فزیو تھراپی یا پورنوگرافی۔۔۔عارف خٹک

بیگم کو اسپائنل کارڈز کا کچھ ایشو ہوا  تو مسلسل درد کُش ادویات استعمال کرتی رہی۔ پاکستان کا کوئی ایسا اسپائنل فزیشن یا سرجن نہ ہوگا جس سے علاج نہ  کرایا ہو۔
مسلسل درد کُش ادویات کے استعمال سے ان کے گُردوں میں انفیکشن ہوا۔ وہ ایک الگ قصہ ہے۔ ہر ڈاکٹر جب لاجواب ہوتا تو کہتا کہ جناب سوزوکی کے ٹائرز پر اگر آپ ٹرک کی باڈی رکھو گے  تو ایسا ہی ہوگا۔ بیگم کا وزن کم کروائیے۔ اب بندہ اُن کو کیا بتاتا،کہ جناب اس حساب سے تو پہلے میرے ٹیسٹ کروائے جائیں کہ گیارہ سالوں میں میری اپنی کیا حالت ہوئی ہوگی۔
کیونکہ اسپیڈ بریکر تو میں ہی تھا۔سو اس ٹرک نے مجھے روندنا تھا۔۔

بالآخر تنگ آکر سارے ڈاکٹروں نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ بس کریں خٹک صاب اب ہم بھی تھک گئے ہیں۔ یہ سنتے ہی میں ہولسٹر سے پستول نکالنے والا ہوتا،کہ آگے سے فوراً جواب کی تشریح کردیتے کہ ہمارا مطلب تھا کہ بیگم کے علاج سے۔۔ اب ان کے لئےکسی اچھے فزیو تھراپسٹ سے رجوع فرمالیں۔

آغا خان سے رابطہ کیا کہ “وہ” اچھا فزیو تھراپسٹ کہاں ملےگا ؟جو ہماری بیگم کا علاج کرسکے۔ انھوں نے ایک تھراپسٹ کو ریفر کیا۔ جنھوں نے اپنا اپائمنٹ گویا نہ دے کر یہ ثابت کرنے  کی کوشش کی کہ شاید وہ نیلم منیر ہے اور اس کے اگلے چار ویک اینڈ نائٹس فلی بُک ہیں۔ ہم نے بھی نیلم منیر کا پرانا کسٹمر بن کر کہا کہ آپ کو ہم اُن سے زیادہ ادا کردیں گے۔ جنھوں نے آپ کو بُک کیا ہے۔ پس اس پیش کش پر وہ فوراً مان گیا۔اور  ثابت کیا کہ وہ بھی نیلم منیر سے کم نہیں ہے۔

اگلے دن اس کے بتائے ہوئے ایڈریس پر بمعہ بیگم پہنچا۔ ایک بنگلہ تھا ڈیفنس فیز فائیو میں۔ بنگلے کے اندر پہنچا  تو ریسیپشن پر ایک نازک اندام لڑکی نے ڈرائنگ روم میں بیٹھنے کا کہا  اور آدھا گھنٹہ بعد ہم میاں بیوی کو اندر ہال میں بلایا گیا۔ بندہ شکل سے مجھے کچھ جانا پہچانا لگا۔مگر یاد نہیں آرہا تھا کہ میں نے اسے کہاں، کب اور کیوں دیکھا تھا۔ خیر اس نے سارے MRI رپورٹس مُجھ سے لے لئے۔ تاکہ تھراپی شروع کرنے سے پہلے وہ یہ فیصلہ کریں کہ  کون کون سی ورزشیں ان کے لئے مُفید رہیں گی۔
بیگم کو چادر اُتارنے کا کہا۔ یہاں پھر میرا ہاتھ ہولسٹر پر چلا گیا۔ بیگم سمجھ گئی۔۔لہذا اس نے مزید خود کو چادر میں لپیٹ لیا۔ میں نے کہا جناب ایکسرسائز کا بتادیں۔ ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں۔ کمر پہلے سے ہی کھسکی ہوئی ہے۔ تو وہی ریسیپشن والی لڑکی اندر آگئی کہ سر دوسری پیشنٹ آچکی ہے۔ تھراپسٹ میری بیگم کے رویے سے سمجھ گیا تھا۔ کہ وہ پردہ دار خاتون ہے۔ لہٰذا مُجھ سے کہا کہ میں دوسری پیشنٹ کی تھراپی کررہا ہوں۔آپ اپنی بیگم کیساتھ وہ تھراپی دیکھ لیجیئے گا۔ اس پیشنٹ کا اور آپ کی بیگم کا ایک ہی مسئلہ ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی کو اس کا یہ مشورہ اچھالگا۔

وہ پیشنٹ کو اندر روم میں لیکر چلا گیا۔ وہ ایک تیس سالہ فربہ خاتون تھی۔ ہم لوگ ایک شیشے کی دیوار کے پاس کھڑے ہوگئے ۔جہاں سے وہ نظر آرہی تھی۔ہمارے قریب ہی اُس خاتون کا شوہر بھی کھڑا تھا۔
اس نے خاتون کو زمین پر چاروں شانے چت لٹایا۔ خاتون کے زیر و بم دیکھ کر میں شرما گیا اور منہ دوسری طرف کرنے لگا۔کیونکہ اس کا شوہر بھی کھڑا تھا  مگر اس کے شوہر کا سپاٹ چہرہ دیکھ کر میں نے خاتون پر فوکس کرنے میں زیادہ بہتری جانی۔تھراپسٹ بھی اس کے ساتھ زمین پر لیٹ گیا۔

تھراپسٹ نے اپنی ٹانگ اٹھائی۔۔اس پر مجھے بالکل اعتراض نہیں تھا، اور خاتون نے بھی اُس کی تائید میں اپنی ٹانگ اٹھائی۔ تین چار بار ایک ٹانگ اُٹھانے کے بعد یہی عمل دوسری ٹانگ کےساتھ بھی دُہرایا گیا۔
اعتراض گیا بھاڑ میں ،مَیں حیرت سے مرتے مرتے اس وقت رہ گیا۔جب موصوف چت لیٹی خاتون کے پیروں کے پاس دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور خاتون کی دونوں ٹانگیں اُٹھانے لگا۔۔۔۔ چلو علاج میں ہوتا ہوگا ایسے مگر اس نے تو دونوں ٹانگوں کو الگ الگ زاویوں سے کھولنے کی کوشش کرتے پوری ٹانگیں تک کھول دیں۔ اور اس کا مُنہ اس خاتون کے پیٹ سے ٹکرانے لگا۔ غیر ارادی طور پر  میں نے پھر مُنہ پھیرنا چاہا۔مگر اس کے شوہر کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر میں مڑ نہ سکا۔ یہاں میرا ہاتھ ہولسٹر کے چکر  میں کہیں اور چلا گیا۔

ٹانگیں جب پوری کُھل گئیں تو اسے اُلٹا لٹا کر تھراپسٹ اس کی کمر پر چڑھنے لگا اور کولہوں کےساتھ والی جگہ کو دونوں ہاتھوں سے دبانے لگا۔ پانچ منٹ کے بعد اُس نے خاتون کو کھڑا کردیا۔اور تھراپسٹ اس کی کمر کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔اور اس کے دونوں بازو پکڑ کر دبانے لگا۔ دونوں ایک دوسرے پر دُہرے ہوتے جارہے تھے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ مجھے غسل تو ہر صورت کرنا پڑےگا۔

یہ عمل دیکھ کر میں شرمندگی سے مڑنے والا تھا کہ خاتون کے شوہر کے چہرے پر موجود سپارٹنیس کہیں غائب ہوگئی تھی ۔اور اطمینان دکھائی دینے لگا تھا  مگر میرا اطمینان غائب ہوگیا۔ بیگم غائب تھی۔۔۔اسے ریسپیشن پر جالیا۔ لال چہرے کےساتھ مُجھے خونخوار نظروں سے گُھورنے لگی  کہ یہ والی بےغیرتی آپ کرسکتے ہو؟جو اس خاتون کا شوہر کررہا تھا۔ میرا ہاتھ ہولسٹر پر چلا گیا اور پوچھا ،کہ یہ آپ کی خواہش ہے یا تنبیہہ؟

غصے سے اس کا بازو پکڑا اور گھیسٹے ہوئے کار تک لیکر آیا  کہ یہ منحوس جانی سن پانچ ہزار لیکر خاتون کیساتھ جو کچھ کر رہا تھا یہ سروس تو روز تجھے فری میں گھر  آفر کرتا ہوں۔لیکن نہیں،میرے لئے تو کمر درد کا بہانہ ہی کافی ہوتا ہے۔اگر بات پانچ ہزار کی ہے تو بھلے وہ بھی مجھ سے لے لینا۔

آج الحمداللہ پانچ سال گزر گئے۔کبھی بیگم نے یہ نہیں کہا کہ اس کی کمر میں تکلیف ہے۔لیکن سر درد کی شکایت ہم دونوں کا مُشترکہ مسئلہ بن چُکا ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *