کرک میں شدت پسندی کی خطرناک لہر۔۔۔عارف خٹک

کرک تعلیمی لحاظ سے خیبر پختونخوا  کا ایک  اچھی استعداد کا حامل جنوبی ضلع ہے۔ جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ زمینی وسائل جس میں گیس اور پٹرول سر فہرست ہیں۔سے مالا مال ہے۔دہشت گردی کے خلاف امریکی اور اتحادیوں کی خود ساختہ جنگ جب افغانستان اور عراق پر مسلط کردی گئی۔تو افغان جنگ کے بعد پاکستان کے افغانستان کے ساتھ مُلحقہ قبائلی علاقے اس جنگ سے شدید متاثر ہوگئے۔ دہشت اور دہشت گردی کی نئی لہر کی وجہ سے پاکستان کے سارے صوبے بشمول خیبر پختونخوا  بھی شدید متاثر ہوگئے۔
اس جنگ کو جہاں پاکستان کی پشتون بیلٹ میں بُہت شدت سے لڑا گیا۔ وہاں یہ جنگ اسی شدت سے کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور کے پوش آبادیوں میں بھی لڑی گئی۔خیبر پختونخوا اس حوالے سے زیادہ بدقسمت واقع ہوا ہے،کہ وہ کابل سے قریب رہا۔اور طورخم کی تجارتی راہ داری جو امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کیلئے اہم تھی۔ سو مسلح تنظیموں کی دلچسپی طورخم خصوصا ً  پشاور پر مرکوز رہی۔

حیرت کی بات یہ کہ پورے پاکستان میں سب سے پُرامن علاقہ خیبر پختونخوا  کا جنوبی ضلع کرک ہی تھا۔ اس کی بنیادی وجہ جہاں تعلیم کی اچھی شرح تھی وہاں کرک کے ہر گھر میں دو تین فوجی جوانوں کی وجہ سے کوئی بھی خٹک مرد کسی مذہبی یا مسلح تنظیم کو سپورٹ نہیں کرسکا۔2007 میں لتمبر سے جہاد کے نام پر ایک آواز مولانا سلیم اللہ خان نے اٹھائی۔مگر عوام کے شدید ردعمل کی وجہ سے ملکی اداروں نے اس آواز کو خاموش کرڈالا۔
لال مسجد واقعہ کے بعد کرک کے ایک جوشیلے نوجوان اور متحدہ مجلس عمل کے ایم این اے شاہ عبدالعزیز نے ببانگ دہل جہاد اور جہادیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھی۔ یہاں تعجب کی بات یہ تھی کہ پاکستان میں اس کی آواز سنی گئی مگر کرک کے لوگوں نے اس آواز کو مکمل طور پر مسترد کرڈالا۔

9/11 کے بعد کرک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مدارس بہت تیزی سے کُھلنے لگے۔ ان مدارس کا ٹارگٹ وہ پسماندہ علاقے تھے جہاں میڈیا کی رسائی ناممکن تھی۔ حیرت انگیز طور پر لڑکیوں کے مدارس کو بہت پذیرائی ملی۔ لوگ غریب تھے اور مذہبی نظریات کے حامل تھے۔ سو آسان تعلیم بچوں اور بچیوں کیلئے یہی مدارس قرار پائے۔

سب کچھ آرام سے چلتا رہا۔ مگر 2014  کے دوران کچھ باتیں سرگوشیوں میں سُنی جانے لگیں  کہ فلاں مدرسے کے مہتمم کے تعلقات فلاں جہادی تنظیم سے ہیں مگر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کہ علاقہ سے کوئی بھی طالب علم کسی جہادی تنظیم کا کارکن نہیں بنا۔

پچھلے ماہ کرک کے وہ علاقے جن کی سرحدیں وزیرستان سے ملتی ہیں۔ شہیدان، غول بانڈہ، بہادرخیل، دریش خیل اور نیکی پال کے کچھ بچے جہادی تنظیموں کو جوائن کرچکے ہیں۔ کرک کی تاریخ میں پہلی بار خٹک بھی مجاہد بننے لگے ہیں  جوکہ ناقابل یقین سی بات ہے۔
ذرائع کے مطابق ان مدارس کے اساتذہ اور مہتمم جہادی تنظیموں کیلئے مین پاور سپلائی کررہے ہیں اور ہر بچے کی بھرتی پر ان کو پچاس ہزار سے لیکر ستر ہزار تک کا کمیشن بھی ساتھ میں مل رہا ہے۔
جب ان مذکورہ علاقوں کا دورہ کیا گیا تو ایسی ایسی ہوشربا داستانیں سننے کو ملیں کہ عقل دنگ رہ گئی۔جہاں سے صحافت کی حدود ختم ہوجاتی ہے ۔چار دن قبل پاک فوج اور مقامی پولیس نے مل کر ان علاقوں کا محاصرہ کرلیا تھا۔اور مطلوب ملزمان کو حوالے کرنے کیلئے عمائدین کےساتھ مذاکرات شروع کردئیے ہیں۔

مجھے ذاتی طور پر ان باتوں سے کُچھ لینا دینا نہیں کہ فوج کا کیا کردار ہوگا؟یا ان مدارس کے ذمہ داران کیا نتائج حاصل کرنا چاہ رہے ہیں؟مجھے فقط اس بات نے پریشان کردیا ہے کہ ایک تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور بگڑے ہوئے سیاسی ماحول کی موجودگی میں یہ ضلع شدت پسندی کیلئے ایک آئیڈیل انتخاب ہے۔ جہاں بیروزگاری کی شرح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔
سو تب سے لے کر اب تک انہی  سوچوں میں غلطاں و پیچاں ہوں کہ کیا اب یہ جنگ کرک جیسے تعلیم یافتہ ضلع کے ریگزاروں میں لڑی جائےگی؟

“میرے منہ میں خاک”۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *