سیالکوٹ میں جین مت۔۔۔داؤد ظفر ندیم

میرے بچپن کی بات ہے شام کے وقت ایک مہمان آیا تھا۔ میرے دادا شام کے بعد کسی مہمان کو خوش آمدید نہیں کہتے تھے مگر اس مہمان کے لئے کچھ خاص تیاری کی گئی تھی۔ ہمارے گھر میں روزانہ گوشت پکتا تھا مگر اس مہمان کے لئے الگ ہانڈی تیار کی گئی تھی یہ مہمان بھارت سے آیا تھا، میرے جیسے بچوں کے لئے بھارت ایک پرسرار ملک تھا ہم نے 71 کی جنگ کے بعد ہوش سنبھالی تھی جب ہمارے لوگ بھارت دشمنی میں بھرے ہوئے تھے اور ہم نے کسی بھارتی کے لئے کبھی خیر کا کلمہ نہیں سنا تھا۔

ہمارا خاندان سیالکوٹ کے پرانے خاندانوں میں سے تھا اور بیسویں صدی کے شروع میں میرے پردادا نے سیالکوٹ کے بازار کلاں میں دکان کھولی تھی۔ یہ کسی مسلمان کی بازار کلاں میں پہلی دکان تھی جو شہر سیالکوٹ کا مرکزی بازار تھا۔ اس بازار میں  زیادہ تر دکانیں یا ہندو لوگوں کی تھیں یا جین مت کے لوگوں کی۔

یہ شخص جو آیا  تھا اس کا تعلق جین مت سے تھا۔ میں نے کبھی جین مت کا کوئی ماننے والا نہیں دیکھا تھا۔ میرے لئے یہ پہلا موقع تھا جب میں جین مت کے کسی پیروکار کو دیکھ رہا تھا۔ یہ شخص میرے دادا سے چھوٹا تھا اور مجھے پتہ چلا کہ بازار کلاں میں ہماری دکان کے ساتھ والی دکان ان کی تھی جہاں یہ اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا تقسیم کے وقت اس کی عمر گیارہ برس تھی۔ جب یہ سیالکوٹ میں بازار کلاں میں آیا تو اسے معلوم ہوا کہ میرے دادا  کی دکان ابھی موجود ہے باقی سارا بازار جموں کے شیخ مہاجرین کو الاٹ ہو چکا تھا۔ ان کی دکان اور سرائے بھابھڑاں میں واقع گھر جموں کے ایک مہاجر خاندان کو الاٹ ہوا تھا۔

میرے لئے یہ پہلا موقع تھا کہ میں جین مت اور سیالکوٹ میں رہنے والے جین مت کے پیروکاروں بارے کچھ جان سکتا تھا۔۔۔

جین مت!

جین مت برصغیر پاک و ہند کے مذاہب میں سے ایک مذہب ہے۔ جین مت کا شمار دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں کیا جاتا ہے۔ہندوستان میں ایک طویل عرصہ تک جین مت ہندوستانی ریاستوں اور مملکتوں کا سرکاری مذہب رہا ہے۔ آٹھویں صدی عیسوی سے مختلف وجوہات کی بنیاد پر جین مت کی شہرت اور اشاعت میں کمی آنے لگی ۔
جین مت کے پیروکار بھارت میں 4.2 ملین ہیں، نیز دنیا کے دیگر ممالک بیلجیئم، کینیڈا، ہانگ کانگ، جاپان، سنگاپور اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مختصر تعداد میں موجود ہیں۔ بھارت میں جین مت کے ماننے والوں میں شرح خواندگی دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ (94.1 فیصد) ہے۔ بھارت میں مخطوطات کا قدیم ترین کتب خانہ جین مت کا ہی ہے۔ عالمی سطح پر جین مت کے پیروکاروں کی تعداد 6.1 ملین ہے۔

جین دھرم یا مت کے مطابق جین مت کے بانی “وراشبھ ناتھ“ تھے، جنہیں پہلا تیرتھانکر مانا جاتا ہے۔ تیر تھنکروں کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور مہاویر 24 ویں اور آخری تیرتھانکر تھے۔

پیدائش!مہاویر کا اصلی نام وردھمان اور مہاویر پیروکاروں کی جانب سے دیا گیا خطاب تھا۔ وہ مہاویر یعنی (مہا=عظیم، ویر=سورما) عظیم سورما سے جانے جاتے ہیں۔ ان کی پیدائش 599 قبل مسیح کو ہوئی۔ ۔ مورخین کے مطابق تین گاؤں ہیں جو ان کا پیدائشی مقام ہوسکتے ہیں۔ پہلا، ریاست بہار کے قدیم ضلع ویشالی کا کُنڈی گرام، دوسرا، جموئی ضلع کا لچھووار گاؤں، تیسرا نالندا ضلع کا کُنڈلپور گاؤں۔ ان کے والد سدھارتھ اور والدہ تریشالا، ایک شاہی خاندان کے تھے۔ مہاویر کا بچپن اور جوانی بڑے ہی عیش و عشرت میں گزری۔

وردھمان اور مہاتما بدھ کی زندگی میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ اتفاقاً یہ دونوں ایک ہی دور کے اور ایک ہی علاقے کے ہیں۔ وردھمان ایک شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔30 سال کی عمر میں بیوی، بیٹی اور گھر بار چھوڑ کر تارک الدنیا ہو گئے۔ 43 سال کی عمر اپنے نظریات کی تبلیغ شروع کی۔ 527 قبل مسیح 72 سال کی عمر میں وفات پائی۔ اس وفات پانے کو جین مت میں “نروانا“ کہتے ہیں۔لفظ جین مت سنسکرت کے ایک لفظ جِن سے لیا گیا ہے، جس کے معنی ہے فاتح۔ جس شخص نے اپنے جذبات اور نفس پر فتح حاصل کرلی وہ فاتح سمجھا جاتا ہے۔

عقائد!جین مت کائنات سے باہر کسی خدا کی ہستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ ان کا کہنا ہے کہ خدا اسی کائنات کا حصہ ہے انسان کی روح خدا کا حصہ ہے۔ نروان کے بعد روح اسی ذات کا حصہ بن جاتی ہے مگر نروان سے پہلے روحیں جسم بدل بدل کر آتی ہیں مگر اپنی الگ ہستی کا احساس باقی رہتا ہے۔ نروان یعنی روح کی مادے اور جسم سے رہائی نویں جنم کے بعد ممکن ہو سکتی ہے۔

جین مت کے عقاہد سات کلیوں کی شکل میں بیان کیے جاتے ہیں، جن کو جین مت کی اصطلاح میں سات تتو یا سات حقائق کہا جاتا ہے۔ یہ کائنات اور زندگی کے بنیادی مسئلہ اور اس کے حل کے بارے میں سات نظریات ہیں۔ جن میں جین مت کا بنیادی فلسفہ بخوبی سمٹ کر آ گيا ہے۔

1۔ جیو: روح ایک حقیقت ہے

2۔ اجیو: غیر ذی روح بھی ایک حقیقت ہے مادہ اس کی ایک قسم ہے۔

3۔ اسرو: روح میں مادہ کی ملاوٹ ہوجاتی ہے۔

4۔ بندھ: روح میں مادہ کی ملاوٹ سے روح مادہ کی قیدی بن جاتی ہے۔

5۔ سمورا: روح میں مادہ کی ملاوٹ کو روکا جا سکتا ہے۔

6۔ نرجرا: روح میں پہلے سے موجود مادہ کو زائل کیا جا سکتا ہے۔

7۔ موکش: روح کی مادہ سے مکمل دوری کے بعد نجات حاصل کی جا سکتی ہے (موکش)

پابندیاں!

جانوروں کا ہلاک کرنا
درختوں کو کاٹنا
حتٰی کہ پتھروں کو کاٹنا

تعلیم

وردھمان مہاویر نے “یوگ“ کے اُصولوں کو اپنایا۔ ان کی تعلیمات کے اہم پانچ اُصول شامل ہیں۔ ان اصولوں کے علاوہ انہوں نے، موکش یا نِروانا (نجات)، کشاما (معاف کردینا)، جیسے اُصولوں کو بھی اپنی تعلیمات میں شامل کر لیا۔

1۔ ستیہ = سچائی، صداقت

2۔ اہمسا = عدم تشدد،

3۔ آستییہ = چوری نہ کرنا یا پرہیزگاری کے بھی معنی لی جا سکتے ہیں۔

4۔ برہم چاریہ = رہبانیت، مجرد، سنیاس زندگی

5۔ اپری گرہ = جتنی ضرورت ہے اتنا ہی رکھو (قناعت پسندی

اس کے علاوہ معافی اور دھرم کو بھی اہم درجہ دیا گیا

6۔ معافی: سب جاندار جن کو مجھ سے تکلیف ہوئی ہے میں ان سے معافی اور معذرت چاہتا ہوں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں ‘میں نے اپنے دل میں جن جن گناہوں کا تصور بھی کیا ہے، جو گناہ زبان سے کیا ہے میں ان سب گناہوں سے معذرت چاہتا ہوں۔

دھرم!دھرم کا سب سے بہترین راستہ۔ عدم تشدد، صبر استقلال، عبادات (تپ یا تپسیاہیں ۔ مہاویر کہتے ہیں جو حق پسند روح رکھنے والا (دھرماتما) ہے، جس کے دل میں ہمیشہ دھرم پر عمل کیا ہےمہاویر نے اپنی  تعلیمات میں دھرم، حقیقت، عدم تشدد، مجرد زندگی اور قناعت پسندی، معافی پر سب سے زیادہ زور دیا۔ قربانی اور صبر، محبت اور ہمدردی، تقوی اور نیکی ہی ان تعلیمات کا نچوڑ تھا۔ مہاویر نے چہار طریقہ (چتروِدھ) حلقے قائم کیے۔ ملک کے مختلف حصوں میں گھوم کر اپنا مقدس پیغام پھیلایا۔

دو دھڑے!وردھمان مہاویر کی وفات کے 160 سال بعد، یہ دھرم کے پیروکار دو فرقوں میں بٹ گئے۔ ایک فرقہ دگمبر یا دگامبر کہلانے لگا اور دوسرا فرقہ شویت امبر یا شویتامبر۔

سیالکوٹ میں جین مت!جین مت کے پرانے مخطوطات سے معلوم ہوتا ہے کہ اپنی زندگی کے دوران 24 ویں تیرتھنکر مہاویر نے پنجاب کا بھرپور دورہ کیا تھا۔ اس دوسرے میں وہ سیالکوٹ آئے تھے جہاں بھابھڑہ برادری کے جد امجد نے جین مت کی تعلیمات قبول کی تھیں۔اگرچہ سیالکوٹ کے علاوہ بھی پاکستانی پنجاب کے کئی علاقوں میں جین مت کے آثار موجود ہیں۔

بابا دھرم داس ایک مقدس آدمی تھا جس کا مقبرہ ایک کھاڑی کے کنارے نزد چونڈہ پھاٹک، پسرور میں واقع ہے۔دوسرا معروف جین سادھو گوجرانوالہ شہر میں رہتا تھا۔ وجیانند سوری کی سمادھی اب تک شہر میں موجود ہے۔

بھابھڑہ!بھابرہ پنجاب کی ایک قدیم تاجر برادری ہے جو جین مت کی پیروکار تھی۔ بھابرہ برادری کے حقیقی گھرانوں کے علاقے اب پاکستان میں ہیں۔ تمام بھابرہ برادری نے پاکستان چھوڑ دیا ہے، بہت سے شہروں میں اب بھی بھابرہ کے نام سے کئی جگہیں ہیں۔یہاں تمام جین بھابرہ تھے جو زیادہ تر سیالکوٹ و پسرور میں آباد تھے۔ سرائے بھابھڑیاں اور بھابھڑیاں والا کے علاقے اسی برادری کے نام پر ہیں۔ تقسیم ہند سے قبل یہاں کئی جین منادر موجود تھے۔

پسرور کو جین مت کے ایک زمیندار نے قائم کیا تھا اسے یہ زمین راجہ مان سنگھ نے عطا کی تھی ۔ بابا دھرم داس کا تعلق بھی اسی زمین دار کےگھرانے سے تھا جسے ایک تجارتی سفر کے دوران قتل کر دیا گیا تھا

گوجرنوالہ!اس شہر میں دو قدیم جین کتب خانے موجود تھے جس کا خیال لالا کرم چند بھابرہ رکھتا تھا۔

لاہور!یہاں کچھ علاقوں میں جین منادر ہیں جنہیں اب بھی تھڑی بھابریاں اور گلی بھابریاں کہتے ہیں۔

راولپنڈی!بھابرہ بازار اسی برادری کے نام پر ہے۔

میانوالی!میانوالی میں بھی ایک مشہور ذات ہے۔کچھ سندھ میں بھی آباد تھے۔

سیالکوٹ میں جین مت والوں کے ساتھ کیا ہوا!

۔ سیالکوٹ کا محلہ سرائے بھابھڑاں جین مت کے ماننے والوں کا محلہ تھا۔ وہاں جین مندر بھی تھا۔ جین مت والے سیالکوٹ میں صدیوں سے مقیم تھے اور ان کا خیال تھا کہ تقسیم کے ہنگاموں میں ان کو ہندوؤں سے الگ دیکھا جائے گا۔ ان کی رہائش گاہوں اور کاروبار کو تحفظ دیا جائے گا وہ سمجھتے تھے کہ وہ تقسیم کے باوجود ہمیشہ ہمیشہ سیالکوٹ رہیں گے اور ان کے گھروں کو تحفظ دیا جائے گا۔۔ لاہور اور دلی سے درمیان چھوٹے شہروں کے لوگ ابھی تک اس تقسیم کے لئے تیار نہیں تھے۔ خاص طور پر ایسے لوگ جو ہندو مذہب کا باقاعدہ حصہ نہیں تھے بلکہ اپنی الگ مذہبی شناخت رکھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ انھیں نئے ملک میں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ بارشوں کی کثرت کی وجہ سے شہر سیالکوٹ کا نشیبی علاقہ ایک جھیل کا سماں پیش کر رہا تھا اور سرائے بھابھڑاں کے اونچے محلے میں رہنے والے جین مت کے لوگ یہ امید رکھتے تھے کہ نفرت اور دشمنی کی آگ ان کو اپنے گھر اور کاروبار چھوڑ کر جانے پر مجبور نہیں کرے گی۔

لالہ اوم پرکاش جینی پورے شہر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس کے پاس بہت سے تاریخی مخطوظات تھے جن میں بعض میں سیالکوٹ کی تاریخ کے حوالے سے نایاب حوالے تھے۔ پڑھے لکھے لوگوں اور طالب علموں میں لالہ اوم پرکاش کی بڑی عزت تھی۔ اسے پوری امید تھی کہ مسلمان لوگ خود جین مت کے لوگوں کی حفاظت کریں گے

سیالکوٹ کے مختلف محلے مورچوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ بھیگتی مسوں والے لڑکوں سے سفید داڑھیوں والے مردوں تک ہر شخص ہتھیار باندھ کر پھر رہا تھا اور سپاہی کے کاندھے سے تھانیدار کی گھوڑی تک ہر جگہ بندوقیں اور کارتوس لٹک رہے تھے۔ بری خبریں بڑھیں تو شہر کے مختلف محلوں میں ٹھیکری پہرے شروع ہو گئے۔ پہلے پہل سرائے بھابھڑاں کے لوگوں نے اپنے محلے کو ایک بند قلعے میں تبدیل کر دیا تھا۔ چاروں طرف گیٹ لگ چکے تھے جو سر شام بند کر دیئے جاتے تھے۔ ۔ مسلمانوں اور جین مت کے بڑے بوڑھوں نے کمیٹی بنائی جو فساد کی آگ سےسرائے بھابھڑاں کو بچا لے اور آخر کار ایک دن شہر کے نزدیکی مسلمانوں نے اپنے جین مت کے بھائیوں کو اکٹھا کیا اور اپنی مجبوری بیان کر دی۔ ” بلوائی اب جتھوں کی صورت آس پاس کے محلوں پہ حملہ کر رہے ہیں“ ، نزدیکی مسجد کے مولوی صاحب بولے، ”بچاؤ  اب مشکل ہوتا جا رہا ہے، آپ جی کوئی کارا کر لیں“۔ آخری فقرہ کہتے ہوئےمحلے کے کے مسلمان بزرگ رو پڑے۔ وہ اس بات پر رنجیدہ تھے کہ لوگ مذہبی تعصب میں اندھے ہو چکے تھے ہندوئوں اور سکھوں کے خلاف نفرت عروج پر پہنچ چکی تھی۔ مگر شہر کے بزرگ نہ صرف ہندوئوں کے خلاف نفرت کی آگ بجھانے میں ناکام نظر آرہے تھے بلکہ وہ کوشش کے باوجود لوگوں کو یہ باور کروانے میں ناکام رہے تھے کہ جین مت ہندو مذہب سے ایک الگ مذہب ہے ۔

جین مت کے بڑوں نے رات کو اجلاس کیا۔ امن اور عدم تشدد کو ماننے والوں کے پاس بچاؤ  کے ہتھیار بھی نہیں تھے۔ شہر کے وسط میں واقع گڑ منڈی میں اناج کے کاروبار پر ان کی اجارا داری تھی۔ سرائے بھابھڑاں میں خوبصورت حویلیاں اور مضبوط مکانات ان کی مضبوط معاشی حالت کی شہادت دیتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیالکوٹ کے مسلمان علما اور مسلم لیگ کے مسلمان سیاسی راہنما ان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کو سیالکوٹ میں کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جہاں وہ صدیوں سے امن اور سکون سے رہ رہے ہیں۔ مگر اب انہی سیاسی اور مذہبی راہنماؤں  نے اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا تھا۔ بلوائیوں پر کسی کو کنٹرول حاصل نہیں تھا۔ جین مت کے ماننے والوں کی اناج کی دکانوں اور گوداموں کو لوٹنے کا پروگرام بن چکا تھا۔ اور ان کے مکانوں میں موجود سونا اور روپیہ بلوائیوں کے لالچ کو بڑھاوا دے رہا تھا پولیس کے بعض سپاہی شرپسندوں اور بلوائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے اب مذہبی اور سیاسی راہنما اپنے آُپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔

سیالکوٹ کا ڈی سی ایک ہندو تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ مسٹر بونٹ تھا جو کہ مذھبا ایک یہودی تھا۔ مگر فسادات کو روکنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔پنجاب کی ہجرت عجیب ہجرت ہے، لوگوں نے بغیر کسی جنگ اور آفت کے اپنا گھر بار چھوڑا دونوں طرف لاکھوں لوگ لقمہ اجل بنے اور لاکھوں لوگ اپنا کاروبار اور املاک چھوڑنے  پر مجبور ہوئے

جموں اور مشرقی پنجاب سے آئے مہاجروں کی لوٹنے اور قتل ہونے کی کہانیوں نے شہر کے رہنے والوں کو ایک ردعمل کا شکار کر دیا تھا۔ ڈی سی سکول میانہ پورہ میں مہاجرین کے قافلے ٹہرے تھے جن کی دیکھ بھال رضا کار کر رہے تھے۔ جموں، گورداس پور، پٹھان کوٹ، فیروز پور، لدھیانہ انبالہ، دہلی، کرنال پانی پت اور حصار سے مہاجرین کے قافلے بربریت اور درندگی کی نئی نئی کہانیاں لے کر سیالکوٹ پہنچے تھے۔ اور شہر میں سخت کشیدگی کی فضا میں اضافہ ہو رہا تھا۔

ایسے میں مولوی صاحب اور سیاسی لیڈر اپنے لوگوں کو یہ سمجھانے میں ناکام نظر آرہے تھے کہ جین مت والے امن اور عدم تشدد کے پیروکار ہیں ان کو ہندو مت سے الگ سمجھا جائے، ان کو مکمل تحفط دیا جائے۔

ویسے تو شہر کے اردگرد کے ہندو جموں جانے کے لئے چھائونی کی گرائونڈ میں جمع ہو رہے تھے مگر شہر کے وسط میں سرائے بھابھراں اور بڈھی بازار کے جین مت کے ماننے والوں نے شہر چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔ جین مت پرامن اور عدم تشدد کے ماننے والوں کا مذہب تھا مگر شہر کے حالات اس قدر خراب تھے کہ سرائے بھابھڑاں میں لالہ موتی لال کی مضبوط اور اونچی حویلی پر ایک ماہر نشانچی بندوق کے ساتھ پہرہ دے رہا تھا جو محلے کی طرف کسی بھی بلوائی کو آتے دیکھ کر ڈرانے کے لئے ہوائی فائر کر دیتا تھا اس وجہ سے شہر کے بلوائی اور لوٹ مار کرنے والے اس طرف جاتے گھبراتے تھے۔

آخر شہر کے نامی گرامی بلوائیوں نے ایک میٹنگ کی کہ شہر میں اس دولت کے خزانے کو کیسے خالی کروایا جائے۔ ان کو اناج کی دکانیں اور ان کاروباری لوگوں کی دولت لوٹنے میں بہت دلچسپی تھی۔ آخر فتح گڑھ کے دو خاکسار بھائیوں نے اس حویلی کو خالی کروانے کا ذمہ لیا۔ لطف کی بات یہ تھی کہ خاکسار اور احرار والے اس سے پہلے پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور کانگرس کے تقریبا اتحادی تھے مگر اب وہ اس فسادات میں کسی بھی دوسرے فسادی ٹولے سے زیادہ فعال تھے۔

۔ پورے شہر میں کیچڑ تھا اور بہت سے مقامات پر پانی کھڑا تھا مگربارش کے بعد ان کا محلہ دھل کر اور بھی نکھر گیا تھا۔ یہ دونوں بھائی کسی نہ کسی طرح رات کے اندھیرے میں لالہ موتی لال کی تیسری منزل پر چڑھ گئے۔ انھوں نے پٹرول چھڑک کر حویلی میں آگ لگادی۔حویلی کے نیچھے شہر کا معروف خاکسار فیروز دین پین پنسل والا اپنے خاکساروں کے ساتھ موجود تھا۔ انھوں نے اس آگ کو اتنا پھیلا دیا کہ جین مت کے ماننے والا پورا محلہ آگ کی لپیٹ میں آگیا

بڑی مشکل سے فوج کے سپاہی سیالکوٹ چھاؤنی  سے ٹرک لے کر آئے، محلے تک آنے والے راستوں پر مسلسل بارشوں کی وجہ سے بہت کیچڑ تھا لوگ اسی رات اپنا ساز و مکان چھوڑ کر گڑمنڈی کی سڑک سے سیالکوٹ چھائونی تک پہنچے۔ ان کے لئے اپنے بیوی بچوں کے جان و مال زیادہ اہم تھے۔ عورتیں سامان کو اور مرد اپنے کاروبار کو رو رہے تھے۔ کیمپ میں نئی کہانیاں تھیں، نئی باتیں اور نئے اندیشے۔ کوئی کہتا تھا کہ گاڑی جونہی شہر سے نکلے گی لوگ لوٹ لیں گے اور کوئی کیمپ میں موت دکھاتا تھا۔ کیمپ میں رہ کر موت کا انتظار تھا یا کیمپ سے نکل کر موت سے ملاقات ۔ مجبور کا فیصلہ بھی مجبوری ہی ہوتا ہے سو سفر کی تیاری شروع ہوئی۔

ریل چلی تو لوگوں کی دبی دبی سسکیاں بھی چلنا شروع ہو گئیں۔ واپسی کے راستے جیسے جیسے یہ سیالکوٹ سے دور ہو رہی تھی تو سب مردوں نے منہ دوسری طرف کر لئے اور سب عورتوں نے پلو منہ میں چھپا لئے، گویا وہ اپنے شہر کو آخری بار دیکھ چکے تھے۔ جو بچے اس وقت سہمے بیٹھے تھے وہ اب محلے کو یاد کر کے رو رہے تھے۔ انجن کی ہر شوکاٹ کوئی آرا تھا جو مسافروں کے وجود کو رگیدتا چلا جا رہا تھا۔ کوئی بھی انھیں خدا حافظ کہنے نہیں آیا تھا کسی میں ان سے آخری دفعہ ملنے کا حوصلہ نہیں کررہا  تھا۔

کھڑکی کے چوکھٹے سے گرودوارہ بابے دی بیری، خالصہ سکول، مرے کالج اور کانگڑہ پارک ایک ایک کر کے گزر گئے۔ اب نہ بابے کی بیری میں چوداں چیت کا میلہ ہو گا نہ کانگڑہ پارک میں سکھ نوجوانوں کے زور۔ کوئی وقت تھا کہ لوگ آدھی رات کو تاروں کی روشنی میں یہ میلہ اور یہ زور دیکھنے چل پڑتے تھے۔ اب شائد ایسا ممکن نہیں۔ پتہ نہیں وہ آزادی تھی یا یہ آزادی ہے۔ الہڑ، قلعہ سوبھا سنگھ کے بعد نارووال پہنچ کر گاڑی رک گئی۔ گارڈ نے آگے جانے سے انکار کیا تو کسی نے گارڈ کے سر پہ پستول دھری اور موت کی دھمکی دی جو اثر کر گئی۔ جسڑ سے آگے دوہرا پل تھا اور پل پار کرتے ہی ہندوستان ۔ ڈیرہ بابا نانک کے پاس گاڑی رک گئی۔ اترتے ہی کسی نے کہا گرودوارے چلے چلو وہاں لنگر ہے۔ پیدل چلنے ، جوھڑوں کا پانی پینے اور راستے میں گری لاشوں کو دیکھنے کے بعد گرودوارے پہنچے۔ ایک سابقہ فوجی نے پھر آواز لگائی، اب تم آزاد ہو، پورے کے پورے آزاد۔ آزاد ہندوستان میں ہو تمہارا کوئی گھر ، جگہ، تھاﺅں ٹھکانہ نہیں رہا۔ سب لوٹا گیا ہے، سب مصیبتوں سے جان چھوٹ گئی ہے۔ اب آزادی مناﺅ۔ اس کے ساتھ ہی سب لوگوں کی وہ آوازیں، جن سے پورے محلے اور گڑمنڈی میں چہل پہل رہتی تھی ، رندھ گئیں اور ہاتھ خودبخود چہرے پہ چھا گئے۔

بھرے پرے گھروں سے تین کپڑوں میں نکلنے والوں کو یہ دن بھولتا ہی نہیں۔ بہت سے لوگ اپنے محلے سرائے بھابھڑاں کو دوبارہ دیکھنے کی حسرت دل میں لئے دنیا سے چلے گئے۔سمجھ نہیں آتا اس کا جواب کس سے طلب کروں ۔ ملا، پنڈت اور گیانی سے جو زمین کو کبھی مذہب کے حق میں اور کبھی مذہب کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ساہوکار، آڑھتی اور کسان سے ، جو زمین سے نفع اور نقصان کا جوڑ جوڑتے ہیں ۔۔۔ ۔

دادا جان نے بتلایا کہ دوسرے دن سیالکوٹ کی گڑمنڈی سے اٹھنے والے شعلے پورے شہر سے صاف نظر آتے تھے کیونکہ یہ گڑمنڈی شہر کے اونچے ٹیلے پر واقع تھی گڑمنڈی کی اناج کی دکانیں لوٹی جا چکی تھیں ۔ پورے سات دن پورے سیالکوٹ سے اس آگ کا مشاہدہ کیا جا سکتا تھا پورا محلہ جل رہا تھا

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دوسرے دن تقریبا پورا شہر تقریبا سارے غیر مسلموں سے خالی ہوگیا۔ صرف مسیحی برادریوں کے محلے محفوظ رہے تھے کچھ ہندو خاندان شہر میں رہے تھے۔حکیم گوپال داس، لالہ رام داس، رنگ پورہ میں پیارے لال اور بعض نچلی ذاتوں خاص طور پر جھور فیملی کے ہندو شہر چھوڑ کر نہ گئے، یہ لوگ مسلمان محلوں میں رہتے تھے اس لئے محلے کے مسلمانوں نے اپنے اپنے محلوں میں ان لوگوں کی حفاظت کی چھائونی کے معروف ٹھیکیدار لالہ رام جی داس کا بیٹا پربھو اپنے عزیزوں کے اصرار کے باوجود شہر چھوڑ کر نہیں گیا۔

رنگ پورے کے پیارے لال کے والدیں غلہ منڈی میں گدھا گڈی کا کام کرتے تھے رام لال آڑھتیوں کے پاس منشی تھا پاکستان بننے کے بعد بھی مسلمان آڑھتی اکائونٹس کا کام پیارے لال سے ہی کرواتے تھے۔جن خاکسار بھائیوں نے جین مت کی حویلی اور محلے کو آگ لگانے میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ بعد میں جموں کے جانے والے راستے پر قافلوں کو لوٹنے جایا کرتے تھے جہاں وہ گرنیڈ مارا کرتے تھے۔ اسی دوران مشین گن کے جوابی حملے میں ایک بھائی کی جان گئی ار دوسرا زخمی ہو گیا۔

اس شخص نے خواہش ظاہر کی کہ وہ اپنا گھر دیکھنا چاہتا ہے دوسرے دن دادا ابا اسے سرائے بھابھڑاں میں واقع اس کے گھر لے گئے۔ وہ گھر دیکھتا ہوا اوپر چلا گیا جہاں پرندوں کو ڈالنے والے دانے کے لئے ایک پیالہ نما بنا ہوا تھا اس کے نیچے ایک درز تھی اس نے ایک سٹول منگوایا اور اس پر کھڑے ہوکر اس درز میں ہاتھ ڈالا وہاں سے سونے سے زیور نکل آئے۔ اس نے یہ زیور اپنے بیگ میں ڈالے اور بتلایا کہ اس کی ماں نے جاتی دفعہ یہ زیور اس درز میں ڈالے تھے۔ مکان میں مقیم خاندان والوں نے سخت اجتجاج کیا کہ یہ زیور ان کے گھر سے نکلا ہے مگر دادا ابا نے ان کو ڈانٹ کر خاموش کروادیا کہ یہ زیور اگر ان کی قسمت میں ہوتا تو گذشتہ پینتیس سالوں میں ان کو مل گیا ہوتا۔ اب یہ اصل مالک کا ہی حق ہے

وہ شخص اسی دوپہر کو شہر چھوڑ گیا یہ اس کا سیالکوٹ کا آخری دورہ تھا

حوالہ جات!

^ 01.1 Khalid، Haroon (4 September 2016)۔ “Sacred geography: Why Hindus, Buddhist, Jains, Sikhs should object to Pakistan being called hell”۔ Dawn۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 September 2016۔

Final Report of Revised Settlement, Hoshiarpur District, 1879-84 By J. A. L. Montgomery, p. 35
·Census of India, 1901 By India Census Commissioner, Sir Herbert Hope Risley, p. 137-140
·Gazetteer of the Sialkot District, 1920 – Page 51
·Baba Dharam Dass Tomb in Pasrur
·The two Jain Libraries at Gujranwala by Ramkrishna Gopal Bhandarkar in A Catalogue of Sanskrit Manuscripts in the Library of the Deccan College, by Deccan College Library, Franz Kielhorn- 1884 — Page 12
·”jainrelicsinpakistan – abafna”۔ Abafna.googlepages.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 2012-04-20۔
A gazetteer of the province of Sindh by Albert William Hughes – 1876, – Page 224

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *