دی میسڑو آف مون لائٹ/ابو جون رضا

The Maestro of Moonlight

اسٹیج پر اندھیرا ہے، ہلکی روشنی سامنے پڑ رہی ہے ۔ اندھیرے میں مجمع کی سانسوں کی آواز گونج رہی ہے جو نظریں گاڑے ہوئے اسٹیج پر دیکھ رہے ہیں۔ اچانک ایک دھماکا ہوتا ہے، روشنیوں کے ہالے میں سے ایک دبلا پتلا شخص نمودار ہوتا ہے جو فیڈورہ کیپ پہنے ہوئے ہے ، ظاہر ہوتے ہی وہ پنجوں کے بل کھڑا ہوجاتا ہے ، اس کے گھٹنے مڑے ہوئے ہیں، کمر خم ہے اور ایک ہاتھ آگے کی طرف کیپ پر رکھا ہوا ہے۔ مجمع کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ اس انداز کو اگر لیونارڈو ڈاونچی دیکھ لیتا تو قدرت کا عظیم شاہکار قرار دے کر مجسمہ بنانے کے لیے کمر کس لیتا۔

لوگوں کے جذبات کس طرح ابھرتے ہیں ، اگر یہ دیکھنا ہے تو مائیکل جیکسن کا کوئی بھی کنسرٹ دیکھ لیجیے۔

کنگ آف پاپ ، کنگ آف میوزک، دلوں پر راج کرنے والا جادوگر جس کو دیکھ کر منٹو کا جملہ یاد آتا ہے کہ

“حسین چیز ایک دائمی مسرت ہے۔ آرٹ جہاں بھی ملے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیئے”

مائیکل جیکسن تخلیق کار لوگوں کی دنیا میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جتنا جی لیا وہی بہت زیادہ تھا۔ ان جیسے لوگ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہر وقت خود کو تبدیل شدہ حالت میں لوگوں کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ یہ کم از کم اس دنیا میں کسی بڑے اداکار کے لیے بھی بہت مشکل بات ہے۔

رنویر کپور سے کپل نے پوچھا کہ آپ کو جب بھی ہم دیکھتے ہیں تو مختلف انداز میں پاتے ہیں،کبھی بال بڑے ، کبھی پونی، کبھی عجیب سا چشمہ تو اس کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

اس نے جواب دیا کہ اگر اداکار کو لوگ ایک جیسے انداز میں ہر وقت دیکھیں گے تو بور ہو جائیں گے۔

اس کی بات سے بہت حد تک اتفاق ہے مگر رنویر بھی تخلیق کار نہیں ہے۔ مائیکل جیکسن تخلیق کار تھا جسے ہم انگلش میں Creator کہتے ہیں۔ آپ مائیکل کی پرانی نئی کوئی بھی البم اٹھا کر سنیں بلکہ اس کی وڈیوز دیکھیں ، وہ ایک انداز سے گاتا یا پرفارم کرتا نظر نہیں آئے گا۔

ہمارے دوست غنی بھائی ، مائیکل جیکسن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج کل کے دور میں اگر آپ ایک یو ٹیوب چینل بنا لیتے ہیں تو لوگوں سے چینل سبسکرائب کرنے کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں، ایک چینل موناٹائیز ہوجائے تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے، مائیکل جیکسن نے اس وقت دنیا کو حیران کیا جب ٹیکنالوجی اس لیول پر نہیں تھی۔ کیسٹس کا زمانہ تھا ، ٹی وی بھی دنیا میں ہر گھر میں موجود نہیں تھا، “مگر وہ آیا ، اس نے دیکھا اور فتح کرلیا”، یہ جملے اگر کسی پر صادق آتے ہیں تو وہ بلاشبہ MJ ہے۔

غنی بھائی کی بات سن کر مجھے یاد آیا کہ پڑوسی ملک کے ایک بڑے معروف اداکار کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے تیس ملین سے فالورز کم ہوگئے تھے ، اس پر انہوں نے اعلان کیا کہ میں ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کررہا ہوں، یہ اعلان سن کر ٹوئٹر کی پوری ٹیم جہاز چارٹرڈ کروا کر ان کے شہر پہنچ گئی اور اداکار سے ملاقات کرکے ان کو مفید مشورے دیے۔ لیکن انہی صاحب کے شہر میں جب مائیکل شو کرنے آیا تو پینتیس ہزار لوگ اس کو دیوانہ وار دیکھنے جمع ہوئے تھے۔ کنگ آف پاپ نے اسی ایک کنسرٹ سے ایک رات میں لاکھوں ڈالر کمائے اور سارا پیسہ نوجوانوں کی فلاح کے پراجیکٹ کو دان کرکے چلا گیا۔

مجھے یاد ہے کہ مائیکل جیکسن کو پڑوسی ملک کے ایک معروف ڈانسر نے ڈانس مقابلہ کا چیلنج دیا تھا۔ مائیکل جیکسن نے تو شاید توجہ بھی نہ دی ہو مگر اس ڈانسر کی لاٹری نکل آئی، وہ راتوں رات مشہور ہوگیا۔

کچھ سالوں پہلے میں نے اسی ڈانسر کو دیکھا کہ وہ اسٹیج پر “مون واک” کرکے دکھا رہا تھا۔ دیکھ کر ہنسی آئی کہ کس بوتے پر مائیکل کو چیلنج دینے چلے تھے؟ مائیکل دنیا کے ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جن کی پرفارمنس کو دیکھ کر لوگوں نے اس کی نقل اتاری اور خود اسٹار بن گئے۔

مائیکل جیکسن کتنے خیراتی کام کرتا تھا ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں۔

مائیکل جیکسن نے 1992 میں “ہیل دی ورلڈ فاؤنڈیشن” کی بنیاد ڈالی، جس کا مقصد دنیا بھر کے بچوں کی حالت کو بہتر بنانا تھا۔ اس فاؤنڈیشن کی کچھ اہم خیراتی کاموں کی تفصیلات میں یہ کام شامل ہیں۔

– سراجیوو کو 46 ٹن فوڈ سپلائیز فراہم کرنا۔
– ہنگری کے ایک بچے کے جگر کا ٹرانسپلانٹ کرانا۔
– معذور بچوں کو لاکھوں ڈالر کے عطیات دینا۔
– بچوں کے ہسپتال اور کینسر کی  تحقیقات میں مدد کرنا۔
– یونائیٹڈ نیگرو کالج فنڈ اور
Michel Jackson UNCF Endowed Scholarship Fund
کو عطیات دینا۔
– پرنس ٹرسٹ اور
Great Ormand Street Children’s Hospital
کو مالی معاونت دینا۔

– ایچ آئی وی/ایڈز فنڈز اور اس حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کی مدد کرنا۔
– بچوں کی تعلیم اور بہبود کی معاونت کرنا

مائیکل نے فلاحی کاموں پر اتنا خرچ کیا کہ اس کے خود کے دیوالیہ ہونے کی نوبت آن پہنچی تھی۔ یہ بات، سو روپے کا نوٹ اگر کہیں گر جائے تو اس کو صدقہ کہہ کر خدا سے کچھ نہ کچھ نکلوانے والے نہیں سمجھیں گے ۔

تھرلر میں مائیکل جیکسن مردوں کو قبروں سے باہر لایا اور پھر ان کے ساتھ ڈانس کیا، بعد میں یہی گانا جب دوبارہ پکچرائز ہوا تو مردے موجود تھے، مگر قبرستان بیک گراونڈ میں نہیں تھا۔ زومبیز کا کانسیپٹ بعد میں دنیا نے تھرلر سے گود لیا۔

اسموتھ کرمنل کی پکچرائزیشن سے پہلے ایک خاص جوتا بنوانا، اس کو پیٹنٹ کروانا پھر ڈانس کرتے ہوئے سکسٹی ڈگری کے اینگل سے جھکنا، یہ مائیکل جیکسن کا ہی خاصہ تھا۔

میں نے نیٹ جیو پر ایک ڈاکیومینٹری دیکھی تھی جس میں کسی کنسرٹ سے پہلے مائیکل جیکسن کی تیاری کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ڈانس کرنے والے گروپ کے لڑکا لڑکی پہلے انٹرویو اور ڈانس کی پرفارمینس سے گزرتے تھے۔ ان میں سے جو شارٹ لسٹ ہوتے تھے وہ مائیکل جیکسن کے سامنے پرفارم کرتے تھے۔ پھر ان میں سے کچھ خاص لوگوں کو مائیکل جیکسن منتخب کرتا تھا۔

اسی طرح سے مائیکل کے گانے پر آرکسٹرا بجانے والوں کی بھی الگ ہی کلاس ہوتی تھی۔ گٹار یا ڈرم بجانے والے نیٹ جیو کے پروگرام میں بتا رہے تھے کہ مائیکل گانا گاتے ہوئے ڈانس بھی کرتا ہے جو بذات خود بہت بڑی کلا ہے، سر تال اور لے، پھر پورے جسم کی حرکات ، دونوں کو بیلنس کرتے ہوئے بیک گراونڈ میں بیٹس پر توجہ رکھنا تقریباّناممکن بات ہے۔ جس کو مائیکل جیکسن اس حد تک نبھاتا تھا کہ ڈرمر یا گٹارسٹ اگر پریکٹس سیشن میں پلے کرتے ہوئے کوئی غلطی کرتا تھا تو مائیکل وہیں اس کو ٹوک دیتا تھا ۔

جان توڑ پریکٹس سیشنز کے بعد یہ لوگ کنسرٹ میں اسٹیج پر دنیا کے سامنے پرفارم کرتے تھے۔

جون تئیس دو ہزار نو میں ایک کنسرٹ “This is it” کی ریہرسل سے واپسی پر مائیکل جیکسن کی طبیعت خراب ہوئی, اس کے ڈاکٹر کونراڈ مری کی غلط دوا کی ڈوز کی وجہ سے یہ لیجنڈری انسان دنیا سے چلا گیا۔

مائیکل جیکسن نے ایک سو پچاس گانے لکھے اور بیس ایسی اسٹیج پرفارمنس دیں جو یادگار ہوگئیں ۔ اپنے مشہور ترین گانوں کی ٹیونز بھی مائیکل جیکسن نے خود کمپوز کیں۔ ایک مرتبہ اس نے گانوں کی کیسٹ ریکارڈ کروائی اور پھر جب خود بیٹھ کر دوبارہ سنی تو مکمل طور پر ان کو ریجیکٹ کردیا۔ یہ اپنی تخلیق کو اجاڑ دینے والی بات ہے، مگر کلاسیک لوگوں کو بہت مشکل سے کچھ پسند آتا ہے۔

ہمارے دوست کہتے ہیں کہ ہم تو اسی دن مائیکل جیکسن کو دل دے بیٹھے تھے جب اس نے برٹنی اسپئیر کے ساتھ پرفارمنس دیتے ہوئے گانا گاتے ہوئے اس کے قریب آکر بیک ورڈ سلپ کیا تھا۔

میں نے اپنے دوست عمار سے پوچھا کہ اس شخص کا سحر دنیا سے کب ختم ہوگا ؟ اس نے جواب دیا کہ تخلیقی لوگوں کا سحر انمٹ ہوتا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کو بنانے کے بعد قدرت سانچہ توڑ دیتی ہے۔

اے آئی نے مائیکل کے لیے کچھ نئے ٹاٹئل تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے “دی میسڑو آف مون لائٹ” اور ” دی ڈانس ڈیونٹی” مجھے اور میرے دوستوں کو بہت پسند آئے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

آرٹ کے اس عظیم دیوتا کو اس کے پرستاروں کا سلام پہنچے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply