لکھنو کا اک کتب خانہ۔۔۔ رشید ودود

قبلہ یوسفی کی ایک کتاب ہے، خاکم بدہن، اس کتاب کا پہلا خاکہ ایک با ذوق بک سیلر پر ہے، صبغے اینڈ سنسز، یہ کتب فروش بڑا با ذوق تھا، کتابوں سے اسے بڑی محبت تھی لیکن اس کی یہ محبت اس کی تجارت کیلئے بڑی مضر ثابت ہوئی، گھوڑے کو گھاس سے محبت نہیں ہونی چاہیے، قصائی کو بکرے سے الفت نہیں ہونی چاہیے، ٹھیک اسی طرح سے ایک کتب فروش کو بھی کتابوں سے محبت نہیں ہونی چاہیے، کتب فروش یا کسی بھی تاجر کو اتنا چرب زبان ہونا چاہیے کہ وہ وہ اپنی چرب زبانی سے سیاہ کو سفید ثابت کر دے، لیکن میں آپ کو صبغے کی دکھ بھری کہانی کیوں سنا رہا ہوں، اس لئے سنا رہا ہوں کہ آج میری ملاقات ایک ایسے ہی صبغے سے ہوئی، جسے کتابوں سے عشق ہے، جو اتنا با ذوق ہے کہ اپنے مکتب  میں ہی اپنی ذاتی کتابیں بھی رکھتا ہے، میری مراد #_پاریکھ_بک_ڈپو کے مالک شہود الحسن بھائی سے ہے-

شہود بھائی سے بڑا پرانا وعدہ تھا کہ جب کبھی لکھنؤ آؤں گا تو آپ کے مکتبے پر ضرور آؤں گا، خدا جھوٹ نہ بلوائے ‘کبھی  کا استعمال تو ہم نے بلاوجہ کی کسر نفسی دکھانے کیلئے کیا ہے، وگر نا ہفتے میں ایک چکر ہمارا لکھنؤ کا لگ ہی جاتا ہے، خدا کا شکر ہے کہ چکر کسی سے نہیں چلتا، لیکن شہود بھائی سے کیا ہوا وعدہ ایفا نہیں ہو سکا، آج جب ٹرین چھوٹ گئی تو ہم نے سوچا کہ موقع  اچھا ہے، دوڑ کر کے شہود بھائی ہی سے مل آتے ہیں، خیر اللہ کا نام لے کر شہود بھائی کو فون کیا لیکن مغرب کا وقت تھا، اس لئے وہ فون رسیو نہیں کر سکے، اللہ کا نام ہم نے اس لئے لیا تھا کہ فون پر ہماری بھونڈی آواز سن کر کے لوگ ہمیں پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں، کل فرحان کو فون کر کے اپنا نام عبدالرشید بتایا تو وہ ظالم پوچھنے لگا کہ کون عبدالرشید؟ ہم نے کہا کہ ارے ہم رشید ودود بول رہے ہیں، اس ستم گر نے پھر وہی سوال دہرا دیا کہ کون رشید ودود؟ ہم جھنجھلا کر کے غالب کو گنگنانے والے ہی تھے کہ تب تک اس نے ہمیں پہچان لیا، اخاہ! آپ وہی بیلن گزیدہ رشید بھائی ہیں، جو طوطے کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلاتے ہیں، ہم نے منمناتے ہوئے اعتراف جرم کیا کہ ہاں برخوردار! ہم وہی ‘مومن مبتلا، ہیں، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، یہاں تک لکھ چکے تھے کہ _مٹھو_میاں نے دخل در معقولات کیا کہ ہاں! اب غالب کا وہ شعر بھی سنا دو، جو گنگنانے والے تھے، مٹھو کو ہماری یادداشت پر ذرا بھی بھروسہ نہیں، اس لئے ثبوت کے طور پر ہم نے بھی ‘گنگنا کے مستی میں ساز لے لیا میں نے، چھیڑ ہی دیا آخر نغمہء وفا میں نے، یاس کا دھواں اٹھا ہر نوائے خستہ سے، آہ کی صدا نکلی بربط شکستہ سے………….

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

غالب کے کلام میں ہم نے مجاز کی رومانیت کا جو بے جوڑ پیوند لگایا ہے، اس سے غالب کی روح بھی قبر میں بلبلا اٹھی ہوگی، خیر ہمیں کیا، ہم تو شہود بھائی سے ملنے جا رہے تھے، وثیق اور ہم امین آباد کے چوراہے سے ایک بیٹری پر قیصر باغ کیلئے بیٹھ گئے، راستے میں وثیق نے پوچھا کہ جانا کہاں ہے، میں نے کہا کہ ندوے کے آس پاس، تب تک ڈرائیور نے پیشکش کیا کہ بیس روپے  سواری کے حساب سے دے دیجئے، نان اسٹاپ پہنچا دوں گا، اندھے کو چشمہ چاہیے اور مجھے سواری، راستے میں شہود بھائی نے کال بیک کیا کہ کون؟ ہم نے نام بتایا، بعد میں شہود بھائی نے بتایا کہ ہم نے فون رکھنے کے بعد غور و فکر کیا تو پھٹ سے آپ ذہن میں آ گئے، خیر ہم ڈھونڈھتے ڈھانڈھتے پاریکھ بک ڈپو تک پہنچ ہی گئے، شہود بھائی بڑی محبت سے ملے، شہود بھائی نے دیر تک گلے لگایا رکھا، گلے لگانے کا یہ دورانیہ بڑھ بھی سکتا تھا لیکن ہم دونوں کو ایک دوسرے کی توند ڈسٹرب کر رہی تھی-

ہم نے سوچا تھا کہ تھوڑی دیر ملاقات کریں گے، دو چار کتابیں لیں گے اور پتلی گلی سے کھمبا بچا کر نکل لیں گے لیکن صاحب! دو چار کیا، سرسری نگاہ ہی نے بتا دیا کہ آج ہمارے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں بچے گی، عجیب کشمکش میں پڑ گئے کہ کس سے دامن بچا کر نکل جائیں اور کسے دامن میں چھپا لیں، پہلے ہی مرحلے میں چار کتابوں پر ہم نے ندیدوں کی طرح جَھپَٹَّا مارا، پھر مجروح کے مصرعے کی طرح کتابیں منتخب کرتا چلا گیا اور اپنا بوجھ بڑھاتا چلاتا گیا، شہود بھائی سے ہم نے کہا کہ اچھا یہ بتائیں کہ یہاں دوکان کھولنے کا آئیڈیا کیسے آیا؟ شہود بھائی نے شہریار کا شعر پڑھ دیا-

امید سے کم چشم خریدار میں آئے
ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے

ہم نے لقمہ دیا کہ اور آتے ہی چھا گئے، شہود بھائی کہنے لگے کہ چھا کہاں گئے، ہم نے سوچا تھا کہ ندوے کی چھاؤں میں ہم بھی پھلیں گے، پھولیں گے لیکن ہم تو مرجھا کے رہ گئے ہیں، طلبا آتے ہیں اور آتے ہی شرما کر ‘آداب مباشرت، مانگنے لگتے ہیں، جیسے شادی کی بڑی جلدی ہو، بعض دولہے تو لجا کر کے ‘تحفہء دولہن، تک مانگ بیٹھتے ہیں، میں انہیں ہڑبڑا کر تحفۃ العروس پکڑا دیتا ہوں، میں نے کہا کہ یہ المیہ صرف ندوہ کا نہیں، تقریباً تقریباً ہر مدرسے کا ہے، طلبا کو تو چھوڑیئے، اساتذہ میں بھی مطالعے کا ذوق باقی نہیں رہا، پھر وہ کہاں سے بچوں کی ذہنی تربیت کریں گے، اب تو ہر اسکالر ردے پہ ردا ہی چڑھا کر اپنی نام نہاد قابلیت بگھارتا ہے، اوریجنل فکر تو کسی کے پاس رہی ہی نہیں، وہی ‘جزیرۃ العرب، ہے، وہی رابع صاحب ہیں لیکن ایک سَتِّیار مترجم آتا ہے اور رابع صاحب کی ‘جزیرۃ العرب، کو عربی کا جامہ پہنا دیتا ہے، کوئی پوچھے کہ اے تہذیب انسانی کے استادو، یہ ظلم آرائیاں تا کے، یہ حشر انگیزیاں کب تک؟ اردو داں حلقے کی حد تک یہ کتاب بہت مفید ہے لیکن اس کے عربی ترجمے کی کیا افادیت ہے، کوئی مجھے بتائے گا؟

شہود بھائی بلا کے سگریٹ نوش ہیں، انہوں نے سگریٹ کا ایک کش کھینچا اور ہم نے داہنے کَلِّے میں پان کی گلوری دبائی اور شہود بھائی سے پوچھنے لگے کہ اچھا یہ بتائیں کہ مطالعے کا رجحان کم کیوں ہوا، شہود بھائی کہنے لگے کہ پہلی وجہ تو اساتذہ اور مربی ہیں لیکن دوسری وجہ موبائل ہے، ہم نے تائید میں فورا سر ہلا دیا اور پھر چونچ کھول کر ہم بھی گویا ہوئے کہ واقعی گوگل نے طلبا کو کسی کام کا نہیں چھوڑا، گوگل طلبا کیلئے نہیں، اسکالرز کیلئے ہے، بھئ! لکھتے لکھتے آپ کو کسی حوالے کی ضرورت پڑی، وہ حوالہ آپ کے پاس موجود نہیں، اب آپ نے گوگل کر لیا اور چلتے بنے لیکن طلبا نے جب مطالعہ کیا ہی نہیں ہے تو انہیں حوالہ کیسے معلوم ہوگا؟ وہ تو صرف گوگل پر ہی نربھر ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ گوگل نے ہماری رسائی بعض نادر و نایاب کتابوں تک بھی کر دی ہے لیکن اس میں بھی کمال گوگل کا نہیں، جتنا آپ کے مطالعے کا ہے، آپ کی کثرت معلومات کا ہے، اب ہمیں سودا یا میر و غالب کا کوئی مصرعہ بھولتا ہے تو ہم ان کے دیوان یا کلیات کی طرف رجوع نہیں کرتے، بلکہ گوگل سرچ کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ بار بار ہمیں گوگل ہی سے کام چلانا پڑتا ہے، یہی اگر ہم نے کلیات یا دیوان کا سہارا لیا ہوتا تو آج وہ مصرعہ ہمارے ذہن میں دس سال کیلئے پھر نقش ہو جاتا –
شہود بھائی نے کتب خانہ نہیں قائم کیا ہے، ایک نگار خانہ سجایا ہے، جہاں پہنچ کر ہم جیسوں کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، ہم نے زبردستی خود کو روکا، وگر نا ہمیں بھی قلی بننا پڑتا، ہر نوع کی کتابیں، ہر فن کی کتابیں، نادر و نایاب کتابوں کا شہود بھائی نے ایسا گلدستہ سجایا ہے کہ جس کا ہر پھول مہک رہا ہے، کتابوں پر نظر پڑنے کے بعد ہم نے بیساختہ کہا کہ ابھی تک آپ کیلئے کوئی فتوی کیوں نہیں ڈھالا گیا، ہر وہ مصنف، جس کا نام سن کر کے مولویوں کا بلڈ پریشر ہائی ہوتا ہے، وہ کتابیں آپ کے کتب خانے میں موجود ہیں، شہود بھائی نے زیر لب مسکرا کر کے اعتراف جرم کیا کہ بقول شخصے! میں ہاتھ سے نکل چکا ہوں، میری گمرہی میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی ہے-

آپ نے غالب کا وہ مصرعہ سنا ہی ہوگا کہ ‘ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ جس محفل میں ہو، یہی حال ہمارے مرشد کا بھی ہے، ہم لاکھ نالائق سہی لیکن ہم جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے جواں سال مرشد کا ذکر شر ضرور کرتے ہیں، ہم نے مرشد کی ‘کرامات، کا ایسا نقشہ کھینچا کہ شہود بھائی مچل کر کہنے لگے کہ اب کی بار دلی جاؤں گا تو مرشد سے ضرور ملوں گا-

فقیر عشق سے ملیئو ضرور دلی میں
وہ ایک شخص نہیں، مستقل ادارہ ہے

تھوڑی دیر کیلئے حضرت ابو اشعر فہیم مدظلہ العالی کا ذکر شر بھی آیا، اس کے قصور وار شہود بھائی نہیں، ہم ہیں، ہم نے کہا کہ اشعر کے ابا بھی ماشاءاللہ بڑے باذوق ہیں، نبض شناس ایسے ہیں کہ ایک بار میرے لئے کتابوں کا پورا بنڈل بھیجا لیکن اس بنڈل میں ہر کتاب میری پسند کی تھی، بڑی بات ہے بھئ، بڑی بات ہے-

پہلی تصویر کی کتابیں میری ہیں اور دوسری تصویر کی کتابیں شہود بھائی کی ہیں، جو انہوں نے اپنے مطالعے کیلئے اپنے مکتبے میں رکھ چھوڑی ہیں، بد نظر اٹھنے ہی والی تھی ان کتابوں کی جانب کہ شہود بھائی میری بدنیتی تاڑ گئے، کہنے لگے کہ نہیں ان کتابوں کو نہیں دوں گا، حکم حاکم مرگ مفاجات، بہرحال

بہت جی خوش ہوا حالی سے مل کر
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *