لَو، ایوان یونین/ ترجمہ نئیر عباس زیدی

انہوں نے رات کا کھانا کھایا، روشنیوں سے چکا چوند ڈائننگ روم سے باہر آکر عرشے پر لگے کہڑے پر آکر کھڑے ہو گئے۔ خاتون نے اپنی آنکھیں موند لیں، ہتھیلیاں باہر کی طرف کر دیں، پھر اپنے ہاتھوں کو اپنے گالوں کے قریب لائی اور بڑے خوشگوار انداز میں قہقہہ مار کر ہنسی۔ اس نوجوان خاتون کے بارے میں کہی جانے والی ہر بات پیاربھری تھی۔ اس نے کہا: ’’میں خاصی مخمور ہو چکی ہوں۔ ۔۔۔ یا میرے ذہن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ تم کہاں سے آن ٹپکے؟ تین گھنٹے قبل مجھے تمہارا وجود ذرا سا محسوس ہوا تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تم عرشے پر کہاں سے آئے۔ کیا یہ سمارا تھا؟ میری جان اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حقیقتاً میر اسر گھوم رہا ہے ، یا یہ سٹیمر (Steamer) مڑ رہا ہے؟ ‘‘
ان کے سامنے اندھیرا تھا  اور دور روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ اسی اندھیرے سے ایک نرم و گداز ہوا کا جھونکا ان کے چہروں کو چھو رہا تھا، وہ روشنیوں کے قریب سے ہو کر گزر رہے تھے، ان کے سٹیمر نے بڑی تیزی سے موڑ مڑا اور وہ گھاٹ کی طرف رواں دواں تھا۔
لیفٹیننٹ نے خاتون کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ہونٹوں تک لے گیا۔ اس چھوٹے سے نازک ہاتھ سے سورج کی تپش سے جھلس جانے کی بو آرہی تھی۔ ہاتھ چھو جانے کے عمل نے اس شخص کو اس سوچ میں مبتلا کر دیا کہ خوشنما لینن کے لباس میں پنہاں اس کا جسم بھی سورج کی تپش میں جھلس چکا ہو گا کیونکہ وہ (خاتون) ایک مہینے سے جنوبی سمندری ساحل کی گرم ریت پر سورج کی چمکدار شعاعوں سے لطف اندوز ہونے کی لگن میں گرفتار تھی (اس خاتون نے بتایا کہ وہ انا پو (Anapu)سے واپس آرہی تھی۔ لیفٹیننٹ بڑے دھیمے انداز میں بولا: ’’چلیں یہاں سے اترتے ہیں۔۔۔۔ ‘‘
’’
کہاں‘‘، اس نے حیران ہو کر پوچھا‘‘۔
’’
یہاں، اس گھاٹ پر‘‘۔
’’
کیوں؟ ‘‘
وہ خاموش ہو گیا اور اس خاتون نے ایک مرتبہ پھر اپنا نازک ہاتھ اپنے رخسار سے لگایا۔
’’
تم دیوانے ہو گئے ہو؟ ‘‘
لیفٹیننٹ نے اپنے الفاظ دہرائے، ’’نیچے اترتے ہیں، میں آپ سے گزارش کرتا ہوں۔۔۔۔ ‘‘
خاتون نے اس کی طرف رخ کرتے ہوئے کہا،’’ٹھیک ہے جیسے آپ چاہیں‘‘۔
وہ چلتا ہوا سٹیمر (Steamer)نیم روشن گھاٹ سے جا لگا جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے پر گرنے والے ہوگئے۔ موٹی دھاتی تار کا سرِا ان کے اُوپر سے ہوتا ہوا آیا اور سٹیمر رک گیا، پانی کی لہریں سٹیمر سے ٹکرانے لگیں، اترنے والوں کے لئے بڑا تختہ لگ گیا۔ لیفٹیننٹ اپنا سامان لینے کے لئے دوڑا۔
فی الوقت تو وہ اس گھاٹ کے سایہ دار شیڈ کے نیچے سے گزر رہے تھے، لیکن جیسے ہی وہ دروازوں سے باہر آئے انہوں نے خود کو ٹخنوں تک گہری ریت میں پایا؛ وہ انتہائی خاموشی سے، گرد آلود (گھوڑا) گاڑی میں بیٹھ گئے پھر وہ ایک بڑی اور ہموار سڑک پر آگئے جس کے دونوں طرف کھمبے لگے ہوئے تھے اور یہ منظر دور تک دیکھا جا سکتا تھا۔ اس سڑک کے ختم ہونے کے بعد دوسری سڑک شروع ہو گئی، ایک چوک آگیا جس میں انتظامی امور کی کچھ عمارتیں تھیں، ایک گھنٹہ گھر اور کچھ دفاتر، اس ماحول میں گرمیوں کی رات کے گزرنے کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی۔۔۔ گاڑی ایک دروازے کے آگے آکر رک گئی اور اس دروازے سے عمارت کے اندر لکڑی کی سیڑھیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔ گلابی رنگ کی شرٹ اور فراک کوٹ (frock coat)میں ملبوس ایک عمر رسیدہ ملازم آگے بڑھا، کچھ دیر توقف کے بعد اس نے ان دونوں کا سامان اٹھایا اور تھکے ماندہ قدموں کے ساتھ ان کے آگے آگے چل دیا۔ وہ دونوں ایک انتہائی بڑے کمرے میں داخل ہو گئے جو سامان سے بھرا ہوا تھا اور دن بھر سورج کی تپش کی وجہ سے ابھی تک گرم تھا، اس کمرے کی کھڑکیوں میں سفید رنگ کے پردے لٹک رہے تھے، کمرے میں موجود آئینے کے کونوں میں موم رکھنے کے سٹینڈ رکھے تھے جن میں دو غیرا ستعمال شدہ موم بتیاں موجود تھیں۔ جیسے ہی وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے، اس ملازم نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا، انتہائی تیزی کے ساتھ وہ لیفٹیننٹ خاتون کی طرف لپکا اور وہ دونوں ایک طویل بوسے کے ایسے مرحلے میں داخل ہو گئے کہ انہیں یہ لمحہ ایک زمانے تک یاد رہا ہوگا: ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنی زندگی میں کبھی ایسا تجربہ نہیں ہوا۔

اگلی صبح دس بجے ،وہ صبح جو روشن تھی، چمکدار تھی اور گرجا گھرکی گھنٹیوں کی سریلی آوازوں سے مزین تھی، ہوٹل کے سامنے بازار میں موجود لوگوں کے شور سے بھر پور تھی، گھاس پوس، کولتاری معدنیات اور دیگر ایسی تمام چیزوں کی مہک سے مالا مال تھی،جو روس کی ہر قصباتی شہر سے آرہی ہوتی ہے، وہ بے نام خاتون ، جو بے نام ہی کہلانا پسند کرتی تھی اور مزاحیہ انداز میں خود کو خوبصورت اجنبی کا نام دیتی تھی، لیفٹیننٹ کو چھوڑ کر اپنے باقی سفر پر روانہ ہو گئی، وہ دونوں کم وقت کے لئے سوئے تھے، لیکن صبح کے وقت جب وہ اپنے بستر کے قریب سے نمودار ہوئی اور صرف چند لمحوں میں ہی تیار ہو گئی تو وہ سترہ سال کی لڑکی طرح تروتازہ نظر آرہی تھی۔ کیا وہ شرما رہی تھی؟ بہت کم۔ وہ پہلے کی طرح ہی سادہ اور خوش دکھائی دے رہی تھی اور۔۔ دانا بھی۔

جب لیفٹیننٹ نے تجویز پیش کی کہ انہیں اپنا سفر اکٹھے ہی جاری رکھنا چاہیے تو اس کے جواب میں وہ خاتون بولی ’’نہیں میری جان!آپ کو اگلے سٹیمر کے پہنچنے تک یہاں قیام کرنا چاہیے، اگر ہم اپنا سفر اکٹھے ہی جاری رکھیں گے تو ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔ میں نہیں چاہتی کہ ایسا ہو۔ برائے مہربانی میری بات کا یقین کریں، میں اس طرح کی خاتون نہیں جیسا آپ میرے بارے میں سوچتے رہے ہیں۔ اس جگہ پر جو کچھ بھی ہوا وہ نہ تو پہلے کبھی ہوا اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا۔ ایسا ہے کہ میں ’’گرہن‘‘ کی حالت میں تھی۔۔۔ یا اس کو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم دونوں کو ’’لُو ‘‘لگ گئی تھی اور ہم ایک خاص کیفیت میں تھے‘‘۔

لیفٹیننٹ اس سے تقریباً متفق ہو گیا، نہایت خوشگوار اور جوشیلے انداز میں اس خاتون کو گاڑی میں بٹھا کر گھاٹ تک پہنچانے گیا جہاں گلابی رنگ کی سٹیمر چلنے ہی والی تھی، وہ اس خاتون کو سٹیمر میں بٹھانے کے بعد، تمام مسافروں کی موجودگی میں اس کا بوسہ لے ہی رہا تھا کہ سٹیمر چل پڑی اور اس نے گھاٹ تختے پر مشکل سے چھلانگ ماری۔
خوشی کی اسی ترنگ میں وہ ہوٹل واپس آگیا۔ لیکن کچھ تو بدل چکا تھا۔ اس خاتون کے بغیر وہ کمرہ خاصا مختلف نظر آرہا تھا ۔ اور اس خاتون  کے تصور سے بھرا ہونے کے باوجود خالی تھا۔ یہ بات عجیب تھی کہ کمرہ اب تک اس خاتون کے انگریزی “Eau-de-cologne”عطر کی خوشبو سے مہک رہا تھا، اس کے چھوڑے ہوئے کپ میں چائے اب بھی موجود تھی، لیکن وہ خود وہاں موجود نہیں تھی۔۔۔۔ ان تمام چیزوں کی وجہ سے لیفٹیننٹ کا دل اس خاتون کی یادوں میں محو ہو گیا اس نے فوراً ہی سگریٹ سلگالی اور کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیا۔

وہ بلند آواز میں تو قہقہہ لگا رہا تھا مگر اپنی آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں سے بے خبر تھا اور اسی کیفیت میں خود کلامی کرتے ہوئے بولا، ’’کیسی عجیب بات ہے، اس کا یہ کہنا برائے مہربانی میری بات پر یقین کریں، میں اس طرح کی عورت نہیں جیسے آپ میرے بارے میں سوچ رہے ہیں۔۔۔۔ اور اب وہ جا چکی ہے۔۔۔ ایک فضول عورت !

سکرین ایک طرف کر دی گئی، ابھی بستر نہیں بچھایا گیا تھا اور اس نے یہ محسوس کیا اب اس کے اندر یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ اپنے بستر کی طرف دیکھے۔ اس نے بستر کے گرد سکرین سیٹ کر دی، کھڑکی بند کر دی تا کہ اسے مارکیٹ سے آنے والا شور تانگے اور گاڑیوں کے پیہوں کی آوازیں سنائی نہ دیں، سفید رنگ کے پردوں کو بھی برابر کر دیا اور صوفے نما گدے دار تختے پر آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔ تو یہ اس ’’اتفاقیہ ملاقات‘‘ کا اختتام ہے، اب وہ چلی گئی ہے، اب وہ شیشے نما کمرے میں یا سٹیمر کے عرشے پر بیٹھی ہو گی، سورج کی روشنی سے چمکدار دریا کو دیکھ رہی ہو گی، گزرنے والے دخانی جہازوں، دریا کے کناروں پر موجود زرد ریت، دور پانی میں موجود عکس، آسمان اور پانی کے لا متناعی پھیلاؤ پر غور کر رہی ہو گی۔۔۔۔ ایک ایسی چیز کو ہمیشہ کے لئے الوداع جسے دوام حاصل تھا۔۔۔ اب اس سے ملاقات کیسے ممکن ہے؟ پھر اس نے سرگوشی کی، ’’بہر حال میں کسی نہ کسی وجہ سے اُس قصبے میں نہیں جا سکتا جہاں اس کا خاوند رہائش پذیر ہے اور اس کے ساتھ اس کی تین سالہ بیٹی اور اس کے خاندان کے دیگر افراد بھی رہ رہے ہیں، وہ جگہ جہاں وہ اپنی روز مرہ زندگی گزار رہی ہے۔ اور وہ چھوٹا سا قصبہ جو اچانک اُسے منفرد اور ’’شہر ممنوعہ‘‘ دکھائی دینے لگا تھا، اس کے خیالات میں بسنا شروع ہو گیا تھا، کہ اب وہ خاتون وہاں اپنی تنہا زندگی گزارنا شروع کر دے گی، اور شائد آنے والے وقت میں اُسے ان دونوں کی اچانک ملاقات بھی یاد آئے، اور اسے یہ خیال بھی ستائے جارہا تھا کہ اب وہ اسے کبھی نہیں دیکھ سکے گا۔ یہ سوچ اسے عجیب لگ رہی تھی، اس کے لئے غیر فطری اور نا قابل یقین تھی، اور آنے والے سالوں میں اتنی پریشانی کا باعث دکھائی دے رہی تھی کہ وہ خوف اور مایوسی کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔

“یہ کیسی مصیبت ہے”، وہ بار بار اُٹھ کر کمرے میں ٹہل رہا تھا، اس نے کوشش کی کہ کمرے میں موجود بستر پر اس کی نظر نہ پڑے، ’’یہ میرے ساتھ کیا ہو گیا ہے؟ کس نے ایسا سوچا تھا کہ پہلی ملاقات۔۔۔ اور وہاں۔۔۔۔ اس کے متعلق اب وہاں کیا ہے، اور وہاں کیا ہوا؟ حقیقتاً ، ایسا محسوس ہوا کہ ’’لُو‘‘ کا کوئی اثر تھا! لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب میں اس جگہ وقت کیسے گزاروں جہاں وہ مجھے تنہا چھوڑ گئی ؟ ‘‘

لیفٹیننٹ نے اس خاتون کو اُس کی تمام تر خوبیوں کے ساتھ یاد کیا؛ سورج کی تپش سے اس کی جلد کے جھلس جانے کی خوشبو، اس کا لینن کا لباس، اس کا مضبوط جسم، اس کی خوش کن، رسیلی اور چہک سے بھر پور آواز۔۔۔۔ اس کی نسوانی محبت کے محضوضات اور لطیف احساسات اب بھی اس کی یادوں میں رس گھول رہے تھے باوجود اس کے کہ اس تمام صورت حال کی بڑی وجہ اس خاتون کا بدلا ہوا موڈ تھا ۔۔ وہ عجیب و غریب ، نا قابل بیان موڈ، جو اسی وقت اپنے جوبن پر تھا جب وہ دونوں اکٹھے تھے، ایسا موڈ جس کا اس نے ایک دن پہلے تصور بھی نہیں کیا تھا، ایسی سوچ، شناسائی اور خیال جس کا ذکر وہ کسی سے نہیں کر سکتا، کسی ایک شخص سے بھی نہیں‘‘۔ اس کا تخیل مزید کام کرتا رہا۔’’

ہاں! حقیقت یہ ہی ہے کہ تم کبھی بھی اس سلسلے میں کسی سے بات نہیں کر سکو گے! اب کیا کیا جائے، اس نہ ختم ہونے والے دن کو کیسے گزارا جائے، ان یادوں اور اس خلش کے ساتھ اس ویران قصبے میں، جو اس دریا کے کنارے ہے جس کے شفاف پانی کے اوپر چلتے سٹیمر میں بیٹھ کر وہ خاتون روانہ ہو گئی‘‘۔

لیفٹیننٹ کے لیے یہ ضروری ہو گیا کہ وہ خود کو بچائے، خود کو کسی کام میں مشغول کرے، کسی اور چیز سے لطف اندوز ہو یا کہیں اور چلا جائے۔ اس نے اپنی ٹوپی پہنی: تیزی سے چلنا شروع کر دیا، اس خالی بر آمدے میں، پھر تیاری شروع کی ، جوتے پہنے، سیڑھیوں پر سے ہوتا ہوا داخلی دروازے کی طرف چل پڑا۔۔۔تو ! اب اسے کہاں جانا چاہیے۔ داخلی دروازے کے قریب (گھوڑا) گاڑی والا ایک نوجوان کھڑا تھا، وہ کوٹ میں ملبوس تھا، چھوٹا سا سگار پی رہا تھا اور بظاہر کسی کا انتظار کر رہا تھا۔ لیفٹیننٹ نے اسے غور سے دیکھا اور حیرت میں مبتلا ہو گیا: کسی بھی شخص کے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی گاڑی میں انتہائی خاموشی سے بیٹھ کر سگریٹ پئے اور اتنی بے نیازی سے بیٹھا رہے؟ پھر اس نے مارکیٹ کی طرف منہ کر کے سوچنا شروع کر دیا،’’بظاہر اس پورے قصبے میں، مَیں ہی واحد شخص ہوں جو انتہائی مایوسی کا شکار ہے‘‘۔

مارکیٹ میں کام اپنے جوبن پر تھا۔ اس نے کھاد سے لدی ہوئی گاڑیوں، کھیروں سے بھرے ہوئے چھکڑوں، نئے گملوں، پنچروں اور ان خواتین کے درمیان گھومنا شروع کر دیا جو اس کی توجہ (بیچنے کے لئے لائے گئے) مٹی کے برتنوں کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کر رہی تھیں جو انہوں نے اپنی انگلیوں میں لٹکائے ہوئے تھے اور وہ ان کی خوبیاں بھی بیان کر رہی تھیں، جبکہ کسانوں کی آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں،’’ یہ بہترین کھیرے ہیں جناب!‘‘ ۔اسے یہ سب کچھ فضول دکھائی دیا اور وہ اس جگہ سے دوڑ پڑا۔ یہاں سے وہ گرجا گھر جاپہنچا، وہاں پر گفتگو جاری تھی جو انتہائی بلند، خوشی سے بھر پور اور مضبوط تھی، جیسے گفتگو کرنے والے اپنی ذمے داری کی تکمیل سے بخوبی واقف ہوں، پھر اس نے سڑکوں پر چلنا شروع کر دیا اور سورج کی جھلسا دینے والی دھوپ میں پہاڑی کے دامن میں واقع ایک ویران باغ میں جا کر ٹہلنا شروع ہو گیا، جہاں سے دریا کا پھیلاؤ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی سفید وردی کے کاندھوں والے پٹے اور قمیض کے بٹن اتنے گرم ہو گئے کہ انہیں چھونا ناممکن ہو گیا، اسکی ٹوپی کے اندر والا بینڈ پسینے سے شرابور ہو گیا اور اس کا چہرہ سورج کی تپش میں جھلس گیا۔

ہوٹل میں واپس آنے کے بعد اسے اس بڑے، خالی اور ٹھنڈا محسوس ہونے والے کھانے کے کمرے میں خاصا سکون محسوس ہوا، اس نے اپنی ٹوپی اتاری، کھلی کھڑکی کے قریب رکھی میز کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اس کھڑکی میں سے شدید گرمی کی لہر اندر آرہی تھی۔ ایک ایسی لہر جو تمام تر چیزوں پر حاوی تھی اور پھر اُس نے جڑی بوٹیوں کے ٹھنڈے مشروب کا آرڈر دیا۔ ہر چیز بالکل درست تھی اور ہر چیز میں بے انتہا خوشی اور بے حد لذت تھی، حتی کہ اس گرمی اور حبس میں مارکیٹ سے آنے  والی تمام تر خوشبوؤں سمیت : اس ناشنا سا قصبے اور اس پرانے ہوٹل میں بھی خوشی اور توانائی نظر آرہی تھی۔ اس نے ووڈکا (Vodka)کے کئی چھوٹے گلاس پئے، اس کے ساتھ کھیرے کی قاشیں کھائیں اور ایسے میں اس نے محسوس کیا کہ بغیر کسی تذبذب اور تردد کے وہ آنے والے کل میں مرجانا قبول کرے گا، اگر کسی معجزے کی وجہ سے وہ بچ گیا اور یہاں واپس آگیا اور اس خاتون کے ساتھ ایک دن گزارنے کا موقع ہاتھ آگیا۔۔ اس خاتون کو بتانے کا موقع یا اسے یہ ثابت کرنے کا موقع، اپنی شاندار محبت کے قائل کرنے کا موقع۔۔۔۔۔ لیکن اس محبت سے متعلق اس خاتون کو ثبوت کیوں پیش کیاجائے؟ اسے قائل کیونکر کیا جائے، وہ یہ بھی نہیں بتا سکا کہ یہ سب کچھ کیوں ہے، باوجود اس کے کہ یہ چیز زندگی سے بھی اہم نظر آرہی تھی۔

اس نے سوچا،’’میرے اعصاب میرے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں‘‘، اور اس نے ووڈ کا کا پانچواں گلاس پی لیا۔
وہ شراب کا چھوٹا ظروف پورا ہی پی گیا، اس امید کے ساتھ کہ خمار اس کو تمام تر باتوں کے بھلانے میں مدد دے گا اور یہ ہیجانی کیفیت اختتام کی طرف چلی جائے گی۔ لیکن نہیں یہ تو اور شدید ہو گئی۔
اس نے جڑی بوٹیوں کے سوپ کو پرے کیا، بلیک کافی کا آرڈر دیا، سگریٹ پینی شروع کر دی اور بڑی غیر متوقع اور اچانک محبت کی کیفیت سے خود کو آزاد کروانے کی تدبیریں سوچنے لگا۔ لیکن خود کو آزاد کروانا۔ جو کام وہ شدت سے چاہ رہا تھا۔ اسے ناممکن دکھائی دے رہا تھا اور پھر اچانک ، انتہائی عجلت میں وہ اُٹھا، اپنی ٹوپی اور چھڑی اٹھائی، ڈاک خانے سے متعلق معلومات حاصل کیں اور ٹیلی گرام کرنے کی نیت سے ڈاک خانے کی سمت روانہ ہو گیا، ٹیلی گرام کا عنوان پہلے سے اس کے ذہن میں تھا۔ ’’آج سے لیکر مرتے دم تک میری زندگی تمہاری ہے، اور میں ایسا ہی کروں گا جیسے تم چاہو گی‘‘۔ اس مضبوط اور موٹی دیواروں والی عمارت میں پہنچ کر، جو ڈاک خانے میں ٹیلی گراف کے دفتر کا کام کر رہی تھی، وہ خوف کے مارے رک گیا: وہ اس قصبے کو تو جانتا ہے جہاں وہ رہائش پذیر ہے، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اس کا خاوند اور تین سالہ بیٹی بھی اس کے ساتھ رہتی ہے، لیکن نہ تو اسے اس خاتون کا نام اور نہ ہی خاندانی نام معلوم ہے۔ کئی مرتبہ شام کے وقت اس نے خاتون سے اس کا نام پوچھااو ر ہر مرتبہ وہ مسکرا کر کہتی:’’کیا یہ ضروری ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ میں کون ہوں؟ میرا نام ماریا گرین ہے، پرستان کی ملکہ۔۔۔۔ یا صرف ایک خوبصورت اور حسین اجنبی۔۔۔۔ کیا یہ آپ کے لئے کافی نہیں؟

ڈاک خانے کے قریب کونے میں تصویروں والا ایک شوکیس تھا۔ ان تصویروں میں سے ایک فوجی آفیسر کی تصویر تھی، جس کی وردی پر اعزازات تھے، ابھری ہوئی آنکھیں، تیوری ذرا چڑھی ہوئی، حیران کن حد تک شاندار نظر آنے والے گل مچھے، اور چوڑا سینہ، جس پر تمغے بھی سجے ہوئے تھے۔۔۔۔ یہ تمام صورت حال کتنی حیران کن اور مزاحیہ تھی، کتنی عمومی سی تھی، کیونکہ اس کا دل مغلوب ہو چکا تھا، اسے اب سمجھ آئی تھی۔ اس شدید محبت اور شدید نفرت کی اصل وجہ لُو لگنا ہی تھا۔ اس نے ایک شادی شدہ جوڑے کی تصویر دیکھی۔ ایک جوان شخص ایک لمبے کوٹ اور سفید ٹائی میں ملبوس تھا، اس کے بال جدید ترین سٹائل میں کٹے ہوئے تھے؛ باریک نقاب پہنے ہوئے دلہن، اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑی تھی۔ لیکن پھر اس نے اپنی نگاہیں ایک طالبہ کی تصویر پر مرکوز کر دیں جو خاصی خوبصورت اور پر جوش دکھائی دے رہی تھی اور ترچھی نظروں سے کیمرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ پھر تمام اجنبی چہروں کو حقارت سے دیکھتا ہوا، جو اجنبی اس کی نگاہوں میں احساسات نہ رکھنے والے جاندار تھے، اپنی نگاہوں کو سڑک کی طرف جما دیتا ہے۔
اس کے دل و دماغ میں ایک ہی قسم کا پیچیدہ اور پریشان کن سوال بار بار آرہا تھا، ’’میں اب کہاں جا سکتا ہوں؟ میں کیا کر سکتا ہوں؟ ‘‘
سڑک سنسان تھی۔ مکانات ایک جیسے ہی تھے، سفید رنگ کے دو منزلہ اور متوسط طبقے کے افراد کی ملکیت، جن میں باغیچے بھی تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ ’’ویران‘‘ ہیں؛ ان میں جانے والے راستوں پر مٹی کی سفید تہہ جمی ہوئی تھی؛ ہر چیز سخت گرمی کی وجہ سے سوکھ چکی تھی، جھلس چکی تھی اور سورج کی تپش کے سامنے بے بس نظر آتی تھی اور شائد اس وقت اسے یہ دھوپ بھی بے مقصد نظر آرہی تھی۔ کچھ ہی فاصلے پر وہ سڑک ذرا بلنداور ابھرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی اور اس شفاف اور سلیٹی نما افق سے ملتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، سوسن کا عکس بھی اس میں دیکھا جا سکتا تھا۔ اس میں جنوبی طرف کوئی اور چیز بھی تھی، جو سیبا ستوپول (Sebastopol)کرٹچ (Kertch) ۔۔۔۔ اناپو (Anapu) نامی شہروں کی یاد دلا رہی تھی۔ ان میں سے سب سے آخری کی سوچ اور یاد نا قابل برداشت تھی اور پھر سر جھکائے ہوئے لیفٹیننٹ نے روشنی کی طرف اپنی نگاہیں کر دیں، پھر ان نگاہوں کو زمین پر جما دیا اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنے قدموں کی نشانات کو دوبارہ تلاش کرنا شروع کر دیا۔

وہ تھکاوٹ سے ہانپتا کانپتا ہوٹل میں واپس آیا جیسے وہ ترکستان یا سہارا میں سفر طے کر کے آرہا ہو۔ اپنی قوت کو مجتمع کر کے وہ ایک بڑے اور ویران کمرے میں داخل ہو گیا۔ا س کمرے کو پہلے ہی صاف کر دیا گیا تھا اور اس میں سے سامان نکالا گیا تھا، بستر کے قریب فرش پر، اس خاتون کا چھوڑا ہوا، بالوں کا ایک پن پڑا تھا، اس نے اپنی جیکٹ اتاری ،آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا، ایک فوجی آفیسر کا لُو سے جھلسا ہوا چہرہ، پسینے سے شرابور گرد آلود مونچھیں، نیلی مائل آنکھیں، جو جھلسے ہوئے چہرے پر پہلے سے کہیں زیادہ سفید نظر آرہی تھیں، اس کا حلیہ دیوانوں والا لگ رہا تھا اور وہ اپنی باریک سفید قمیض میں ملبوس کھڑا تھا، قمیض کا کالر بھی پسینے سے بھرا ہوا تھا اور اس کی اپنی حالت بھی قابل رحم تھی ۔ وہ بستر پر دراز ہو گیا، مٹی میں اٹے ہوئے بوٹ اٹار کر رکھ دیئے۔ کھڑکیاں کھلی ہوئی تھیں، پردے گرے ہوئے تھے اور گاہے بگاہے ہلکی ہوا انہیں ملا رہی تھی اور اس گرم ترین کمرے میں زندگی کی معمولی سی رمق کا باعث بن رہی تھی، گرم ترین چھتوں سے آنے والی ایک روایتی بو اس ویران، خاموشی اور پرسکوت دریا کی خاص دنیا کا منظر پیش کر رہی تھی۔

وہ اپنے بازووں کو سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا اور اپنی نگاہوں کو اوپر جما دیا۔ا س کے ذہن میں جنوبی سمت کا منظر آگیا، سورج کی تپش، سمندر، اناپو (Anapu)اور یہ کوئی حیرت انگیز سلسلہ نظر آرہا تھا۔ جیسے وہ قصبہ جس میں وہ خاتون چلی گئی ہے، یقینی طور پر وہ وہی قصبہ تھا ہاں وہ گئی ہے اور اس جیسا کوئی اور قصبہ نہیں۔ اس سوچ کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی تو پردوں میں سے سیاہی مائل سورج دکھائی دیا۔ ہوا چلنی بند ہو چکی تھی، کمرہ خشک تھا جیسے ہوا سے چلنے والی بھٹی۔۔۔ اور پھر اس نے گزشتہ کل اور آج کی صبح کو یاد کیا اور اسے محسوس ہوا کہ جیسے یہ دس سال پہلے کا عرصہ ہو۔
پھر وہ ذرا عجلت میں اٹھا، غسل کیا؛ پردے اٹھا دیئے، ہوٹل کے بیرے کو بلایا، چائے کی ایک کیتلی اور بل لانے کو کہا اور کافی دیر تک چائے میں لیموں ڈال کر پیتا رہا۔ پھر اس نے کرائے کی گاڑی کا کہا، اپنا سامان باہر نکالا اور گاڑی کی سرخ اور جلی ہوئی سیٹ پر بیٹھ گیا اور ملازم کو ٹپ کے طور پر پانچ روبلز دیئے۔
گاڑی بان نے جیسے ہی (گھوڑا) گاڑی کی لگامیں کھینچیں تو بڑی خوشی سے کہا، ’’جناب! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ شب میں ہی آپ کو یہاں لایا تھا‘‘۔

جب وہ گھاٹ پر پہنچے تو گرمیوں کی نیلگوں رات پہلے ہی اندھیری ہو چکی تھی اور دریائے وولگا (Volga)پر کئی رنگوں کے شعلے پھیل چکے تھے اورگھاٹ پر پہنچنے والے سٹیمر کے سٹول میں کچھ شعلے پھنس چکے تھے۔
اس گاڑی بان نے بڑی انکساری سے کہا، ’’ میں آپ کو بروقت یہاں لے آیا ‘‘!
لیفٹیننٹ نے اسے بھی پانچ روبلز دیئے اور پھر ٹکٹ لیکر سٹیمر کی سمت میں روانہ ہو گیا۔۔۔ گزشتہ کل کی طرح اس وقت بھی جہاز رسوں کی دھیمی آواز سنائی دے رہی تھی، اور پاؤں کے نیچے معمولی گھڑ گھڑاہٹ بھی محسوس ہو رہی تھی، اس کے بعد جستی تار کا سرا، اس منظر سے دور جاتے ہوئے سٹیمر کے پہیوں سے ٹکرانے والے پانی کا شور ۔۔ سٹیمر میں بیٹھے ہوئے افراد کی کثیر تعداد، چکا چوند روشنیاں، سٹیمر کے کچن کی خوشبو، اسے استقبال کرتی نظر آئیں۔ اگلے ہی لمحے سٹیمر اپنی راہ پر تھا اور دریا میں اس سمت ہی رواں دواں تھا جس میں اس صبح اس خاتون کا سٹیمر روانہ ہوا تھا۔
اس سٹیمر کے آگے آگے گرمیوں کے سورج اور اس کے غروب ہونے کا نظارہ تھا جو بڑے اُداس اور تخیلاتی انداز میں سامنے دکھائی دے رہا تھا، اس کا عکس دریا میں نظر آرہا تھا اور سٹیمر چلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی لہریں، چلنے والی سٹیمر کے گرد پھیلے ہوئے اندھیرے میں پھیلے ہوئے شعلے، وہ سٹیمر جو اب گھاٹ سے دور ہوتا چلا جا رہا تھا۔
لیفٹیننٹ سٹیمر کے عرشے پر، چھت کے نیچے بیٹھا تھا اور اپنی عمر میں دس سال کے اضافے کا ادراک لئے محوِ سفر تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *