مقدمہ پنجاب کا۔۔۔شازیہ چھینہ

کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پنجاب اور پنجابی قوم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت احساس عدم تحفظ اور تنہائی کا شکار کیا جا رہا ہے؟کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پنجاب اور پنجابی کے خلاف نفرتوں کو ہوا دینا سالوں سے جاری ہے وہ بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ۔پنجابی وہ مظلوم ہے جو اس ملک کی پیداوار کا سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے اور پھر بدلے میں بلوچ سے اسکی گیس پٹھان سے اس کی بجلی اور سندھی سے تو مفت میں طعنے کھاتا ہے۔ حالانکہ  بجلی گیس کے بل سے لے کر عام ٹیکس تک پنجاب اور پنجابی دیتا ہے کچھ بھی پنجابیوں کو مفت میں نہیں ملتا ۔اور باقی صوبے کتنی ادائیگی کرتے ہیں سب کو پتا ہے اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور سردیوں میں گیس کی شکل نہیں دیکھنے کو ملتی ہمیں پر بل پورا بلکہ باقی صوبوں کا خسارہ  دیتے ہیں بھی ہمارے بل میں ڈال دیا جاتا ہے۔مگر ہم نے نہ کبھی اپنی زرعی پیداوار کے طعنے دیے ہیں اور نہ اس پہ کوئی رعائت ہمیں دی جاتی ہے۔پنجابی  وہ بے قصور اور مظلوم قوم ہے جو سندھی بلوچ کشمیری اور پٹھان سے گالی بھی کھاتا ہے اسکی نفرت بھی برداشت کرتا ہے اور ان کو اپنے ہاں محبت بھی دیتا ہے۔کاروبار بھی زمین بھی اور رہنے کو چھت بھی۔اور پھر وہی لوگ اس سے اسی کی دھرتی کا بٹوارا کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں ۔۔۔جنوبی پنجاب میں  اگر یہ ہونا جائز ہے تو پھر یہ اصول سندھ کی مہاجر اور بلوچستان کی ہزارا کمیونٹی پر کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کچھ نا شکرے سیاستدان اسی مٹی کا کھا کر اسی کا پی کر یہیں عالی شان محل بنا کر یہیں کے لوگوں سے پاور لے کر یہیں کے ایک میدان میں یہیں کے لوگوں میں پاور شو کرتے ہوئے اسی دھرتی کے خلاف زہر اگلتے ہیں اسکو ملنے والے فنڈز پر ماتم کرتے ہیں پنجاب کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں اور اس دھرتی کو توڑنے کے لیے مکے دکھاتے ہیں اور اس سارے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے پنجابیوں سے ہی ووٹ مانگتے ہیں۔یقین کرو تب وہ اپنے سیاسی قد سے بہت چھوٹے بلکہ سیاسی بونے لگتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پنجابیوں پر انکی ہی دھرتی تنگ کی جا رہی ہے اور ان کو اپنے ہی ملک میں غاصب لٹیرے اور ظالم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اچھے یا برے لوگ کہاں نہیں ہوتے تو کیا یہ دہرا اور منافقانہ رویہ نہیں ہے کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوجی جرنیل یا سیاستدان و حکمران کے خلاف نفرت کا بھگتان تو پورے پنجاب کو بھگتنا پڑے اور سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے ایسے ہے سرداریوں مزاریوں، بگٹیوں ،خانوں، جاموں، جرنیلوں اور انتہا پسند گروپوں کی کرتوتیں ان کی ذاتی ہو جائیں؟   یہ پنجاب کا ہی حوصلہ ہے کے یہ بلاوجہ کی نفرت وہ سالوں سے سہہ رہا ہے اور اس پر اپنے بیٹوں کی لاشیں بھی وصول کرتا ہے ۔کوئی مجھے بتائے کہ آج تک پنجاب نے بھی ایسی کوئی لاش بھیجی ہے؟یہ نفرتیں پنجاب کے حصے میں ہی کیوں؟ پنجابی فوجیوں مزدوروں اور ملازمین کو کوئی شوق نہیں ہے کہ وہ بلوچستان جائیں  اور اپنے سر کٹوائیں بلکہ وہ مظلوم تو حکم کے غلام ہیں جہاں ڈیوٹی آرڈر آیا پہنچ گئے مگر اس سے پہلے پنجاب کے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے پٹھانوں، جنوبی پنجاب میں آکر آباد ہونے والے بلوچوں اور پٹھانوں اور پنجاب کی یونیورسٹیز میں پڑھنے والے ہزاروں  بلوچ اور پٹھان سٹوڈنٹس پر بھی ایک نظر ڈال لو ۔۔۔۔کیا یہ پنجابیوں کا حق نہیں مار رہے آپکو پتا ہے ہر سال کتنے پنجابیوں کو  ان کی وجہ سے ان کے اپنے صوبے میں اپنے حق سے محروم ہونا پڑھتا ہے؟ مگر پنجابیوں نے کبھی ان سے نفرت نہیں کی نا ان کی لاشیں بھجوائی۔۔۔کیونکہ پنجابی ان کو اپنا بھائی مانتے ہیں ۔عظیم قوم ہیں ہم جو گھر آئے لوگوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں ان کے سر نہیں کاٹتے۔ مجھے یہ بتاو کہ یہ جو پنجاب میں جگہ جگہ بلوچی سجی ، سندھی اور کراچی  بریانی ،شنواری ریسٹورنٹ ہزارا گڈز اور ایسی بے شمار چیزیں  ہیں کیا یہ پنجاب کے بڑے دل کا ثبوت نہیں ہیں؟ کوئی  مجھے پشاور سوات لاڑکانہ یا کوئٹہ میں پنجابی ریسٹورنٹ یا لاہوری چرغہ ہی کھول کے دکھادے ۔یہاں پنجاب میں بلوچی سندھی کشمیری اور پشتو نام آپکو جگہ جگہ دکانوں مارکیٹس سڑکوں گلی محلوں اور چوکوں کے نظر آئیں گے مگر کسی دوسرے صوبے میں کوئی پنجابی ایسا کر کے دکھائے ۔کبھی آپ نے پنجابیوں میں بھی دوسرے صوبوں یا انکے کے لوگوں یا ان کی زبان کے خلاف یہ نفرت دیکھی ہے جو ہم پنجابیوں کو سہنا پڑتی ہے۔ ہر روز ہمیں یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ ہم تو سب کا حق کھا کے بیٹھے ہیں ۔کبھی عام پنجابی کے حالات دیکھے ہیں ۔عام پنجابی کا تو سیاست اور اس کے گورکھ دھندوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ پنجاب اور پنجابی کے خلاف نفرت کا یہ عالم ہے کہ حالیہ ہونے والی مردم شماری میں پنجاب وہ واحد صوبہ ہے جس کے آبادی بڑھنے پر اسکی قومی اسمبلی میں سیٹیں بڑھانے کے بجائے کم کر دی گئی ہیں اور یہ 9 سیٹیں پنجاب سے چھین کے بلوچستان کےپی اور وفاق کو دے دی گئی یعنی پنجاب میں ماوں نے بچے جننے بند کر دیے ہیں ۔کمال کی بات یہ ہے کہ اس سارے ظلم کو آئینی بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی لائی گئی اور وہی سیاستدان اور لوگ جن کے خلاف نفرت ایک عام پنجابی برداشت کرتا ہے انھوں نے پنجاب پر مارے جانے والے اس شب خون کے حق میں ووٹ دیے۔کسی اور صوبے کے ساتھ یہ ہوتا تو پورا ملک صف ماتم بن جاتا۔ اور اس پر ظلم یہ کہ پنجاب نے جن بلوچوں اور  نیازیوں اور جاموں کو پنجاب میں جگہ دی  ان ہی کے زریعےآج  پنجاب کو توڑنے کی بات کی جاتی ہے اور باقی صوبوں میں ایسی بات پر سینہ کوبی شروع ہو جاتی ہے۔پنجا ب کے خلاف نفرت اور انتہا  پسندی اتنی بڑھ چکی ہے کہ ان کا بس چلے تو پنجاب کو نقشے سے ہی غائب کر دیں ۔ یہ پنجاب ہی ہے کہ جہاں جماعت اسلامی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف  جیسی پارٹیاں اچھا خاصا ووٹ لیتی ہیں اور حکومتیں بھی بناتی ہیں اور پنجاب کو گالی بھی دیتی ہیں اور اس کے خلاف نفرت بھی پھیلاتی ہیں اور اس کے “ٹوٹے” کرنے کی بات بھی سینہ ٹھونک کے کرتی ہیں(کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے)  کوئی پنجابی پارٹی دوسرے صوبے سے صرف ووٹ لے کے دکھا دے۔ پنجابی وہ قوم ہے کہ جب ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو پنجابیوں کا خون پانی کی طرح بہا لاکھوں  پنجابیوں کے خون سے پنجاب میں  چھٹا دریا بہہ نکلا، لاکھوں پنجابی عورتوں کی عزت گئی، ان کی لاشوں سے کنویں بھر گئے، دنیا نے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت دیکھی اور وہ پنجابیوں کی تھی ۔سرحد کے دونوں طرف پنجاب اور پنجابی مولی گاجر کی طرح کٹتا رہا اور وہ لوگ جو آج پنجاب سے نفرت کرتے ہیں ان کے گھروں تک تو اس آگ کی گرمی جس میں پنجاب جل جل کر راکھ ہوتا رہا اور اس خون کی ہولی جوپنجابیوں کے خون سے کھیلی گئی اس کی ہوا بھی نہیں پہنچی ۔اور آج کچھ گندے انڈوں کے اعمال کی سزا پورے پنجاب کو دیتے ہوئے کسی کو شرم نہیں آتی۔ پنجاب پر اپنے احسان جتلاتے وقت کوئی اپنی تھالی میں رکھے کھانے کو نہیں دیکھتا ۔پنجابیوں کو لاشیں بھجواتے وقت کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پنجاب تمہارے کتنے بیٹے پال رہا ہے۔یہ پنجاب ہی ہے کہ جس کی یونیورسٹیوں میں   کے پی کے کے سراج الحق کی جماعت اسلامی سندھ کے بھٹو اور زرداری کی پیپلز پارٹی اور عمران نیازی کی تحریک انصاف اور بلوچ سٹوڈنٹس کے نہ صرف ونگ ہیں بلکہ وہ اتنے مضبوط ہیں کہ ہماری یونیورسٹیز بند کر سکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں ۔کوئی پنجابی سٹوڈنٹ کسی دوسرے صوبے میں  اول تو کراچی کے علاوہ کہیں ملے گا ہی نہیں اور ہوگا بھی تو ایسا سوچ کے دکھائے ۔یہ پنجاب ہے جہاں دوسرے صوبوں کے طلبا کے لیے سپیشل کوٹے بھی ہیں اور دیگر سہولیات و وظائف بھی، باقی صوبے پنجابی طلبا کو کوٹا دینے کے بجائے ان کے سر کاٹنے کو ترجیع دیں گے۔ یہ پنجاب کا ہی حوصلہ ہے  کہ گالیاں بھی کھاتا ہے اور لاشیں بھی وصول کرتا ہے۔ یہاں پنجاب میں کسی بلوچی کسی پٹھان کسی سندھی یا کشمیری پر معمولی  تشدد بھی ہوا ہوتا تو ہر طرف ہاہاکار مچی ہوتی پنجاب اور پنجابی کے خلاف۔ بلکہ یہاں پنجاب کی یونیورسٹیوں میں دنگےکرنے پر اگر دیگر صوبوں کے طلبا کو تھانے لے جایا جائے تو ہر طرف سے گلے پھاڑ پھاڑ کر مظلومیت کے رونے روئے جاتے ہیں اور پنجابیوں کا خون پانی سے بھی سستا ہے باقی صوبوں میں اس پر سب کی زبان پر چھالے پڑ جاتے ہیں ۔پنجابی وہ قوم ہے جو پنجاب میں بھی بلوچوں اور پٹھانوں سے مار کھاتی ہے اور پنجاب سے باہر بھی۔پھر بھی پنجابی ظالم ہے ۔اور اب تو پنجاب کے خلاف محاز کو بہت مظبوط ہاتھوں سے دست شفقت اور سر پرستی بھی حاصل ہے لہذا مجھے ڈر ہے کہ پنجاب میں بھی وہ دن نہ آجائے کہ باقی صوبوں کے خلاف نفرت ہی نفرت ہو۔اللہ وہ دن نہ دکھائے کہ نفرت اور صوبہ پرستی کی یہ آگ پنجاب میں بھی جل اٹھے کیونکہ حالیہ سالوں میں ہونے والی پنجاب کشی کی آگ کی تپش اب میرے جیسے عام پنجابی بھی محسوس کرنے لگے ہیں ۔بے چینی، تنہائی  اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے جو جہاں عام پنجابی کو باقی صوبوں سے دور کر رہا ہے وہیں اس کو  مغربی اور مشرقی پنجاب کے درمیان کچھی خونی لکیر سے آزاد بھی کر رہا ہے۔کیونکہ پنجابی سرحدکے اس پاربھی مظلوم ہے اور اس پار بھی ۔میرا مقصد صوبوں کی نفرت کو ہوا دینا نہیں ہے بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ باقی صوبوں کے عوام کی طرح پنجابی بھی مظلوم اور پسے ہوئے لوگ ہیں جن لوگوں نے تمہیں لوٹا ہے انھوں نے ہمارا خون بھی چوسا ہے۔کبھی آکر عام پنجابی کا حال دیکھو ۔بلکہ پنجابی سندھی بلوچی پختون سب کے سب مظلوم ہیں کوئی کسی کا حق نہیں کھا رہا۔فی کس آمدن و خرچ کل آبادی صوبے کا زاتی ریونیو اور پیداوار اور  نیشل پیداوار اور ریونیو میں صوبے کی کمائی نکال کے دیکھ لو۔ سب کا حق اور سب کا خون تو کرسیوں کے چند کیڑےکھا پی گئے اور اب وہی ہم سب کو ایک دوسرے کے خلاف لڑا رہے ہیں ایک دوسرے کے گلے کٹوا رہے ہیں ۔ جاگ پنجابی جاگ ،جیے سندھ،پختون تحفظ اور بلوچوں کے حقوق کی تحریکیں تو بہت چلاتے ہو ایک مشترکہ “تحریک عام آدمی ” بھی چلا کر دیکھ لو شاید بات بن جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *