• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سری لنکن لڑکیوں سے باتیں اور کولمبو نیشنل میوزیم ۔۔۔سلمیٰ اعوان

سری لنکن لڑکیوں سے باتیں اور کولمبو نیشنل میوزیم ۔۔۔سلمیٰ اعوان

چلو شُکر ناشتے میں پراٹھا آملیٹ تھا۔چائے تھی اور چھوٹے سے ٹرانسٹر پر دو شوقین لڑکیوں کے گانے سُننے کا چسکا تھا۔یہ سرزمین تو یوں بھی راگ و رنگ کی دلدادہ سمجھی جاتی ہے۔بّرصغیر کے پُرانے لوگوں کو اس کی بابت اور کسی بات کا علم ہو نہ ہو پر ریڈیو سیلون سے ان کی خوب شناسائی ہے۔خود میں بھی تو اسی صف میں شمار ہوتی ہوں۔
پراٹھا کوئی ہمارے ہاں کے پراٹھوں جیسا تھوڑی تھا۔نام کو گھی کا مسکہ تھا۔چلو شکر کچھ تو پیٹ بھرنے کو مل گیا تھا۔اگر رات کی طرح کوراچٹا جواب ہوتا تو بھئی ہم نے کیا کرلینا تھا۔اسی لیے  ہر نوالے پر شکر الحمداللہ بھی تھا۔
ڈائننگ روم میں زیادہ لڑکیاں نہیں تھیں۔یہ ایک طرح ورکنگ ویمن اور سٹوڈنٹس کا ملا جلا ہوسٹل تھا۔ایک حصّہ ہم جیسے سیاحوں کیلئے بھی مخصوص تھا۔
لڑکیاں چائے پیتے ہوئے گپ شپ کرتی تھیں۔ایک ریموٹ کنٹرول کے بٹن کو کھٹ کھٹ دبائے جاتی تھیں۔پھر ایک مدھر سی آواز پر دبانا رُک گئی۔گیت سنہالی میں تھا۔لڑکیوں سے مطلب پوچھا تو معلوم ہوا کہ سری لنکا کی ایک قدیمی فوک شاعرہ نونا کی شاعری ہے جسے عصرحاضر کی ایک گلوکارہ نے گایا ہے۔
اوہواِس چھوٹے سے سنہری گھڑے
جسے میں نے پانی سے بھرا
اور کنویں کے کنارے رکھا
ایک بدمعاش جسے پانچ اور آٹھ نہیں آتا
اُس نے میرا گھڑاچھپا لیا ہے
تم میرا گھڑا واپس کرو
تاکہ میں گھر جاسکوں

لڑکیوں کی انگریزی فراٹے مارتی گاڑی جیسی تھی۔مزہ آگیا۔ہم نے پوچھا کہ ابھی ہم باہر جارہے ہیں ہمیں کیا کیا چیزیں دیکھنی چاہیں؟
مجھے یوں لگا جیسے میں نے کِسی گرما گرم موضوع پر کِسی ٹاک شو کا بٹن دبا دیا ہو۔ ”ارے نیشنل میوزیم دیکھیں۔
کونے میں سے ایک تیکھی آواز اُبھری۔ سری لنکا کے آرٹ،نوادرات،ثقافت اور تاریخ سے لطف اندوز ہوں۔“
”ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں جائیں۔ ٹرانسنٹرسے کھیلتی ایک چُلبلی سی لڑکی بولی۔
Slave Island کو ذہن میں رکھیں۔بیرا Beira Lake کے نظارے لوٹنے ہیں یاد رکھیں۔“
ایک اور نے کہا”کولمبو فورٹ بھی دیکھنے کی چیز ہے۔Galle Face Road پر ایک بار نہیں کئی بار جائیں۔عمارتوں کی شاہانہ عظمت،تاریخ اور انکی قدامت سب آپ کی آنکھیں حیرت سے وا کریں گی۔آتے جاتے ہوٹلوں پر بھی نظریں ڈالتی رہیں کہ مزہ آتا ہے انہیں دیکھ کر اور ہاں گینگراGangara بُدھ ٹمپل ضرور دیکھنا ہے۔یہ یاد رکھنا ہے۔“

لڑکیوں نے ایک ہی سانس میں کِس تفاخر سے ڈھیروں ڈھیر نام گنوا ڈالے تھے۔ایک اورلڑکی نے اٹھتے ہوئے گرہ لگادی تھی۔کولمبو کے بارے تو کہا جاتا ہے ”دیکھنے کی چیز ہے۔اسے بار بار دیکھ۔تھوڑا سا اضافہ ہم لنکن لڑکیاں اس میں اور کردیتی ہیں۔شہر ایسی دلرباعی والا ہے کہ اس کی ہر چیز کا دیکھنے سے تعلق ہے۔
چلیے باہر آکر رکشے میں بیٹھے اور اُسے نیشنل میوزیم کے لیے  کہا۔درمیانی فاصلہ بہت تھا۔جہاں سے چلے تھے اسے فورٹ کہتے ہیں۔میوزیم کولمبو نمبر2میں تھا۔مگر وہ محاورہ کہیں اللہ میاں کے پچھواڑے والا بالکل درست تھا۔یوں بھی رکشہ اپنی چھوٹی قامت کی وجہ سے باہر کے نظاروں میں حائل رہتا ہے۔چلو بس یا ٹرین ہوتی تو اِس دُوری نے بھی لطف دینا تھا۔

یہ کولمبو کا بڑا بارونق علاقہ تھا۔سر مارکس فمینڈوماواتاSir Marcus Femando Mawatha روڈپر سبزے کے وسیع و عریض لانوں کے پس منظر میں راج ہنس کی طرح ایک سفید براق عظیم الشان عمارت پر پھیلائے ہنستی مسکراتی تھی۔ وسیع و عریض لان کے عین درمیان آ ہنی جنگلے اور اُن میں کھلے رنگا رنگ پھولوں کے اوپر ایک مجسمہ کھڑا تھا۔چند لمحوں کیلئے رُک کر اُسے بغور دیکھا۔
اس کے بانی ولیم ہنری گریگوری کا تھا جو برٹش دور میں جزیرے کا گورنر ہونے کے ساتھ لنکن ثقافت کے احیاء کا یقیناً  باپ کہلانے کا مستحق ہے۔ہاں البتہ ایک اور شخص بھی اِس بڑے کا م میں حصّہ دار تھا۔جس کا ذکر نہ کرنا زیادتی کے زمرے میں آتا ہے۔آراسی ماریکرویپچی Arasi Marikar Wapchie جو شیخ فرید فیملی کی نسل سے تھا۔سری لنکا کا یہ مور (مسلمان) خاندان کوئی لگ بھگ 1060 میں سری لنکا کے ساحلوں پر اُترا تھا اور پھر یہیں کا ہوگیا۔سری لنکا کے فلاحی کاموں میں اس خاندان کی بڑی خدمات ہیں۔
آراسی 1829 میں پیدا ہوا۔1925 میں وفات ہوئی۔کمال کا ماہر تعمیرا ت تھا۔کولمبو کی قدیم اور شاندار عمارات جو اس وقت شہر کا لینڈ مارک شمار ہوتی ہیں جن میں جنرل پوسٹ آفس،کولمبو کسٹم،پرانا ٹاؤن ہال،گیلی فیس ہوٹل،کلاک ٹاور جیسے نام ہیں جو اِس خاندان کے کولمبو کی تعمیر و ترقی میں حصّہ ڈالنے اور اس کا چہرہ سنوارنے کا اعتراف کرتے ہیں۔
اِس میوزیم کو بنانے میں آراسی ماریکر کی خصوصی توجہ،دلچسپی اور محنت شامل تھی۔

افتتاح کے دن برٹش گورنر کے ہمراہ برطانوی افسران کے ساتھ ساتھ عمائدین شہر،معززین مملکت کی خاصی تعداد تھی۔مسلمان بھی کافی تھے۔رسم کے اختتام پر گورنر نے مسٹر آراسی ماریکر سے پوچھا کہ اس نے میوزیم کے سلسلے میں جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ کِسی ایسی خواہش کا اظہار کریں جسے وہ پورا کرنے میں خوشی محسوس کرے۔آراسی میریکر نے میوزیم جمعہ کے دن بند کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اورکہا کہ جمعہ مسلمانوں کا سبتSabbath ہے۔اِس درخواست کو پذیرائی دی گئی اور اِسے قائم رکھا گیا۔
اور یہاں ایک بے حد دلچسپ،قابل غور،قابل عمل اور قابل فخر بات اور بھی ہے۔ جب آخری کینڈی شہنشاہ کا تخت و تاج اور دیگر شاہی اشیا ء کو میوزیم کی زینت بنایا گیا اور اس کی باقاعدہ نمائش ہوئی۔یہ 1948 آزادی کے بعد کی بات ہے۔انتظامیہ کو احساس ہوا کہ چار روزہ نمائش کے تسلسل میں جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے تعطل آرہا ہے جو نمائش کیلئے مناسب نہیں ہوگا۔بات ملک کے وزیر اعظم کو پہنچائی گئی۔مسٹر ڈی ایسScnanayake نے آراسی ماریکر کے پوتے سررزاق فرید سے صرف اُس جمعہ کو میوزیم کھولنے کی خصوصی درخواست کی جس کی سر رزاق فرید نے منظوری دی۔

واقعی آپ اپنے ملک و قوم کیلئے کام کرتے ہیں،آپ کسی مذہب،کسی رنگ نسل سے ہوں قابل عزت و احترام ٹھہرتے ہیں۔میرے ملک کا بھگوان داس مجھے شدت سے یاد آیا تھا۔جسٹس کارنیلس یاد آیا تھا۔کیا لوگ تھے۔اصولوں اور اخلاقی قدروں کے حامل۔
ٹکٹ خاصا مہنگا تھا۔غیر ملکیوں کیلئے ہر مقام پر جو تفریق روا رکھی جاتی ہے میرے خیال میں وہ اخلاقی لحاظ سے بہت نامناسب ہے۔دراصل یہ سب جدیدیت اور مادیت پرستی کے تحفے ہیں۔سیاح تو کِسی بھی ملک کیلئے رحمت ہیں۔اُس ملک کا اپنے اپنے وطنوں میں جاکر اشتہار ثابت ہوتے ہیں۔بہرحال یہ سب تو اضافی باتیں ہیں۔
آرکیالوجی اور سنہالی ڈکشنری آفس سے پتہ چلا تھا کہ نیچرل ہسٹری میوزیم اس کے پچھلی جانب ہے۔سوچا کہ چلو اگر موڈ بنا تو اُس پر بھی ایک نظر ڈال لیں گے۔
یہ آرٹ اور نوادرات کی شاہکار دنیا تھی۔وسیع و عریض ہال اندر ہی اندر ایک دوسرے میں کھلتے چلے جاتے تھے۔ کمرے،اور راہداریوں کے طویل سلسلے نظروں کو بھاتے تھے۔
بدھا کے کانسی کے خوبصورت مجسمے اورچوبی کندہ کاری کے شاہکارتھے۔آرٹسٹوں کے کمال فن کی داد نہ دینا کتنی زیادتی کی بات ہوگی۔جنہوں نے اپنی مذہبی شخصیات کے مجسموں،اُن کے استعمال میں آنے والی چیزوں کو جسطرح تراشا،خراشا اور مجسم کیا۔ اُس نے عقیدتوں پر مبنی داستانوں کو جنم دیا۔

کیسے فنکار تھے۔ایک ایک نقش میں رقص کے انداز، نشست و برخاست کے پوز،اُن میں جھانکتا اس کا قدرتی رنگ کیسے ایک ایک چیز میں نمایاں ہوا تھا۔کہیں قبل مسیح اور کہیں بعد مسیح کی چیزیں۔راجے مہاراجوں کے تاج،انکی شاہانہ کرسیاں،حنوط کیے ان کے سواری کے ہاتھی۔ تاہم سب سے زیادہ دلچسپ حصّہ زیورات کا تھا۔کیا فنکاری اور کیا کاریگری تھی۔میرا جی چاہا تھا کہ میں پاکستان کے سناروں سے کہوں کہ وہ سری لنکا کا چکر لگائیں۔ہاتھی دانت کی چیزوں کا ہی شمار نہ تھا۔خیر وہ تو ہونی ہی تھیں کہ ہاتھی دانت تو ان کے کیلئے گھر کی مرغی کی طرح ہیں۔
یہاں جزیرے کا ماضی تھا۔یہاں اس کا ہر عہد تھا۔یہاں تاریخ تھی۔یہاں وہ دنیا تھی جس کا نام کل تھا۔یہ داستانیں حیرت انگیز تھیں۔انسانی نفسیات کے پہلوؤں کو اجاگر کرتی اور یہ بھی بتاتی ہیں کہ انسان کی اخلاقیات نے اپنے ماضی سے کبھی کچھ نہیں سیکھا۔
اب بھوک زُورں پر تھی۔تھکن بھی تھی۔پیاس نے بھی حلق میں کانٹے سے اُگانے شروع کررکھے تھے۔سو سب سے پہلے تو باہر نکل کر سڑک کنارے کھڑے ریڑھی والے سے ناریل پیا۔رکشے میں بیٹھے۔

میوزیم میں ملنے والی فیملی کی ایک خاتون خاصی پڑھی لکھی لگتی تھی۔میرے پُوچھنے پر کولمبو یونیورسٹی کا بتایا تھاکہ قریب ہی ہے۔مہرانساء کے دریافت کرنے پر شاپنگ سنٹرز کے بارے تفصیلاً روشنی ڈالی کہ سلیو آئی لینڈ کے بازار کافی سستے ہیں۔ہاں اگر کلاس کی خریداری کرنی ہے تو پھر Pettahچلی جائیے وہاں تو ہر چیز کا ایک بازار ہے۔ہاں اگر کولمبو کا روشن اور تین دہائیوں پر مشتمل تاریخی چہرہ دیکھنا ہے تو فورٹ Fort جائیے۔گھومیے پھریے لطف اٹھائیے۔
میں نے اُسے بھوک کا بتایا کہ سب سے پہلے تو ہمیں پیٹ بھرنا ہے۔
”ارے بڑے مزے کی چیزیں ملیں گی وہاں۔“
تو اب اتنی تاب نہ تھی کہ بس میں بیٹھتے اور دھکے کھاتے۔رکشہ لیا۔رکشے والے نے جوگھمایا اور چکریاں دیں اُس نے ہماری چولیں تک ہلادیں۔چلو شکر عین بازار میں لائٹ ہاؤس کلاک ٹاور کے پاس اُتار دیا۔تو یہ فورٹ کا علاقہ تھا اور ہم کلاک ٹاور کے سامنے کھڑے تھے۔
اپنا فیصل آباد کا گھنٹہ گھر یاد آیا۔مگر بھئی یہ کہیں زیادہ خوبصورت تھا اور آخر کیوں نہ ہوتا۔ڈیزائن کاری کرنے والی کون تھی۔برٹش گورنر سر ہنری کی بیوی لیڈی وارڈ۔کلاک ٹاور چوراہے پر کھڑا ہے۔

بلندو بالا عمارتوں کے جلو میں ہنستا مسکراتا گہماگہمی سے لدا پھندا۔سارے میں آبنوسی رنگ بکھرا ہوا۔بیچ میں ہم دونوں بھی شامل ہوگئیں۔ویسے تو میں اُن کی رشتہ دار ہی نظرآتی تھی۔مہرانساء تو خاصی گوری چٹی تھی۔
عورتیں،لڑکیاں کہیں جینزاور ٹاپ میں کہیں چوڑی دار پائجامے قمیض میں،ساڑھیوں میں، لمبی میکسی ٹائپ فراکوں میں نظروں کو لبھاتی پھرتی تھیں۔مردوں کے ملبوسات میں بھی بڑا تنوع تھا۔دھوتیوں کے جلوے بھی تھے،پاجامے بھی چل رہے تھے اور پینٹ قمیضوں کی بھی بہار تھی۔بڑے رنگ بکھرے پڑے تھے۔ یہاں ریڑھیاں بھی تھیں،بیچ میں ہی رکشے اور گاڑیاں تھیں۔
اب جو مناسب سی دکان نظرآئی اسی میں گُھس گئیں۔ جو مینو آیا اور ہم نے پڑھا تو پلّے خاک نہ پڑا۔شکر کہ ویٹر لوگ سب انگریزی بولتے سمجھتے تھے۔اپنی ضرورت بتائی تو سر ہلا کر بولا vegeterian kottu آپ کو کھلاتے ہیں۔
اب جو کوٹوکی پلیٹ آئی تو پتہ چلا کہ اس میں سبزیاں ہیں،مچھلی ہے اور پراٹھا کے ٹکڑے ہیں۔سری لنکا مصالحوں کا گھر تو کھانے میں بھی خیر سے خاصی فراوانی جھانک رہی تھی۔چلو خیر ذائقہ چونکہ منہ کو نہیں لگا ہوا تھا اس لئیے کچھ اتنا مزہ نہ آیا۔
تو جب گھومنے پھرنے نکلے اور شہر کے تجارتی مرکز،تاریخی اور ثقافتی سرگرمیوں کے منبع شہر کے خوبصورت ترین چہرے کے نقش و نگار دیکھنے شروع کیے تو معلوم ہوا کہ اِن پرتگیزوں،ان ڈچ،ان انگریز پلانٹرز نے اپنے تجارتی مقصد کیلئے جو عمارتیں بنائیں انہوں نے تو اِسے حسین ترین بنا دیا۔یورکYork street پر ہماری مال روڈ کا گمان گزرتا ہے۔شاندار عمارتوں کے منفرد تعمیری انداز بندہ گردن اٹھا اٹھا کر ضرور چند بار دیکھتا اور سراہتا ہے۔

کیا بات تھی کارگلز ڈپارٹمنٹل سٹور کی۔سرخ اینٹوں سے آراستہ چہرہ جس پر سفید دھاریاں اس کی زینت کو بڑھاوا دیتی تھیں۔
اندر کی دنیا تو حیران کرتی تھی۔دکانیں جیسے سامان کی اُگل اچھل سے چھلکتی۔دو گلیاں چھوڑ کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلند ترین عمارت تھی۔کوئی چار گھنٹے ہم نے اس کی شاندار اورکہیں کہیں ماٹھی سڑکوں کی سڑک پیمائی کی۔پرانے پوسٹ آفس کی عظمت رفتہ کو دیکھا۔غفور بلڈنگز کی شاہانہ عظمتوں کو دیکھ کر اپنے لاہور کی شاہ دین بلڈنگز کو یاد کیا۔
لاکسالہ Laksala بھی اسی علاقے میں تھا۔کِسی نے کہا تھا کہ وہاں فیر پرائس شاپ کی چند دکانیں ہیں۔مہرالنساء ہینڈی کرافٹ کی دکان میں گئی اور میں کتابوں کی کھوج میں نکلی۔بک شاپ یورک York سٹریٹ میں تھی۔بہت بڑی جیسے کتابوں کا سمندرہو۔سیلز بوائے کی مدد سے اُس ڈھیر میں سے جو میرے سامنے رکھا گیا تھا۔میں نے سکون سے بیٹھ کر چھانٹی کی جو اچھی لگیں وہ خریدتی گئی۔یہ ناول تھے۔شاعری کا مجموعہ تھا۔سری لنکا پر چند معلوماتی کتابوں کی بھی خریداری کی۔
پھر پبلک سکوائر کے ایک کونے میں کھڑی ریڑھی پر میٹھی سی خوشبو بکھیرتا انناس کٹوایا اور وہیں سڑک کنارے بیٹھ کر کھایا۔
ہوسٹل اسی ایریا میں تھا۔واپسی کی اور دو گھنٹے کا آرام بھی۔رات ٹی وی لاؤنج میں لڑکیوں سے خوب خوب باتیں ہوئیں۔لڑکیوں نے گیت گائے۔ترجمہ بتایا۔
اے میرے پیار مجھے افسوس ہے
میں نے تمہیں تکلیف پہنچائی
اپنے آنسو پونچھ ڈالو
اور مجھے اپنے ساتھ لے چلو
مگر ہنستی باتیں کرتی لڑکیاں سب اُس وقت خاموش ہوگئیں جب میگنونہ فرنینڈو نے دہشت گردی پر ایک نظم سُنائی۔میگنونہ کا بھائی ایر فورس میں تھا۔اپنے اوسی کے ساتھ وہ ہیلی کاپٹرمیں مینار پر پٹرولنگ کے دوران تاملوں کی طرف سے کی جانے والی وحشیانہ کاروائی میں ہلاک ہوگیا۔

بہت سی باتیں سنہالیوں کی بابت ہوئیں۔لڑکیوں نے بڑی دلچسپی لی۔انجیلی انورادھا پورہ سے تھی۔سری لنکا کا شمال مغربی ضلع یہاں کولمبو میں میتھوڈسٹ کالج میں فورتھ ایر کی سٹوڈنٹ تھی۔
”ارے عجیب ہے یہ ہماری سنہالی سوسائٹی۔چودہ ذاتوں میں بٹی ہوئی،برتر اور کمتر ذاتوں کا گھمنڈ۔اور میں نے اس کی دلداری کرتے ہوئے کہا تھا۔
”گبھراؤ نہیں ہمارے ہاں بھی ایسی ہی لعنتیں ہیں۔برّصغیر کیا ساری دنیا ایسے ہی نسلی تفاوات میں اُلجھی ہوئی ہے۔
دیہی علاقوں میں مذہب اور روایات کا بہت گہرا دخل ہے ہاں البتہ شہری زندگی پر مغربی تہذیب کے اثرات،اعلیٰ تعلیم اور ماحول کا بہرحال اپنا اثر ہے۔شہری عورت میں دلیری اور جی داری کے ساتھ ساتھ خود پر اعتماد اور معاشی کفالت میں مرد کا ہاتھ بٹانے کا اعتماد بھی ہے۔
اب جو لڑکی گفتگو میں شامل ہوئی۔وہ لکھ شیتا تھی۔اپنے نام کے معنی کی طرح کچھ منفرد بھی دِکھتی تھی۔جو سنہالی تھی مگر مذہب سے بڑی بیزار اور بے نیاز سی دکھتی تھی۔
تامل اور سنہالی کلچر میں بہت ساری چیزیں مشترک بھی ہیں اورمختلف بھی ہیں۔تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ دیہی تامل معاشرہ زیادہ قدامت پرست اور روایات کا اسیر ہے۔لڑکی کو جوان ہونے پر سولہ دن ایک الگ ہٹ میں رکھا جاتا ہے۔کوئی پوچھے کہ ایک نوخیز بچی کو خاندان سے کاٹ کر ہٹ میں رکھنا کہاں کی دانائی ہے؟اِس ہٹ کو باقاعدہ تازہ پتوں سے بنایا جاتا ہے۔جب اُسے نصف ماہ بعد نکالا جاتا ہے۔فوراً غسل دینے والی خاتون مذہبی رسومات کے ساتھ اُسے پاک صاف کرتی ہے۔اِس عمل میں گھر کی عورتیں بھی حصّہ ڈالتی ہیں۔پھر اُسے ٹھوس غذا جن میں کچے انڈے،تل اور اس کا تیل اور پٹوPittu یعنی چاول کے آٹے سے بنایا ہوا پراٹھا کھلایا جاتا ہے۔ہاں البتہ سنہالیوں میں لڑکی کو اِس قیام کے دوران سوپ بھی پلاتے رہتے ہیں۔
سچی بات ہے کہ اس ظالمانہ رسم کے بارے کوئی اِن روایتی لوگوں سے پوچھنے والا نہیں۔
بختی فرنچ ادب پڑھتی تھی اور وہ تامل ہونے کے باوجود تامل معاشرے میں مرد کی حاکمیت کے سخت مخالف تھی۔
اس کے ناک کے فراخ نتھنے پھڑ پھڑاتے تھے جب وہ بات کرتی تھی۔تامل عورت کا کیا کام ہے۔صُبح اٹھ کر کولہو کے بیل کی طرح کام کرنا۔سارے ٹبر کو کھلا کر بعد میں ان کا بچا کچھا کھانا خود کھانا۔کیا میں ایسی بیوی بنوں گی۔ہر گز ہرگز نہیں۔میں مر سکتی ہوں مگر
یہ کام نہیں کروں گی۔

میری سویٹ سی بختی ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہے۔عورت تیسری دنیا کی یا پہلی دنیا کی۔تھوڑے بہت فرق کے ساتھ کم و بیش ایسے ہی حالات سے گزرتی ہے۔
یہ شام بہت خوبصورت تھی۔ایسی محبت والی لڑکیاں اور ایسی کھلی ڈُلی باتیں پھرہرشنی نے ایک گیت سُنایا۔کیا آواز تھی اور کیا شاعری تھی۔
محبت ایک دوسری دنیا میں لے جاتی ہے
خوبصورت پھولوں سے ڈھکی ہوئی
سند ر سے جذبات کی خوشبو سے مہکتی ہوئی
خزاں کے پتوں اور گلاب کی پتیوں سے
اپنا راستہ بناتی ہوئی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *