عدت، شدت اور صحافتی ذمہ داریاں ۔۔ولائیت حسین اعوان

عمران خان پچھلی تقریبا 5 دہائیوں سے ایک ایسا کردار ہے جو ہر دم اور ہر دور میں بریکنگ نیوز ہے۔ کرکٹ میں آمد ہو یا اس میں زخمی ہو کر باہر بیٹھنا،کیری پیکر سیریز ہو یا سری کانت کو چیلنج، قاسم عمر کے الزامات ہوں یا بوتھم سے جھگڑا،زینت امان کے قصے ہوں یا کرسٹینا بیکر کا اسلام لانا،یوسف صلاح الدین کے دوستوں کی محفل کا قصہ ہو یا لیڈی ڈیانا کی گڈ بکس کا،پاکستان کے قبائلی علاقوں کی سیر کے واقعات کا تذکرہ ہو یا وادی سون میں شکار کا ذکر  ، ورلڈ کپ کی بات ہو یا شوکت خانم کے بانی کی کہانی،مشرف سے ملاقات کی خبریں ہوں یا جمعیت سے آمنا سامنا،2011 میں مینار پاکستان کی بلندی کے ساتھ کھڑے ہو کر بڑے جلسہ کا قصہ ہو یا 2013 میں کرین کی بلندی سے زمین پر گر جانے کا سانحہ،جمائمہ سے اعلانیہ شادی کی داستان ہو یا ریحام سے چپکے سے نکاح کی بات،بشری بی بی کی مریدی سے اس کا شوہر بننے تک کی کہانی ہو یا گلالئی کے الزامات کی بات۔۔ ہر موقع  پر عمران خان نے پرنٹ الیکٹرونک سوشل میڈیا کے پیٹ بھرنے کے لئے خوب خوراک مہیا کی۔ عوامی لیڈر ہو صحافی ہو یا عام آدمی کسی کی ذاتی ازدواجی زندگی اور اس کے بیڈ روم میں تانک جھانک کر کے اس کو مشتہر کرنا میں غیر اخلاقی اور پروفیشن سے بے ایمانی سمجھتا ہوں۔

عمران کی شادی کی خبر جنگ گروپ کے سینئر صحافی عمر چیمہ نے بریک کی، آپ اسے بریکنگ نیوز کہہ سکتے ہیں۔مگر جب آپ جناب اس شہرت کی بنا پر اور اپنے گروپ اور عمران خان کی باہمی مخاصمت میں تھوڑا مزید آگے بڑھے اور عدت کی حدت تک جا پہنچے تو اس خبر میں خبر کا پہلو تلاش کرنا ایک پختہ ذہن قاری کے لیے  بھی مشکل تھا اور منجھے ہوئے صحافی کے لیے  بھی الجھن کا باعث۔نکاح کی خبر تو پہلی قسط کے طور پر  آ چکی تھی۔ اب اس کی دوسری قسط یہ تھی کہ ایک خاتون نے نکاح کیا جبکہ ان کی عدت ابھی پوری نہیں ہوئی تھی؟

اس خبر کے ذرائع کیا تھے؟ نکاح پڑھانے والے مفتی صاحب کے دوستوں کو خبر کا ذریعہ بتایا گیا۔دوستوں کے نام خبر کے ذرائع  کو پوشیدہ رکھنے کی وجہ سے عیاں نہ کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن کیا نکاح خواں جن کا نام اس خبر کے حوالے  سے سامنے آیا ان مفتی صاحب سے تصدیق یا تردید حاصل کی گئی  کہ حضرت  آپ کے دوست یہ بات کررہے ہیں کیا آپ نے ان سے یہ بات کی؟ کیا ایک سینئر صحافی کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی تھی؟ کچھ وقت کے لیے  چیمہ صاحب کی خبر کو درست مان لیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیمہ صاحب عدت کا حساب طلاق نامے کی تاریخ سے لگا رہے ہیں جبکہ ساتھ آپ یہ بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ نکاح پہلے ہوا ،نکاح نامہ پر بعد کی تاریخ ہے۔ بالکل ویسے ہی طلاق پہلے ہوئی ہو اور ضروری کاغذی کارروائی کے بعد قانونی طلاق نامہ بعد میں لکھا گیا ہو۔ ایک اتنے سینئر صحافی نے یہ پہلو کیوں نظرانداز کیا؟ جہانگیر ترین اور عمران خان کی گفتگو سے متعلق ان کے ذرائع کیا تھے؟ مفتی صاحب نے اپنے دوستوں کو بتایا، دوستوں نے عمر چیمہ کو بتایا، مفتی صاحب سے پوچھا نہیں گیا اور جہانگیر ترین نے تردید کر دی ۔اس کے بعد کیا ایک ذمہ دار صحافی کو واقع کا یہ پہلو اپنی سٹوری میں شامل کرنا چاہیے  تھا؟

خبر اور اخبار کے صحافتی تقاضوں سے ہٹ کر صحافی ماں بہن کی عظمت سے بھی آگاہ ہیں اور اخلاقی  ذمہ داریاں بھی ان پر ایسے ہی ہیں جیسے صحافتی    ذمہ داریاں۔ عمران کی بیوی بھی ایک عام عورت ہے۔کبھی عوام میں یا میڈیا پر نہ آنے والی۔عمران سے ناپسندیدگی کی سزا  ذہنی کرب کی صورت میں اس خاتون کو نہیں دی جانی چاہیے  ،خاص طور پر اس صورت میں بھی جب وہ جوان بچوں   کی ماں ہو۔۔ عدت کے ایام کی گنتی کا براہ راست تعلق مخصوص ایام، طلاق اور نکاح کے ایام سے بنتا ہے، کیا اس اینگل سے سٹوری کرنا مناسب اور جائز عمل تھا ؟اور کیا کل کسی میڈیامالک ،مذہبی سیاسی رہنما یا اپنے باس کے گھر کی خواتین سے متعلق کوئی ایسا معاملہ ہوا تو چیمہ صاحب اس کو بھی رپورٹ کریں گے؟

صحافت کا یہ بھی اصول ہے کہ آپ جس شخص کے خلاف خبر دے رہے ہیں اس سے یا اس کے کسی نمائندہ سے یا اس کے ساتھ اس معاملے میں شریک لوگوں سے ان کا موقف بھی لیں۔بھلے آپ ان پر اپنی دانست کے مطابق جتنی چاہےجرح کریں۔طلاق اور نکاح کے تین بنیادی کردار خاور مانیکا، بشریٰ بی بی اور عمران خان ہیں۔ تینوں شخصیات سے چیمہ صاحب نے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی؟ اگر کی تو اس کا ذکر کیوں نہیں کیا اور نہیں کی تو کیا یہ صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں؟

آئیں اب  ذرا اس کیس کے دو پہلوؤں پر بات کر لیتے ہیں۔۔۔ 8 جنوری 2018 کو جنگ اخبار اور جیو کی اپنی رپورٹ تھی جس میں مانیکا صاحب کے انٹرویو کو رپورٹ کیا گیا کہ عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد عمران نے شادی کا پیغام بھیجا۔ساتھ یہ بھی کہ وجہ طلاق عمران نہیں 3 سال سے کچھ اور مسائل تھے۔ دوسرا پہلو اگر مان لیا جائے کہ خلع لی  گئی  تو کیا مرد کے طلاق دینے اور خلع لینے کے بارے میں چیمہ صاحب یا دوسرے الزامات لگانے والے لوگ قرآن و سنت کے اس بارے میں مکمل احکامات سے خود تفصیلی آگاہی رکھتے ہیں؟۔۔ اگر چیمہ صاحب کے شریعی عدت پوری نہ کرنے کےالزامات کو سچ مان کر انہی کے جواب میں متاثرہ فریق کسی عالم سے خلع کی صورت میں عدت کی شرعی مدت کا بالفرض کوئی فتوی لے آتا ہے تو کیا چیمہ صاحب اس کو قبول کر کے قومی میڈیا پر معافی مانگیں گے؟ بھلے چیمہ صاحب صحافت کے پی ایچ ڈی پروفیسر ہوں لیکن دینی معاملات میں کسی مستند عالم سے کم علم ہی ہوں گے۔

ایک سوال یہاں یہ بھی پوچھنا بنتا ہے کہ اگر عوامی لیڈر کی شخصی زندگی پبلک ہوتی ہے تو جنگ جیو گروپ نے کیا عمران خان کے علاوہ اور کسی سیاسی نمائندے کے کالے کرتوتوں کو شرف نظر بخشا اگر نہیں تو کیا باقی سارا پاکستان ٹھیک ہو گیا ہے اور 20 کروڑ لوگ دین شریعت پر عمل پیرا ہیں؟؟ قرآن پاک کے بتائے احکامات سے روگردانی کرنا یقینی طور پر گناہ عظیم اور ہلاکت کا سبب ہے اور طلاق،بیوگی یا خلع جیسے ذاتی معاملات کی صورت میں بھی قرآن سنت کے بتائے طریقے کے مطابق عدت کے معاملہ کو نظر انداز   کرنا بھی یقینی طور پر گناہ ہے۔اس کی سزا اگر میں نے یا چیمہ صاحب نے دینی ہے اور اس عمل کو مشتہر کر کے پوری دنیا کو بتانا ہے اور ایسے شخص سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنا ہے تو پھر آئیں اللہ سے عہد کریں کہ قرآنی احکامات کی حکم عدولی کرنے والے، ہر زنا کرنے والے ،شراب پینے بیچنے والے سے،رشوت خور سے اور سود خور کو ہم۔اسی طرع تختہ مشق بنائیں گے۔اس کا سوشل بائیکاٹ کریں گے اور اس کے خلاف میڈیا میں مہم چلائیں گے۔خواہ وہ ہمارا کوئی اپنا سگا ہی کیوں نہ  ہو۔۔اگر ایسا نہیں کر سکتے اور منافقت کے ساتھ رہنا ہے تو خدا را عورتوں مردوں کی عزتوں کو اپنے گمانوں اور مخاصمتوں کی نظر کر کےسرعام یوں نہ اچھالیں اور تہمتیں لگانے والوں میں  خؤد کو شامل نہ  کریں۔اللہ پاک ہر کسی کو شر سے بچا کر خیر کی راہ پر رکھے۔

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *