• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جہنم کی ایئر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ-نیچے کو بہتا پانی(24)-حامد عتیق سرور

جہنم کی ایئر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ-نیچے کو بہتا پانی(24)-حامد عتیق سرور

عنوان پنجابی کے ایک محاورے سے مشتق( پانی نیویں تھاں نوں وگدا اے ) ہے جس کا مطلب نزلہ بر عضو ضعیف ہے یعنی ہر آفت اور بلا کا رخ بالآخر کمزور اور غریب کی گلیوں کو جاتا ہے۔

امریکہ کے 1932 کے الیکشن میں پہلی بار اس سے مختلف trickle down effect کا پہلی دفعہ ذکر ایک طنز نگار Will Rogers کے قلم سے ہوا جس نے اس بات کا مذاق اڑاتے ہوئے کالم میں لکھا تھا کہ
” سارا پیسہ امیروں کو یہ سوچ کر دیا گیا کہ ان کے خرچ کرنے سے بالآخر یہ غریب تک پہنچے گا ۔ ری پبلکن امیدوار Hoover چونکہ ایک انجینئر ہیں اس لئے سمجھے ہوں کہ پانی چونکہ اوپر سے نیچے آتا ہے اس لئے اگر اسے پہاڑ کی چوٹی ( امرا کی جیب ) میں ڈال دیا جائے تو یہ خود بخود خشک ترین تہ تک پہنچ جائے گا ۔ لیکن Hoover کو یہ پتہ نہیں پیسہ پانی کے بالعکس نیچے سے اوپر کو جانا چاہئیے ۔ اسے سب سے نچلے طبقے کو دے کر دیکھیں ۔ یہ ضرور ہے کہ شام تک دولت مند اس پیسے کو غریبوں سے ہتھیا چکے ہوں گے لیکن کم از کم اس طرح غریب کو ایک دفعہ پیسے کی شکل دیکھنا تو نصیب ہو جائے گی ۔”

وہ زمانہ کارل مارکس کے اثرات کا زمانہ تھا جس میں دولت اور وسائل کی تقسیم کی سب سے بہتر صورت کے بارے میں مباحثہ جاری تھا۔ ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام کے حامی تھے تو دوسری طرف اشتراکی۔ اور دیکھا جائے تو یہ بات آج بھی ری پبلکن / ڈیموکریٹ ، ٹوری / لیبر ، بی جے پی / کانگرس کے بیچ ہمیشہ ایک انتخابی issue بنتی ہے ۔
ہمارے یہاں بھی ایوب خان کے خلاف اٹھنے والی تحریک اسی کشمکش کا نتیجہ تھی کہ ترقی تھی تو مگر اس کے ثمرات ، وعدوں کے باوجود غریب تک نہیں پہنچے اور صرف بائیس خاندانوں تک محدود رہے ( گو اس بات کے صحیح یا غلط ہونے پر بحث ممکن ہے ) ۔
آج کا موضوع البتہ معاشیات کی اس بحث سے بالکل الٹ ہے ۔ یعنی اس بات پر تو دو رائے ہونا ممکن ہے کہ امرا کی ترقی سے غریب کے حالات اچھے ہوتے ہیں یا اس ترقی کا زیادہ تر ثمر امرا ہی کو نصیب ہوتا ہے لیکن اس بات میں شاید ہی کوئی اشکال ہو کہ امرا اور طاقتور لوگوں پر آنے والی زیادہ تر مشکلات ، غریب یا نچلے متوسط طبقے کو ضرور transmit ہو جاتی ہیں ۔ اور کئی صورت میں غریب طبقہ ، امرا کو بہت سی مالی اور دیگر طبعی پریشانیوں سے بچا کر رکھتا ہے ۔

بالواسطہ ٹیکسوں کے متعلق تو سبھی کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کا بوجھ ان اشیا یا خدمات کو وصول کرنے پر منتقل ہو جاتا ہے۔ سو گاڑی ، کوکا کولا ، سگریٹ ، گھی پر لگا سیلز ٹیکس / ڈیوٹی استعمال کرنے والے پر منتقل ہو جاتی ہے ۔ اور چونکہ غریب مہنگی اشیا استعمال نہیں کرتا تو اس لئے سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس ٹیکس کا غریب پر کوئی اثر نہیں زیادہ تر staple food اور دوا پر سیلز ٹیکس نہیں ہوتا۔ غریب کا دل سگریٹ ، چائے ، چینی کو کرتا ہے مگر یہ سمجھا جاتا ہے یہ مضر_ صحت اشیا غریب کو استعمال ہی نہیں کرنا چاہئیں ۔ Incidence of tax پر جدید ریسرچ اس سے ایک قدم آگے جاتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ امیر یا خوشحال طبقے پر لگا یہ ٹیکس بھی غیر محسوس طریقے سے غریبوں کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے ۔ جس کی ایک صورت مہنگائی کے باوجود مزدور کی تنخواہ کا نہ بڑھنا یا کم ہونا یا غریب کا بے روزگار ہو جانا ہو سکتی ہے ۔ صاحب کی مہنگی گاڑی لینے کے نتیجے میں گھر کے ایک دو ملازم بھی کم ہو سکتے ہیں اور کسی اور قسم کی بچت سے غریب کے کاروبار وغیرہ بھی رک سکتے ہیں ۔ مثلا” اسی مہنگی گاڑی کی بدولت صاحب کے دوسرے بنگلے پر کام وقتی طور پر رک سکتا ہے جس سے کوئی پچاس کاریگر/ مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں ۔

بلا واسطہ یعنی ڈائرکٹ ٹیکسوں کے بارے برسوں تک معیشت دانوں کا یہ خیال تھا کہ ان ٹیکسوں کا اثر ٹیکس دینے والے کی جیب پر جاتا ہے مگر اس صدی کے اوائل سے بہت سے معاشی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ۔ ان کے خیال میں مارکیٹ پاور کی موجودگی میں ڈائرکٹ ٹیکس بھی نچلی / اگلی سطح پر منتقل ہو جاتے ہیں ۔ مثلا” اگر آپ کسی بڑی کمپنی ( جیسے کہ نیسلے ، یونی لیور ، ریکٹ اینڈ کولمین ) پر انکم ٹیکس کی شرح بڑھا دیں تو خود سے یہ اضافی ٹیکس دینے کی بجائے ان کمپنیوں کے پاس اس ڈائریکٹ ٹیکس کو pass on کرنے کے کم از کم پانچ راستے ممکن ہیں ۔ ایک یہ کہ اپنے شئیر ہولڈر کو منافع کی تقسیم روک دیں یا کم کر دیں ۔ اس صورت میں ٹیکس کا بوجھ کا کچھ حصہ شئیر ہولڈرز پر منتقل ہو گیا ۔ دوم ، اپنی اشیا کی قیمت بڑھا کر کچھ بوجھ صارف پر ڈال دیں ۔ سوم سپلائرز/ وینڈرز کا کریڈٹ کم کر دیں ۔ چہارم اپنے ملازم یا ان کی تنخواہ کم کر دیں اور پنجم اپنے قرض خواہوں یعنی بینکوں وغیرہ سے اپنے قرض کی شرح کو renegotiate کریں تاکہ کچھ بوجھ ادھر بھی جائے ۔ یہ سب شاید بہت آسان نہ ہو مگر مارکیٹ پاور کے ساتھ یہ ممکن ہے ۔

اس سے بھی زیادہ آسان مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ حکومت سگریٹ کے استعمال کو کم کرنے کے لئے ٹیکس لگائے اور سگریٹ پینے والا ( گھر کا کمانے والا) اپنے کام کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے ڈر سے سگریٹ تو کم نہ کرے مگر پیسے کی کمی کی وجہ سے اپنے بچوں کی آئس کریم بند کردے ۔ یعنی ٹیکس لگا کر آدمی کی سگریٹ کم کرنا چاہی مگر اس کا اصل نشانہ وہ بچہ بنا جس سے آئس کریم چھن گئی ۔
یعنی وہی مثال کہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

( کہ شہد کی مکھی کو باغ میں گھسنے نہ دو کہ پھولوں سے رس چوس کر چھتہ اور شہد بنائے گی ۔ چھتے سے موم حاصل ہوگی ۔ موم سے شمع بنے گی اور شمع کے جلانے پر پروانہ آئے گا اور جل کر مر جائے گا )

اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ نئے ٹیکس ، بینکوں کی شرح سود میں اضافہ ، مہنگائی ، سرکاری اخراجات میں کمی شاید معاشرے کے اس طبقے تک محدود نہیں رہتی جدھر target کی جاتی ہے بلکہ trickle down ہوتے ہوئے اس کا نمایاں حصہ متوسط اور غریب طبقے پر منتقل ہو جاتا ہے ۔ یعنی ان میکرو اکنامک اشاریوں کے worsen ہونے سے ( جو کہ حکومت / مرکزی بینک کی fiscal اور monetary پالیسی سے بدلتے ہیں) زیادہ تر معاشی تنگی اور بوجھ اسی مارکیٹ میکانزم سے کم وسائل والے طبقے کو منتقل ہوتا رہتا ہے اور امیر اور وسائل رکھنے والا طبقہ اس سے زیادہ تر محفوظ رہتا ہے ۔ یعنی گجراتی میمنوں کی اصطلاح میں ان اقدامات سے امرا کو صرف نفع میں نقصان ہوتا ہے جب کہ سفید پوش غربت کے گڑھے میں گر جاتے ہیں اور غریب کی زندہ رہنے کی کشمکش اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔

چونکہ نئے مالی سال کی آمد آمد ہے اور ملکی معاشی مسائل بھی گھمبیر ہیں اس لئے ان تمام باتوں پر سوچنا اور تحقیق کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ حکومتی اقدامات یوں وضع کئے جائیں کہ اضافی معاشی بوجھ معاشرے کے اس طبقے پر پڑے جو اس کا بوجھ اٹھانے کی وسعت رکھتے ہیں اور یہ خیال رہے کہ مارکیٹ میں اضافی بوجھ کا trickle down effect کم استطاعت والے طبقے پر کم سے کم منتقل ہو۔ بہت سی تحقیق اور علم اس ضمن میں موجود بھی ہے اور درکار بھی ۔ اس لئے کہ بغیر تفصیلی تحقیق کئے نئے ٹیکس ، ان کی شرح میں اضافہ ، بینکوں کی شرح سود میں اضافہ یا افراط_ زر میں بڑھوتری امرا کی بجائے نچلے اور متوسط طبقے کو زیادہ متاثر کرتی ہے اور تحقیق سے ان اقدامات کے مضر اثرات کو کافی حد تک کم کیا جانا ممکن ہے

جاری ہے

Advertisements
julia rana solicitors london

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply