قومی سوال ،سوشلسٹ ممالک اور پاکستان-1

پروفیسر عزیزالدین کی کتاب سے لیے گئے یہ اقتباسات علمی بحث کیلیے شائع کیے جا رہے ہیں۔۔۔ مکالمہ
1988ءکے بعد سوشلسٹ ملکوں میں اہم اور سوچنے پر مجبور کرنے والی تبدیلیاں تیزی سے وقوع پذیر ہوئی ہیں منجملہ دیگر اہم باتوں کے قومی سوال شدت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہمارے سوشلسٹ پنڈتوں کی پیش گوئیاں جو دنیا کے ہر مسئلے کا حل سوشلزم کے روسی یا چینی برانڈ میں تلاش کرتے تھے خاص طور پر قومی سوال بارے حیرت انگیز طور پر سے غلط ثابت ہوئی ہیں ۔
کہا جاتا تھا کہ سوشلسٹ ملکوں نے قومی سوال کو مکمل طور پر اور ہمیشہ کیلئے حل کر دیا ہے۔ ان ملکوں میں تمام قومیتیں برابری سے رہ رہی ہیں قومی جبر اور نابرابری کا قلع قمع ہو جانے کے نتیجے میں قومیتی تضاد کا خاتمہ بالخیر ہو چکا ہے اور اگر کوئی یہاں پر قومیتی بے چینی کے شواہد تلاش کرتا ہے تو وہ سوائے سی آئی اے کے ایجنٹ ہونے کے اور کوئی نہیں ہے۔ اس تصور کا پاکستان میں اس طرح اطلاق کیا جاتا تھا کہ پاکستان میں تمام توجہ ملک بھر کے محنت کشوں کو اکٹھا کر کے صرف طبقاتی جدوجہد پر مرکوز کرنا چاہئے جو سوشلسٹ نظام برپا کرنے کا یقینی اور واحد راستہ ہے۔ قومی سوال کو اٹھانے اور اس پر زور دینے کا مطلب محنت کشوں کی صفوں میں انتشار پیدا کرنا ہے ۔
اور جو یہ کام کرتا ہے وہ سرداروں ‘ وڈیروں اور نوابوں کا ایجنٹ ہے۔ پاکستان میں اول تو قومیتیں نہیں بلکہ محنت کش بستے ہیں اور قومی استحصال کی بجائے طبقاتی استحصال ہی اصل حقیقت ہے جوہر قومیت کا استحصالی طبقہ کرتا ہے اگر کسی قسم کے قومیتی جبر کے وجود کو پاکستان میں تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس کا خاتمہ بھی سوشلسٹ نظام برپا کر کے ہی کیا جا سکتا ہے اس سلسلے میں مثال دی جاتی تھی سوشلسٹ ملکوں کی جہاں بقول ہمارے پنڈتوں کے نہ صرف طبقات اور طبقاتی استحصال ختم ہو چکے تھے بلکہ سوشلزم کے دور میں پڑنے کے بعد قومیتیں بھی ختم ہو کر سوشلسٹ سوسائٹی میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ عقیدہ پرستی کے اس بلبلے کو سماجی حقائق نے پھاڑ کر رکھ دیا ہے ۔پردہ اٹھا ہے تو معلوم ہوا کہ سو شلسٹ ملکوں میں قومی سوال نہ صرف یہ کہ ہمیشہ کےلئے ختم نہیں ہوا بلکہ تکلیف دہ طور پر موجود بھی ہے اور جابجا شدت کے ساتھ اپنا اظہار کررہا ہے یوگو سلاویہ کی مثال آنکھیں کھول دینے کےلئے کافی ہے ۔
یو گو سلاویہ اور پاکستان میں کئی اہم حقائق مشترک ہیں ۔دونوں ملک تاریخی اعتبار سے نو ساختہ اور نوزائیدہ ہیں اور اسی صد ی کی چند دہائیوں کی پیداوار ہیں ۔پچاس برس پیچھے چلنے جائیں نہ یوگو سلاویہ تھا اور نہ پاکستان نام کا کوئی ملک پاکستان کی طرح یوگو سلاویہ شدید مذہبی اور قومیتی بنیادوں پر بد ترین فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوتے رہے ہیں اور قومیتی بنیادوں پر جھگڑے بھی ۔تاریخ کے ایک خاص موڑ پر یو گو سلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی اس خطے کو جو بعد میں یوگو سلاویہ کہلایا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔نازی جرمنی کے وحشیانہ تسلط کے خلاف اس نے مسلح جدوجہد کی قیادت کرتے ہوئے اتحاد کو ایک نیا معنی عطا کیا اور اس کی ضرورت کواجاگر کیا ۔باہم دست و گربیاں فرقے مذاہب اور قویمتیں کمیو نسٹ پارٹی کے جھنڈے تلے جمع ہوکر وقتی طور پر اپنے مناقشات کو فراموش کر بیٹھے سوشلسٹ نظریہ باہم جوڑنے والی قوت کی شکل اختیار کرگیا ۔لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں ضروری اور تخلیقی تبدیلیاں کرنے سے گریز کیا گیا اور پرانے بالا دستی کے رویوں کو شعوری طور پر ختم کیا گیا سوشلسٹ نظریہ کو ایک ایسا بے لچک غیر سائنسی عقیدہ بنادیا گیا جو آزادی بخش قوت کی شکل اختیار کرنے کی بجائے پاوں کا زنجیر بن گیا جوں جوں یہ نظریہ ایک طرف اپنی محرک اور جوش و جذبہ پیدا کرنے کی قوت سے محروم ہوتا گیا ۔
قومیتی جبر پرانے حوالوں سے بھی اور نئے حوالوں سے بھی پھر سے اپنا اظہار کرنے لگا ۔اس کے رد عمل کے طور پر مظلوم قومیتوں میں بھی قومیتی عصبیتیں فروغ پانے لگے قومیتی تضاد کو ابھرنے سے روکنے کےلئے مارشل ٹیٹو کے انتقال کے بعد اجتماعی صدارت کا جو طریقہ اختیار کیا گیا تھا وہ ناکام ثابت ہوا ۔بالا آخر 1990میں سرب (SERB)قومیت کے پارٹی پر کنٹرول کے خلاف رد عمل کے طور پر سلووانیا (SLOVANIA)کے کمیونسٹ اس سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے اپنی قومیتی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا ۔اسی سال ماہ جنوری میں یوگو سلاویہ کی پارٹی نے جسے لیگ آف کمیونسٹرز کہا جاتا ہے جب اپنی کانگریس کا انعقاد کیا تو پارٹی کے سرب نمائندوں نے واک آوٹ کردیا ۔1991میں قومیتی تضاد نے اس وقت شدید تر شکل اختیار کی جب کروٹ (croat)قومیت سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنماءسٹیپ میسک کواجتماعی صدار ت کی جانب سے سربراہ مملکت منتخب کئے جانے کے باوجود چھوٹی قومیت سے تعلق رکھنے کی بناءپر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت نہیں دی گئی چھ ہفتے تک جھگڑا چلتا رہا اور کروٹیا اور سلوا نیا نے بالا خریو گو سلاوی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرنے کا علان کردیا ۔جنوبی کارروائی کے طور پر سلووانیا میں وفاقی حکومت کی فوج بھیج دی گئی تاکہ علیحدگی پسندوں کا قلع قمع کیا جاسکے ۔جب بازی زچ ہوگئی تو یورپی برادری نے صلح صفائی کےلئے اپنی خدمات پیش کیں جس کے نتیجے میں طے ہوا کہ علیحدگی ریزویشن پر تین ماہ کےلئے عملدرآمد نہیں کیا جائیگا اور فوری طور پر وفاقی افواج سلووانیا سے نکال لی جائیں گے لیکن مسئلہ پھر بھی بگڑتا ہی گیا یوگو سلاویہ ہی میں نہیں بلکہ مشرقی یورپ کے کئی ملکوں میں قومیتی سوال کے ابھرنے سے خود یورپی برادری کےلئے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے اور اس لئے وہ اس کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش کررہی ہے یورپی ملکوں میں قومیتیں گڈ مڈ ہوئی ہیں ایک ملک کے ٹوٹنے کے اثرات دوسرے ملک پر پڑتے ہیں اور عمومی عدم استحکام جنم لیتا ہے ۔
(جاری ہے)

مہر جان بلوچ
بلوچستان کا بیٹا، اک طالب علم اور انسان دوست

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *