• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • کٹھوعہ معاملے کی نئی میڈیا رپورٹ کیوں لکھی گئی؟۔۔۔۔یاسمین رشیدی

کٹھوعہ معاملے کی نئی میڈیا رپورٹ کیوں لکھی گئی؟۔۔۔۔یاسمین رشیدی

کٹھوعہ ریپ اور قتل کی نئی میڈیا رپورٹ:اخبار کی اس رپورٹ اور ملزمین کی حمایت میں نکالی گئی ریلی میں کیا فرق ہے؟آپ کو کوئی فرق نظرآتا ہے؟تو کیابکاؤ میڈیاکے اس دور میں کسی بھی چیز کی توقع کی جا نی چاہیے؟

ہم نے میڈیا کے بارے میں جو بھی پڑھ سن رکھا ہے ،کیا اس طرح کی میڈیا ہمارے آس پاس ہے،اور کیا پچھلی چند ایک دہائی میں بالخصو ص گزشتہ تین چار برسوں میں میڈیا جمہوریت کے چوتھے ستون کی طرح نظر آرہی ہے ۔اس بات کو جاننے سمجھنے کے کئی پیمانے ہوسکتے ہیں ،لیکن آلٹ نیوز ہی پر دیکھ سکتے ہیں تو دیکھیے میڈیا کو کتنی جلدی ہے اورشاید کچھ خاص وجہوں سے اس عجلت پسندی میں وہ خاص کمیونٹی کے بارے میں خاص طرح کی زبان میں خاص طرح کی بولی بولتی ہے۔

اب میڈیا ؛میڈیا نہیں بکاؤمیڈیا بھی ہے۔اس کو خبریں سنانی نہیں ہیں ،اس کا صحیح صحیح تجزیہ نہیں کرنا ہے ،اس کو دعوے کرنا ہےاور خاص طرح کےایجنڈے کو پروجیکٹ کرنا ہے۔ان باتوں سے مکمل اتفاق نہیں کیا جانا چاہیے کہ شاید ہمارے ارد گرد کچھ لوگ ہیں ،چند ایک میڈیا ہاؤس ہیں جن میں سچ زندہ ہے یا زندہ رہنے کی مسلسل جد وجہد میں بھی وہ اپنے رول کو بھولا نہیں ہے۔

میں یہ باتیں کیوں کر رہی ہوں …؟ اس سوال کے جواب میں کہنے کے لیے میرے پاس نیا کچھ نہیں ہے ،لیکن جب لوگ کہتے ؛ فلاں اخبار ، فلاں میڈیا ہاؤس فلاں پارٹی کا ترجمان ہے ،اس کو سپورٹ کرتا ہے اورخاص طرح کی خبریں شائع کرتا ہے؛ تو اس کا پس منظر کچھ نہ کچھ تو ہوتا ہوگا؟ یہ سب جاننے سے زیادہ محسوس کرنے والی باتیں ہیں ۔

لیکن جب فیک نیوز کی دنیا میں ملک کی سب سے بڑی خبر کی تردید کوئی مؤ قر اخبار کردے تو ہمارا رد عمل کیا ہوگا۔سوشل میڈیا پر دیکھ لیجیے حالیہ کٹھوعہ معاملے میں ریپ نہیں ہونے کی رپورٹ پر لوگوں کا غصہ کس طرح پھوٹا ہے ۔شاید آپ کے اندر بھی اسی طرح کا غصہ ہوگا۔رپورٹ کے نام پر میڈیا وکیل بن کر جرح کرنے لگے تو اس میڈیا کو کس کا ترجمان کہیں گے ۔اس پر ضرور غور کیجیے ،ہاں ہوگا کچھ نہیں ،شاید یہی ہو جائے کہ وہ اخبار ہمارے گھروں میں آنا بند ہوجائے۔

Kathua-Gangrape-and-Murder

میں کٹھوعہ گینگ ریپ معاملے کی ہی بات کر رہی ہوں کہ ایک ہندی دینک نے ؛’پوسٹ مارٹم رپورٹ میں خلاصہ(انکشاف)، کٹھوعہ کی بچی سے نہیں ہوئی بدکاری (ریپ)‘کے عنوان سے رپورٹ شائع کی،ایک بار اس کو اپنی سائٹ سے ہٹایا پھر لگایا ۔یہ سب کیوں تھا؟اور اس کی نوبت ہی کیوں آئی کہ جمعہ کو جموں و کشمیر پولیس کو شام ساڑھے پانچ بجے اپنے ٹوئٹرپر اس طرح کی خبروں کو نہ صرف خارج کرنے کے لیے سامنے آنا پڑا بلکہ یہ بھی صاف کیا گیا کہ بچی کا ریپ ہواتھا اور میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ہی چارج شیٹ فائل کی گئی ہے۔دی وائر کی خبر میں اس رپورٹ کو پڑھیے ؛

اس طرح کی میڈیا رپورٹس کی وجہ سے یہ ریکارڈ پر رکھا جاتا ہے کہ میڈیکل ایکسپرٹس کی رائے کی بنیاد پر اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ ملزموں کے ذریعے وکٹم کا جنسی استحصال کیا گیا تھا…اسی کی بنیاد پر معاملے میں سی آر پی سی کی دفعہ 376(ڈی) جوڑی گئی تھی۔

اور جموں و کشمیر پولیس کے ایس ایس پی رمیش جالا نے دی وائرسے اپنی بات چیت میں بھی کہا کہ ؛

’گزشتہ دنوں پھیلائی گئی میڈیا رپورٹس غلط ہیں ۔ جانچ رپورٹ میں صاف کہا گیا ہے کہ وکٹم کا جنسی استحصال کیا گیا تھا اور ایسا میڈیکل ایکسپرٹس کی رائے کی بنیاد پر کہا گیا ہے۔‘

کٹھوعہ گینگ ریپ معاملے میں دینک نے اس طرح کی رپورٹ کیوں شائع کی اوریہ دعویٰ کیوں کیا کہ ریپ نہیں ہوا تھا۔ میں اس کو دعویٰ اس لیے بھی کہہ رہی ہوں کہ رپورٹ جس انداز سے لکھی گئی اس سے یہ نہیں لگتا کہ وہ رپورٹ ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ دینک کے رپورٹر نے خود ہی ساری جانچ پڑتال کر لی ۔آپ اس خبر کو پڑھ چکے ہیں تو دیکھیے کہ رپورٹرکیسے وکیل بن کربار بار اس طرح سے دلیلیں پیش کر رہا ہے جیسے وہ کورٹ میں کسی جج کے سامنے کھڑا ہو ،اور کسی کا کیس لڑ رہا ہو۔

وکیل کا کام وکیل ہی کرے تو اچھا لگتا ہے ،رپورٹر وکیل بن جائے تو رپورٹنگ کے نام پر خبر کتنی بچے گی ،جو ہوا ہے اس کی جانکاری اس رپورٹ میں کتنی ہوگی اور کیسی ہوگی ۔اس بات کا اندازہ آپ کر چکے ہوں گے۔ویسے ایک بار اور دینک کی رپورٹ کا اچھی طرح سے تجزیہ کر لیجیے ، اس کے بعد اس معاملے میں جموں بار ایسوسی ایشن کے کچھ وکیلوں کے رول اور ہندو ایکتا منچ کے مارچ کو یاد کیجیے ۔

ہندو ایکتا منچ کے ذریعے کٹھوعہ میں ریپ کے مبینہ ملزم کی حمایت میں ریلی /فوٹو : ٹوئٹر : نذیر مسعودی

اس معاملے میں 9 اپریل کو ریاست کی کرائم برانچ نے 18 صفحوں کی چارج شیٹ فائل کی ۔جس میں اس پورے معاملے کو پلانڈ قرار دیا گیا ۔ میڈیکل رپورٹ کےمطابق بچی کے ساتھ کئی بار ،کئی دنوں تک ریپ کیا گیااور پھر پتھروں سے مار کر اس کو قتل کر دیا گیا۔ اس میں یہ بات بھی کہی گئی کہ سانجی رام کے ساتھ اسپیشل پولیس آفیسر دیپک کھجوریا ریپ اور قتل کی سازش میں ملوث تھے۔یہ وہی ایس پی او کھجوریا ہیں جن کی حمایت میں ہندوتوا گروپ کے کچھ لوگوں نے ترنگے کے ساتھ باقاعدہ ریلی نکالی تھی۔ اور کچھ وکیلوں نے ان کا کیس مفت میں لڑنے کا آفر دیا تھا۔

خیر کرائم برانچ کی رپورٹ کے مطابق بچی کے گینگ ریپ اور قتل کے پیچھے خانہ بدوش کمیونٹی بکروال میں ڈر اور خوف پیدا کرنا تھا کہ وہ یہ علاقہ چھوڑ دیں۔اس کواس طرح بھی دیکھنے کی کوشش کیجیے کہ گھر والوں کواپنے ہی گاؤں میں بچی کے تجہیز و تکفین کی اجازت نہیں ملی ۔اور بچی کو پاس کے دوسرے گاؤں میں اپنی ہی کمیونٹی کے قبرستان میں دفنایا گیا۔ان کی وکیل کی وہ بات بھی یاد کیجیے کہ دیپیکا سنگھ راجاوت کو ابھی بھی یہ اندیشہ ہے کہ ؛’ لوگ یہاں مقدمہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

 

نئی دہلی میں میڈیا سے مخاطب دیپکا سنگھ راجاوت (فوٹو : پی ٹی آئی)

یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جموں و کشمیر پولیس کرائم برانچ نے دیو استھان سےملے بال کی ڈی این اے جانچ دہلی کے ایک فورینسک لیبارٹری میں کرائی اور رپورٹ میں ملزم کے ڈی این اے میچ ہونے کی بات بھی کہی گئی ۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متاثرہ کے جسم میں Clonazepamکی موجودگی بھی کنفرم کی گئی جو ایک طرح کی نشیلی دوا ہے۔یہ جانکاری میں نے اس معاملے سے جڑی کئی رپورٹس کو پڑھ کر یہاں لکھی ہے۔ اب دینک کی رپورٹ کے کچھ حصوں کا ترجمہ پیش کرتی ہوں، اس سے پہلے بتاتی چلوں کہ اخبار نے جس فیکٹ کو بنیاد بنا کر یہ رپورٹ شائع کی ہے وہ مبینہ طور پرملزمین کے وکیل کو ملی پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے؛

یہ فیکٹ تب سامنے آئے جب ملزموں کے وکیل اسیم ساہنی کو کٹھوعہ ہسپتال سے دو پوسٹ مارٹم رپورٹ ملی۔چونکانے والا فیکٹ یہ ہے کہ دونوں رپورٹ میں بھی فرق ہے،جس سے یہ معاملہ اور پیچیدہ ہوگیا ہے۔

اس رپورٹ کی ایک خاص بات؛

’جانکاروں کے مطابق اگر پتھر مارا جائے تو زخم کی شدت زیادہ ہوتی۔ بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ تھیوری بھی میل نہیں کھا رہی ۔‘

یہ جانکار لوگ کون ہیں؟رپورٹ لکھنے کی منشا پر اس سے بھی سوال اٹھتا ہے۔لیکن میں یہ سوال نہیں کرنا چاہتی کہ ریاست کی کرائم برانچ کی ساری جانچ پڑتال،کسی ملزم کے وکیل کو ملی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے کیسے مشتبہ ہو جاتی ہے؟یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہی ،آپ رپورٹ پڑھیے ،رپورٹ کا اسلوب، انداز ایسا ہے کہ جیسے کرائم برانچ پر ساہنی کو ملی رپورٹ کو فوقیت دے کر رپورٹنگ کی جا رہی ہے، رپورٹنگ اس کے لیے شاید صحیح لفظ بھی نہیں کہ رپورٹر کا کام صرف اتنا ہی تھا کہ اس کو اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے کہیں سے کوئی جانکاری ملی تھی تو وہ اس کو بیان کر دیتا ۔ لیکن اس رپورٹ میں بیان سے زیادہ کرائم برانچ کا آفیسربننے کی کوشش کی گئی ہے۔ خیر اب رپورٹ کے کچھ اہم حصے ملاحظہ کریں:

ایک زخم کان کے پاس تقریباً 2 سنٹی میٹر ہے۔ یہ زخم ایسا ہوتا ہے جو گرنے کی وجہ سے بھی عام طور پر ہوتا ہے۔

دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جانگھ پر کچھ کھرونچ پائی گئی ہیں، جو گرنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں سب سے بڑا خلاصہ (انکشاف )یہ کیا گیا ہے کہ بچی کے ساتھ ریپ نہیں ہوا ہے۔اتنا ضرور ہے کہ بچی کا Hymen پھٹا ہوا ہے۔شری مہارا جہ گلاب سنگھ(ایس ایم جی ایس)ہسپتال کی گائنوکالجسٹ کا کہنا ہے کہ Hymen گھڑ سواری، تیراکی،سائکلنگ ،زور کا کام وغیرہ کرنے سے بھی ٹوٹ سکتا ہے۔رپورٹ میں بچی کے گپتانگ (پرائیویٹ پارٹس)اور ایف ایس ایل بھیجے گئے کپڑوں میں بھی کوئی ویریہ(Semen)نہیں پایا گیا ہے۔حالانکہ کرائم برانچ نے چارج شیٹ میں یہ دعویٰ ضرور کیا ہے کہ جانچ کے لیے ایف ایس ایل  بھیجے گئے کپڑے دھو دیے گئے تھے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچی کے گپتانگ(شرمگاہ)میں ہلکا خون کا دھبہ ضرور ہے۔یہ چوٹ کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

انڈر لائن سطروں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس طرح دینک کی اس رپورٹ میں اضافی جملوں کے ساتھ وکیل بن کر بہت سی باتیں کہی گئی ہیں ۔صرف یہی نہیں جس طرح سے کرائم برانچ کی چارج شیٹ کے بارے میں لکھا گیا ہے اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔کیا کرائم برانچ کے ذریعے کی گئی تفتیش سے زیادہ جانچ پڑتال دینک نے کر لی؟ یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے۔ آخر کس بنیاد پر انھوں نے اس انداز میں لکھی گئی رپورٹ شائع کی؟

جموں بار ایسوسی ایشن کے ممبروں نے ‘ جموں بند ‘ کے دوران ٹائر جلاکر جموں میں مظاہرہ کیا /فوٹو : پی ٹی آئی

کیا صرف ملزمین کے وکیل کو ملی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بنیاد بنا کر یہ رپورٹ لکھی گئی ہے؟ وہ بھی تب جب معاملہ کورٹ میں ہے ،کرائم برانچ نے اپنی چارج شیٹ فائل کر دی ہےتو پھر دینک خود کیوں وکیل بن گیا؟ یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے۔ کیا کرائم برانچ نے جو 18 صفحے کی چارج شیٹ داخل کی ہے اس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تصدیق اپنے طور پر نہیں کی ؟

ایک ضروری سوال کہ جس پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر یہ رپورٹ لکھی گئی،کیا اس کی تصدیق کی گئی ،ملزمین کے وکیل کا اس بارے میں کہا کہنا ہے اس کو واضح طور پر کیوں نہیں چھاپا گیا اور رپورٹر نے کرائم برانچ یا متعلقہ شعبے اور پولیس سے سوال کیوں نہیں پوچھے ۔کیوں اپنی طرف سے تجزیہ کرنے بیٹھ گئے۔اور مان لیجیے کہ آپ کی رپورٹ کے دعوے صحیح ہیں تو بھی کیا آپ اس طرح سے رپورٹ لکھ سکتے ہیں۔

مجھے یہ رپورٹ پڑھ کر کھجوریا کی حمایت میں نکالی گئی ریلی یاد آئی۔کیا فرق ہے اُن میں اور اس رپورٹ میں؟ آپ کو کوئی فرق نظر آتا ہے؟تو کیابکاؤ میڈیاکے اس دور میں کسی بھی چیز کی توقع کی جا نی چاہیے۔رپورٹ کے نام پر پولیس ،کرائم برانچ اور وکیل بن کر رپورٹنگ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ اس پر چپ رہنے کے بجائے بولنے کی ضرورت نہیں ہے؟

موجودہ حکومت میں جس طرح سے ملزم بری ہو رہے ہیں ، اس کی بنیاد پر اب شاید میڈیا تال ٹھونک کر یہ بھی کہہ دے کہ گودھرا کانڈہوا ہی نہیں، 2002 کےگجرات فسادات قصہ اور کہانی ہیں۔ مکہ مسجد بلاسٹ کسی فلم کا نام ہے۔جج لویا زندہ ہیں،اور سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں نے کوئی پریس کانفرنس کی ہی نہیں تھی۔کوئی سوال بھی نہیں کیے تھے۔جمہوریت کو خطرہ ہے ایسی کوئی بات بھی نہیں ہوئی تھی۔

مستقبل کےہندوستان کی تاریخ سے اگر یہ باتیں مٹا دی جائیں تو شاید کسی کو زیادہ حیرانی نہیں ہوگی؛ کم از کم مجھے تو نہیں ہی ہوگی۔میں یہاں کسی سے کوئی اپیل بھی نہیں کرنے والی کہ یہ کیجیے وہ کیجیے ،لیکن ہاں اگر ہو سکے تو چپ مت رہیے۔

بشکریہ دی وائر

Save

Save

Save

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *