خالص پاکستانی کی ضرورت ہے

پاکستان میں جب دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے،تب چالیس ہزار سے زائد دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے ،بڑے بڑے کمانڈر یا سرنڈر کر گئے یا پھر جیلوں میں گل سڑرہے ہیں ، دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے کلبوشن کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ، اور دہشت گرد تنظیمیں مرنے پر آ گئیں، اب جب پاکستان میں سب کچھ صفایا ہو گیا، تب ہی ایران کو یاد کیوں آیا کہ وہ دھمکی دے ؟تب ہی افغانستان نے کیسے جرات کی کہ پاکستان کی سرحد پر حملہ کرنے کی کوشش کرے ۔بارڈر کی خلاف ورزی کی انڈیا کو کیا ضرورت پڑی؟اور اس سب میں ہماری آرمی کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیوں کہ یہ کام ملک کے سفارتکار کرتے ہیں یا سیاستدان کہ پڑوسی ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں لیکن جب اتنی ابتر صورت حال ہو عوام پھر بھی اپنے حکمرانوں سے سوال نہ کریں تو پھر کیسے ہم قوم ہونے کے دعوے پر فخر کر سکتے ہیں ۔لگتا ہے جتنا دہشت گردی کا نیٹ ورک تھا وہ توڑ دیا گیا تب ہی اب بیرونی آقاؤں سے مدد لی جا رہی۔
اگر اس وقت دیکھا جائے تو،اس وقت دو لاکھ آرمی مردم شماری میں مصروف ہیں اور دو سے تین لاکھ کے درمیان ملک کے اندر جو دہشت گرد ہیں ان کے خلاف آپریشن کر رہی ہے، ایسے میں ہماری آرمی کسی اور جنگ میں نہیں الجھ سکتی ۔ہمیں پاکستانی ہونے کہ ناطے اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔ ہمارے ملک کو ایسے پاکستانیوں کی ضرورت ہے جو پارٹی سے بالاتر ہو کر سوال پوچھ سکیں، ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے ایم این اے سے ، ایم پی اے سے اور منسٹر سے کہ اس نے ایسے دشمنوں کے خلاف اپنا کیا کردار ادا کیا ؟؟؟یہاں لوگ کسی سیاستدان کو گالیاں دینے با جماعت آ سکتے ہیں اوراس کی غلط باتوں کو سپورٹ کرنے والے بھی کھلے عام پھرتے ہیں ، کرپشن کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے سپریم کورٹ میں رٹ کر دیتے ہیں اور فیس بک کی پوری پوری وال کرپشن کرنے والوں کے تحفظ میں سیاہ ہو جاتی ہے، اگر نہیں بولتے تو ملک کے تحفظ کے لئے ، پیارے وطن کے لئے سب کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔ملک میں چوہا مر جانے پر شور مچا کر دنیا کو یہ بتانے والا میڈیا کہ پاکستان کے حالات خراب ہیں ،یکدم اس کو بھی چپ لگ گئی یہ سب کیا ہو رہا ہے کیا یہ سمجھا جائےکہ میڈیا پاکستان سے کنٹرول نہیں ہوتا اس کے تانے بانے کہیں اور جا کر ملتے ہیں۔۔۔ خدارا پاکستانی بن جائیں ، کوئی سیاسی پارٹی مقدم نہیں ، اگر کچھ مقدم ہونا چاہے تو صرف پاکستان، پاکستان سلامت رہنا چا ہیے اور اس کی حفاظت اور سر بلندی کے لیئے ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا ۔

افراز اخترایڈوکیٹ
افراز اخترایڈوکیٹ
وکیل ، کالم نگار ، سوشل ایکٹویسٹ، گلوبل پیس ایمبیسڈر ،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *