مدارس کا فرسودہ نصاب اور ملحدین

یہ سنہ 2004 کی بات ہے، میں نے اسلامک ریسرچ شروع کی، کتابیں جمع کیں اور پڑھنا شروع کر دیا۔ دو سال بعد میرے پاس تمام مذاہب و مسالک کی پندرہ ہزار سے زائد کتابیں موجود تھیں جو اب لگ بھگ پینتیس ہزار سے متجاوز ہیں۔ اس لائبریری پراجیکٹ میں آڈیو ویڈیو بیانات شامل تھے، دیگر مذاہب کی ویڈیوز بھی تھیں، جادوگروں کی ویڈیوز، شمشان گھاٹ کی ویڈیوز، اگھوریوں سادھوؤں کی ویڈیوز الغرض بہت کچھ تھا۔۔۔میں آج سے دس سال پہلے اسلام آباد کے آدھے سے زیادہ مدارس میں گیا، ان کے مدیر اعلی سے بات چیت کی، میں نے منتیں کیں کہ صاحب مجھے اجازت دیں ،آپ کے مدارس میں کمپیوٹر لائبریری پراجیکٹ بنانا چاہتا ہوں، چندہ میں جمع کروں گا، کمپیوٹر میں لاؤں گا، کتابیں بھی میں دوں گا سب کچھ میں کروں گا۔۔۔لیکن انہوں نے اجازت نہیں دی ۔ان کے خیال میں یہ وقت کا ضیاع اور ایک فضول کام تھا، انہوں نے میری کتابوں کی فہرست اور آڈیو ویڈیو کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔
آج اس واقعے کے دس سال بعد بھی ہمارے طلباء میں علم کی وہ روح بیدار نہیں ہو پائی ،جس کی مجھے خواہش تھی، وہ اپنے مذہب اور مسلک کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ، اساتذہ کے پڑھائے رٹے رٹائے چار چھ حنفی آئمہ کے اقوال کے علاوہ کچھ نہیں آتا،آج بھی ہمارے طلبہ پر دوسرے مسالک و مذاہب کی کتابیں پڑھنے پر پابندی ہے، اپنے فرقے سے باہر کسی بھی مولانا عالم فاضل کی تقریر سننے پر پابندی ہے، اگر کوئی طالب علم پڑھ لے اور کلاس روم میں سوال اٹھانا شروع کر دے تو اسے مدرسے سے نکال دیا جاتا ہے،آٹھ سال ایک ہی فقہ پڑھا پڑھا کر ہم بندے کو کسی دوسری طرف سوچنے کے قابل ہی نہیں چھوڑتے، ہمارا طالب علم سات سال اپنی مسلکی کتابیں پڑھتا ہے اور آٹھویں سال میں دورہ حدیث کروا دیا جاتا ہے، یوں کہ طالب علم باری باری بس عربی متن پڑھتے جاتے ہیں اور باقی سب سنتے ہیں۔ اگر کوئی حدیث اپنی فقہ کے خلاف ملے تو استاد محترم اس حدیث کا جواب بتاتے ہیں کہ جب بھی فریق مخالف یہ حدیث پیش کرے تو فلاں فلاں جواب دینا ہے۔ مشکوٰۃ پڑھتے ہوئے ایک حدیث سامنے آئی، “مؤذن رسول حضرت بلال رضی اللہ عنہ تہجد کے لیے بھی اذان دیتے تھے”، ایک طالب علم نے پوچھ لیا استاد محترم ہماری فقہ میں تو تہجد کی اذان جائز نہیں، پھر حضرت بلال کی اذان کیسے جائز ہو گئی؟۔۔۔ جواب کی بجائے کلاس بدری ہو گی ۔غرض یہ کہ ہم مدارس میں ایک ایسی فوج تیار کرتے ہیں جو اسلام کی بجائے اپنے اپنے فرقے، مذہب اور مسلک کے عقائد و نظریات کا پرچار کرتے ہیں، دفاع کرتے ہیں۔
آٹھ سال تک ٹی وی، خبریں، اخبارات، رسائل، موبائل فون اور سوشل میڈیا سے دوری اور ایک ہی مکتب فکر کی فیڈنگ کا اثر ہمارے سامنے ہے، ہمارے مولوی، ہمارے علماء، ہمارے طلباء جمود کا شکار ہیں، یہ آج بھی الٹے سیدھے کشف و کرامات کے پیچھے چل رہے ہیں، یہ آج بھی اپنے اپنے اکابرین کے پائنچوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔لیکن کب تک؟ ۔۔۔۔آپ جدید ٹیکنالوجی سے کب تک بھاگ سکتے ہیں؟ اس ٹیکنالوجی نے بڑی لائبریریوں کو ایک چھوٹی سی یو ایس بی اور میموری کارڈ میں سمو دیا ہے، آج ہر طرح کی کتاب، ہر طرح کے مسائل لوگوں کو فنگر ٹپس پر دستیاب ہیں، آج گوگل سب استادوں کا استاد ہے، آج یوٹیوب پر ہر مسلک کے ہر مولوی کی تمام ویڈیوز دستیاب ہیں۔ آپ کب تک اپنے شاگردوں کی آنکھوں پر پٹی باندھیں گے؟ آپ کب تک ان کے کانوں میں موم ڈالتے رہیں گے؟ آپ کو ایک نہ ایک دن اپنی مساجد و مدارس کے دروازے کھولنے پڑیں گے، ورنہ علم کا یہ طوفان آپ کے دروازے کھڑکیاں توڑ کر اندر داخل ہو جائے گا، بہتر ہے کہ طوفان سے پہلے کچھ تیاری کر لیں۔
دس سال پہلے میں اکیلا تھا آج مجھ جیسے ہزاروں ہیں۔ الحاد آپ لوگوں کی نااہلی کی وجہ سے بڑھ رہا ہے کیونکہ آپ کے علماء کرام و مفتیان عظام جواب دینے سے قاصر ہیں اور اب تو آپ کے اپنے مدارس کے علماء بھی ملحد و گستاخ بن رہے ہیں، جانتے ہیں کیوں؟۔۔۔۔کیونکہ آپ نے انہیں ٹیکنالوجی ہضم کرنا سکھایا ہی نہیں، آپ نے ان کا دل و دماغ وسیع ہونے ہی نہیں دیا، ایک تنگ ذہن میں جب اتنی زیادہ معلومات اور علم آ جائے تو وہ پھٹ جاتا ہے، یہی کچھ ہو رہا ہے ہمارے ملحدین و منکرین کے ساتھ بھی۔۔۔ اب بھی زیادہ کچھ نہیں بگڑا، اب بھی وقت ہے، اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مساجد سے باہر آئیے، اپنے مدارس کو وسعت دیجئے صرف رقبہ نہ بڑھائیے بلکہ قلب و نظر کو وسعت دیجئے، آپس کی فقہی جنگ ختم کیجئے آپ کو اس سے بھی بڑے محاذ کا سامنا ہونے والا ہے۔

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *