• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • قذافی مخالف لیڈر کے اغوا میں برطانوی خفیہ ادارے کا کردار، وزیراعظم تھریسامے نے اعتراف کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

قذافی مخالف لیڈر کے اغوا میں برطانوی خفیہ ادارے کا کردار، وزیراعظم تھریسامے نے اعتراف کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

(فرید قریشی) لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے بعد سرکاری کاغذات میں یہ انکشاف ہوا کہ قذافی مخالف رہنما عبدالحکیم بلہج اور ان کی اہلیہ کو 2004 میں برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کے تعاون سے تھائی لینڈ سے اغوا کر کہ لیبیا پہنچایا گیا جہاں وہ 2010 تک لیبئین حکومت کی قید میں رہے۔ ان سے برطانوی خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے تفتیش کی اور انہیں اور ان کی بیمار اہلیہ کو دوران قید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ان انکشافات کے سامنے آنے کے بعد عبدالحکیم کی اہلیہ نے برطانوی عدالت میں سابق سیکریٹری خارجہ جیک سٹرا اور ایم آئی سکس کے سابق کاونٹر ٹیررازم چیف سر مارک ایلن کے خلاف کیس کر دیا۔ چھ سال سے زائد کیس چلا اور اب عدالتی فیصلے کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے انہیں پانچ لاکھ پاونڈ ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔
عبدالحکیم بلہج کو تھائی لینڈ سے اغوا کر کہ لیبیا بھیجنے کی وجہ معمر قذافی اور اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کے درمیان ہونے والی خفیہ ڈیل تھی جسے “صحرائی ڈیل” کا نام دیا گیا۔ عبدالحکیم جو کہ ترکی میں مقیم ہیں انہوں نے برطانوی وزیراعظم کی طرف سے معافی مانگے جانے پر کہا کہ “آخرکار مجھے انصاف مل گیا ہے، مجھے یقین ہے کہ ہمارا کیس آنے والی نسلوں کیلئے راستہ متعین کرے گا، مہذب معاشرے نہ خود تشدد کرتے ہیں اور نہ ہی تشدد کے اس عمل میں دوسروں کی معاونت کرتے ہیں”
برطانوی اٹارنی جنرل جیرمی رائٹ نے کہا کہ “جب ہم سے غلطی ہو جائے تو مہذب معاشرے کے طور پر ہمیں اس کا احساس کرنا چاہئے، اس سے سیکھنا چاہئے اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرنی چاہئے” اٹارنی جنرل نے تھریسامئے کی طرف سے بھیجا گیا خط پڑھ کر سنایا “میں ملکہ برطانیہ کی ٍحکومت کی طرف سے آپ میاں بیوی سے غیر مشروط معافی مانگتی ہوں، آپ کے اغوا میں برطانوی ادارے کے کردار پر ہم معذرت خواہ ہیں”
واضح رہے کہ عبدالحکیم کی اہلیہ فاطمہ بشار نے برطانوی خفیہ ادارے کے خلاف کیس کیا اور چھ سال تک کیس چلتا رہا مگر اس دوران نہ انہیں کوئی دھمکی ملی، نہ اغوا کر کہ لاپتہ کیا گیا اور نہ ان پر کوئی حملہ ہوا۔ برطانوی وزیراعظم نے بھی اپنے ہی خفیہ ادارے کے دوسرے ملک کی سرزمین پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، غیر مشروط معافی مانگی مگر ان پر بھی نہ غداری کا الزام لگا اور نہ ہی کوئی غداری کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ایک مہذب معاشرے نے غلطی کا اعتراف کیا اوراس سے سیکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک کشمکش کے دور سے گزر رہا ہے جس میں اپنے گھر کو سدھارنے کی بات کرنے اور غلطیوں کا اعتراف کرنے پر سیاسی رہنماوں کو الزامات اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، زندہ قوموں کی صف میں کھڑے ہونے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہونے کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سیکھ کر انہیں دوبارہ نہ دہرانے کا عزم صمیم کیا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *