کو مار دیں. یا نہیں.یہی حالت منظور پشتین کا ہے.اس ناسور اور گندگی کی افزایش کی ابتدا اپ نے کی.اب اپ اس پہ کتنا ہی مٹی ڈالنے کی کوشش کریں.بد بو اور جراثیم پھلیگی اور مختلف قسم کے مچھر اور مکھیاں بھی بیٹینگی.آپ اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں ٹھرا سکتے.
    You are a part of this game.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *