بچے کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز

بہت سے جوڑے بچوں کی پیدائش کے بعد شادی شدہ زندگی کا چارم کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے درمیان ایک دوسرے کے لیے پہلے جیسی کشش باقی نہیں رہتی ، حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہئے ۔مگر اس کے باوجود مشرق ہو یا مغرب ،یہ مسئلہ ساری دنیا میں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاد ہونے کے بعد ماں اور باپ دونوں کی زندگی خوشیوں سے بھرجاتی ہے ۔خوشگوار ازدواجی زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغازہوتا ہے ۔اس مرحلے میں دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ان ذمہ داریوں اور ان کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے خود کو ذہنی طورپر تیار کرتے ہیں ۔بعض اوقات میاں بیوی کے ان ذمہ داریوں میں اس بری طرح جکڑ جاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا ۔ جوں جوں بچہ بڑاہوتا ہے ، میاں بیوی کی توجہ اس پر زیادہ اور ایک دوسرے پر مزید کم ہونے لگتی ہے ۔ رفتہ رفتہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے اور شادی شدہ زندگی ان ہی بچوں کے درمیان کہیں گم ہوکر رہ جاتی ہے ۔میاں اور بیوی صرف ماں اور باپ بن کر رہ جاتے ہیں ۔

یہاں ہم آپ کو ماہرین کے تجویز کردہ چند ایسے مشورے دے رہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ نہ صرف اپنی ازدواجی زندگی کے حسین لمحات کو واپس لاسکتے ہیں بلکہ اس میں مزید بہتری لاکر باقی زندگی کوہمیشہ کے لیے خوشگوار ااور محبت سے بھرپور بناسکتے ہیں ۔
1۔ایک دوسرے کو وقت دیں

میاں بیوی کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی خواہشات اور پسند کو ترجیح دیں ۔وہ اس لیے کہ شادی کو خوشگوار زندگی میں ریڑھ کی ہڈی سمجھاجاتا ہے ۔ میاں بیوی کا رشتہ اتنا مضبوط اور اتنا محبت بھرا ہونا چاہئے کہ جو نہ صر ف محسوس ہو بلکہ دوسروں کو نظر بھی آئے ۔مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ بچوں کو کم اہمیت دیں۔بچوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اگر آپ کے اپنے شریک حیات کے ساتھ بہتر تعلقات ہوں گے تواس سے بچوں میں احساس تحفظ بڑھے گا ۔بچے تو بڑے ہوں گے اور اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوجائیں گے ، بڑھاپے میں آپ دونوں ہی ایک دوسرے کے کام آئیں گے ۔ اس لیے بچوں کو جواز بناکر اپنے شریک حیات سے کنارہ کش نہ ہوجائیں ، اسے بھی وقت دیں ۔آپ دونوں ایک دوسرے کو اہمیت دیں گے تو بچے بھی آپ دونوں کی اہمیت کو سمجھیں گے ، اورقدر کریں گے ۔
2۔مل کر فیصلے لیں

میاں اور بیوی ایک دوسرے کے سکھ دکھ کے ساتھی ہوتے ہیں ۔کوئی چھوٹا یا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے ساتھی سے ضرور مشورہ کریں ۔اگر کوئی مشورہ آپ کو پسند نہ بھی آئے تو اسے یکسرمسترد نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ آپ جو بھی فیصلہ کریں وہ باہمی مشورے اور رضامندی سے ہو۔بچوں پر بھی یہ ظاہرکرنا چاہئے کہ ان کے والدین کسی بھی صورت حال میں ایک ہیں اور مل کرہی قدم اٹھاتے ہیں ۔اس سے بچوں کو بھی یہ تربیت ملے گی کہ کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے بڑوں سے نصیحت و مشورہ لینا اچھی عادت ہے ۔اگر بچے کے کسی معاملے پر میاں بیوی میں اختلاف ہوجائے تو انہیں چاہئے کہ وہ اس پر علیحدگی میں بحث کریں اور علیحدگی کے دوران بحث میں بھی ایک دوسرے کے احترام کا خیال رکھیں۔اس سے میاں بیوی کے درمیان قربت اور گہرا تعلق قائم رہتا ہے ۔
3۔اپنا بھی خیال رکھیں

بہت سے والدین ، خصوصاًخواتین بچے ہونے کے بعد خود پر توجہ نہیں دیتیں۔اکثر سنا جاتا ہے کہ اب تو بچے ہوگئے ، ان کے پہننے اوڑھنے کے دن ہیں ، ہمارے دن گئے وغیرہ۔ یہ سوچ غلط ہے ۔شوہر ہویا بیوی ، دونوں یہ چاہتے ہیں کہ ان کا شریک حیات اچھا نظرآئے ۔ لائف پارٹنر کے دل میں اپنے لیے کشش برقرار رکھنی ہے تو صاف ستھرا لباس پہنیں ، لباس میں اس کی پسند کاخاص خیال رکھیں۔میک اپ کریں ، مختلف ہیئراسٹائل اپنائیں ، بالکل اسی طرح زندگی گزارنے کی کوشش کریں، جس طرح آپ بچے ہونے سے پہلے شادی کے ابتدائی ایام میں گزارتی تھیں ۔مرد حضرات کو بھی چاہئے کہ شادی بیاہ یا کسی تہوار پر صرف بیوی بچوں کو شاپنگ کراکرجیب نہ خالی کریں کچھ اپنا بھی خیال کریں ۔

4۔ایک دوسرے کی تعریف کریں

اپنے شریک سفر کو ہمیشہ یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے اب بھی اتناہی پرکشش اور اہم ہے جتنا پہلے تھا۔اس کی تعریف کریں، فیملی کے لیے اس کی سخت محنت کو سراہیں۔اور اس پر بار بار یہ ظاہر کریں کہ اسے آپ کی اور بچوں کی کتنی فکر ہے ،اس کے اس جذبے کی قدر کریں۔ شوہروں کو بھی چاہئے کہ بچے ہونے کے بعد بیوی کو ہرگزیہ احساس نہ ہونے دیں کہ اب ان کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے اور ان میں اب پہلے جیسی کشش نہیں رہی ۔ان کی تعریف کریں ۔انہیں بتائیں کہ وہ بچوں کی بہترین پرورش اور دیکھ بھال کررہی ہیں۔ساتھ ہی گھر کے کام کاج میں بھی ان کا ہاتھ بٹائیں۔
5۔کچھ وقت بچوں کے بغیر بھی گزاریں

یہ بھی اکثردیکھا گیا ہے کہ بچے ہونے کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے سے رابطہ بہت کم ہوجاتاہے ، شوہر کام میں مصروف ہوتاہے اور بیوی گھر کے کاموں اور بچے پالنے میں لگی رہتی ہے ۔دونوں صرف کام کی بات کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوں لگتا ہے جیسے ان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ۔ یہ غلط رویہ ہے ۔میاں بیوی کو چاہئے کہ روزانہ کچھ وقت نکالیں اور دن بھر کی مصروفیات یا واقعات ایک دوسرے سے شیئر کریں۔اس طرح کی باتیں تو ہوتی ہی ہیں مگر آپ باقاعدہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں اور ایک دوسرے کی بات توجہ سے سنیں ۔
6۔ تحفے دیں

وہ دن یاد کریں جب آپ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔کس طرح ایک دوسرے کا خیال رکھا جاتا ہے ، تحفہ دینے کے لیے موقع تلاش کیا جاتا تھا، مگر اب بچے ہونے کے بعد یقیناًیہ سب ماضی کاحصہ محسوس ہوتا ہوگا۔ اس سلسلے کو جاری رکھیں۔اپنے شریک سفر کو تحفے دیتے رہیں ۔پھول ،چاکلیٹ ،کپڑے جو بھی اسے پسند ہو، تحفے کے لیے موقع کا انتظار نہ کریں ، اسے سرپرائز دیں ۔موقع کی مناسبت سے بھی تحائف کا سلسلہ جاری رکھیں۔شادی کی سالگرہ باقاعدگی سے منائیں ۔کوشش کریں اس دن ڈنر باہر ہو۔اگر بچوں کو گھر پر کوئی سنبھالنے والا ہو تو دونوں ڈنر پر اکیلے نکل جائیں۔بچوں کو لے جانا ہو تو پھر کسی دن لے جائیں ۔
7۔ شوہر کو نہ سکھائیں

بچے کی زندگی میں ماں اور باپ دونوں کا کردار ایک دوسرے سے کافی مختلف ہوتا ہے ۔ماں بچے کی بہترین تربیت کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ اس لیے اسے بچے کے ساتھ بعض اوقات سختی بھی کرنی پڑتی ہے ۔ اس کے برعکس باپ چونکہ سارادن کام پر ہوتاہے اس لیے اسے جو تھوڑا بہت وقت ملتا ہے وہ اسے بچے کے ساتھ ہنسی مذاق میں گزارنا پسند کرتا ہے ۔وہ بچوں کی ضدیں اور خواہشیں پوری کرتا ہے، ایسے میں بعض ماؤں کا خیال ہوتا ہے کہ اس طرح بچے بگڑ جائیں گے۔خواتین کو چاہئے کہ اپنے شوہر اور بچوں کے درمیان بلاوجہ دیوار نہ بنیں، انہیں کھیلنے دیں۔روک ٹوک نہ کریں۔ وہ بھی آخر باپ ہے اسے پتہ ہے کہ بچے کو کس طرح خوش کرنا ہے اور کس طرح قابو میں رکھنا ہے۔
8۔ سب مسئلے حل نہیں ہو سکتے

اگر آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ آپ کا شریک حیات آپ کی تمام توقعات اور خواہشات پر پورا اترے اور اس میں کوئی خامی نہ ہو تو یقیناًآپ کو مایوسی ہوگی ۔میاں بیوی کے درمیان بیشتر جھگڑوں کی بنیاد دونوں کی شخصیت میں پایاجانے والا وہ فرق ہوتا ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔بہتریہی ہے کہ آپ اپنے شریک حیات کو اس فرق کے ساتھ قبول کرلیں۔ اگر آپ کو اس سے کوئی شکایت ہے تولڑنے جھگڑنے کے بجائے اس کا برملا مگر اچھے انداز میں اظہار کریں۔ اسے دل میں بھی نہ رکھیں ۔کوشش کریں کہ اس تک بہتر طریقے سے اپنی شکایت پہنچائیں ۔ایک دوسرے میں خامیاں تلاش کرنے اور اس پر جھگڑنے کے بجائے ،ایک دوسرے کی خوبیوں پر نظر رکھیں ۔خامیاں خود بخو د غائب ہوتی چلی جائیں گی ،اور شادی شدہ زندگی پہلے کی طرح پھر سے حسین ہوجائے گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *