مکمل لوگ ۔۔۔ ہمایوں احتشام

وہ چاہتی ہے میں بہت کچھ لکھوں، اتنا کچھ کہ کسی دوسرے مصنف نے نہ لکھا ہو۔ وہ چاہتی ہے، میں فیمنزم کے حق میں لکھوں، مرد جو صرف اپنی انا کا مارا ہے اور صرف ذاتی مفاد کے سوا، کسی انس و حیوان کی پروا نہیں کرتا۔ عورت اس کے لیے ایک عیاشی کی مانند ہے۔ وہ چاہتی ہے میں طبقات پر لکھنا بند کر دوں، کبھی کبھی کہتی ہے کہ کیا مارکسزم مارکسزم لگائے رکھتے ہو، زندگی کی لطافتوں پر بھی لکھو۔ کبھی کہتی ہے رومانوی کہانیاں لکھا کرو۔ ہماری رومان پرور داستانیں۔۔۔ میں سچے دل سے کوشش کرتا ہوں کہ اس کی توقعات کے مطابق تحریر لکھوں۔ مگر جیسے ہی گھر کی جانب مڑتا ہوں، دماغ اچانک بدل جاتا ہے۔ محلے میں داخل ہوتے ہی نالیوں  سے ابلتی بدبو ساری مصنوعی خوشبوؤں کے احساس کو ذہن کے نہاں خانوں سے نکال دیتی ہے۔ گھر میں داخل ہوتا ہوں تو بیمار ماں کا جھریوں زدہ منہ میرے سامنے ہوتا ہے، وہ دوائی کا تقاضا کرتی ہے اور میں ادھار مانگے پیسوں کی خریدی گئی  دوائیاں ماں کے قدموں میں رکھ دیتا ہوں۔ ماں چہرے کو پڑھنا چاہتی ہے مگر میں کمال کا اداکار ہوں۔ احساسات چھپانے کا ڈھنگ سیکھ گیا ہوں، ہنس دیتا ہوں۔ ماں چہرے کی دبیز مسکراہٹ دیکھنے کے بعد آنکھوں میں چھپا کرب دیکھنا چاہتی ہے تو میں اٹھ جاتا ہوں اور سونے کا بہانہ بنا دیتا ہوں۔ کیونکہ آنکھیں جھوٹ بولنے میں تھوڑی اناڑی ہوتی ہیں۔
پھر رات بارہ ساڑھے بارہ بجے سلیم بھائی سستی شراب پی کر گھر آتا ہے شور مچاتا ہے پورا محلہ اس کے غل غپاڑے سے بے سکون ہوجاتا ہے۔ بیوی بچوں کو بے دردی سے مارتا ہے۔ پھر ان کے ساتھ ہی رو دیتا ہے، ” ٰسیٹھ نے نوکری سے نکال دیا ہے۔ٰ سیٹھ نے اجرت نہیں دی۔ میرے پاس کھانے کے پیسے نہیں۔” مگر صبح اٹھتا ہے آنسو پونچھتا ہے اور کام ڈھونڈنے نکل جاتا ہے اور زیادہ تر خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے۔ اب اس نے سوچا ہے گردہ بیچے گا اور پچاس ہزار میں اپنا کاروبار کرے گا۔ ویسے بھی گردے کا کیا ہے، انسان ایک کے ساتھ بھی زندگی کاٹ سکتا ہے۔ تمہیں سننا پسند ہے اور تم ہمیشہ مجھ سے تقاضا کرتیں کہ میں کوئی کہانی لکھوں، لطافتوں سے لبریز اور زندگی کی رعنائیاں آشکار کر تی ہوئی۔ مگر میں کیا کروں میں جب بھی کہانی لکھنے بیٹھتا ہوں میرے سامنے خاکہ اپنے غریبوں سے اٹے محلے کا آجاتا ہے، جس میں لطافتیں، رعنائیاں اور مسرت شاید کبھی رہتی ہوں، مجھے علم نہیں۔ لیکن چلو پھر بھی تمہیں کہانی سناتا ہوں شفاعت بھائی کی۔۔۔
بڑا  شریف آدمی تھا، سچا ایماندار اور سبھی مزدوروں کی طرح کھرا، ضمیر کا صاف۔ پندرہ دن پہلے مر گیا۔ میں اس کی موت پر نہ ہنس سکا اور نہ رو سکا۔ میں اس پر فخر بھی کرنا چاہتا تھا مگر اسے بے وقوف بھی کہنا چاہتا تھا۔ شاید ایک وقت ایسا آتا ہے جب الفاظ اپنی وقعت اور معنویت کھو دیتے ہیں۔ واپس آتے ہیں کہانی کی جانب، پیشے کے  اعتبار سے شفاعت بھائی میرے زیادہ محلہ داران کی طرح مل مزدور تھے۔ چار ماہ پہلے بیٹی کو گردے کی تکلیف ہوئی، دم درود کرایا، افاقہ نہ ہوا۔ شاید دم درود میں افاقہ بھی انھی کو ہوتا ہے جو پیر صاحب کو موٹی رقم ہدیہ کرتے ہیں۔ تکلیف بڑھی لڑکی درد سے دوہری ہوگئی۔ سات سالہ بیٹی کو ہسپتال لے گئے، میں ساتھ تھا۔ ڈاکٹر نے نیفرونز میں سوزش کی بابت بتایا اور شفاعت بھائی کو اپنے نجی مطب میں شام کو چھ بجے بچی کی تشخیص کے لیے بلایا۔ میں اور شفاعت بھائی شام کو ادھر جا پہنچے۔ مکمل معانئے کے بعد، ڈاکٹر نے پچاس ہزار روپے کے علاج کی رسید ہمارے ہاتھ میں تھما دی اور مکمل شفاء کی یقین دہانی بھی ساتھ ہی کرا دی۔ کرائے  کا مکان اور بیس ہزار روپے کل تنخواہ۔ چھ لوگوں سے تھوڑے تھوڑے پیسے لے کر پچاس ہزار جمع کیے اور ڈاکٹر کو پیش کردیے۔ ڈاکٹر نے آپریشن کیا اور کافی حد تک افاقہ ہوگیا۔ شفاعت بھائی بڑے  خوش تھے، مجھے مٹھائی کھلائی ” تیری بھتیجی اب مکمل ٹھیک ہوگئی ہے۔” میں بھی بڑا خوش تھا، شاید کچی آبادیوں کے مکینوں کی خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں۔
پندرہ دن بعد دوبارہ درد اٹھا۔ بچی کو ڈاکٹر کے پاس دوبارہ لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور شفاعت بھائی پر آسمان آ گرا، جب ڈاکٹر نے انکشاف کیا کہ بچی کا گردہ کام کرنا چھوڑ چکا ہے۔ شدید دکھ اور الم کی کیفیت میں انھوں نے ڈاکٹر سے علاج کی قیمت پوچھی تو بتایا گیا کہ گردے کی ٹرانسپلانٹیشن پر چار لاکھ روپے خرچا ہے جب کہ گردہ الگ سے خریدنا یا عطیہ کرنا پڑے گا۔ شفاعت بھائی بڑے  دل کے  جی دار آدمی تھے۔ گردے کے میچ کرنے والی لیبارٹری کے نام کی بابت ڈاکٹر سے پوچھا اور چل دیا میچ کروانے۔ ٹیسٹوں کے بعد ثابت ہوگیا کہ دونوں کے گردوں میں مکمل یکسانیت پائی جاتی تھی۔ اور والد کا گردہ بچی کو ٹرانسپلانٹ کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر نے پندرہ دن کے اندر اندر ٹرانسپلانٹ کرانے کا مشورہ دیا کیونکہ اس کے بقول مرض کافی پھیل چکا تھا، اور خطرہ یہ تھا کہ کہیں سوزش دوسرے گردے میں بھی نہ پھیل جائے۔ وہ رات، ساری رات شفاعت بھائی سوچتے رہے اور صبح صبح کسی کو بھی بناء بتائے پتا نہیں کہاں چلے گئے۔ میں گھر گیا بھابھی سے بیٹی کا حال احوال پوچھا اور واپس لوٹ آیا۔ شام کو شفاعت بھائی چائے کے ڈھابے پر بیٹھے ملے کافی نحیف و نزار لگ رہے تھے۔ میں نے حال پوچھا تو طبعیت کی خرابی  وجہ بتائی  اور کچھ دیر بیٹھ کر گھر چلے گئے۔
اگلے دن میرے پاس گھر آئے اور بتایا کہ آپریشن کے پیسوں کا مکمل انتظام ہوگیا ہے، “بیٹی جیے گی اور بہت جیے  گی۔” یہ بات کرتے ان کی آنکھیں چمک اٹھیں مگر چہرے سے نقاہت صاف جھلک رہی تھی۔ تین دن بعد مجھے گھر بلایا اور بیٹھک میں لے گئے۔ مجھ سے پوچھا میں کتنی عمر کا لگتا ہوں ؟ میں نے جھوٹ بولا اور کہا چالیس کے۔ اس بات پر قہقہہ لگایا، یہ قہقہہ  سطحی تھا بہت ہی زیادہ سطحی۔ گویا ہوئے، ” یار اٹھاون کا ہوگیا ہوں۔اب تو چل چلاؤ  کا وقت ہے۔” میں خاموش رہا۔ مجھ سے مخاطب ہو کر بولے ” اگر میں اپنی جان دے کر اپنی بیٹی کی زندگی بچا لوں تو کیا اسے یقین آجائے گا کہ اس کا باپ اس سے محبت کرتا تھا ؟ ” میں نے کہا، یہ کیا بے منطق بات ہے بھیا؟ ایسی باتیں نہیں کرتے۔
شفاعت بھائی نے دور خلاؤں میں جھانکتے ہوئے کہا ” بیوی بچی کی کفالت کے لیے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے اوور ٹائم لگاتا ہوں، تاکہ کچھ پیسے گھر میں آئیں اور گزارا اچھا ہوجائے۔ اسی لیے تین تین دن تک بیٹی سے مل نہیں پاتا تھا، تبھی تو وہ شکوہ کناں رہتی ہے کہ بابا مجھ سے پیار نہیں کرتے۔” میں سکتے کی حالت میں تھا۔ شاید میں تسلی کا لفظ نہیں بول سکتا تھا اور نہ کوئی مدد دے سکتا تھا۔ آخر خاموشی توڑتے ہوئے میں نے پوچھ ہی لیا شفاعت بھائی پیسے کدھر سے آئے؟ انھوں نے قمیض اٹھائی اور پیٹ پر دس ٹانکوں کے نشان دکھا دئیے۔ میں شدید ترین غم کا احساس لیے آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے ڈھانپ کر بیٹھ گیا۔ “بیٹی کا آپریشن ہوگا وہ ضرور زندہ رہے گی اور خوب صورت زندگی گزارے گی۔” ایک گردہ بیچ کر آپریشن کا خرچا اکٹھا کرنے والے باپ نے اپنا دوسرا گردہ بیٹی کی محبت کی چاہ میں ہدیہ کردیا۔ میں ہسپتال نہ جاسکا اور میں جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔ شاید میں بے حس معاشرے کا ایک بے حس نمائندہ تھا۔ ۔۔۔اور پھر سنا کہ تین دن بعد شفاعت بھائی کی موت ہوگئی۔
میں آج بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ شفاعت بھائی کی موت ہوئی تھی یا بیٹی کے سر پر منڈلاتی موت کی موت ہوئی تھی۔ شاید یہ گتھی کبھی نہ سلجھ سکے اور میں اس سوال کے ساتھ ہی بے نیل و مرام دنیا سے چلا جاؤں ۔ یہ تو تھی کچی آبادیوں میں پلتے مزدوروں کی کتھا۔ “یہ سب جھوٹ ہے ایسا زندگی میں کبھی نہیں ہوسکتا، ایسا ایثار صرف خوابوں میں ہی دیکھا جاسکتا ہے یا فلموں میں۔ حقیقی زندگی اس قسم کے رویوں سے نا آشنا ہے۔” تم نے خفگی اور دکھ سے بھرپور لہجے میں میری کہانی کے اختتام پر تاثرات دیے۔ اور میں تمہیں اپنے پیٹ پر دس ٹانکوں کے نشان نہ دکھا سکا، جو اپنا ایک گردہ اپنی بیمار ماں کو ہدیہ کرنے کے لیے کرائے گئے آپریشن کے بعد، میرے جسم پر ثبت ہوئے!!

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *